امر یکا اور افغان طالبان امن معا ہدہ
05 مارچ 2020 2020-03-05

درست کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان اٹھارہ ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد اگلے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط ہوجانا، اس خطے کے مستقبل اور ترقی و خوشحالی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے بلکہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی رنگ لائیں۔مگر میرے خیا ل میں ہم بہت جلد باز اورجذ با تی قوم ہیں شا ید۔ ہم نے لو لی پاپ کو چوس کر اس کا فلیور بھی ٹیسٹ کر نے کی ضر ورت محسو س نہیں کی اور ہم خو شی سے بھنگڑے ڈالنے لگے۔ ابھی اس معاہدے کے بہت سے پہلوئوں کا بغو ر جائز ہ لینے کی ضر ورت محسو س نہیں کی۔ جنگ نام ہی تباہی و بربادی کا ہے، اس طویل جنگ کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان نے جو براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات اٹھائے، دونوں ملکوں کا انفرا اسٹرکچر تباہی سے دوچار ہوا۔؎

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

افغانستان میں جاری جنگ کے دوران ایک لاکھ افغان اور 3500 اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کو مجموعی طور پر 2ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب دہائیوں سے جنگی تباہ کارروائیوں کے شکار افغانستان میں مزید تباہ حالی کا شکار ہوا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے 50 ہزار سے زائد اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ نیٹو افواج کے 3550 فوجی ہلاک ہوئے جن میں 2400 امریکی تھے۔ بلاشبہ امریکا کا یہ ایڈونچر مس ایڈونچر تھا۔ افغان جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلی۔ خود کش بمباروں کی کھیپ نے انسانی جانوں کا ضیاع کیا۔ بم دھماکوں میں پاکستان کے تقریباً 80 ہزار عوام جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے شہید ہوئے، لاکھوں زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ ملکی انفراسٹرکچر

کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا اور پاکستانی معیشت بیٹھ گئی۔معاہدے کے مندرجات پر ایک نظر ڈالی جائے تو امریکی فوج 14 ماہ میں افغانستان سے نکل جائے گی۔ طالبان کو تمام دہشت گرد تنظیموں سے روابط منقطع کرنا ہوں گے۔ افغان سرزمین القاعدہ، داعش سمیت تمام شدت پسند تنظیموں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 10 مارچ تک طالبان کے 5 ہزار سے زائد اور افغان فورسز کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ 29 مئی تک طالبان رہنمائوں کے نام اقوام متحدہ میں دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیئے جائیں گے۔ یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ خدا کرے کہ اس معاہدے پر عمل ہوجائے، ابھی اس میں بہت سے اگر مگر ہیں۔ معاہدے کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ اب افغان دھڑوں کے مابین مذاکرات بھی کامیاب ہوں گے کیونکہ ہر کوئی جنگ سے تنگ ہے۔ انہوں نے افغان عوا م پر زور دیا ہے کہ وہ نئے مستقبل کے موقع سے فائدہ اٹھائیں، تمام افغان قوتوں کو اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ معاہدے کے بعد گیند افغان حکومت اور طالبان کے کورٹ میں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بہت محتاط انداز میں آگے بڑھے اور امریکا اشرف غنی حکومت پر زور دے کہ وہ پاکستان کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دے۔ اسے یا د رکھنے کی ضر ورت ہے کہ طا لبا ن ا فغا نستا ن کے بہت بڑے حصے پر کنٹر و ل حا صل کر لیا تھا۔جن صو بو ں پر طا لبا ن کا مکمل کنٹر ول تھاوہ صو بے امر یکا کی دسترس سے بہت دور ہو گئے تھے۔

بہرحال سینئر طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر نے امن معاہدہ کو افغانستان کی مجاہد قوم اور عالمی برادری کے لیے خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغان قوم اسلامی نظام کے تحت ترقی کی بنیاد رکھے گی۔ انہوں نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور تمام فریقوں کو مبارک باد دی۔ صدر ٹر مپ نے خواہش کا اظہا ر کیا کہ امریکی فوجی بحفاظت وطن واپس آجائیں۔ اسی تناظر میں وہ اپنی قوم کو امید دلارہے ہیں کہ وہ فوجی گھر واپس لارہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں طالبان رہنمائوںسے ملاقات کریں گے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پاکستان اور دیگر برادر ملکوں کی کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے گزشتہ برسوں میں ہونے والی کوششوں کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء امن کے چیمپئن ہیں۔ ہمارے علماء نے 2018ء میں جنگ بندی کے لیے راستہ بنایا، امن اور جنگ بندی کا فتویٰ جاری کیا اور طالبان نے اسے تسلیم کیا۔ طالبان سے مذاکرات کی بات چیت 2010ء میں ہی شروع ہوگئی تھی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے امن معاہدے پر دستخط افغانستان اور پورے خطے کے لیے بہت بڑا موقع ہے، پاکستان نے عالمی امن و استحکام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جن کی تعریف کی جانی چاہیے۔

مگر ایک با ر پھر عر ض کر تا ہو ںکہ یہ معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل اس وقت قرار پائے گا جب فریقین اس کی پاسداری کو یقینی بنائیں گے، خدانخواستہ کسی نے بھی امن معاہدہ توڑا تو امریکی افواج زیادہ قوت کے ساتھ دوبارہ افغانستان پر حملہ آور ہوں گی، اور ا فغا ن طا لبا ن بھی اسی شد ت سے اس کا جوا ب دیں گے۔ خدشات اس وقت ختم ہوسکتے ہیں جب کہ فریقین تحمل، برداشت اور سیاسی حکمت و دانائی سے کام لیں۔ کیونکہ خطے میں امن کوششیں جاری رکھنے سے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوگی۔ بلاشبہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا، فریقین سمیت عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک میں استحکام برقرار رکھنے میں مددکرنی چاہیے، مستحکم افغانستان اور ہمارے مستقبل کے لیے امن ضروری ہے۔


ای پیپر