بیچارے سیاسی ورکرز…ہمیشہ ورکرز ہی رہتے ہیں
05 مارچ 2018 (20:50)

دل تو کر رہا تھا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کو پہنائے جانے والے سونے کے تاج کے بارے میں کالم لکھوں ،لیکن ایک دو خبریں ایسی دیکھیں کہ دل میں خیال آیا کہ ہمارے ہاں سیاست،جمہوریت ،نظام،قیادت۔ جن کی صبح و شام تعریف ہوتی ہے،اتنے بانجھ کیوں ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ورکرزسالہاسال محنت کرنے کے باوجود ورکر ہی کیوں رہتے ہیں ۔لیڈروں کی لگژری گا ڑیوں کے آگے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے جماعتوں کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی تک کیوں نہیں پہنچ پاتے۔مختلف جماعتوں کے جلسوں کے اشتہار بانٹنے والے ہمیشہ اشتہار ہی کیوں بانٹتے رہتے ہیں ۔کبھی وہ اتنا مقام کیوں حاصل نہیں کرتے کہ اشتہار کے اوپر ان کی بھی تصویر آئے۔گلیوں محلوں سے لوگوں کو قائل کر کے اپنی جماعت کے جلسے میںلے کر آنے والے کبھی خود اسی جماعت کے کسی جلسے میں سٹیج پر مرکزی حیثیت کیوں حاصل نہیں کر پاتے۔یہ لیڈری کا مستحق ہونا ان غریب ورکروں کا مقدر کیوں نہیں،سارا سال ان کو وہی ’’لارا‘‘ لگایا جاتا ہے کہ جناب آپ ہماری پارٹی کا حقیقی سرمایہ ہیں اور پھر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو پھر وہی نظریہ ضرورت ’’دیکھیں جی الیکشن جیتنے کے لئے دراصل الیکٹیبلز کی ضرورت ہے‘‘غالب آجاتا ہے۔
اس معاملے میں سب لیڈر ایک جیسے ہیں ،نواز شریف اور زرداری تو ایک طرف،تبدیلی کے دعوے دار عمران خان بھی نمک کی اس کان میں نمک ہو گئے ہیں ۔سینٹ کے الیکشن میں جن لوگوں کو ٹکٹیں دی گئی ہیں ،ان کی پروفائل دیکھیں ذرا،آپ کو سب سمجھ آجائے گی کہ پارٹیوں میں ورکر کی کیا حیثیت ہے ۔خیر آپ خبر سنیں ۔مسلم لیگ نواز کے ایک ایم پی اے ہیں عارف سندھیلہ۔ شیخو پورہ میں پارٹی کے سرگرم رکن ہیں ۔سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی پارٹی صدارت کے متعلق فیصلہ آیا جس میں انہیں صدارت کے لئے بھی نا اہل کر دیا گیا ۔عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنا سب پر فرض ہے لیکن ایم پی اے صاحب کو اللہ جانے کیا سوجھی ،انہوں نے نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لئے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا اور شیخو پورہ میں ایک مقام پر کیمپ میں بیٹھ گئے ۔ان کی یہ ہڑتال درست تھی یا غلط ،یہ تو ایک علیحدہ بحث تھی ،آپ کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ قائدین اپنی ذات میں اتنا مگن ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے ورکر کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا ۔اب عارف سندھیلہ نے احتجاج کی ایک کو شش کی اور ان کا خیال تھا کہ کہ جیسے ہی وہ یہ کام کریں گے ،محترم نواز شریف فورا اس کا نوٹس لیں گے ،شاید فوراََ فون کر دیں اور اس دن نہ سہی اگلے دن تو ضرور ہڑتالی کیمپ آئیں گے اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لئے درخواست کریں گے اور یوں ان کا بھرم رہ جائے گا ۔۔