05 مارچ 2019 2019-03-05

بھارت ایک بڑا ملک ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بڑے ملک کے حکمران اورعسکری سربراہ ذہنی لحاظ سے بہت چھوٹے ہیں جو مفاد کے لیے انسانی خون بہانا جائز تصورکرتے ہیں بصیرت سے محروم یہ لوگ خطے میں جنگ کے شعلے بڑھکانے پر بضد ہیں لیکن زمانہ بدل گیا ہے لوگ اب سرکاری فرمان پر اندھا دھند یقین نہیں کرتے تیس کروڑ کے لگ بھگ ٹیلی فون استعمال کرنے والے ہندوستانی بھی عالمی معاشرے کا حسہ ہیں جن میں سے کچھ کی سوچ میں آگاہی کی بنا پر وسعت آئی ہے اور وہ سوال جواب کی ہمت بھی کرنے لگے ہیں حالانکہ ہندوستانی میڈیا تو دن رات یہی باور کرانے میں لگا ہے کہ برسوں قبل خریدا گیا اسلحہ خراب ہو سکتا ہے بہتر ہے جنگ لڑ کراُسے استعمال کر لیں وگرنہ ملک کا نقصان ہوجائے گا چینلز پر نظر آنے والے بظاہر انسانی چہرے کیوں اپنے جیسوں کو زندگی سے محروم کرنے کے درپہ ہیں ؟شاید اُنھیں یقین ہے کہ وہ جنگ کے باوجود موت سے بچ جائیں گے اگر وہ ایسا سوچتے ہیں تو پرلے درجے کے احمق ہیں کیونکہ دو جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ خطے سے ہر جاندار کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے اسی خطرے کی طرف پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت اشارہ کر رہی ہے مگراقتدار کی ہوس میں مودی،امیت شا اورآدتیہ ناتھ ہر زلت تک جا نے کو تیارہیں گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا کربھی ملنے والا اقتدار اُنھیں عزیز ہے لیکن کب تک سچ کی پردہ پوشی کی جا سکتی ہے ایک وقت آتا ہے کہ سچائی تسلیم کیے بنا چارہ نہیں رہتا پاکستان کے چودہ کروڑ لوگوں میں سے بھی کچھ سوشل میڈیا پر سچ کی کھوج لگانے اور پھر زمانے کو آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں اسی لیے ہندوستان میں حکومت اور فوج سے پوچھنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے تین اہم رہنماؤں کی آڈیو ٹیپ انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی ہے اوی ڈنڈیا نامی بھارتی نژاد امریکی شہری جو بھارتی پائلٹ کے بیٹے ہیں نے آڈیو ٹیپ جاری کی ہے جس میں ایک رہنما کہتا ہے کہ چناؤ جیتنے کے لیے یدھ (جنگ) ضروری ہے دوسرا فوج کے لیے دیش(ملک) کے جذباتی پن کی بات کرتے ہوئے یہیں گڑ بڑ کرانے کی بات کرتا ہے تب خاتون دریافت

کرتی ہے کہ آپ جوانوں(فوج) کو مروانا چاہتے ہیں المختصر یہ آڈیو ٹیپ پاکستان کے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ پلوامہ حملے میں خود بھارت ملوث ہے اور یہ کھیل متوقع انتخاب میں نظر آتی شکست کے لیے کھیلا گیا ہے بھارتی پنجاب کے وزیر اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے بقول جس جنگ میں بادشاہ کی جان کو خطرہ نہ ہو اُسے جنگ نہیں سیاست کہتے ہیں ۔بھارتی اسکالر پروفیسر اشوک سوائن کا کہنا ہے کہ عمران خان متحمل مزاج جبکہ مودی اپنے مقاصد کے لیے جنگ چاہتے ہیں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے بھارت کی قیادت میں اِتنا چھوٹا پن کیوں ہے ؟اور وہ اقتدار کے لیے انسانی خون کی اتنی پیاسی کیوں ہے؟کیا گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کی جانوں سے کھیل کر بھی پیاس نہیں بجھی جو دو جو ہری طاقتوں میں جنگ کرانے پر آمادہ و تیار ہے کیا اُسے معلوم نہیں کہ ایسی صورت میں کسی جاندار کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں؟

