جمہوریت کا چہرہ داغ دار کیوں ہوا؟
05 مارچ 2018 (20:56) 2018-03-05

ایک مرحلہ تمام ہوا، راستہ روکنے کا ، مگر رک نہ سکا۔ ہونی کو ٹالنے کی کوشش ہوئی۔ مہروں نے زور لگایا، آخری ہلہ بولا گیا مگر سازش کا بھانڈا بیچ چوراہے تمام ہوا۔ ایسی بھگدڑ مچی کہ ’مہروں‘ نے اپنا راستہ لینا ہی بہتر جاتا۔ بیچ میں آئین کے آرٹیکل 184 کی کلاز تھری کے متحرک ہونے کا معاملہ بھی خوب گرج اور برس رہا ہے۔ بظاہر عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ کون جیتے گا یقین نہیں مگر پاکستان کے عوام اور جمہوریت ہار رہی ہے۔ عجب چلن ہو گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آتا ہے جواب دوسری طرف سے جلسہ عام سے آتا ہے۔ عدلیہ بمقابلہ حکومت چیف جسٹس سجاد علی شاہ کا زمانہ یاد آ گیا۔ جس طرح عدلیہ محترم، پارلیمنٹ کا احترام بھی لازم۔ فیصلوں پر فیصلے آرہے ہیں۔ دوسری جانب فیصلوں کو ہی نہیں لیا جا رہا بلکہ اور معاملات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ کچھ فیصلوں پر اعتراض تو اٹھتا ہے۔ نواز شریف کو کیوں نکالا، پارلیمنٹ کے قانون کو کیوں بدلا، پارٹی کی صدارت سے نا اہل کیوں کیا، سینیٹرز سے شیر کا نشان کیوں چھینا؟ یہ ہے بیانیہ نواز شریف کا ۔ دوسری جانب عدلیہ کے فیصلے ہیں مگر نواز شریف ان فیصلوں سے سیاست سے نکل گئے۔ جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں نواز شریف کے بیانیہ کی مقبولیت نظر آئی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے نہ تو نواز شریف مائنس ہوا نہ اُن کی جماعت۔ شیر کے نام و نشان کے بغیر سینیٹ میں کامیابی نواز شریف کے بیانیے کو ملی۔ کپتان کراچی سے الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔ کپتان کا کہنا ہے نواز شریف اور زرداری کی پارٹنر شپ توڑ دی۔ پیپلزپارٹی اور نواز شریف کی مفاہمت تو فروری 2009ء میں اُس وقت ٹوٹ گئی جب ججوں کی بحالی کے لیے 2009ء میں لانگ مارچ ہوا۔ مگر زرداری کو یقینا کپتان زیر کر چکے ہیں۔ نواز شریف کے مقابلے میں کپتان کی مشکلات کافی بڑھ گئی ہیں۔ جس طرح سینیٹ انتخابات ہو گئے۔ وہ جیسے بھی ہو گئے اب اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ جن ارکان نے پیسے لے کر ووٹ دیئے یا جس جماعت نے ووٹ خریدے یہ ایک فوجداری مقدمہ ہے۔ احتساب کا حرکت میں آنا ضروری ہے۔ اس کے لیے جناب چیف جسٹس صاحب کو بھی آگے آنا چاہیے کیونکہ جو کچھ ہوا یہ افسوسناک ہے۔ اگر کوئی ماورا آئین اقدام ہوا تو جمہوریت کے اس چہرے پر اس داغ کو چارج شیٹ میں جگہ ضرور ملے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی فکر اور عوام میں پذیرائی ماضی کا کھیل بن چکی ۔ اب صرف سیاست ہے اور روپے اورخزانے سے کب تک پارٹی کا امیج رہے گا۔ اب 20 نشستوں کے ساتھ جو دعویٰ کرے کہ وہ 33 ارکان اور جمع کر لے گا یہ ناممکنات کا کھیل ہے۔ ایم کیو ایم جو 4 نشستیں جیت سکتی تھی اُن کے 14 ارکان بک گئے۔ جمہوریت کی بالادستی اور بھٹو کے وژن کی کامیابی کا منظر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بھی نظر آئے گا۔ آصف زرداری سب پر بھاری کا نعرہ تو درست ہے مگر زر داری نظریے کی سیاست سے پارٹی بالادست نہیں ہو سکی۔ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں ہوتی یا حکومت میں پنجاب کا ووٹر بھٹو کے ساتھ کھڑا نظر آیا مگر اب پنجاب کے بارے میں یہ نظریہ بھٹو متروک ہو چکا ہے کیونکہ پارٹی کی مقبولیت کے لیے ماضی میں کسی سیاسی جماعت نے ایسی سیاست نہیں کی۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔
ماضی میں تو پیپلزپارٹی نے یہی کام کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو بلوچستان سے جو توقع تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بات تو کافی عرصہ سے بحث کا موضوع ہے کہ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا خاتمہ آصف علی زرداری کو کوششوں کا نتیجہ ہے اور یہ بات اس وقت سچ بھی ثابت ہوئی جب بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ نے اپنی کا بینہ سمیت آصف علی زرداری سے کراچی میں ملاقات کی۔ یہ سب کچھ ایک ایسی پارٹی نے کیا جو جمہوریت کو اپنی سیاست کا ستون سمجھتی ہے اور جس کی بلوچستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک بھی نشست نہیں تھی۔ جو لوگ بلوچستان اور پیپلزپارٹی کی سیاست کو سمجھتے ہیں، اُن کو اس بات کا علم ہونا چاہیے پیپلزپارٹی کا بلوچستان میں یہ نیا نہیں پرانا معاملہ ہے۔ 