او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس۔۔۔پاکستان کا بائیکاٹ!
05 مارچ 2019 2019-03-05

او آئی سی(آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس یا اسلامی کانفرنس تنظیم) کی وزرائے خارجہ کونسل کے یکم اور دو مارچ کو ابو ظہبی میں منعقدہ اجلاس میں بھارت کو شرکت کی دعوت دینے پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بطور احتجاج اس میں شرکت نہیں کی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے یکم مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس یکم اور دو مارچ کو ابوظہبی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں بھارت کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اس اجلاس میں مدعو کئے جانے کے خلاف بطور احتجاج پاکستان نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے یکم مارچ کے آخری سیشن میں بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ طور پر منظور کی جانے والی جامع قرارداد میں بھی اوآئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے ابوظہبی میں منعقدہ دو روزہ اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کو مدعو کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی تائید کی گئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قرارداد پیش کرنے کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ابو ظہبی میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 46ویں اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کیا گیا۔ بھارت او آئی سی کا ممبر نہیں ہے۔ اسے مدعو کرنے سے متعلق مشاورت نہیں کی گئی۔ ترکی اور ایران بھی اس دعوت سے لاعلم ہیں۔ میں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل 26فروری کو بھارت کی وزیرخارجہ کو مدعو کرنے کے سلسلے میں او آئی سی کو خط لکھ دیا تھا جس پر متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو دعوت نامہ پلوامہ واقعے سے پہلے بھیجا تھا۔پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی اس مشترکہ قرارداد کو سامنے رکھتے ہوئے رات ایک دوسرا خط تحریر کیا جس میں ایوان کے جذبات سے انہیں آگاہ کیا، اور کہا کہ بھارت کو دی گئی دعوت واپس لی جائے بصورت دیگر پاکستان کے پاس شرکت نہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔بھارت کو اگر مبصر کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی تو اس پر احتجاج کریں گے۔ اس موقع پر متفقہ قرارداد کے حق میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت کو مدعو کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر پاکستان کے نہ جانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا،اور کہا کہ اجلاس میں نہ جانا اچھا فیصلہ ہے تاہم پاکستان کو اوآئی سی اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے سے روکنے کے لئے رکن ممالک پر زور دینا چاہئے اور متحدہ عرب امارات کی حکومت سے احتجاج بھی کرنا چاہئے۔ دیگر پارلیمانی لیڈروں نے بھی قرارداد کے حق میں تقاریر کیں بھارت کو اوآئی سی اجلاس میں مدعو کرنے پر تنقید اور پاکستان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی تائیدکی۔

اوآئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت کی شرکت کے خلاف پاکستان کی پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کی منظوری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے باوجود وزرائے خارجہ کونسل میں بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کی شرکت بلاشبہ پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے اور اب بھی ہے کہ بھارت اسلامی ملک نہیں اور نہ ہی اسلامی ممالک میں اسے شمار کیا جا سکتا ہے۔ لہذا اسے اسلامی کانفرنس تنظیم میں شمولیت کا کوئی حق نہیں پہنچتا لیکن شاید او آئی سی کا موٹو تبدیل ہو چکا ہے یا اس کے متحدہ عرب امارات جیسے ’’ بڑے ممبر ممالک ‘‘ کے نزدیک او آئی سی کا مطلب آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کی بجائے’’آرگنائزیشن آف انڈین کانفرنس‘‘ بن چکا ہے کہ یہ نام نہاد بڑے ’’ مسلم ممالک‘‘ کب سے امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو فوقیت دینے کی بجائے ہندوستانی مفادات کو ترجیح دینے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کی حیثیت محاورے کے مطابق گھر کی مرغی دال برابر جیسی ہے کہ پاکستان کی عزت و وقار اور امت مسلمہ کی بقا ء اور استحکام کے لئے اس کی قربانیوں کی ان کے نزدیک کچھ بھی اہمیت نہیں ہے۔ کو ن نہیں جانتا کہ بھارت کے دامن پر بے گناہ کشمیری مسلمانوں کے خون کے دھبے ہی نہیں لگے ہوئے ہیں بلکہ بھارت میں مسلمان دوسرے درجے کے شہریوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں آئے روز ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات اور جان و مال کو ملنے والی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت پاکستان کو نشانہ بنانے اور اسے گزند پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس سب کے باوجود اوآئی سی وزیر خارجہ کونسل اجلاس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشماسوراج کو بلایا جاتا ہے یا بھارت کو مبصر کا درجہ دیا جاتا ہے تو اسے

پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہی سمجھا جا سکتا ہے، لیکن متحدہ عرب امارات جیسے ہمارے مہر بان اور کرم فرما’’ بڑے اسلامی ممالک‘‘ کو شاید اسکی پروا نہیں۔

یہاں مجھے اوآئی سی کی پہلی سربراہی کانفرنس (اسلامی سربراہی کانفرنس) کے انعقاد کی روداد یاد آرہی ہے۔1969ء کی گرمیوں میں مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا جس سے عالم اسلام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ ستمبر 1969ء میں مراکش کے دارالحکومت رباط میں سربراہی کانفرنس جیسے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کہا جاتا ہے کا انعقاد ہوا۔ پاکستان میں آرمی چیف جنرل آغا یحییٰ خان چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرر اور صدر مملکت کے عہدے پر فائز تھے ۔ رباط کانفرنس شروع ہوئی تو بھارت کا وفد بھی اس میں شرکت کے لئے موجود تھا ۔ بھارت کا موقف تھا کہ بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں لہذا اسے کانفرنس میں شرکت کا حق پہنچتا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں بھارتی وفد کی موجودگی سامنے آئی تو پاکستان کے وفد کے سربراہ صدر مملکت جنرل آغا یحییٰ خان نے کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلا ن کرتے ہوئے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ سربراہی اجلاس تعطل کا شکار ہو گیا ۔ اسلامی ممالک کے سربراہاں جن میں سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم، ایران کے شہشاہ رضا شاہ پہلوی، اردن کے شاہ حسین مرحوم، اور مصر کے انور السادات مرحوم وغیرہ نمایاں تھے نے پاکستان کے صدر جنرل آغا یحییٰ خان کو اجلاس میں شرکت کے لئے آمادہ کرنے کی بھرپور کوششیں کی ۔ بلاآخر بھارتی وفد کو اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا اور پاکستان نے صدر مملکت کی سربراہی میں اس میں شرکت کی۔بعد میں جتنی بھی اسلامی سربراہی کانفرنسیں ہوئیں خواہ 1974ء کی لاہور میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس ہو یا 1979ء میں سعودی عرب کے شہر طائف میں اور بعد کے سالوں میں مراکش کے شہر کاسا بلا نکا اور دوسرے اسلامی ممالک میں منعقدہ سربراہی کانفرنسیں ہوں ان کے انعقاد میں پاکستان کا عمل دخل انتہائی نمایاں اور ممتاز رہا اور بھارت کو ان میں بطور مبصر یا کسی اور حیثیت میں شرکت کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ۔لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ پچھلے کچھ برسوں یا ایک دو عشروں سے او آئی سی نے اپنے قیام کے بنیادی مقصد اسلامی امہ کے مفادات کے تحفظ کو ہی فراموش نہیں کر رکھا ہے بلکہ جیسے اوپر کہا گیا ہے اس کے بارے میں یے کہنا شاید غلط نا ہو کہ اس نے آرگنازیشن آف انڈین کانفرنس کا روپ دھار لیا ہے۔

ابوظہبی میں منعقدہ اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے دو روزہ اجلاس کا علامیہ سامنے آچکا ہے جس میں بھارت کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کرنے اور پاکستان کو دھمیکیاں دینے پر متنبہ اور کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا اس طرح پاکستان کی اشک شوئی کی گئی ہے ۔ تاہم یہ حقیقت ہمارے منہ پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئی بلکہ اس نے خطاب بھی کیا اور بقول ترجمان دفتر خارجہ ہم کونسل کے افتتاحی اجلاس کا صرف بائیکاٹ ہی کر سکے۔


ای پیپر