رقبے ،آبادی اور وسائل کے اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کافی چھوٹا ملک ہے مگر سیاسی اور عسکری قیادت کا کرداراخلاقی لحاظ سے بڑا نظر آتا ہے عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے ہمیشہ صُلح اور امن کی بات کی ہے حالانکہ بھارتی قیادت کے لب و لہجے میں رعونت ہے بالاکوٹ کے قریب بھارتی فضائیہ کی کاروائی کے تیس گھنٹے کے اندر دن کی روشنی میں جواب دیکر پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دفاع کی نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دراندازی کرنے والوں کے عزائم خاک میں بھی ملا سکتا ہے پھر بھی ابھی نندن کو رہا کر نا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن بھارتی میڈیا میں موجود لوگ اپنی قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ پاکستان ڈر گیا ہے ارے بھئی اگر پاکستان ڈر گیا ہوتا تو مقبوضہ کشمیر میں چھ مقامات کو نشانہ کیوں بناتا ؟اگر ڈر گیا ہوتا تو دراندازی کرنے والے دونوں طیاروں کو کیوں گراتا؟اورڈر ہی گیا ہوتا تو جارحیت کی صورت میں سوچنے کی بجائے جواب دینے کا انتباہ کیوں دیتااسی وجہ سے تو پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر پزیرائی ملی ہے اور دنیا نے یہ پیغام لیا ہے کہ طاقت میں بھارت سے پاکستان کسی طور کم نہیں بلکہ پاک فوج استعداد میں بھارت پر فوقیت رکھتی ہے جبھی تودونوں ممالک میں کشیدگی کم کرانے کے لیے کوشاں ہے دنیا کی کوششوں کا پاکستان تو مثبت جواب دے رہا ہے لیکن بھارتی وزیرِ اعظم مودی بیان دیتا ہے کہ پائلٹ پراجیکٹ تو ہو گیا اب اصل کی طرف بڑھیں گے یہ اصل کیا ہو سکتا ہے سرحدوں پر گولہ باری اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دینا بھی ہو سکتا ہے ایسا لگتا ہے مودی کو انسانی خون سے رغبت ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ را کی سرگرمیاں مخفی نہیں رہیں بلکہ راج ٹھاکرے جیسے لوگ اجیت دوول کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں پلوامہ جیسی خون ریزی مزید کرائی گئی تو بھارتی فوج میں بغاوت ہو سکتی ہے فضائیہ اور بری فوج کے استعمال کے بعد میزائل حملے کی صورت میں پاک ردِعمل سے بھارت آگاہ ہو چکا ہے مجھے تو ایسا لگتا ہے عین ممکن ہے اگلے چند برسوں میں انڈیا میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل مزید شدت اختیار کر لے اور کشمیریوں کی طرح خالصتان، آسام، ناگالینڈ، تری پوری وغیرہ بھی بھارتی غلامی سے آزادی کے لیے متحرک ہوجائیں ۔

پاکستان نے امن کے لیے ابھی نندن کو رہا کیا جسے کمزوری سمجھنا درست نہیں مگر بھارت طاقت کے گھمنڈ میں کچھ سمجھنے پر تیار نہیں اسی لیے دباؤ بڑھانے کے لیے مزید بیس مطلوب افراد مانگنے کی حماقت کی ہے جن میں داؤد ابراہیم ،ببر خالصہ کے ودھاوا سنگھ ،خالصتان زندہ باد تحریک کے سردار رنجیت سنگھ،خالصتان کمانڈو فورس کے سردار پرم جیت سنگھ پنجوار،انٹر نیشنل یوتھ فیڈریشن کے لکھبیرسنگھ اور ہیپی سنگھ بھی شامل ہیں مزے کی بات یہ کہ مذکورہ افراد میں سے کوئی بھی پاکستان میں نہیں رہتا جس کا بھارت کو بھی بخوبی علم ہے لیکن مطلوبہ افراد کی حوالگی کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ اب بھی بھارت کے ذمیں کوئی شرارت ہے جس کا نتیجہ خطے میں جنگ کی صورت میں سامنے آسکتاہے مگر اُسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا اُس کی ہر بات کا یقین نہیں کر سکتی او آئی سی میں سشما سوراج نے جا کر دیکھ لیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم نے بھارتی دراندازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے گریز کرے مزید براں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کیا بہتر نہیں کہ بھارت میڈیا کی بجائے دنیا کی بات سُنے اور حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے وعدے کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خوداِرادیت دے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو۔


ای پیپر