خان صاحب، نعیم الحق اور اخلاقی قدریں!
05 مارچ 2020 2020-03-05

(دوسری وآخری قسط۔ گزشتہ سے پیوستہ)

نعیم بھائی( نعیم الحق ) کی وفات پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں نے وزیراعظم عمران خان کے راز دار عون چودھری کا ذکر کیا تھا، میں عرض کررہا تھا وہ جب تک خان صاحب کے ساتھ جُڑا رہا اُس نے خان صاحب کو ہر اُس شخص کے ساتھ جوڑے رکھا جو خان صاحب کو اور اُن کے نظریے (مرحوم) کو ٹوٹ کر چاہتا تھا، اب وہ سب لوگ خان صاحب سے اگرنفرت نہیں کرتے تو وہ محبت بھی نہیں کرتے جس کا خان صاحب نے خود کو ہمیشہ مستحق سمجھا وہ ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں وہ اِس دنیا میں چاہے جانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، خود وہ کسی کو بغیر کسی مفاد اور مطلب کے چاہنے کا تصور تک اپنے دل ودماغ میں نہیں رکھتے، نہ اُنہیں کوئی یہ سمجھا سکتا ہے کہ حضور محبت دوطرفہ ہوتی ہے، یک طرفہ محبت زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتی، اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو استعمال کرکے، حتیٰ کہ اپنے خونی رشتوں تک کو استعمال کرکے ضائع کردینے کے فن سے جتنے وہ آشنا ہیں شاید ہی کوئی ہوگا، اقتدار نے اس حوالے سے اُنہیں پورا ننگا کردیا ہے۔ خود سے محبت کرنے والوں کے دُکھ سکھ میں شریک ہونے کے عمل کو اُنہوں نے کم ازکم میرے نزدیک ہمیشہ ایک ”غیر مسلمانی فعل“ سمجھا، حالانکہ یہ عمل ہماری اخلاقیات خصوصاً ہماری سیاست کے لیے ازحد ضروری ہوتا ہے۔ کم ازکم اچھی سیاست کا اس کے بغیر تصورتک نہیں کیا جاسکتا، .... البتہ ذاتی طورپر مجھے یہ ”اعزاز“ حاصل ہے وہ 2011میں میری والدہ اور 2016ءمیں میرے والد محترم کے جنازوں میں شریک ہوئے، بعد میں بھی تشریف لائے، بڑی دیر تک میری ڈھارس بندھاتے رہے، اِس کے علاوہ گزشتہ برس میری اکلوتی بیٹی کی شادی میں بھی آئے۔ عارف علوی، عمران اسماعیل اور برادر محترم عبدالعلیم خان بھی ان کے ہمراہ تھے، میں اس حوالے سے ان کا ممنون ہوں، میرے پاس دوراستے تھے، ایک تو یہ میں اِس ”ممنونیت “ میں اُن کے اقتدار کی ساری نااہلیوں اور خرابیوں کو مسلسل نظر انداز کرتا رہتا جوکہ سواسال تک میں کرتا بھی رہا، دوسرا راستہ یہ تھا میں اس سوچ کے تحت اُن کی کچھ پالیسیوں پر جائز تنقید کرکے اُن کی اصلاح کی کوشش کرتا، میرے نزدیک یہی اصل دوستی ہے، میں نے پچھلے دنوں بہت سخت کالم لکھے، پر وہ شریف برادران جیسی کم ظرفی پر نہیں اُترے۔ میرا اُن کے ساتھ رابطہ برقرار ہے، پرسوں بھی واٹس ایپ پر اُن کا مسیج موصول ہوا جس میں اُنہوں نے اگلے ہفتے کسی دن ملنے کے لیے کہا، میں نے بھی اُن کی محبت میں بہت اذیتیں اُٹھائیں، شریف برادران سرکاری ملازم کو ہمیشہ ”سرکاری ملازم“ سمجھتے ہیں، کوئی سرکاری ملازم جو سرکاری گھر (جی او آر) میں رہتا ہو، اور ”شریف برادران کی جاگیر“ لاہور میں رہتا ہووہ اُن کے ساتھ پنگے بازی کا تصور بھی نہیں کرسکتا، میں نے اس کی بہت بھاری قیمت چکائی ہوئی ہے، نوائے وقت میں ہردوسرے چوتھے مہینے میرے کالموں پر پابندی لگادی جاتی تھی، ایک بار ایم ایس ایف کے پالتوغنڈوں کے ذریعے مجھ پر باقاعدہ حملہ کروایا گیا، بمشکل میری جان بچی، اِس ضمن میں میری ایف آئی آر تک نہیں ہوئی۔ پرویز راٹھور سی سی پی او لاہورتھے، اُنہوں نے خود مجھ سے کہا ” بٹ صاحب ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں پر ہم مجبور ہیں “ .... میں نے عرض کیا ”ہزار بار لعنت ہو آپ پر جو محض اپنی سیٹ بچانے کے لیے اپنے فرائض میں آپ ڈنڈی ماررہے ہیں، آپ کو اس کا حساب دینا پڑے گا“.... ایسا ہی گلہ مجھے اس وقت کے ایس ایس پی آپریشن لاہور چودھری شفیق گجر صاحب سے بھی تھا، میں اِس موقع پر یہ بھی حلفاً کہتا ہوں جب سے خان صاحب اقتدار میں آئے تین پرکشش عہدوں کی مجھے پیشکش ہوئی، عرض کیا ”میرے نزدیک اُستاد ہونے سے اور رائٹر ہونے سے مقدم، اور پُرکشش کچھ نہیں “ .... میں نے کوئی عہدہ قبول کرلیا ہوتا میں خان صاحب کے غلط اقدامات پر تنقید کرنے کے قابل ہی نہ رہتا، سو میں اپنے اِس ” اعزاز“ سے کسی صورت میں محروم نہیں ہونا چاہتا، نہ زندگی میں اس کی خواہش پیدا ہوئی، ....البتہ میرے دل ودماغ میں یہ آرزو مچلتی رہتی ہے، میں اس انتظار میں ہوں بطور وزیراعظم خان صاحب اپنے منصب کے شایان شان کوئی ایسا عمل کریں مجھے اُسی طرح کھل کر ان کی تعریف کرنے کا موقع ملے جس طرح اُن کے وزیراعظم بننے سے پہلے ان کے کچھ اعمال کی میں کرتا تھا ،میں نے سوچا تھا وہ اپنے دیرینہ ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شریک ہوں گے تو میں کھل کر اُن کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاﺅں گا ،میں یہ لکھوں گا ” خان صاحب نے اپنی روایت اور فطرت کے برعکس اپنے ساتھیوں کے دُکھ سُکھ میں شریک ہونا شروع کردیا ہے جو انتہائی اخلاقی

