بھارت میں انتخابی جنگ تیز
05 مارچ 2019 2019-03-05

بالآخر بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔2018 ء کے ریاستی انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو کراری شکست ہوئی ہے۔اس سے زعفرانی انقلابی سخت صدمے میں ہیں ،ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ۔ جیسے امریکی حکمران جماعت کو ایوان نمائندگان کے انتخاب میں شکست ہوئی ہے اس سے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پرگہرے سوال اٹھے ہیں مگر یہ ناکامی ٹرمپ کو وسط مدتی انتخاب میں ہوئی ہے مگراس کے پاس سنبھلنے کاکافی موقع ہے مگر صدارتی انتظامیہ کے پاس ابھی کافی وقت ہے کی وہ اپنی غلطیوں کودرست کر لے۔ایسا ہوتا نظرآبھی رہاہے۔ شکست کے بعد جب امریکی صدر نے دھونس جمانے اور میکسیکو کے گرد دیوارنبانے پر ایوان نمائندگان نے رقم جاری کرنے کے حوالے سے صدر کی بات ماننے سے انکار کردیاتھا تو ایسے وقت میں اپنی طاقت دکھانے پر اصرار کیا ہی نہیں بلکہ مرکزی وزارتوں میں شٹ ڈاون کر بھی دیا۔ لاکھوں لوگ ملا زمت سے نکال گئے۔آخر کا ٹرمپ کو قانون کی حکمرانی کے آگے جھکنا پڑا۔ ایسا ہی معاملہ ہو اہے بھارتی وزیر اعظم مسٹر مودی کے ساتھ اپوزیشن اپنے قدم تیزی سے بڑھا رہی ہے۔ نریندر مودی کو حالیہ جنگی مہم جوئی کے ذریعے ہیرو بننے کا موقع نہیں ملی سکا۔ اپوزیشن جو جنگ کرنے کی دھمکی سے پہلے ہی اپنے قدم بڑھا چکی تھی ۔ جس ریاست کو دی لینڈ آف پرائم منسٹرز کہا جاتا ہے۔ وہ یوپی کی ریاست ہے اس کی 543 نشستوں میں سے اس کا سکور اسی ریاست میں ہے۔ 80 سیٹیں رکھنے والی یہ ریاست اس وقت وزیراعظم کی دوڑ میں شامل جماعتوں کے لیے پرکشش ریاست ہے۔ کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ تقریبا 25 سال سے سیاست میں ایک دوسرے کی حریف جماعتوں کے لیڈروں نے ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت تر ک کرتے ہو ئے اتحاد کر لیا یہ اتحاد ہوا ہے نچلی ذات کی نمائندگی کرنے والی جماعت سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ کے سابق وزیر اعلی یوپی اکھلیش یادو اور سابق وزیر اعلی یوپی مایا وتی کے درمیان۔ یوپی ریاست میں حکمران جماعت کی جڑیں اتنی مضبوط نہیں رہیں۔ اگر دوہزار چودہ کے انتخاب کاجا ئزہ لیں تو دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے خلاف الیکشن لڑا تھا اب یہ دونوں اس صوبے میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گی۔ دونوں جماعتوں کے ووٹوں کو دیکھا جائے تو ستر لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں جو مل کر 2019 کا الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہیں اور