1970ء کے انتخاب میں بلوچستان واحد صوبہ تھا جہاں پیپلزپارٹی کی سیاست کو خان عبدالولی خان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی نے عبرتناک شکست دی اور پیپلزپارٹی ایک امیدوار بھی کامیاب نہ کرا سکی پھر بھی قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو بلوچستان کے عوام کا حق جمہوریت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بلوچی سرداروں اور عوام نے پیپلزپارٹی کو مسترد کر دیا تھا بھٹو نے غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل اور سردار خیر بخش مری کو غدار بنا کر یہاں پر اپنی یعنی پیپلزپارٹی کی حکومت قائم کر لی۔ پھر ’’ جمہوریت زندہ باد‘‘ آج بھی بلوچستان سے پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن بھٹو والی ہے۔ پھر بھی کہا جا رہا ہے مگر زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھنے والا معاملہ ہے۔ آخر آصف زرداری کو پریشانی کیا ہے۔ کافی گہری پریشانی ہے۔ اب پیپلزپارٹی ’’آؤٹ آف بکس‘‘ والی سیاست کرے گی۔ ماضی میں ووٹ خریدنے کے حوالے سے کسی سیاسی جماعت کی قیادت پر ایسے الزامات نہیں لگے تھے جس طرح پیپلزپارٹی پر عائد ہو رہے ہیں۔ یہ ساری حکمت عملی سینیٹر قیوم سومرو کے ذریعے عمل میں آئی۔ اس کے باوجود 3 مارچ 2018ء کا پیغام سیاست دانوں کے سیکھنے کا ہے کہ انہوں نے بدنامی کی کالک اپنی چہرے پر ملی ہے، نہ جانے یہ کتنی برساتوں کے بعد دھلے۔ سینیٹ کے نتائج میں کے پی کے سندھ اور بلوچستان میں سیاست دانوں نے ناپسندیدہ عمل کیا وہ کافی سوالیہ نشان ہے۔ محض جیت کے لیے آپ اس حد تک چلے گئے آپ کو معلوم نہیں کہ جمہوریت پر کتنا بڑا خود کش حملہ ہوا ہے جب بھی جمہوریت ڈی ریل ہو تو ’’زر‘‘ رکھنے والے سیاست دانوں کا اونچا مرتبہ ہو گا۔ ایک خصوصی جہاز کے ذریعے ’’فالو اَپ‘‘ کے لیے قیوم سومرو کوئٹہ گئے نہ جانے کیا ’’مک مکا‘‘ ہوا تھا۔ ساتھ ان کے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی بھی تھے، آزاد ارکان سے ملاقات کی۔ انہیں پیپلزپارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ کامیاب ہونے والے آٹھ سینیٹرز کو زرداری کا خصوصی پیغام دیا۔ وزیراعلیٰ سمیت کوئی آزاد رکن پیپلزپارٹی میں شامل نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے بھی رابطہ کیا مگر سرفراز بگٹی جو ثناء اللہ زہری اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گرانے کے اہم کردار تھے انہوں نے بلوچستان کے لیے چیئرمین سینیٹ کی نشست مانگ لی ہے۔ مگر بلوچستان کے آٹھ ارکان نے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے سینیٹ کے انتخاب میں ثناء اللہ کامیابی تک زبردست اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور آٹھ ارکان کا یہ فیصلہ حیران کر دینے والا نہیں ہے۔ کیونکہ ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی کے تحت وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ بے شک آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم میں گہری نقب لگائی ہے اور ہر مہاجر لیڈر اور ووٹرز اپنے ارکان کے بک جانے کا الزام لگا رہا ہے۔ ووٹ فروخت کرنے کے عوض کس نے کیا لیا اور کتنی رقم لی یہ کہانی کراچی سے خیبر پختونخوا تک پھیلی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر تو کھل کر آصف زرداری کی طرف اشارے کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مہاجر ایم پی ایز کے جس انداز سے پیپلزپارٹی نے سینیٹ میں ووٹ لیے ہیں یہ معاملہ ’’بابار حمت‘‘ کو از خود نوٹس لے کر دیکھنا چاہیے وہاں الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ سینیٹ کے اندر اتنا لمبا چوڑا جو مال پانی چلا ہے اس کام میں چاروں صوبوں کی زنجیر والی جماعت نے ہر جگہ برابری دکھائی ہے مگر پنجاب میں اس کا جھرلو نہیں چلا۔ حالیہ شرمناک کھیل میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے عمران خان کو کے پی کے کے حوالے سے جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق ’’پارٹی کے سترہ سے بیس ارکان نے خود کو فروخت کیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنی حکمت عملی سے ایک سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اگر کے پی کے میں تحریک انصاف کے ارکان بکے تو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بھی وہی کام پنجاب میں کیا جو بلوچستان اورکے پی کے میں ہوا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے علالت کے باوجود رانا ثناء اللہ کے ذمہ یہ کام لگایا ہے کہ وہ پارٹی کے غداروں کا کھوج لگائیں۔ یہ معاملہ ایسے نہیں چھوڑنا چاہیے اب پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ضرورت ہے۔


ای پیپر