بس پھر کیا ہونا تھا ایک دن گزرا ،دو دن گزرے۔ میاں صاحب نے تو کیا آنا تھا ،ان کا فون بھی نہیں آیا ،اب سندھیلہ صاحب بیچارے پریشان ۔مسلم لیگ ن کے مقامی لوگوں نے ہزار جتن کر لیے کہ کسی طرح شریف خاندان کے کسی فرد کی نظر ہی پڑ جائے،لیکن تمام کوششیں بے سود،نہ اخباروں میں کوئی قابل ذکر خبر تھی اور نہ ہی میاں صاحب نے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی۔حالت مزید بگڑی تو ڈاکٹروں نے ڈرپس لگائیں اور کہا کہ ہڑتال ختم کردیں۔لیکن عارف سندھیلہ بیچارہ قیادت کے لیے قربانی دے کر پھنس گیا،بالآخر 5روز گزر گئے اور کوئی نہ آیا۔نوازشریف،مریم نواز تو دور کوئی وفاقی وزیر بھی نہیں آیا۔خیر 5دن کے بعدجب ڈاکٹروں نے ہسپتال منتقل کیا تب نوازشریف صاحب نے فون کیا اور سندھیلہ صاحب نے فوراََ ہی ہڑتال ختم کر دی۔انہوں نے ذرا بھی ضد نہیں کی کہ میں فیصلہ واپس ہونے تک ہڑتال جاری رکھوں گا کیونکہ انہیں پتا چل چکا تھا کہ سیاسی قیادت کے ورکرز کیا اہمیت رکھتے ہیں ۔
دوسری خبر یہ ہے کہ عمران خان نے لاہور ورکرزکنونشن میں اپنے پرانے ورکر ز کو یاد کیا ہے۔ ورکرز بیچارے اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ اب وہ اس پر بہت خوش ہیں کہ ان کے قائد نے سپیکر پر ان کا نام لیا ہے۔ظاہر ہے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت تو فیصل جاوید یا علی ترین کا نام ہی آئے گا خان صاحب کے ذہن میں ۔ایک ورکر کا ذکر کرتے ہوئے خان صاحب یوں مخاطب ہوئے ’’یہ جمشید بٹ ہمارا شروع سے ہی نظریاتی،تربیت دینے والا ورکر گنا جاتاتھا‘‘اس پر جمشید بٹ صاحب نے کہا کہ خان صاحب ۔۔۔تھا نہیںہے۔اندازہ کریں آپ۔۔کس طرح ہمارے درمیان سے اٹھنے والے لیڈرز آہستہ آہستہ ہماری ہی پہنچ سے دور ہوجاتے ہیں ۔مجھے یاد ہے ایک مرتبہ خبر آنے لگ گئی کہ سوات میں کوئی موچی تحریک انصاف کا عہدے دار منتخب ہوگیا ہے اور کبھی کوئی درزی اور پتہ نہیں کیا کیا۔لیکن پھر ہم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو کہیں ٹکٹ ملے ہوں،بہانہ یہ ہے کہ جناب عوام ان کو منتخب نہیں کرتے،عوام پیسے والے کے پیچھے جاتے ہیں ۔جناب یہ کلچر ختم کرنے کے لیے ہی تو آپ آئے تھے اور اگر آپ کی بھی یہی مجبوریاں ہیں تو آپ میں اور نوازشریف میں کیا فرق رہ جائے گا؟عمران خان سے تو خاص گزارش ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت ورکرز کو ضرور یادرکھیں،زیادہ نہ سہی تو کچھ کوٹہ ہی مختص کردیں،یاپھر مخصوص نشستوں پر ہی انکو نوازدیںیا پھر سینیٹ کے وقت۔۔فیصل جاوید کو ٹکٹ ضرور دیں پر ایک آدھ ان کو بھی نوازدیں،
اور آخر میں لیڈروں سے درخواست ہے کہ خدا کے واسطے جیل جانے کے وقت یہ گلہ نہ کیا کریں کہ ورکرز نے ساتھ نہیں دیااور ہمیں یاد نہیں رکھا۔کیونکہ آپ بھی اقتدار اور شہرت کی سیڑھی چڑھتے وقت ان کویاد نہیں رکھتے۔اور مزید ورکرز اور عوام سے بھی گزارش ہے کہ نواز،زرداری اور عمران کی خاطر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مت لڑیں اور دوستیاں خراب نہ کریں۔


ای پیپر