سینٹ،رونق میلہ اور پیسہ 
05 مارچ 2021 2021-03-05

انتخابات کسی بھی طرح یا سطح کے ہوں، پاکستان میں رونق ضرور لگا دیتے ہیں۔ لوگوں کو تماشے اور تفریح کا اچھا خاصا سامان مل جا تا ہے۔ بلدیاتی سطح سے لے کر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تک، اپنے نمائندوں کا انتخاب عوام بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اس صورت میں ہر شہر ، قصبے اور گاوں میں رونق لگ جانا فطری سی بات ہے۔ امیدوار بھی گلی گلی بلکہ گھر گھر پہنچتے ہیں۔ جلسے ہوتے ہیں۔ جلوس نکلتے ہیں۔ شہر طرح طرح کے بینرز اور اشتہاری پوسٹرز سے بھر جاتے ہیں۔ غرض ایک میلے کا سماں ہوتا ہے جسے سیاسی تہوار بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسے ایشیائی یا کم از کم جنوبی ایشیائی جمہوریت کا ایک دلکش پہلو سمجھ لینا چاہیے۔ اگرچہ یہ گہما گہمی کہیں کہیں ہنگامے کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے لیکن اسے بھی ہماری جمہوریت کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔

لیکن سینٹ یا ایوان بالا کے انتخابات ، بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔ اس میں عام ووٹر کا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا کیوں کہ اسے کسی کو ووٹ نہیں ڈالنا۔ یہ انتخابات، پہلے سے منتخب نمائندوں تک محدود ہوتے ہیں۔ یعنی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، ایک مقررہ تعداد میں سینیٹروں کا چناو کرتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوارضرور میدان میں اتارتی ہیں لیکن ان کی کامیابی کے لئے کوئی عوامی مہم نہیں چلائی جاتی۔ میل جول، رابطے یا مہم قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک ہی محدود رہتی ہے کیوں کہ ان کے ارکان ہی ووٹرز ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار ایوان بالا کے انتخابات بھی اچھی خاصی رونق لگا گئے۔

پہلے تو یہ ہوا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی۔ڈی۔ایم، گو مگو میں رہا۔ اس کی جماعتیں متفق نہیں ہو پا رہی تھیں کہ سینٹ الیکشن میں حصہ لیا جائے یا نہیں۔ یہ بحث مباحثہ چلتا رہا۔ اخبارات میں اور ٹی۔وی سکرینوں پر بھی خوب رونق لگی رہی۔ یہ فیصلہ ہو گیا کہ اپوزیشن سینٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی تو دلچسپی کا ایک نیا سامان پیدا ہو گیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ سینٹ الیکشن میں پیسے کا لین دین ہوتا ہے۔ مال دار لوگ کروڑوں میں ووٹ خرید لیتے ہیں۔ ووٹ فروخت کرنے والے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ سو ایک منڈی لگتی ہے جس سے انتخابی عمل کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ یہ سوچ بڑی حد تک درست تھی۔ ایسا ماضی میں کئی بار ہوا ہے کہ سیاسی پس منظر نہ رکھنے والے آزاد امیدواروں نے پیسے کے زور پر ووٹ خریدے اور ایوان بالا میں پہنچ گئے۔ ایسا بھی ہوا کہ پورے پورے خاندان سینیٹرز بن گئے۔ اس لحاظ سے یہ سوچ غلط نہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کرپشن کو روکا جائے۔ نیت درست ہونے کے باوجود غالبا مقصد کے حصول کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ اپنائی جا سکی۔ ایک صورت تو یہ تھی کہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کے ساتھ تلخیوں کو ذرا کم کر کے اسے مذاکرات کی میز پر لایا جاتا اور کوئی آئینی راستہ ڈھونڈھ لیا جاتا۔ ملک بھر کے ماہرین آئین و قانون کا خیال تھا کہ آئین کے تحت سینٹ کے انتخابات صرف خفیہ ووٹنگ ہی کے ذریعے ہو سکتے ہیں۔اگر خفیہ ووٹنگ کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہے تو آئین میں تبدیلی لانا ہو گی۔ صرف قانون بدل لینے سے ایسا نہیں ہو سکے گا۔ آئین میں ترمیم کیلئے حکومت اور اپوزیشن میں مفاہمت ضروری تھی لیکن موجودہ ماحول میں نہ حکومت سنجیدگی سے مفاہمت کی کوئی کوشش کر سکی نہ اپوزیشن آمادہ ہوئی۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ پرویز مشرف کی سترھویں ترمیم کو چھوڑ کر، پچھلے بائیس تیئس سالوں میں ہونے والی ساری ترامیم، مکمل اتفاق رائے سے ہوئیں۔ اس کاآغاز آئین کی تیرھویں ترمیم سے ہوا تھا جب وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیربھٹو نے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر، ضیا دور کی آٹھویں ترمیم ختم کرنے کے لئے ، تیرھویں آئینی ترمیم کا فیصلہ کیا تھا۔ موجودہ حکومت آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت نہیں رکھتی لہذا ایک ہی صورت تھی کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا۔ ایسا نہ ہو سکا۔ لہذا قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا آئینی ترمیمی بل دھرے کا دھرا رہ گیا۔ حکومت نے دوسرا راستہ یہ اختیار کیا کہ صدر کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس داخل کر دیا کہ کیا سینٹ انتخابات آئین کی متعلقہ شق کے تحت ہوتے ہیں یا قانون کے تحت۔ جب تک عدالت میں یہ بحث چلتی رہی، میڈیا میں بھی خوب رونق لگی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک صدارتی آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا۔ سو ان حالات میں سینٹ کے انتخابات ایک بے رونق یا بے رنگ سی مشق نہ رہے۔ پورے ملک کی نظریں ان پر لگ گئیں۔ اس ڈرامے میں سسپنس یا تجسس کا سامان بھی موجود تھا کہ جانے سپریم کورٹ کیا رائے دیتی ہے؟ دلچسپی کی ایک اور بات یہ تھی کہ انتخابات کے ذمہ دار آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن آف پاکستان کا موقف حکومتی موقف سے بالکل مختلف تھا۔ کمیشن نے واضح طور پر کہا کہ سینٹ الیکشن آئین ہی کے تحت، صرف خفیہ ووٹنگ سے ہو سکتے ہیں۔

