ایک عالم فاضل شخص ایوب اولیاء سے ملاقات …؟
05 مارچ 2018 (20:53)

بینک میں نوکری ایک دور میں میرا خواب رہی ہے لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ میرے سر پر جو چند بال ابھی باقی ہیں اگر میرا بینک کی نوکری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتا تو شاید یہ بال میرے سر پر نہ ہوتے۔ اب تو ڈاکخانے کی نوکری بھی خاصی مشکل ہو چکی ہے بینک کی نوکری کا تو مت پوچھیں … کل میں ایک بڑے بینک میں اپنا اکائونٹ کھلوانے گیا … ایک نازک سی لڑکی نے پندرہ منٹ بعد (جب وہ Whatsapp پر کچھ ضروری کام کر کے خود کلامی کے انداز میں مسکراتے ہوئی فارغ ہوئی ) میری طرف متوجہ ہوئی … میں نے مدعا بیان کیا تو اُس نے میرا کچا چٹھا کمپیوٹر پر کھول کر مجھے دکھایا اور تقریباً غصے سے بولی ’’مسٹر اپنا شناختی کارڈ دکھائیں‘‘ … اس دوران جب اُس کی نظر کمپیوٹر سے ہٹی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے مسٹر کہنے پر شرمندہ ہوئی کیونکہ میں ایک پچپن سالہ شخص کہیں سے بھی ’’مسٹر‘‘ دکھائی نہیں دیتا … اُس کی یہ غلط فہمی نادرا کے ریکارڈ میں میری پرانی جوانی کی تصویر دیکھ کر ہوئی تھی جو جلد ہی دور ہو گئی اور اُس وقت میں نے سکھ کا سانس لیا جب اُس نے مجھے نہایت ادب سے مخاطب کرتے ہوئے ’’انکل اپنا شناختی کارڈ دیں‘‘ کہا … اُس بھولی بھالی لڑکی نے میرا شناختی کارڈ غور سے دیکھا اور پندرہ بیس کاغذوں کا پلندہ میرے سامنے رکھ کے بولی ’’سائن کرتے جائیں‘‘ … میں نے کوئی بیس جگہوں پر سائن کیے جس سے میرا بازو تھک گیا تو اُس نے اپنے سامنے رکھا چائے کا ٹھنڈا کپ میری طرف سرکا دیا اور آہستہ سے بولی … ’’انکل آپ چائے پئیں میں ذرا کچھ ضروری کام کر لوں‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر Whatsapp پر ’’ضروری کام کرنے میں مصروف ہو گئی‘‘ … میں نے سوچا کہ شاید اتنے زیادہ سائن کروا لیے ہیں کہیں … ’’بینک میرے نام کر ڈالنے کا ارادہ تو نہیں‘‘ … آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ رسیدیں کچھ ادارے دیتے ہیں تو اُن پر کافی ساری نہایت باریک تحریر چھپی ہوتی ہے … میں نے دادا جان کی عینک لگا کر بھی یہ تحریر پڑھنا چاہی مگر ہر بار ناکام رہا …
میاں نواز شریف اینڈ کمپنی اس وقت NAB کی گرفت میں ہے ممکن ہے کہ جوانی میں اُنھوں نے ایسے ہی کچھ کاغذات ’’خوشی خوشی‘‘ کچھ غلط فہمی میں سائن کر دئیے ہوں کہ جب کچھ لینے کا وقت آتا ہے تو آدمی ایسے باریک باریک لکھے فقرے پڑھے بغیر سائن کر دیتا ہے جو بعد میں سمجھنے کے لیے کسی عینک والے جن سے مدد لینا پڑتی ہے کیونکہ جدید ترین دور ہے جنات کی نظر بھی تو کمزور ہوتی ہو گی اور وہ بھی Eye Specialistکو ’’آنکھیں‘‘ دکھانے جاتے ہوں گے جس طرح آج بھٹی صاحب نے سرخ رنگ کے شلوار قمیض پر ’’گرے کلر کی واسکٹ‘‘ پہن رکھی تھی اور گردن اکڑا کر چل رہے تھے ہر آنے جانے والے نے جب بار بار پوچھا تو نہایت سنجیدگی سے (برا مناتے ہوئے) بولے ’’یار صبح جب میں دفتر آنے کے لیے نکلا تو ہماری حویلی