قابلِ تحسین کارکردگی…!
05 مارچ 2018 (20:54)

خطاطی مسلمانوں سے وابستہ ایک خوبصورت فن ہے جو اسلام کی اشاعت کے ساتھ ہی خوب پھلنا پھولنا شروع ہو گیا۔ ترکی اور ایران جہاں اس فن کے بڑے مراکز رہے ہیں وہاں برصغیر جنوبی ایشیاء میں بھی اس فن کو خوب عروج حاصل ہوا۔ تاہم موجودہ دور میں اس فن کی وہ قدر افزائی اور اہمیت نہیں رہی جو کسی زمانے میں اسے حاصل تھی۔ اسے اگر مسلمانوں کی گمشدہ میراث کہا جائے تو کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔ اس میراث کی بازیابی ، فروغ اور ترقی یقینا وقت کی آواز ہے۔ حکومتِ پاکستان کا قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن (وزارت) اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ اُس نے مسلمانوں کی اس میراث کی بازیافت اور فروغ کے لیے ٹھو س اقدامات کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے ۔ گذشتہ دنوں ’’ عبدالمجید پرویں رقم قومی مقابلہ حسنِ خطاطی‘‘ کے انعقاد اور ایک مقامی فائیو سٹار ہو ٹل میں منتخب فن پاروں کی 23فروری تا 28 فروری تک چھ روزہ نمائش کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ماضی کے نامور خطاط عبدالمجید پرویں رقم جنہیں حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کے اُردو اور فارسی کلام کی کتابت کا شرف حاصل ہوا کے نام پر قومی سطح پر منعقدہ مقابلہ حسنِ خطاطی میں ملک بھر سے آئے اور مقابلے میں شریک چار سو فن پاروں میں سے حتمی طور پر چُنے گئے بیس فن پاروں کو جن کا چنائو ماہر خطاط پر مشتمل جیوری نے کیا اور جن کا تعلق خطاطی کے تینوں شعبوں خطِ نستعلیق ،ثلث اور جدید مصورانہ خطاطی سے تھا الگ الگ اول ، دوم اور سوم کے نقد انعامات جو علی الترتیب 75000 روپے، 50,000 روپے اور 40,000 روپے تھے ہی نہیں دئیے گئے بلکہ میڈلز اور تعارفی اسناد بھی دی گئیں۔ اس کے ساتھ مقابلے میں شریک ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد ، خصوصی افراد اور خواتین کو بھی حوصلہ افزائی کے دس خصوصی انعامات دئیے گئے۔ سیرینا ہوٹلز کے اشتراک اور تعاون سے خطاطی کے تینوں شعبوں سے متعلقہ فن پاروں کی نمائش بھی 23 تا 28 فروری چھ دنوں تک جاری رہی اور اس دوران قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی طرف سے ملک کے مختلف اور دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مقابلے میں شریک درجنوںافراد کی میزبانی اور قیام و طعام کا بھی انتظام کیا گیا۔
’’ عبدالمجید پرویں رقم قومی مقابلہ حسنِ خطاطی ‘‘ کا انعقاد اور فن پاروں کی نمائش قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی فعالیت اور کارکردگی کا ایک حالیہ نمونہ ہے ورنہ گذشتہ دو سالوں میں جب سے محترم عرفان صدیقی نے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر (بلحاظِ عہدہ وفاقی وزیر ) کا منصب سنبھالا ہے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن سے منسلک درجن بھر سے زائد قومی اداروں کی کارکردگی اور فعالیت میں قابلِ قدر اور قابلِ ذکر اضافہ ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ادارے خواہ وہ سرکاری ہو یا نجی اور اُس کا مقام اور درجہ کسی بھی سطح کا ہوکی یہ خوش قسمتی ہوتی ہے کہ اُس کو ایسا انتظامی سربراہ نصیب ہو جائے جو اس ادارے کے قیام کے اغراض و مقاصد اور نصب العین کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنی اعلیٰ ذہنی ، دماغی ، تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس ادارے کی کارکردگی کو بامِ عروج تک پہنچا دے۔