ادبی فیسٹیول اور حکمرانوں کی شرکت
05 مارچ 2019 2019-03-05

اشاعت، اظہار اور میڈیا میں ڈیجیٹل دور اپنی جگہ پر لیکن پاکستان میں ادبی کانفرنسوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ پہلے لاہور میں مختلف ادبی وثقافتی پروگرام ہوا کرتے تھے۔ یا حیدرآباد کے عالمی مشاعرے مشہور تھے۔ گزشتہ ایک عشرے سے سندھ کا دارالحکومت کراچی ان سرگرمیوں میں آگے آیا ہے۔ کے ایل ایف (کراچی لٹریچر فیسٹیول) گزشتہ دس سال سے باقاعدگی سے منعقد کیا جارہا ہے۔ اس کا بڑا اسپانسر اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس ہے۔ اس ادارے کو شہر کی ادبی و ثقافتی شخصیات اور اداروں کا تعاون آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کے اخراجات کے لئے بعض کاپرپوریٹ اداروں کی مالی اعانت سے ایک بڑی ادبی و ثقافتی سرگرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس فیسٹیول کی کامیابی اور نتائج کو دیکھتے ہوئے گزشتہ تین سال سے سندھ میں اس طرح کی تقریبات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت کے تعاون سے سب سے پہلے کراچی میں سندھ لٹریچر فیسٹیول منعقد ہوا۔اسی کے ساتھ حیدرآباد فیسٹیول بھی ہونے لگا۔ گزشتہ سال صوبائی محکمہ ثقافت کے تعاون سے صوبے کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرز میں اس طرح کے فیسٹیول منعقد ہوئے۔ سندھ فیسٹیول اور حیدرآباد فیسٹیول اب ہر سال باقاعدگی سے ہونے لگے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے دوران کراچی کے شہریوں کو اس طرح کی چار سے زائد تقریبات کا دیکھنے کو ہیں۔ پاکستا ن آرٹس کونسل کی جانب سے عالمی اردو کانفرنس ہوئی جس میں انڈیا، یورپ اور دیگر ممالک سے اردودان دانشور شریک ہوئے۔ مختلف موضوعات پر بحث ہوئی۔ لیکن اس کانفرنس کا دائرہ ادبی اور ثقافتی ہی رہا۔ پاکستان آرٹس کونسل برصغیر کے نامور شاعر کیفی اعظمی کی یاد میں ایک بڑا پروگرام کرنا چاہ رہی تھی، لیکن پلوامہ واقعہ کی وجہ سے کیفئی اعظمی کی صاحبزادی شبانہ اعظمی نے شرکت سے معذرت کرلی جس کی وجہ سے یہ پروگرام ملتوی ہو گیا۔ گزشتہ ماہ حیدرآباد میں حیدرآباد فیسٹیول اور لاہوتی میلہ کے نام سے دو بڑی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں ہوئیں۔ کراچی میں ہی گورنر ہاؤس میں ادبی کانفرنس ہوئی۔

کراچی میں منعقدہ ان تمام پروگراموں میں ایک حد تک یکسانیت ضرور تھی۔ بظاہر لگتا تھا کہ شرکاء اور مقررین تھک جائیں گے۔ لیکن ان پروگراموں کو دیکھا جائے تو موضوعات اور مقررین کی وجہ سے ان کو الگ طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ سندھ لٹریچرفیسٹیول بنیادی طور پر سندھ کے نقطہ نظر سے تھا۔ اس کے شرکاء سندھ بھر سے آنے والے مڈل کلاس اور لوئر مڈل طبقے سے تھا۔ یہ شو بظاہر سندھی شو تھا لیکن اس میں لاہور ، اسلام آباد، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مقررین بھی تھے۔ گلگت کے بینڈ نے بھی شرکت کی اور اس کی زیادہ تر کارروائی اردو میں ہی چلتی رہی۔ یہاں تک کہ سندھ کی دو بڑی ادبی شخصیات امر جلیل اور نورالہدیٰ شاہ نے

بھی اپنی گفتگو اردو میں کی۔ سندھ فیسٹیول کو کارپوریٹ سیکٹر کے بجائے صوبائی محکمہ اطلاعات اور انڈومنٹ فنڈ برائے ہریٹیج نے مالی مدد کی۔

