رینٹ اے سینیٹرز کا چیئرمین کون ؟
05 مارچ 2018 (20:54)

بنگلہ دیش بننے کے بعد جس بات کا شدت سے پچھتاوا ہوا تھا، وہ تھی پارلیمنٹ میں چھوٹے صوبوں کی مناسب اور موقر آواز کا نہ ہونا۔ قومی اسمبلی میں لامحالا چھوٹے صوبوں کے نمائندوں کی تعداد بڑے صوبوں سے کم ہوتی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سینیٹ کا آغاز ہوا۔ وقت گزرتا گیا غریب عوام اور خاص کر چھوٹی اکائیوں یعنی چھوٹے صوبوں کے مسائل کی موثر آواز بننے کے لیے بننے والا سینیٹ سیاستدانوں کے لیے پیسے بنانے کی مشین بن گیا۔ اگرآپ زیادہ پیسے خرچ سکتے ہیں تو آپ بڑے سیاستدان بن سکتے ہیں۔ اگر تھوڑے خرچ سکتے ہیں تو چھوٹے سیاستدان بن سکتے ہیں۔ اگرآپ پیسہ نہیں خرچ سکتے محض خاندانی آدمی ہیں ، پڑھے لکھے ہیں ، دیانتداربھی ہیں ، ملک اور عوام کے لیے بہت کچھ کرچکے ہیں اور مزید بہتری کے لیے سیاستدان بننا چاہتے ہیں تو آپ ساری عمر لگے رہیں آپ ملک میں عظمت، بلند قربانی اور کسمپرسی کی ایک مثال سے زیادہ کچھ نہیں بن سکتے۔ سینیٹ کے گزشتہ انتخابات بھی ہمارے اسی سیاسی کلچر کی ایک زندہ مثال ثابت ہوئے۔ پیپلزپارٹی پر پیسے دے کر سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کا بلوچستان میں کوئی ایک ایم پی اے نہیں ہے وہاں سے پیپلزپارٹی نے دو سینیٹ میں دو سیٹیں جیتیں ہیں۔ پہلے زرداری صاحب کے ایما پر ن لیگ کے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائی گئی اور اب زرداری صاحب کا اعتماد یافتہ گروپ صوبے میں حکومت بنائے ہوئے ہے اور اس کے اثرات سینیٹ کے انتخابات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پنجاب کی بات کرتے ہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے صرف 8 ممبران ہیں۔ اگرچہ سیٹ تو پنجاب سے پیپلزپارٹی نے کوئی نہیں جیتی مگر ان کے امیدوار کو آٹھ کی بجائے 26 ووٹ پڑے۔ پنجاب میں ایک اور اپ سیٹ تحریک انصاف کے چوہدری سرور کی جیت ہے۔ تحریک انصاف کے کل ممبران کی تعداد پنجاب میں 31 ہے جبکہ چوہدری سرور 44 ووٹ لیکر نہ صرف کامیاب قرار پائے بلکہ انھیں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے سینیٹر کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ پیپلزپارٹی کی طرح یہ بھی رینٹ اے سینیٹ کی زندہ مثال ہے۔
پیپلزپارٹی کی سینیٹ کے انتخابات میں پیسوں کی
برسات اور سینیٹ کی سیٹوں کی بارات کی بات جاری رکھیں تو خیبر پختون خواہ جہا ں پیپلزپارٹی کے صرف 7 ارکان پارلیمنٹ ہیں وہاں سے بھی دوسینیٹ کی سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جبکہ سندھ جہاں سے اندازہ لگایا جارہا تھا کہ پیپلزپارٹی 7 سینیٹ کی سیٹیں جیت جائی گی وہاں انہوں نے دس سیٹیں جیت کر ثابت کردیا کہ پیسہ ہو تو آپ ملک میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اے این پی کے ولی خان نے ایک زمانے میں ایک بیان دیا جس پر سارے ملک کے سیاستدان اور دانشور شور مچاتے رہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے اور پاکستان کا سیاسی وقار مجروح کیا جارہا ہے۔ لوگوں کا اعتماد سیاستدانوں اور جمہوریت سے اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے بیان یہ تھا کہ اگر ایک خاص رقم آپ کے پاس ہوتو آپ پاکستان کے موجودہ نظام میں پارلیمنٹ کوخرید کر حکومت بنا سکتے ہیں۔ ولی خان سے نظریاتی طورپر کسی کو انتہا درجے کے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر گزشتہ سینیٹ کے انتخابات نے ولی خان کے اس بیان پر تصدیقی مہر ثبت کی ہے۔
