پی۔سالے۔۔
05 مارچ 2020 2020-03-05

دوستو،آپ لازمی طور پر کالم کا موضوع دیکھ کر حیران ہورہے ہوں گے۔۔ یہ اصل میں ہم نے ’’ پی ایس ایل ہے‘‘ لکھا ہے۔۔ پنجابی میں چونکہ ’’الف‘‘ کے استعمال میں نہایت کنجوسی برتی جاتی ہے۔۔اسکول کو سکول۔اسٹیشن کو سٹیشن وغیرہ لکھ کر الف غائب کردیتے ہیں، اسی لئے ہم نے بھی پی ایس ایل کے ایس میں لگے الف الگ کو غائب کردیا۔۔جس کی وجہ سے آپ کو لگ رہا ہوگا کہ ہم بدتمیزی یا بدتہذیبی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔۔ تہذیب پر یاد آیا۔۔ایک درخت کے پیچھے لڑکے ،لڑکی کو باہمی سرجوڑے رازونیاز کرتے دیکھ کر ایک باباجی تپ گئے۔۔غصے سے بولے۔۔ کیا یہ ہماری تہذیب ہے؟ لڑکے نے باباجی کو دیکھے بغیر کہا۔۔نہیں باباجی۔۔یہ اگلے محلے کی بلقیس ہے۔۔آپ کی تہذیب نہیں۔۔ آج ہم اپنی اوٹ پٹانگ باتیں۔۔ پی ایس ایل کے حوالے سے کریں گے۔۔

ہمارے ایک دوست ’’حافظ صاحب‘‘ نے پی ایس ایل کے حوالے سے ایک بہت ہی دردبھری تحریر ہمیں ارسال کی ہے۔۔جو کچھ یوں ہے کہ۔۔کس قدر بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔اس نے قدرے ناگواری سے ناک پہ دوپٹہ سرکاتے ہوے کہا۔ میں نے نظریں رسالے سے اٹھا کے سامنے دیکھا۔ایک تو بس لیٹ اوپر سے اس عجیب سے بندے کی موجودگی نے مجھے کوفت میں مبتلا کر دیا۔۔پھٹا ہوا گریبان،زرد آنکھیں وہ بھی حلقوں سے باہر نکلتی ہوئیں۔چہرے اور گردن پر میل کچیل کی کئی پرتیں۔ناخن عجیب گندے اور لمبے ہو کر آگے سے خم کھاے ہوئے۔ڈانگری ٹائپ پینٹ۔بیلٹ کی جگہ سوت کی رسی اور منہ سے ٹپکتی ہوئی رال۔ پائوں جوتے سے عاری۔بال بکھرے ہوئے ۔شیو بڑھی ہوئی۔۔کتنی بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔حالانکہ اس نے یہ بات سرگوشی میں کہی تھی مگر شائد اس منحوس نے سن لیا تھا،اس نے مجروح سی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔اس کا دیکھنا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔کیوں اوئے چرسی آنکھیں کیوں نکال رہا ہے؟؟ میں دھاڑا۔۔چرسی نما نے مجھے دیکھا اور چپ چاپ نظریں جھکا لیں۔میں نے رسالہ بینچ پہ پٹخا اور اٹھ کھڑا ہو۔۔نرم و نازک ہاتھ نے میری کلائی پکڑ لی،دفعہ کریں آپ،کیا منہ لگنا اس کے۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے چرسی کے پاس گیااور دھاڑا۔۔بتا کیا دیکھ رہا تھا ؟؟ارد گرد لوگ متوجہ ہونا شروع ہو گئے۔سب کی تمسخرانہ نظریں چرسی پر تھیں،ایک دو تو میری مدد کو بھی آ گئے۔ موالی، چرسی،جہاز۔۔اس قسم کے القابات مل رہے تھے اسے۔ میں نے اس کے گریبان کو جھٹکا دیا اور چلایا ،بتا کیا دیکھ رہا تھا؟شدت غضب سے میری آواز پھٹ سی گئی تھی۔۔کوئی لمحہ جاتا کہ میرا ہاتھ چرسی کی تواضع شروع کر دیتا۔میں نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا مگر مجھے احساس تھا کہ وہ بینچ پہ بیٹھی تھر تھر کانپ رہی ہے۔میں نے چرسی کی آنکھوں میں دیکھا۔اک جہان تھا ان آنکھوں میں۔ نفرت،غصہ،بے بسی۔۔دو آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کہ گالوں پر بہہ گئے۔۔میں ٹھٹھک سا گیا۔اس کے گریبان پر میری گرفت کمزور ہو گئی۔دل میں کہیں پشیمانی سی آئی۔ان آنسوؤں نے میرے غصے پر پانی ڈال دیا تھا۔میں کچھ پل تو اسے دیکھتا رہا پھر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا اور ڈھیلے قدموں سے چلتا ہوا واپس آ کے بینچ پہ بیٹھ گیا۔لوگ جو تماشے کی آس میں کھڑے تھے بڑبڑاتے ہوئے چل دیئے۔دوبارہ رسالہ پڑھنے کی کوشش کی مگر ارتکاز ختم ہو چکا تھا۔گہری سانس لی اور رسالہ سائیڈ پہ رکھ دیا۔۔آپ بھی حد کرتے ہیں،وہ میرے کان میں نغمہ سرا ہوئی۔۔میں نے اسے گھورا اورپیکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگائی۔سگریٹ بھی مزہ نہیں دے رہی تھی۔یہ میرے اندر کا اضطراب تھا جو مجھے بے چین کر رہا تھا،وہ دو آنکیں۔آنسوؤں سے لبریز آنکھیں۔آخر تھک ہار کے اٹھا اور اس چرسی کی تلاش شروع کی۔۔وہ پاس ہی برگر کی ریڑھی کے ساتھ بینچ پہ بیٹھا تھا۔میں جا کر اس کے پاس بیٹھ گیا ۔جیب سے پانچ سو کا نوٹ لکال کے اس کی طرف بڑھایا

