ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ بحران!
05 مارچ 2019 2019-03-05

گزشتہ مہینہ یعنی فروری کی 14 تاریخ کو مقبو ضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہندوستان کی نیم فوجی دستے پر مقامی نوجوان عادل احمد ڈار نے فدائی حملہ کیا،اس حملے میں چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بغیر کسی تفتیش کے الزام پاکستان پر لگا دیا، چونکہ حملے کے دو دن بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اسلام آباد آنا تھااس لئے پاکستان نے فوری کوئی جواب نہیں دیا۔جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان واپس چلے گئے تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نر یندر مو دی سے درخواست کی کہ پلوامہ حملہ کے حقائق سے پاکستان کو آگاہ کیا جائے تاکہ ہم خود تفتیش کرکے ذمہ داروں کو سزادیں۔ ہندوستان نے اس پیشکش کو بے دردی کے ساتھ مسترد کیا۔نر یندر مودی نے معلومات کا تبادلہ کرنے ،تفتیش میں تعاون اور ملو ث لوگوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی کی درخواست کا جواب ان الفاظ میں دیا کہ ہم معلومات کا تبادلہ نہیں کریں گے بلکہ اسلام آباد سے بدلہ لیں گے۔فروری کی 26 تاریخ کو ہندوستان نے آدھی رات کو پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ان کے جنگی ہوائی جہاز وں نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے۔اسلام آباد کو چونکہ یقین تھا کہ دلی حملہ کر سکتا ہے اس لئے ائیر فورس نے بروقت کارروائی کی اور ہندوستان کے جہازوں کو بغیر کوئی کارروائی کرتے ہوئے بھاگنے پر مجبور کیا۔بھاگتے ہوئے ہندوستان کے جنگی جہازوں نے بالاکوٹ کے علاقہ میں بارود گرا دئیے۔اس جارحیت کے بعد ہندوستان نے جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا کہ ہم نے بالاکوٹ میں دہشت گر دوں کے تربیتی مرکز پر حملہ کیا ہے جس میں 300 دہشت گر د مارے گئے ہیں۔اس کارروائی پر ہندوستان میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے جبکہ پاکستان میں سوگ کا عالم تھا۔پاکستانی قوم شدید صدمے سے دوچار تھی۔رہی سہی کسر ہندوستان کے ذرائع ابلاغ نے پوری کر دی۔انھوں نے بات کا بتنگڑبنا کر پیش کیا۔ادھر پاکستان میں ہر کسی کے ذہن میں دو ہی سوالات تھے ۔ ہندوستان نے بالا کوٹ تک آنے کی جرات کیسے کی؟دوسرا ،اگر بر وقت کارروائی کی گئی تو ہندوستان کے لڑاکا طیارے گرائے کیوں نہیں؟

اگلے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے پر یس کانفرنس کی، انھوں نے تصدیق تو کی کہ ہندوستان کے جنگی

جہازبالاکوٹ تک آگئے تھے،لیکن کوئی کارروائی یا بم گرانے اور دہشت گر دوں کی ہلاکتوں کی تردید بھی کی۔انھوں نے اعلان کیا کہ جہاں ہندوستان کے جہازوں نے بھاگنے کے لئے اپنے آپ کو ہلکا کرنے کے لئے اضافی بارود گرایا تھا ،ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو وہاں کا دورہ کرایا جائے گا۔انھوں نے ہندوستان کی میڈیا سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی آئے اور جائے وقوع کا خود معائنہ کرے اور واپس جاکر اپنے وزیر اعظم کو بتا دیں کہ جھوٹ بولنے سے گریز کریں۔لیکن تاحال ہندوستان کے کسی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی درخواست نہیں کی ہے جس سے معلوم یہ ہو رہا ہے کہ وہاں کی میڈیا کو بھی یقین ہے کہ ان کے حکمران خود بھی جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کو بھی جھوٹ بولنے پر مجبور کیا گیا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے اس پر یس کانفرس میں ہندوستان کو خبر دار بھی کیا کہ اب بدلہ ہم لیں گے۔27 فروری کوبہادری اور دلیری سے دن کی روشنی میں پاکستان کے جنگی ہوابازوں نے ہندوستان کے دو جنگی طیارے مار گرائے۔ایک ہوا باز ابھینندن ورتھمان کو زندہ زخمی حالت میں گر فتار کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے مسلح افواج کے سربراہوں کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ گرفتار ہندوستانی جنگی ہوا باز ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو رہا کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں اس بڑے فیصلے کا اعلان کیااوراگلے روز بر وز جمعہ یکم مارچ کو ان کو واہگہ بارڈر کے راستے ہندوستان کے حوالے کیا گیا۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طر ف کہ ہندوستان اس وقت یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے؟تین بنیادی وجوہ ہے اس کی۔اس وقت امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان بر اہ راست مذاکرات جاری ہیں۔وائٹ ہاؤس کی خواہش ہے کہ ان کی افواج افغانستان سے نکل جائے،جبکہ پینٹاگان کی کوشش ہے کہ وہ افغانستان ہی میں رہے۔اس وقت ہندوستان کی حکومت اور مسلح افواج پاکستان کے خلاف جو جارحیت کر رہی ہے اس کے پیچھے امریکی مسلح افواج کا ہاتھ ہے۔امریکی اسٹیبلشمنٹ اور ہندوستان کی کوشش ہے کہ خطے میں ایسی صورت حال پیدا کی جائے کہ جس سے امریکا کو افغانستان میں رہنے کا مزیدجواز مل جائے، اس لئے وہ امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کے لئے یہ سب حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی جارحیت کی دوسری بڑی وجہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے۔اس میں بھی امریکا ہندوستان کا پشتبان ہے۔امریکا اور خود ہندوستان کی خواہش ہے کہ اس خطے میں ان کی بالادستی ہو۔لیکن سی پیک معاشی تر قی کا ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس سے امریکا اور ہندوستان کا یہ خواب نہ صر ف چکنا چور ہو جائے گا بلکہ امکان یہی ہے کہ دلی پر بیجنگ کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کو بھی بالادستی حا صل ہو جائے گی۔اس لئے ہندوستان اور امریکا کی مشترکہ کوشش ہے کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرکے اس راہداری کو مکمل ہونے سے روکا جائے۔تیسری وجہ ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات بھی ہیں۔وزیر اعظم نر یندر مودی او ران کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)سر توڑ کوشش کر رہی ہے کہ آنے والے انتخابات میں کامیابی حا صل کریں اس لئے کہ چند مہینے قبل ہونے والے ریاستی انتخابات میں اپوزیشن جماعت کانگرس نے حکمران جماعت کے اوسان خطا کر دیئے تھے۔ پاکستان کے خلاف مو جودہ جارحیت میں کابل کا حکمران ڈاکٹر اشرف غنی بھی ہندوستان کا ساتھی ہے۔چند مہینے بعد وہاں بھی صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔لیکن ان کے سر پر بھی امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان جاری براہ راست مذاکرات کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان کی بھی کوشش ہے کہ امریکا افغانستان میں مو جود رہے اور وہ دوسری مدت کے لئے ملک کا صدر منتخب ہو۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان جاری براہ راست بات چیت ناکام ہو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ خطے میں مو جود دو جو ہری طاقتوں کے درمیان جنگ ہو۔ پاکستان چونکہ امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں سہولت کار کا کردار کا بھی ادا کر رہا ہے اس لئے دلی ،کابل اور امریکی مسلح افواج کی مکمل کو شش ہے کہ خطے میں کشیدگی بر قرار رہے تا کہ وائٹ ہاؤس پر دباؤ ہو کہ وہ افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ نہ کر پائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وائٹ ہاؤس ،پینٹاگان کو متنبہ کرئے اور خود سی پیک کو رکنے سے بھی باز رہے۔پھر ممکن ہے کہ ہندوستان، پاکستان کے خلاف جارحیت کی بجائے مذاکرات کی میز پر آجائے۔کابل کے حکمران کو بھی سوچنا ہوگا کہ امن کے قیام میں پاکستان صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ان کو مذاکرات میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ امریکا اور افغانستان طالبان نے کرنا ہے نہ کہ پاکستان نے۔اس لئے ان کو بھی جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہئے۔


ای پیپر