ادب کے بینر تلے منعقدہ ان تقریبات میں کراچی اور ملکی سیاست ، اور معاشرت کے مسائل کے بعض اہم پہلو پر روشنی ڈالی گئی۔ کراچی مختلف نشستوں میں موضوع بحث بنا رہا۔ اور اس کے مختلف مسائل اور پہلوؤں پر بات کی گئی۔ اس بات پر زور دیا یا کہ کراچی میں دوسرے مقامات سے لوگ آکر آباد ہوئے۔ کیا کراچی کو انیس سو چالیس کے پلان کے مطابق ہونا چاہئے؟ کراچی مجموعی طور پر ایک کثیررخی پیچیدہ معاملہ ہے۔ کراچی میں اب کوئی رومانس باقی نہیں رہا۔ لگتا ہے کہ یہ شہر اب کسی کا نہیں رہا۔ ایک ہی وقت کئی سیٹ اپ ہیں اور کوئی چین آف کمانڈ نہیں۔ کراچی میں جتنے مہاجرہیں اتنے ہی پٹھان ہیں۔ کراچی میں رینجرز کی تعینات، تجاوزات ہٹانے اور کراچی آپریشن پر بھی بات ہوئی۔ یہ سوال کیا گیا کہ اگر کراچی کو 1940 کے پلان پر کھڑا کرنا ہے تو اس کے بعد آنے والی آبادی کا کیا ہوگا؟ اس زمانے میں کراچی اتنا تھا جتنا اب کراچی ضلع ساؤتھ ہے۔ لیکن کراچی کے اور اضلاع بھی ہیں، دیہی علاقے بھی ہیں۔ عدالتی ایکٹوازم اور عدالیہ کی عدم مداخلت سے متعلق بھی نشست تھی جس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی شرکت کرنی تھی۔ لیکن وہ پروگرام کی انتظامیہ کے مطابق ملکی صورتحال میں ہوائی جہازوں کی آمدرفت بند ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔ اس سیشن میں بتایا گیا کہ جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں کل 70 اور چوہدری افتخار محمد نے 417 سوموٹو نوٹس لئے۔

زیادہ گرما گرم بحث بلوچستان سے متعلق سیشن میں ہوئی۔ یہ سیشن بظاہر ماہر معاشیات قیصر بنگالی کی کتاب بلوچستان کے دکھ کی مہورت سے متعلق تھا۔ پینل میں قیصر بنگالی، اکرام سہگل اور مجاہد بریلوی تھے۔بلوچستان سے شریک ایک وفد نے اعتراض کیا کہ اگر بلوچستان پر ہی بات ہو رہی ہے تو اس میں کسی بلوچ کو شریک گفتگو کیوں نہیں کیا گیا۔ اکرام سہگل اور مجاہد بریلوی کا یہ نقطہ نظر تھا کہ بلوچستان کی صورتحال کے لئے وہاں کی سیاسی قوتیں ذمہ دار ہیں۔ جبکہ قیصر بنگالی نے ان سے اختلاف کیا۔ اکرام سہگل نے میر غوث بخش بزنجو کو ہٹانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وہ تب فوج میں تھے ۔ جب انہیں ہٹانے کے لئے گورنر ہاؤس پہنچے بزنجو نے انہیں چائے کی پیشکش کی۔ یہ بھی بتایا کہ بزنجو نے جب گورنر ہاؤس چھوڑا۔ تو ان کے ساتھ صرف ایک سوٹ کیس تھا۔ قیصر بنگالی کا موقف تھا کہ اگر سی پیک اور گوادر بلوچستان کی قسمت نہیں بدل سکتے تو پاکستان کے لئے بھی گیم چینجر نہیں بن سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دکھ دراصل ریاستی داروں کی جانب سے اس صوبے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے لئے کوئی ایک حکومت ذمہ دار نہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ پاکستان میں ترقی کاڈیزائن کچھ اس طرح کا رہا کہ وہ دریائے سندھ کی وادی میں ہوئی ہے۔ بلوچستان اور تھر دونوں اس لئے پسماندہ رہے کہ وہ اس وادی کا حصہ نہیں ۔

یہ فیسٹیول بظاہر ایک ادبی پروگرام ہے لیکن اس میں معاشرے کے دیگر موضوعات بشمول سیاست، ثقافت، سماجی علوم و مسائل، معیشت، دفاعی امور و شہری مسائل پر بھی بات ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں اس طرح کے فیسٹیول کے انعقاد پر ان موضوعات اور بعض موضوعات کے ان پہلوؤں پر خاص طور پر بات ہوتی ہے جو کہ عام طور پر میڈیا یا دیگر ایسے مقامات پر زیر بحث نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے بھی ہیں تو ان پر مختلف مکاتب کفر کا نقطہ نظر سامنے نہیں آتا یا پھر یہ تمام بحث بند کمروں میں ہی رہتی ہے اور عام لوگوں تک نہیں پہنچتی۔ لہٰذا کئی نئے پہلو اور زاویے سامنے آتے ہیں۔ ان فیسٹیول کے ذریعے لوگ مل بیٹھتے ہیں اور اکثر اواقت پرانے لوگوں کو بھی ملنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

کراچی ادب کانفرنس گورنر ہاؤس میں ہوئی، سندھ لٹریچر فیسٹیول میں صدر پاکستان عارف علوی نے شرکت کی۔ کراچی فیسٹیول میں وزیراعلیٰ سندھ شریک ہوئے۔ ایک اچھی بات ہے کہ حکومت معاشرے میں جو رجحانات اور بحث چل رہے ہیں اس سے خود کو لاتعلق نہیں سمجھتی کسی نہ کسی طرح سے اس کے ساتھ جڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔


ای پیپر