چو می گویم مسلمانم بلرزم
05 مارچ 2020 2020-03-05

میرا ایک بزرگ دوست بتا رہا تھا کہ نوے کی دہائی میں جب میں مدین میں تھا تو ایک فلسطینی سے جان پہچان ہوگئی۔ بے شمار مسائل کے باوجود وہ ایک مکمل مسلمان تھا اور یہ وہ اپنے اعمال سے بار بار ثابت کرتا رہتا تھا۔ فلسطین کے مسلمانوں پر بے تحاشہ ظلم ہوا لیکن یہ دھن کے اتنے پکے ہیں کہ جہاں بھی ہوتے ہیں خود کو ایک سچا مسلمان ہی ثابت کرتے ہیں۔ شہادت گہہ الفت میں وہ قدم رکھ چکے ہیں اور ہم ہیں کہ مسلمان ہونے کو آسان سمجھ بیٹھے ہیں۔ ایک دن ویسے ہی بحث کے دوران میں نے اس سے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہم کسی کو پرکھنے سے پہلے اگر اس کی نیت کو پرکھ لیں تو بے تحاشہ مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ نیتوں کو پرکھنا ایک کمال ہے اور ہم ہیں کہ اس کمال سے محروم ہیں۔ فلسطینی نے میری بات سنی ، میری طرف دیکھ کر مسکرائے اورگویا ہوئے اگر کوئی عورت بھرے بازار میں کپڑے اتار کر ناچنا شروع کر دے اور لوگوں سے کہہ دے کہ میری نیت صاف ہے۔

میں اپنے اس عمل سے بازار میں موجود لوگوں کو خوش کرنا چاہتی ہوں تو کیا ہم اس کی نیت کو لے کر اس عمل کی اجازت دے دیں گے۔ میں نے جیسے ہی سنا نفی میں سر ہلایا۔ وہ مزید گویا ہوئے۔ دیکھو ہم مسلمان ہیں اور اصل میں یہ ہمارے اعمال ، معاشرتی اور قومی زندگی ، ہمارے معاملات اور کسی برائی کی طرف ہمارا رد عمل ہوتا ہے جو ہمارے ایمان کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ہم جب تک ہر فعل اور ہر عمل کو اسلامی شریعت کے دائرے میں نہیں لائیں گے ہمارے لئے دنیاوی مسائل سے نجات، دشمنوں کی بالادستی سے جان خلاصی اور آخرت میں کامیابی مشکل ہے۔اسلامی شریعت وہ دائرہ ہے جس نے کمال مہارت سے دشمنوں اور غیر دینی لوگوں کے دل بھی جیت لئے ہیں لیکن ہم جو سمجھنے سے قاصر ہیں ابھی تک اسلام کے بارے میں گومگوں کے شکار ہیں اور صرف نیتوں کی لچک پر اکتفا کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے

سے پہلے ایک بزرگ استاد کی بات بھی ملاحظہ ہو

وہ کہتے ہیں کہ مریض کو آپریشن سے پہلے نشہ دیا جاتا ہے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ مریض پر نشے کا کوئی اثر ہوا کہ نہیں سرجن مریض کو چھیڑتا رہتا ہے۔ مریض کی طرف سے کوئی بھی حرکت نہ آنے کے بعد ہی اس کا آپریشن ہوتا ہے۔ یہی مثال مغربی ممالک کی ہے وہ ہمیں غلاظتوں میں لپٹی اقدار کا نشہ دیتے ہیں اور پھر ہماری حالت معلوم کرنے کے لئے کبھی میرا جسم میری مرضی اور کبھی عورت مارچ جیسی چیزیں سامنے لے آتے ہیں۔

مذکورہ بالا دو کہانیوں کے بعد ایک واضح حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔اعداد وشمار سے ہٹ کر بہرحال یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ حق و باطل سیارہ زمین پر تاقیامت موجود رہیں گے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش میں تاقیامت لڑائیاں لڑیں گے اور آخر میں آفاقی حقیقت یعنی کہ حق باطل پر غالب آجائیگا اور یہی خالق لایزال کی طرف سے پکار بھی ہے کہ بے شک حق ہی کو غالب آنا ہے۔