جیسے اُوپر ذکر کیا گیاہے تقریباً دو سال قبل جنوری 2016 میں وفاقی حکومت کے تحت قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے نام سے ایک الگ ڈویژن (وزارت) قائم کر کے وزیرِ اعظم کے مشیر جناب عرفان صدیقی کو اس ڈویژن کا سربراہ مقرر کیا گیا تو عمومی خیال یہی تھا کہ جناب وزیرِ اعظم نے قومی تاریخ و ادبی ورثہ سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہل، قابل اور موزوں شخصیت کو یہ اہم ذمہ داری سونپ کر بلا شبہ ایک انتہائی مناسب فیصلہ کیا ہے۔یہاں زیادہ تفصیل کا موقع نہیں تاہم قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن سے منسلک کچھ اداروں کی پچھلے دو برسوں کی کارکردگی کا اجمالی سا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان (پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز)قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن سے منسلک ایک اہم ادارہ ہے ۔ اس ادارے کا مقصد اہلِ قلم کی بہبود کے لیے مختلف اقدامات کرنا ہے۔ اسلام آباد میں اس کے مرکزی دفتر کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اس کے دفاتر قائم ہیں۔ حال ہی میں پشاور میں دو کنال اراضی پر محیط اس کی اپنی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اکادمی کے توسیعی
پروگرام کے تحت دادو، مظفر آباد، گلگت، ملتان اور فاٹا میں اکادمی کے دفاتر کی عمارات تعمیر کی جا رہی ہیں جن کے لیے حکومت نے 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم کی منظوری دے رکھی ہے۔ پچھلے سال سابقہ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے اکادمی ادبیات کے تحت ادیبوں ، شاعروں اور اہل قلم کی بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کے اینڈوومنٹ فنڈ (Endovment Fund ) کی منظوری دی تھی اس کے ساتھ مستحق اہل قلم کا وظیفہ 7000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 13000روپے ماہانہ اور وظائف لینے والے اہل قلم کی تعداد 450 سے بڑھا کر 900 کر دی گئی تھی۔ مختلف علاقائی زبانوں میں لکھی جانے والی کُتب پر ایوارڈ کی تعداد میں بھی اضافہ کر کے اسے 11 سے 20کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ اہل قلم کی نگارشات کی سرکاری سر پرستی میں اشاعت کا بھی ضروری اہتمام کیا گیا۔ اکادمی ادبیات کے علاوہ نیشنل بُک فائونڈیشن جو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے۔حال ہی میںتیونس کی حکومت کے تعاون سے نیشنل بُک فائونڈیشن میں ’’گوشہ ابن خلدون‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں قومی کتاب میلے کا انعقاد نیشنل بُک فائونڈیشن کی ایک
مستقل سرگرمی ہے۔ اس سال اس میلے میں قومی اشاعتی اداروں کے علاوہ دوست ممالک چین، ایران، ترکی، مصر ، تیونس، تاجکستان، آذر بائیجان اور عمان کے اشاعتی اداروں کی طرف سے بھی کتابوں کے سٹال لگائے جائیں گے۔ پچھلے سال تقریباً 4 لاکھ افراد قومی کتاب میلے میں شریک ہوئے اور لگ بھگ دو کروڑ روپے مالیت کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے ایک اور سنگِ میل عبور کیا ہے وہ اُردو لُغت کے آن لائن ایڈیشن کا اضافہ ہے۔ پچاس سال کی محنت شاقہ سے بائیس جلدوں ، بائیس ہزار صفحات اور دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ پر مشتمل قومی اُرد و لُغت اب انٹر نیٹ پر ہی دستیاب نہیں ہے بلکہ دو سی ڈیز میں بھی دستیاب ہے۔قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن سے منسلک ادارہ فروغِ قومی زبان جس کے سربراہ نامور شاعر اور قلمکار جناب افتخار عارف ہیں یقینا انتہائی خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ قومی زبان کے فروغ کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہیں۔ اسی ادارے میں قائم شعبہ خطاطی نے ’’عبدالمجید پرویں رقم قومی مقابلہ حسنِ خطاطی ‘‘ کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔


ای پیپر