عدالتی رائے صرف دو دن قبل سامنے آئی۔ کہا گیا کہ انتخابات آئین کے تحت ہوں گے جس میں اوپن ووٹنگ کی گنجائش نہیں۔ ایک طرف یہ دلچسپ ڈرامہ چل رہا تھا اور دوسری طرف وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی ایک جنرل سیٹ پر حکومت اور اپوزیشن امیدواروں کے درمیان مقابلہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا جیسے یہ کوئی امریکہ کا صدارتی انتخاب ہو۔ 

حکومت کے اقتصادی مشیر، حفیظ شیخ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین یہ مقابلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فیصلہ کن جنگ کی شکل اختیار کر گیا۔ 3 مارچ کی شام پوری قوم اپنے اپنے گھروں میں ٹی۔وی کھول کر بیٹھ گئی کہ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ نتیجہ آگیا۔ یوسف رضا گیلانی جیت گئے۔بظاہر سینٹ انتخابات کا کئی مہینوں پر مشتمل پر رونق کھیل ختم ہو گیا لیکن قومی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ڈرامہ جاری رہے گا اور قسط در قسط چلتا رہے گا۔ رونق لگی رہے گی۔ اللہ کرئے اس کا انجام اچھا ہو۔

اس سارے رونق میلے سے ہٹ کر میں ایک سوال کے جواب کی تلاش میں ہوںجو میری ایک شاگرد نے مجھ سے پوچھا۔ ابلاغیات کی طالب علم ہونے کی وجہ سے اس کا یہ سوال فطری سا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ بتائیں۔ سینٹ کا ممبر بننے کیلئے اتنا پیسہ کیوں چلتا ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ اس کا ریٹ ستر اسی کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ کوئی شخص سینیٹر بننے کیلئے اتنا پیسہ کیوں لگا دیتا ہے؟ سینیٹر کے اختیارات کیا ہوتے ہیں کہ امیر لوگ ان کیلئے کروڑوں روپے بانٹ دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ سوال ابلاغیات کے ایک طالب علم کا تھا لیکن پاکستان کے کروڑوں لوگ اس سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ میں نے طالب علم سے کہا۔ میں تمہیں سینیٹر کے اختیارات یا فرائض کے بارے میں تو بتا سکتی ہوں لیکن اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ لوگ کروڑوں روپے میں سینیٹر کی سیٹ کیوں خریدتے ہیں؟ میں تو سینٹ کے دو ایسے امیدواروں کو جانتی ہوں (جن میں سے ایک بلا مقابلہ منتخب ہو گئے اور دوسرے مقابلے میں ناکام رہے) جن کے لئے کمیشن کی فیس اور خصوصی اکاو¿نٹ کھولنے کیلئے چالیس پچاس ہزار روپے کا بندوبست بھی آسان نہ تھا۔


ای پیپر