پیسہ پھینک کر تماشہ دیکھنے اور حالات کو غیر مرئی طریقے سے اپنے حق میں پھیرنے والوں کا کام یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ بے انتہا پیسہ لگا کر سینیٹر بننے والوں کا اعلیٰ درجے کا منافع کمانے کا وقت انتخابات کے فوراً بعد شروع ہوچکا ہے۔ چیئرمین سینیٹ بننے کے لیے کسی بھی پارٹی کے امیدوار سینیٹر کو کم ازکم 52 سینیٹروں کی حمایت درکار ہے۔ ن لیگ کے انتخابات کے نتائج کی روشنی میں ارکان کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔ ادھر بلاول بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا کھلا چیلنج ہے کہ ہم ن لیگ کو چیئرمین سینیٹ نہیں لانے دیں گے۔ گویا بڑے پیمانے پر مراعات کے لالچ اور پیسوں سے خرید کر سینیٹروں کو رجھانے اور لبھانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ جبکہ خاص طور پر نواز شریف کے گجرات میں کیے گئے جلسے کے دوران کھلے اعلان جنگ کے بعد تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آزاد حیثیت میں سینیٹ کا انتخاب جیتنے والے ن لیگی سینیٹرز کو بھی خریدنے کی حتی الوسع کوشش کی جاسکتی ہے۔
کوئٹہ اصل میں پیسہ بازاری کا مرکز بنے گا۔ بلوچستان سے آٹھ اور فاٹا سے چار منتخب ہونے والے آزاد سینیٹرز چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے اہمیت حاصل کرسکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پندرہ آزاد ارکان کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور انھیں منہ بولی مراعات اور پیسوں سے خریدنے کے لیے زور لگایا جائے گا۔ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی تیتس نشستوں سمیت اس کے اتحادیوں کی تعداد 48 ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی تعداد 40 ہے سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی زور آور ہوئی اور چیئرمین سینیٹ اپنا لانے میں کامیاب ہوئی تو نواز شریف کی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 تبدیل کرکے حالات نااہلی سے پہلے والے کرنے کی خواہشِ دیرینہ دم توڑ جائے گی اور پرویز رشید یا اسحاق ڈار کا چیئرمین سینیٹ بن کر اسٹیبلشمنٹ سے بدلا لینے کی خواہشات بھی جاتی رہیں گی جبکہ بصورت دیگر نیا محاز کھڑا ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارے اندازے کے مطابق چیئرمین سینیٹ ن لیگ کا ہی ہوگا۔ اور وہ ن لیگ کے شدت پسندوں کا ترجمان پرویز رشید کی بجائے شہباز شریف کا انتخاب راجہ ظفر الحق صاحب کی طرح کا صلح جو اور وضع دار سیاستدان ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ن لیگ پر کسی کی سیٹ پیسے لگا کر جیتنے کا الزام نہیں لگا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی جس نے سارے ملک میں پیسوں کے ذریعے اپنے ممبران کی تعداد سے بھی زیادہ ووٹ لے کر ملک کی تمام اکائیوں میں اپ سیٹ کیے اور سینیٹ کے الیکشن میں حیران کن چوکے چھکے لگائے وہا ں وہ پنجاب میں ن لیگ کو نقصان نہ پہنچا سکی اس لڑائی کے جو اصول پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے طے کیے ہیں وہ اس پر پوری طرح کاربند ہیں۔ وہ اصول یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی سیاسی فتح اسی میں ہے کہ ہر صورت ملک کے ہرسیاسی محاز پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ ہی دو بڑی طاقتیں نظر آئیں اور تحریک انصاف تیسرے درجے کی سیاسی قوت رہے۔ اس کے لیے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں تمام تر سیاسی جنگ ہونے کے باوجود پوری طرح قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے خیبر پختون خواہ سمیت پورے ملک میں پیسوں سے بکاؤ ممبران خریدے مگر اس فارمولے کو پنجاب میں لگانے سے گریز کیا۔ پیسوں کی سیاست سے پیپلزپارٹی ایوان بالا میں تحریک انصاف سے ایک قدم آگے ضرور کھڑی ہے مگر عوام کی عدالت میں کہاں کھڑی ہے اس کا جواب عوام عام انتخابات میں دیں گے۔


ای پیپر