وانسانی فعل ہے، البتہ یہ اچھی بات ہے اور اس سے زیادہ حیران کن ہے وہ دوبار ان کی عیادت کے لیے گئے۔ نعیم الحق ان کے دیرینہ اور مخلص ساتھی تھے، خان صاحب کو چاہیے تھا ہرقسم کے ”سکیورٹی خطرات“ کو جوتی کی نوک پر لکھتے ہوئے ان کے جنازے میں شریک ہوتے یاکم ازکم اگلے روز ہی اُن کے گھر چلے جاتے، میرا تو یہ زخم بھی ابھی تک ہراہے میرے عزیز دوست دلدار پرویز بھٹی (مرحوم) جو شوکت خانم ہسپتال بنانے میں ہرحوالے سے خان صاحب کے مددگار ہوئے جب 1994ءمیں شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لیے خان صاحب کے ساتھ امریکہ گئے اور اس حوالے سے منعقدہ ایک شو میں اچانک برین ہمیرج کا شکار ہوکر گرپڑے تو وہاں موجود خان صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی انہیں اُٹھا کر ہسپتال لے جاتے، یا بعد میں وہاں چلے جاتے، وہ تقریب سے فوراً ہی کھسک گئے۔ موقع پر موجود لوگ ان کی اس بے حسی پر حیران رہ گئے، اس کے علاوہ میرے ذاتی نوٹس میں ہے اپنے کئی قریبی عزیزوں کے جنازوں میں شریک ہونا تو درکنار بعد میں اظہار تعزیت کے لیے ان کے گھروں میں بھی وہ نہیں گئے، اُن کے فسٹ کزن نجیب اللہ نیازی کے انتقال پر میں نے ان کی منت کی یہ ایسے مواقع ہوتے ہیں جب بڑے سے بڑے اختلاف کو نظرانداز کردینا چاہیے۔ آپ کو ضرور جانا چاہیے، وہ مگر نہیں گئے، ان حالات میں ، میں خان صاحب کے والدین کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کم ازکم ان کے جنازوں میں شرکت کے لیے ان کے اکلوتے بیٹے نے وقت نکال لیا تھا، .... ایک بار انہوں نے کسی جلسے میں حسب عادت بغیر سوچے سمجھے یہ فرما دیا ”وہ بڑے جاہل لوگ ہوتے ہیں جو محض اس وجہ سے کسی امیدوار کو ووٹ دے دیتے ہیں کہ وہ اُن کے کسی عزیزکے جنازے یا شادی میں شریک ہوا تھا“ ....میں نے اس پر خان صاحب کی خدمت میں عرض کیا ” یہ صرف ہماری اخلاقی نہیں دینی روایات بھی ہیں، ہمارے معاشرے میں اس کی بڑی اہمیت ہے، لہٰذا آپ آئندہ ایسی فضول باتوں سے گریز کیجئے گا“.... اب حالت یہ ہے میں ذاتی طورپر میں یہ سمجھتا ہوں چوبیس سالہ طویل سیاسی جدوجہد کے بعد بھی خان صاحب اپنے طورپر اقتدار میں نہیں آسکے کچھ بیساکھیوں کا انہیں سہارا لینا پڑا تو اُس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے ان کی سیاست میں لوگوں کے دُکھ سُکھ میں شریک ہونے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، .... دعا ہے یہ تصور ان کے ہاں قائم ہو جائے۔ دعا ہے نعیم الحق کو اللہ اپنے جوار رحمت میں خاص مقام عطا فرمائے۔ ان کے ساتھ کچھ یادیں کچھ باتیں ہیں جو میں اپنے کسی کالم میں عرض کروں گا !


ای پیپر