انتہا پسند عالمی اسٹیبلشمنٹ ، مودی کی بے بسی اور غزوہ ہند
05 مارچ 2019 2019-03-05

جدید جنگوں کی تاریخ میں غالباََ یہ پہلا موقع ہے کہ دشمن ملک کے سیکورٹی اداروں کے حاضر سروس زمینی دہشت گرد کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد اس کے فضائی دہشت گرد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ، دوسرا کلبھوشن یادیویعنی پائیلٹ ابھی نندن۔ ان دونوں کی گرفتاری جہاں ایک جانب بھارتی سیکورٹی اداروں کی عسکری تربیت کے گرتے ہوئے معیار اور کھوکھلے پن کی نشاندہی کرتی ہے تو دوسری جانب سری لنکا سے لیکر پاکستان تک چا نکیہ دہشت گردی کا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ نیست ونابود ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ خطے میں ہندو توا کا فاشسٹ نظریہ زمین بوس ہونے جارہا ہے ۔کتنی احمقانہ بات ہے کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بھی ہلکا یا بھاری ایڈوانچر ہوتا ہے ۔ عالمی طاقتوں سمیت تمام مغرب پاکستان کو امن کا بھاشن دینا شروع کر دیتا ہے ۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر وہ بھارت کو لگام کیوں نہیں ڈالتے کہ بہت ہو چکا اب مقبوضہ کشمیر کو آزادی دے دی جائے تاکہ خطے کو صیحح معنوں امن کا گہوارہ بنا یا جا سکے ۔ انتہاپسند عالمی اسٹیبلشمنٹ کی اس بے جا حمایت کی شہہ پا کر بھارتی انتہا پسندی بے لگام ہو چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیئے انتہا پسند عالمی اسٹیبلشمنٹ کا یہی جانبدارانہ کردار درحقیقت کشمیری مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

انتہا پسندعالمی اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پلوامہ حملے کو بنیاد بنا کر اور اپنے بزدل جنرلز کے احمقانہ مشوروں پر پاکستان سے جنگ چھڑنے والے انتہا پسند مودی کے پاس اب تین آپشن بچے ہیں ۔ 1۔ بھارت اور اپنی قوم کو بچانے کے لیئے کھلی جنگ ۔2۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پورے بھارت سے BJPاور ہندو توا کا ہمیشہ کے لیئے خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ 3 ۔ اس کے باوجود کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق وہ خاموش رہتا ہے تو بھارت 2020 تک پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ Broken India ایڈوانچر شروع کرنے سے قبل کاش نریندر مودی اپنے ہی میڈیا اور آرمی چیف جنرل بپن راوت عرف گیڈر بھبکی کی ان رپورٹس کو ہی ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر لیتا، جس کے مطابق ’’ فوجی اہلکار جنگ زدہ علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں اور بیماری کا ڈھونگ رچا کر آرمی کوارٹرز یا گھروں میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ، اسی طرح بھارتی فوج کا مورال جنگ لڑنے والا نہیں وہ جنگ کرنے کی بجائے خود کشیاں کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ‘‘ تو آج پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی کا تماشا نہ لگتا ۔ موجودہ زمینی حقائق( بھارت میں 60سے زیادہ جاری علیحدگی کی مسلح تحریکیں ) کے تناظر میں بھارتی عوام اور فوج میں بھی یہ خیال تقویت پکڑ رہا ہے کہ مودی کی انتہا پسندانہ سوچ اور پالیسیوں کی بدولت بھارت کا کئی ٹکروں میں تقسیم ہونا نوشتہ دیوار بن چکا ہے ۔ شا ید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اب تمام طبقہ فکر اور حلقوں میں تواتر کے ساتھ برسرعام غزوہ ہند کا ذکر ہونے لگا ہے ۔ آنے والی تلخ حقیقت کا سامنا کرنے کے لیئے شاید وہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں ۔بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ RAW‘‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت کے بقول’’ آزادی کی جدوجہد میں کشمیری عوام گھروں سے نکل آئی تو بھارتی فوج میں ان کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ‘‘ ۔ مکمل اعتراف شکست یا پھر غزوہ ہند کی ابتداء ۔


ای پیپر