میں لگے دیو قامت درخت پر یہ ’’واسکٹ‘‘ لٹکی ہوئی تھی … (اس دوران بھٹی نے خود پر جو جعلی سنجیدگی طاری کی تو ایسے لگا جیسے واقعی ہمارا دوست مدثر بھٹی اور گائوں کھیپڑانوالہ کے جنات گائوں کے پرائمری سکول میں ایک ہی ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے رہے ہوں؟) … شاہد جاوید صاحب نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا … ’’وہی بڑا درخت جس پر جنات کا سایہ ہے اور جو رات کو موم بتی جلا کر درخت پر بیٹھے لڈو کھیل رہے ہوتے ہیں‘‘ …؟ ’’ہاں جی ہاں جی … وہی وہی ‘‘ … بھٹی صاحب نے پہلے سے بھی زیادہ سنجیدگی چہرے پر طاری کرتے ہوئے کہا اور موٹر سائیکل کو کک ماری اور … یہ جا … وہ جا … اصل میں مجھے بینک، بینک کے کاغذوں پر لکھی نہایت باریک تحریر اور جنات کی عینک اس لیے یاد آئی کہ آج میری ملاقات استاد اللہ رکھا کے داماد … محترم جناب محمد ایوب اولیاء سے ہوئی جو بنیادی طور پر کمپیوٹر سائنس اور اکائونٹس کی تعلیم لندن سے حاصل کر چکے ہیں اور جن اعلیٰ شخصیات سے اُن کی ملاقات رہی اُن میں مجروح سلطانپوری، احسان دانش، فیض احمد فیض، علامہ مشرقی، ایشیاء کے سب سے بڑے مصور عبدالرحمن چغتائی، دنیائے موسیقی کے بڑے نام استاد نتھو خان، استاد برکت علی اور روشن آراء بیگم اور ایسے ہی بیسیویں بڑے لوگ شامل ہیں طبلہ نوازی میں بہت بڑا نام استاد ذاکر حسین، ایوب اولیاء کے بہنوئی ہیں …
یہ پڑھا لکھا عالم فاضل شخص بنیادی طور پر گوجرانوالہ میں پیدا ہوا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن جانے سے پہلے اُن نے FC کالج لاہور سے ڈگری حاصل کی اس شخص سے میری محبت کی ایک وجہ ایوب اولیاء کی سرکار دو جہاں حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے والہانہ محبت بنی جب ختم نبوت کے حوالے سے بات ہوئی تو اُنھوں نے مجھے برصغیر کے ایک بہت بڑے مفکر اور نامور مقرر سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے اپنی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ شاہ صاحب سے عمر میں چھوٹا ہونے کے باوجود میری گپ شپ رہی … ایوب اولیاء نے شاہ صاحب کو اپنا آئیڈیل قرار دیا اور بولے ’’مظفر صاحب! سید عطاء اللہ شاہ بخاری جس محبت سے قرآن پاک کی تلاوت کرتے، جس انداز میں خطاب کرتے مجھے محسوس ہوتا کہ قدرتی طور پر اُن کی ہر چیز وزن میں تھی شاید وہ جوانی میں موسیقی کے اساتذہ کی صحبت میں رہے ہوں … ایوب اولیاء نے اپنی کتاب ’’سنگیت کار‘‘ مجھے پیش کی تو میں حیرت زدہ ہوا اس شخص کی ہر تحریر میں فارسی اور اردو کے نامور شعراء کے اشعار بدرجہ اتم موجود تھے جو اُن کی علم و ادب سے گہری محبت کی عکاسی کرتے تھے ایک شعر ملاحظہ کریں …؎
سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی’’کیا قیامت ہے‘‘
کہ دامنِ خیال یار، چھوٹا جائے ہے مجھ سے
ہوئے ہیں پائوں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمی
نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے ، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
’’سنگیت کار‘‘ نامی اس نہایت خوبصورت کتاب میں 21 مضامین ہیں اس کتاب کا دیباچہ مشہور شاعر جناب ڈاکٹر اسلم انصاری ’’سرُ کی منزل کا مسافر‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے اس کتاب میں ایوب اولیاء نے ’’غالب اور موسیقی‘‘ جیسے اہم ترین موضوع پر بیس صفحے لکھے ہیں ایوب اولیاء کا یہ مقالہ مرزا غالب اور اُن کی شاعری سے محبت کرنے والوں کے لیے خاصے کی چیز ہے…؎
گنجینہء معنی کا طلسم اس کو سمجھئے
جو لفظ کے غالب مرے اشعار میں آوے
اس کے علاوہ اس کتاب میں استاد عاشق علی خان، استاد برکت علی خان، امیرِ موسیقی استاد امیر خان صاحب اور ملکہء موسیقی روشن آراء بیگم کا تذکرہ نہایت تفصیل کے ساتھ موجود ہے …’’شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو‘‘ اس موضوع کے عنوان سے ایک نہایت جامع مضمون محترمہ ملکہ ترنم نور جہاں کے بارے میں ’’موسیقی میں اُن کا مقام‘‘ کے حوالے سے موجود ہے اس کے علاوہ ’’بنارسی مغنیہ … رسولن بائی‘‘ … ’’کندن سہگل … کندن لال سہگل‘‘ … ’’استاد نتھو خان‘‘ … ’’ماسٹر جھنڈے خان‘‘ جیسے آسمانِ موسیقی کے درخشاں ستاروں کے حوالے سے بھی بہت سے تفصیلی مضامین موجود ہیں جو اپنی تحریری خوبیوں کے باعث بے حد اہمیت کے حامل ہیں اور اس علم کے پرستاروں کے لیے یہ تحریریں اپنی مثال آپ ہیں ۔
موجودہ دور میں محمد ایوب اولیاء اور ایسے علم دوست بہت زیادہ پڑھے لکھے ناپید ہیں جیسا کہ اربابِ اختیار کی نظر ایسے علم دوست لوگوں پر عام طور پر سیاسی جھمیلوں میں بری طرح پھنسے رہنے کی وجہ سے نہیں پڑتی اور آہستہ آہستہ ایسے ہیرے … گم ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن اربوں روپے جس طرح بے دریغ سینٹ کے حالیہ الیکشن میں لٹائے گئے کاش ایسی دولت میں سے جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے اقتدار کو توانائی بخشنا ہے میں سے کچھ دولت اس ملک میں بسنے والے ستر سال یا اس سے زیادہ عمر کے اُن بزرگوں پر بھی حکومت وقت نچھاور کر سکے کہ جن کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف اپنی علمی دنیا ہی رہا … محمد ایوب اولیاء جو 16، نومبر 1938ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اُن کی تحریریں اپنی مثال آپ ہیں اُن کی باتیں علم کے طالب علموں کے لیے گوہر نایاب ہیں … اپنی کٹیا میں بیٹھا فن موسیقی کا یہ استاد جو اکائونٹس اور کمپیوٹر سائنس کی دنیا میں بھی اپنی ایک پہچان رکھتا ہے اس ضعیف العمری میں بھی اس شہر میں ایک بے نام شخص کے طور پر موجود ہے حالانکہ ایسے عالم و فاضل لوگوں کے نام سے شہر میں بنتا کوئی پل، کوئی انڈر پاس ہونا چاہئے کہ میرے ساتھ ساتھ میرے سینئر دوست جناب افتخار مجاز کی بھی یہی رائے ہے۔ شاید پڑھنے والے بھی میری اس رائے سے متفق ہوں ؟
خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا
ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا
اپنی کھوئی ہوئی آواز رسائی مانگے
جاں سے الجھا ہے کوئی نغمہ رسیلا اپنا


ای پیپر