ہم صدیوں سے اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف گامزن ہیں لیکن اس زوال کی وجوہات معلوم کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں، وجہ جس کی یہ ہے کہ قرآن پاک کو الماریوں کی زنیت بنا کر صرف رسموں میں کھولتے ہیں، نماز عادتاً پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ و حج کو ریا میں لپٹادیا ہے۔

اب سوچئیے نا مین سٹریم میڈیا پر ایک عورت جس کو اسلام نے وہ مقام دیا ہے کہ تاریخ عالم میں ایسا مقام شائد ہی کوئی دیں آکر کہتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی اور سامنے بیٹھا شخص جذبات میں آکراس کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ دیکھو یہ نعرہ ایک وبائی مرض کی طرح دن بہ دن آپ ہی کی وجہ سے پھیل رہا ہے جو اسلامی ، قومی ، معاشرتی اقدار اور نئی نسلوں کے لئے ایک زہر ہے لیکن وہ برا مان جاتی ہے۔

تماشے کو اور بھی خوب صورت بنانے کے لئے فارغ لوگوں کے درمیان ایک دوڑ شروع ہوجاتی ہے جس میں میرا جسم میری مرضی والے نعرے کے حق میں بے شمار خیر خواہ کود پڑتے ہیں اور مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ اگر ہم گالیوں کی مذمت کریں تو ٹھیک ہے مذمت ہونی چاہیئے لیکن مین سٹریم میڈیا پر میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والوں کے پاس ایسی کون سے کمی آگئی ہے جو اب عورت مارچ کی آڑ میں صدیوں سے منہ پر قفل باندھی پاکیزہ عورتوں کو متحرک کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پچھلے کئی سالوں کا مطالعہ کیجیئے۔ بے شمار دفعہ ہمارے محبوب پیغمبرؐ کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں ہوئیں کہ مسلمانوں حیران رہ گئے۔ مسلمانوں کو ارادتاً غصہ دلانے کی یہ کوشش کون کر رہا ہے سمجھنے سے مگر ہم قاصر ہیں کہ یہی تو وہ فتنے ہیں جن کی طرف آج سے چودہ صدیاں پہلے اشارہ کیا گیا تھا۔ یہ چند سال پہلے ہی کا نوحہ ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور چپ کا طویل روزہ ہے جو امت مسلمہ نے رکھا ہوا ہے۔

یہ بے حیائی جو میرا جسم میری مرضی اور عورت مارچ کی آڑ میں ہمارے گھروں تک پہنچ گئی ہے ان کا سرا بھی مغرب کے پالے انہی لبرلز تک پہنچا ہوا ہے جو وقتاً فوقتاً کبھی ہمارے نبی، کبھی قرآن پاک اور کبھی ہمارے مسجدوں کی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں۔

ہم بدلے میں کرتے کچھ نہیں بس آپریشن تھیٹر میں پڑے مریض کی طرح صرف نشے میں ہیں۔ اب یہ سرجن کی مرضی ہے کہ ہمارے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے۔ یہ نشہ اور یہ فتنے اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتے۔ جب تک ہم فرمان الٰہی " اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ " کا عملی نمونہ نہیں بنیں گے تب تک رسوائی ہمارا مقدر بنے گی اور فتنوں کی ان لڑائیوں میں ہم ایسے ہی خود ایک دوسرے کے ساتھ دو بدو ہوتے رہیں گے۔ ایک انتہائی پہنچے ہوئے بزرگ سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ حقیقی مسلمان ہیں تو اس کا جواب تھا

چو می گویم مسلمانم بلرزم

کی دانم مشکلات" لا الٰہ " را۔

کیا ہم لا الہ الا اللہ سے جڑے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں؟

خود ہی سوچیئے۔


ای پیپر