مدعی سست ،گواہ چست!
05 مارچ 2020 2020-03-05

قطر کے دارالحکومت دوحا میں 29 فروری کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ 10 مارچ کو ہونے والے بین الافغان مذاکرات سے قبل طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔معاہدے پر دستخط کے اگلے روز افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا۔اس انکار کے ایک دو دن بعد صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد سے اپنے تعلقات ختم کر دیں ۔افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے جب طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کا بیان دیا تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان قیدیوں کی رہائی پر فراخ دلی کے ساتھ غور کریں۔امریکا کے ساتھ مذاکرات سے قبل افغان طالبان کی کابل میں قیام امن کے لئے بنیادی شرط یہ تھی وہ صرف امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں گے اس کے علاوہ وہ کسی اور کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے۔اس حوالے سے طالبان کا موقف یہ تھا کہ کابل کا حکمران ’’بااختیار‘‘ نہیں بلکہ ’’بے اختیار ‘‘ ہے اس لئے ہم ان کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔اس کے برعکس امریکا اور افغانستان کا موقف تھا کہ اگر طالبان امن چاہتے ہیں تو بات چیت کابل سے ہی کرنا ہو گی۔

افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی دو وجو ہات کی بنیاد پر پاکستان سے ناراض ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان نے طالبان کو کیوں مجبور نہیں کیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں اور دوسرا یہ کہ جب امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع ہوئے تو اسلام آباد نے کیوں طالبان کو مجبور نہیں کیا کہ وہ کابل حکومت کو بھی براہ راست مذاکرات کا حصہ بنانے پر راضی ہو جائیں۔ اگر حقائق کو دیکھ کر جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے افغان طالبان کو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر راضی نہیں کیا بلکہ امریکا نے اپنے موقف سے پسپائی اختیار کی اور طالبان کا مطالبہ مان لیا کہ وہ ان کے ساتھ براہ راست بات چیت پر تیار ہے۔اس طرح امن مذاکرات ہو رہے تھے تو وہ بھی دونوں فریقین کے درمیان اس شرط پر ہورہے تھے کہ کسی تیسرے فریق کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں پاکستان صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا ۔ براہ راست مذاکرات کے دوران کبھی بھی پاکستان دونوں فریقین کے درمیان بات چیت میں میز

کے کسی جانب بیٹھ کر شریک نہیں رہا۔اگر امریکااپنی پالیسی تبدیل نہ کرتا تو ممکن ہی نہیں تھا کہ طالبان ،پاکستان کے کہنے پرکابل حکومت کے ساتھ بات چیت پر راضی ہو جاتے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان کے طالبان امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر پاکستان کے دباو کی وجہ سے راضی ہو ئے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے جب سے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کا بیان دیا ہے تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے غیر ضروری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی کو ششیں شروع کر دی ہے بلکہ یوں سمجھ لیں کہ مدعی سست ہے اور گواہ چست ۔افغانستان میں قیام امن کا معاہدہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہوا ہے۔اس لئے معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی دونوں فریقیں پر ہے۔ اگر ڈاکٹر اشرف غنی طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کرتے تو یہ امریکا کی ذمہ داری ہے کہ ان کو بین الافغان مذاکرات شروع کرنے سے قبل اس بات پر راضی کرلیں کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کر دیں۔امریکا نے جب امن معاہدے میں ذمہ داری لی ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کریں گے تو یہ ان کا فرض ہے کہ اس شق کی پاسداری کریں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس معاملے پر افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے درخواست کی ضرورت اس لئے نہیں کہ وہ مو جودہ صورتحال میں پاکستان کی کسی بھی درخواست کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں۔یہ ضرور ہے کہ وہ امریکا کے دبائو کو برداشت نہیں کرسکتا۔جب بھی وہاں سے حکم آئے گا وہ طالبان قیدیوں کو رہا کردیں گے۔ اس سے قبل دو مرتبہ وہ صدارتی انتخابات امریکی دبائو کی وجہ سے ملتوی کر چکے ہیں۔ اس طرح صدارتی انتخابات کے نتائج میں پانچ مہینے کی تاخیر امریکی دبائو کی وجہ سے ہی کی گئی۔ چند روز قبل صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے دوسری مدت کے لئے اپنی تقریب حلف برداری امریکا ہی کی وجہ سے ملتوی کی ہے۔

پاکستان کو چاہئے کہ وہ براہ راست کابل کے ساتھ اس معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں کوئی بھی بات نہ کرے، اس لئے کہ موجودہ انتظامیہ غیر ضروری طور پر الزامات لگا کر امن معاہدے کو ختم کر نے کی کوشش کررہی ہے۔صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی مکمل کوشش ہے کہ وہ دوسری مدت کے لئے صدارت کا حلف لیں ۔ وہ اپنی مدت پوری کریں ۔بین الافغان مذاکرات تاخیر کا شکار ہوں تا کہ ان کی خواہش پوری ہو۔پاکستان کو افغانستان کے ساتھ براہ راست بات چیت سے اجتناب کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کی تمام تر ذمہ داری دونوں فریقین امریکا اور طالبان پر ہے۔ اس لئے اسلام آباد کو غیر ضروری طور پر اس میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ رہی یہ بات کہ طالبان ، پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم کر دیں تو یہ مطالبہ انھوں نے طالبان سے کیا ہے وہی اس کا جواب دیں گے۔پاکستان کو اس وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ضروری نہیں کہ افغانستان کے حکمرانوں کے ہر الزام کا جواب دیا جائے۔اگر پاکستان ایسا کریگا تو مستقبل میں مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے اس لئے کہ امریکا بھی قابل بھروسہ نہیں۔ اس سال امریکا میں صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس معاہدے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات آسانی سے جیت جائیں گے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ دوسری دفعہ منتخب ہونے کے بعد وہ اس معاہدے کی مکمل پاسداری کریں گے۔انھوں نے اپنے مفادات کو دیکھنا ہے۔ اگر امن معاہدہ ان کے مفاد میں رہا تو پاسداری کریں گے ورنہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے۔اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ عمل درآمد کے تمام معاملات کو دونوں فریقین امریکا اور طالبان پر چھوڑ دیں۔امن معاہدے کی کامیابی اور ناکامی دونوں کے امکانات موجود ہیں۔پاکستان کو کابل کے ساتھ الجھنے کی بجائے دونوں طرح کے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں اثرات یہاں پر زیادہ ہونگے۔


ای پیپر