یہ لے،چرس لے لینا۔۔’’میں چرسی نہیں ہوں‘‘۔اس نے بے زار سی آواز میں کہا۔۔چل ہزار لے۔پاوڈر لے لینا۔میں نے مزید پانچ سو نکال کے اس کی طرف بڑھایا۔۔میں نشئی نہیں ہوں۔اب کے اس کی بیزاری عروج پہ تھی۔۔پھر،گھر والوں نے گھر سے نکال دیا؟؟وہ خاموش رہا۔کیوں بنا رکھا ہے یہ حلیہ بتاتے کیوں نہیں؟میں نے استفسار کیا۔۔ میں’’لاہور قلندر‘‘ کا سپورٹر ہوں۔۔اس کی بھرائی ہوئی آواز نے مجھے سناٹے میں دھکیل دیا۔۔

جس طرح جنوبی پنجاب یا اندرون سندھ کے کسی سرکاری اسپتال میں جاں بہ لب مریض کو سرکاری ڈاکٹر دیکھتا ہے تو فوری کہتا ہے۔۔ اسے لاہور لے جاؤ یا کراچی لے جاؤ۔۔بالکل اسی طرح پی ایس ایل کا آغاز تو دبئی میں ہوا۔۔پھر دبئی والوں نے کہا۔۔اینوں لاہور لے جاؤ۔۔ جدھر دیکھو، کرکٹ پر ہی تبصرے ہو رہے ہیں۔۔ ایسے ایسے لوگ تبصرے کرتے نظر آتے ہیں، جنہیں یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ گیند پر تھوک کیوں لگایاجاتا ہے۔۔ تھوک پر یاد آیا۔۔ کچھ لوگ اتنے ’’صاف ستھرے‘‘ ہوتے ہیں کہ موبائل کی اسکرین اور اپنی عینک کو بھی تھوک لگاکر صاف کررہے ہوتے ہیں۔۔شوہر نے جب بیوی سے کہا کہ۔۔کرکٹ والا چینل لگاؤ۔۔ بیوی فوری کہا۔۔نہیں لگاؤں گی۔۔ شوہرغصے سے دھاڑا۔۔دیکھ لوں گا۔۔بیوی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔کیا دیکھ لوگے؟؟۔۔شوہر معصومیت سے کہنے لگا۔۔ یہی چینل جو تم دیکھ رہی ہو۔۔۔بیوی نے جب ایک بار اپنے شوہر سے کہا کہ۔۔پھر وہی منحوس کرکٹ۔۔ اگر تم ایک شام کرکٹ کھیلنے نہ جاؤ تو میں خوشی سے مرجاؤں گی۔۔شوہربیساختہ کہنے لگا۔۔بیگم، خدا کے لئے مجھے ایسا لالچ مت دو۔۔کیا آپ جانتے ہیں۔۔زیادہ تر لڑکیاںملتان سلطان کو اس لئے سپورٹ کررہی ہیں کہ اگر وہ ہار گیا تو کہیں ملتانی مٹی ہی بند نہ کردے۔۔باباجی نے بچوں سے اپیل کی ہے کہ ۔۔مارچ میں امتحانات شروع ہونے والے ہیں، بچے پی ایس ایل پر توجہ نہ دیں ورنہ رزلٹ لاہور قلندرز جیسا آئے گا۔۔

کرکٹ صرف عام عوام کا شوق ہی نہیں ،بڑے بڑے لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔۔ سیاست دان پی ایس ایل کے حوالے سے کیا کہتے ہیں آپ بھی سمجھنے کی کوشش کیجئے۔۔نواز شریف کا رانا فواد کو مہنگے کھلاڑیوں کہ بجائے امپائر خریدنے کا مشورہ۔۔شہبازشریف نے لاہور قلندرز کو لاہور ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لینے کا قیمتی مشورہ دے ڈالا۔۔زرداری نے کراچی کنگز والوں کو کہا، اتنی محنت کیوں کرتے ہو، تھوڑے اور پیسے لگا کر سامنے والی ٹیم بھی خریدلو۔۔مولانا فضل الرحمان نے تمام ہارنے والی ٹیموں کو مشورہ دیا ہے کہ جب بھی ہارو،جیتنے والے پر میچ فکسنگ کا الزام لگادو۔۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے۔۔جو ٹیم چھکے مارتی ہے وہ جیت جاتی ہے اور جو ٹیم زیادہ چھکے مارتی ہے وہ زیادہ جیت جاتی ہے۔ ۔مریم نواز کہتی ہے۔۔پھسل گئے ایک نہتی ٹرافی پر؟؟۔۔سراج الحق فرماتے ہیں۔۔ جسے اسٹیبلشمنٹ چاہے گی وہی ٹیم جیتے گی۔۔لبرلزنعرہ زن ہیں۔۔یہ جو کرکٹ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔۔ اسفند یارکا کہنا ہے۔۔سارے پنجابی پشاور زلمی کی ٹیم سے اور سارے پٹھان لاہور قلندرز کی طرف سے کھیل رہے ہیں، یہ آئین شکنی ہے۔۔

اور چلتے چلتے آخری بات۔۔شعیب ملک اور حسن علی کے سوا تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ وہ بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر