جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
05 مارچ 2018 (20:51)

کل سوشل میڈیا پر ایک کلپ دیکھی جس میں میاں نواز شریف کے ایک جان نثار ،سابق ممبر سینٹ نہال ہاشمی جیل سے رہائی کے بعد گلے میں ہار پہنے کھڑے ہیں اور اپنے چند وکلاء دوستوںسے خطاب کر رہے ہیں ۔ اس مختصر سے خطاب میں انھوں نے ججز کے متعلق جو زبان استعمال کی اسے سن کر کوئی بھی محب الوطن شہری مایوسی کے بسیط اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اس کلپ کو اپنی سکرین پرتو لاتا ہے لیکن اس کی آواز کو ناظرین کے سا منے پیش کرنے کی سکت نہیں پاتا۔نہال ہاشمی کا تعارف یہ ہے کہ وہ میاں نوا شریف کا ایک جاں نثار سیاسی ورکر ہے۔ جس کاتعلق کراچی سے ہے لیکن میاں صاحب نے اسے پنجاب کی سیٹ پر اپنی پارٹی کا سینٹر منتخب کرایا تھا۔اس شخص نے اس سے پہلے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے ممبران اور محترم ججز کو وہ دھمکیاں تھیں جنہیں سن کر لوگ دم بخود رہ گئے تھے۔اس پر میاں نواز شریف نے اشک شوئی کے طور پر اس کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن وہ بدستور سینٹ کی ممبرشپ انجوائے کرتا رہا تآنکہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں اس کی رکنیت ختم کر دی۔میاں نوا زشریف چونکہ خود سپریم کورٹ کے فیصلوں اور ججز کو ببانگ
دہل برا بھلا کہتے رہتے ہیں اس لیے ان کے جاں نثار ان سے بھی بڑھ کر سپریم کورٹ کے بارے میں توہین آمیز بیانات دے کر اپنی جاں نثاری کے ثبوت دیتے رہتے ہیں۔لیکن ان کی اور ان کے بیانات کی کیا حیثیت ۔ اصل بات تو میاں نواز شریف کی ہے۔سپریم کورٹ اس ملک کا آئینی ادارہ ہے اور ملک کے عدالتی نظا م کی سب سے اعلیٰ عدالت ۔سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کے خلاف جب سے فیصلہ دیا ہے اس دن سے سپریم کورٹ اور اس کے ججزکے ساتھ جوہورہا ہے وہ پوری قوم دیکھ رہی ہے۔ اب تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم ثاقب نثار قسمیں کھا کھا کر وضاحتیں فرما رہے ہیں۔لیکن کچھ فائدہ نظر نہیں آ رہا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج محترم آصف کھوسہ صاحب نے بھی وضاحت فرمائی ہے کہ انھوں نے کسی لیڈر کے متعلق گاڈ فادر یا سسلین مافیا کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔عدلیہ کسی بھی ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے لیکن ایک تواتر سے اس پر حملے جاری ہیںاور اسے کمزور کرنے کی ٹھان لی گئی ہے۔ جب کسی ریاست کا کوئی ستون کمزور کر دیا جاتا ہے تو نتیجتاً ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔ کسی بھی ریاست کے باشیوں کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے عدلیہ جیسے اہم ادارے کو کمزور کر دیا جائے۔ پوری دنیا کے بڑے لیڈران اپنی ساری توانائیاں ریاستی اداروں کی مضبوطی پر صرف کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاسی لیڈران کی سوچیں اپنے اور اپنے خاندانوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ملکی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیں، جب بھی یہاں کے کسی سیاستدان کے خلاف فیصلہ آیا اسی نے عدلیہ کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈران نے اپنے خلاف فیصلے آنے پر ملک کی عدالتوں کو ’’ کینگرو کورٹس ‘‘ کا نام دیا۔آج کے دور میں میاں نواز شریف عدل آزاد کرانے کے لیے کمر بستہ ہو گئے ہیں ۔اب ایک نظر میاں نواز شریف کی زندگی پر ڈال لیں، خصوصی طور پر اس زاویہ نگاہ سے کہ اس قوم نے انہیں کیا دیا۔ اس قوم نے سب سے پہلے انہیں ملک کے سب سے بڑے صوبہ کا وزیراعلیٰ بنایا۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان کا دور سب سے لمبے عرصہ پر محیط ہے۔ اس کے بعد اس قوم نے انہیں ملک کا وزیراعظم بنا دیا، پھر ایک بار نہیں تین بار۔اس پاک سرزمین پر یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو نہ ان سے پہلے کسی کے مقدر میں آیا اور نہ ہی ان کے بعد کسی کو میسرآئیگا۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو سیاست میں لاناپسند کیا ، قوم نے اسے بھی ملک کے سب سے بڑے صوبہ کا وزیراعلیٰ بنا دیا۔ وہ آج بھی وزیراعلیٰ ہیں۔ کیا اس قوم کو یہی صلہ دیا جا رہا ہے کہ اس کے عدلیہ جیسے اہم ادارے کو کمزور اور بے حیثیت کرنے کی ٹھان لی گئی ہے۔پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک کسی دور میں بھی عدلیہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جو آج ہو رہا ہے۔ اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عدلیہ کے فیصلوں نے میاں نواز شریف کو بہت نقصان پہنچایا ۔ قو م نے اپنے ووٹوں سے جسے ملک کا وزیراعظم بنایا تھا عدلیہ نے ایک فیصلہ سنا کر انہیں اس عہدہ سے فارغ کر دیا، اور عدلیہ کا یہ فیصلہ مبنی بر انصاف نہیں تھایا انھوں نے یہ فیصلہ کسی بغض و عناد کی بنا پر دیا۔ تو کیا اس کی بنیاد پر عدلیہ جیسے اہم ادارے کے خلاف ایک تحریک کا آغاز کر دیا جائے۔سوال دو تین یا پانچ ججز کا نہیں ہے،سوال عد لیہ کی credibilityاور اس کے وقار کا ہے۔دنیا بھر کی عدالتوں سے چند نہیں کافی تعداد میں ایسے فیصلے ہوتے ہیں جن کے مبنی بر میرٹ ہونے پر کئی پارٹیوں کو شدید تحفظات ہوتے ہیں ، لیکن ان کے تحفظات کی حقانیت کسی طور انہیں یہ جواز تو فراہم نہیں کرتی کہ وہ ریاست کے عدلیہ جیسے اہم ادارے کے خلاف نکل کھڑے ہوں۔
میاں نواز شریف کو تو اس ریاست میں رہنے والی قوم نے وہ کچھ دیا جو ایک ناقابل یقین حقیقت ہے۔کیا کبھی میاں صاحب نے سوچا کہ جتنی محبت اور جتنے بڑے عہدے اس قوم نے انہیں دئیے، وہ انکے قابل بھی تھے۔ لیکن میاں صاحب کو اپنے خلاف فیصلے آنے پر ججز کے پی سی او حلف یاد آ گئے۔ وہ اس ملک کی وزارت عظمیٰ پر تیسری بار براجمان تھے ، کیا پہلے کبھی انھیں یہ خیال آیا کہ قوم کو عدل نہیں مل رہا ۔میاں صاحب کو زندگی کی اس سٹیج پر اپنی ذات اور اپنے خاندان کے مفادات سے اوپر اٹھ جانا چاہیے۔میاں صاحب کو تو اس قوم کی محبت اور پیار کے صلے میں ہی اپنے ذاتی نقصان کو ہنس کر اور خاموشی سے برداشت کرلینا چاہیے تھا۔ پھر دیکھتے قوم انہیں ان کی عزت اور عہدے کیسے واپس لوٹاتی۔ یقین کریں اس بدنصیب قوم کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں ہے۔ آج بھی اگر عوام سے بات کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے میاں نواز شریف اگر لوٹ کر اس ملک کی دولت باہر لے گئے لیکن وہ کچھ نہ کچھ کام اس ملک میں بھی تو کرتے ہیں۔ زرداری اور اس کی پارٹی تو سب کچھ ہڑپ کر جاتی ہے۔تیسرا آپشن عمران خان کا ہے لیکن اسے تو اپنی شادیوں سے فرصتہی نہیں ملتی۔وہ اس عمر میں اور اپنے سے بڑے قد والے بیٹوں کی موجودگی میں اپنی شادی کے چکروں میں پڑا رہتا ہے۔ اس عمر اور ان حالات میں تو ہمارے کلچر میں لوگ اپنی شادی کی بات کرنے کا حوصلہ بھی
نہیں کر پاتے۔لیکن اسے کوئی ’’ لتھی چڑھی ہی نہیں‘‘۔ ایسی ایسی بھونڈی شادیاں کرتا رہتا ہے کہ بیچارے اس کے followersاور پارٹی ممبران توجیحات ہی پیش کرتے رہتے ہیں۔سمجھ نہیں لگتی کہ قائداعظم جیسے لیڈر سے آغاز کرنے والی قوم کن لیڈران تک پہنچ گئی ہے۔سچ پوچھیں تو سیاسی لیڈران کے سلسلے میں یہ قوم بانجھسی لگتی ہے۔کئی قومیں اتنی خوش نصیب ہوتی ہیں کہ ان کے پاس ایک سے ایک brilliantلیڈر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں وہی قحط۔اس ملک کے امراء نے اس ملک کے غرباء کا استحصال کرنے کے لیے ایک ظالم اور بے حس نظام قائم کر رکھا ہے جسے انہوں نے جمہوریت کا نام دیا ہوا ہے۔ابھی ایک روز پہلے سینٹ یعنی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے الیکشن ہوئے ہیں۔الیکشن نہیں ایک منڈی لگی ہوئی تھی۔ کروڑوں میں سودے ہو رہے تھے۔اتنے کھلے عام تو ’ پیشہ ور ‘ لوگوں کے سودے بھی نہیں ہوتے۔اس سیاسینظام اور ایسے سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ملکی حالات بہتر ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کی ذہنی حالت پرترس ہی کھایا جا سکتا ہے۔محسوس ہوتا ہے ا س برصغیرکے عظیم شاعر مرزا غالب کو بھی کچھ اسی طرح کی مایوسی نے گھیر رکھاتھاجب ان کے ذہن میںیہ مصرع غائب سے اتراتھا۔


ای پیپر