افغان امن معاہدہ اور بھارتی حکمتِ عملی
05 مارچ 2020 2020-03-05

طالبان سے امریکہ کے معاہدے سے ساری دنیا میں سکون اور خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اور امید ہو چلی تھی کہ چار دہائیوں سے جاری جنگ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی لیکن ابھی معاہدے پر ہونے والے دستخطوں کی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کر دیا کہ طالبان سے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔جس کے نتیجے میں فریقین کے مابین 7 روزہ جزوی جنگ بندی بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی، طالبان نے افغان مسلح افواج پر حملہ کر دیا جس میں بہت سی ہلاکتیں ہوئی۔ جواباً امریکہ کے لڑاکا طیاروں نے طالبان پر بمباری شروع کر دی۔ اس طرح معاہدے کے مطابق امن ایک بار پھر تعطل کی نظر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ افغان قوم کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی موقع میسر نہیں آ سکتا کہ وہ اپنے ہاں امن کا بول بالا کرے۔ افغان طالبان اور بالخصوص افغان حکومت کو فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔ اسے دیکھنا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا مفاد افغانستان میں قتل و غارت میں ہے۔

جہاں اس معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہونے والا ہے وہیں اس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہو گا۔ اسی لئے بھارت نے سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے اس امن معاہدے میں دراڑ ڈالنے کی سر توڑ کوشش کی لیکن بھارت اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے نکل گیا تو اس کا بھی وہاں سے بوریا بستر گول ہو جائے گا بلکہ طالبان کا رخ بھی بھارت کی طرف ہی ہو جائے گا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور طالبان نمائندہ ملا عبد الغنی برادر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کے مثبت اور کلیدی کردار کی تعریف کی۔بھارت کسی صورت بھی کریڈٹ پاکستان کو نہیں دینا چاہتا ہے اگر بھارت یہ بات تسلیم کر لے تو دنیا بھر میں پیغام جائے گا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جب کہ بھارت پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانا چاہتا ہے۔ حکومت سے ہٹ کر عام افغانوں کو افغانستان کے لئے پاکستان کی قربانیوں کا احساس ہے تاہم یہ احساس حکومت کی سطح پر نہیں پایا جاتا یہی وجہ ہے کہ بھارت جیسا ہمارا روایتی حریف وہاں قدم جمانے میں کامیاب رہا ہے۔ بھارت کی یہی کامیابی ہے کہ جس کی وجہ سے ہمیں اپنی راہ متعین کرنے میں دقت کا سامنا رہا۔ مسائل سے نکلنے کے لئے افغانستان کو اپنے ہاں بھارت کا عمل دخل ختم کرنا ہو گا۔ خطے میں امن کا مکمل دارومدار افغان حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر ہو گا۔ بھارت کا افغانستان میں عمل دخل در اصل پاک افغان تعلقات میں سرد مہری اور خطے میں امن کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ افغان حکمران ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کے خلاف بھارت کے لئے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ حکمرانی افغانستان پر کرتے ہیں ان کے بچے دہلی میں بھارتی اخراجات پر پلتے اور بڑھتے رہے ہیں۔ بھارت کی افغانستان میں موجودگی تک نہ صرف خطے میں امن کا خواب ادھورا رہے گا بلکہ پاکستان اور افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی مشکل ہے۔

بھارت نے افغانستان کی موجودہ حکومت پر بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارت نے اس سرمایہ کاری کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کے خلاف کھل کر استعمال کیا۔ بھارت نے افغان پاکستان سرحد کے ساتھ قونصلیٹ بھی اسی لئے بنائے تھے۔ اس معاہدے سے بھارت کو افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ بھارت کو اندازہ ہے کہ افغانستان کے نئے سیٹ اپ میں بھارت کو کھلی آزادی نہیں ملے گی۔ معاہدے کی رو سے افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکے گی، اس طرح افغانستان کی

سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، جو بھارت کے لئے ایک شکست ہو گی۔ بھارت کی ہی خواہش پر صدر اشرف غنی امریکہ طالبان امن معاہدے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ بھارت کی خوشنودی کے لئے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ روابط منقطع کریں۔ امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جو لائحہ عمل تیار کیا ہے اس میں ابھی بھارت کہیں نظر نہیں آ رہا ہے جب کہ طالبان اور پاکستان کا کردار متعین ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اشرف غنی چاہتے ہوئے بھی بھارت کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے کیونکہ بھارت نے تو اس امن معاہدے کو روکنے کی بہت کوشش کی ہے، بھارت نے ا مریکہ پر اپنا تمام دباؤ استعمال کیا ہے لیکن بھارت کامیاب نہیں ہوا۔اس معاہدے سے امریکہ کا اپنا مفاد جڑا ہوا ہے۔ بھارت کی مشکل یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا طالبان کی ہمنوا ہے۔ جب کہ بھارت عالمی سطح پر سیاسی تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے۔ بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ اشرف غنی اور اس حکومت کو اگلے سیٹ اپ میں برقرار رکھا جائے۔ طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار بھی بھارتی گیم ہے تا کہ کسی نہ کسی طرح یہ معاہدہ ٹوٹ جائے اور بھارت واپس کھیل میں آ جائے۔

طالبان سے امریکہ کا معاہدہ کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ افغانستان میں طالبان کی حیثیت کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کر چکا ہے۔طالبان کو عالمی شراکت داروں سے مل کر کام کرنا ہوگا، جنگ کی سٹرٹیجی، محاذ آرائی اور قتل وغارت کو ترک کرنا ہو گا۔ امریکہ طالبان سمیت خطے کے تمام شراکت دار اپنے عظیم تر تعاون، جمہوری سپرٹ اور مذہبی و شرعی اخلاص سے خطے میں امن کا پرچم بلند کریں۔ عالمی برادری کو امریکہ، افغان حکومت اور طالبان سے بڑی توقعات ہیں ان کو ہر قیمت پر پورا ہونا چاہئے۔ افغانستان میں مکمل قیامِ امن سے افغانستان کا معاشی و اقتصادی استحکام ممکن ہو گا۔ اس لئے اپنی قوم کے مفاد کی خاطر افغان حکومت کو اس معاہدے کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ اس معاہدے سے افغانستان میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی، طالبان ماضی کی نسبت جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ماڈریٹ قوت کے طور پر متعارف ہوں گے۔


ای پیپر