اس کا دونوں جماعتوں نے ہوم ورک بھی کیا تھا۔اس اتحاد کی بھارت میں ایسی دھو م مچی کہ حکمران جماعت کی ایک اور مخالف ممتا بنر جی جسے ان کے چاہنے والے انہیں عقیدت سے دیدی کے کہتے ہیں جس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے بنگال سے کیمونسٹ جماعت کو جڑ سے اکھاڑ دیاہے اور ان کی جگہ ترنمول کانگرس نے لے لی ہے ۔ ممتا بنر جی کو مودی کی برابر کی چوٹ سمجھ کھا تھا اس لیے ممتا کو بی جے پی کے صدر امیت نے نشانہ بنا رکھا تھا۔ ممتا کو شکست دینے کے لیے انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہی تھا کہ بھارت کی سیاست کے ٹھہرے پانیوں میں ایک سیاسی دھماکہ ایسا ہوا کہ بھارت کی سیاست مین آگ اور پانی کا ملاپ ہو گیا۔دوسرا سیاسی دھماکہ پہلے سے بھی زبردست ارتعاش والا ثابت ہوا۔جو مودی کے سیاسی غبارے میں ایک پن ثابت ہوا۔یہ دھماکہ اندرا گاندھی کا نقش ثانی سمجھی جانے والی اندرا گاندھی کی پوتی پرینکا کا سیاست میں باقاعدہ داخل ہونا ہے۔ کیونکہ ان کے دونوں بچے اس قابل ہو گئے ہیں کہ اب ان کا داخل ہونا لازمی تھاکیونکہ اگر اس باران کی سیاست میں انٹری نہ ہوتی تواس سے گانگرس کو شدید دھچکا لگتا۔جس کاازالہ برسوں تک نہ ہو سکتا۔ماضی میں تو یہ ہوتا آیا تھا کہ جب بھی کانگرس بحران میں آتی تو پرینکا کو یاد کیا جاتا مگر وہ پہلو بچا کر گزر جاتی۔الیکشن کے زمانے میں اپنی ماں اور بھائی کی مدد گار بنتی۔مگر اس بار ان کے لیے انکار ممکن نہیں تھا۔ کانگرس میں ان کی انٹری زبردست دھماکہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنی آمد کے بعد جو ریلیاں نکالیں ان میں عوام نے زبردست سواگت کیا۔ مگر پرینکا کے لیے سب اچھا نہیں ہے۔ان کو کافی محنت کرنا پڑے گی وہ اپنے روایتی اسٹائل سے کر بھی سکتی ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ وہ سیاسی ماحول میں ہلچل نہیں مچاتی،مگر دشمنوں کو جواب بھی دیتی ہیں۔ یہ ضرور ہوا ہے کہ گانگرس میں آگئی ہے اس سے کانگرس کے اتحادیوں کو فائدہ ہونے کے امکانات روشن ہیں۔فروری کے آخری ہفتے وزیر اعظم مودی نے پاکستان سے جنگ کا جو ڈرامہ کیا اس سے ان کا امیج ایک ہیرو کا نہیں بلکہ ان کے مخالفین شروع سے ہی اسے ڈرامہ سمجھ رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں سمجھتی ہیں پاکستان کے مقابلے میں مودی نے زبردست سفارتی شکست کھائی ہے۔ خاص طورپر مایا وتی نے تو یہ تک کہ دیا ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں کارروائیاں اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے ہیں۔ اپوزیشن کے سوالوں پر مودی بہت برہم ہیں وہ سوال کرنے والوں کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور خبردار بھی کر رہے ہیں۔جس سے اندازہ لگانہ مشکل نہیں مودی اپنی ناکامی کا اظہار کرنے لگے ہیں خاص طور پرانہوں نے حکمران اتحاد این ڈی اے کی جو ریلی نکالی ہے اس میں انہوں نے اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ا نہوں نے بالا کوٹ پر فضائیہ کے حملے پر مخالفیں کو دوٹوک جوا ب دیا ہے اپوزیشن تو بالاکوٹ پر سٹرئیک ٹو کے ثبوت مانگ رہی ہے۔ جواب دینے کی بجائے اپوزیشن کہٹرے میں کردی ہے۔انہوں نے کانگرس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں پر الزامات لگائے ہیں ان کے سوالات بھارتی فوج کی حوصلہ شکنی ہیں۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا اپوزیشن کے سوالات سے پاکستان میں تالیاں بج رہی ہیں ۔اس کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے بلٹ کی جنگ جیتی ہے اور بیلٹ کی بھی جیتیں گے۔ پے در پے شکست مودی کا مقدر بن رہی ہے۔ اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ اب انتخاب پاکستان پر حملہ نندن پائلٹ کی واپسی دھیرے دھیرے انتخابی موضوع بنیں گے جو مودی کی کارکردگی کو بہا لے جائیں گے۔


ای پیپر