سری دیوی اور پاکستانی میڈیا
05 مارچ 2018 (20:49)

پاکستان کے ایک شعلہ بار دینی رہنما کا بیان یہاں ہندوستان بھی پہنچا ہے جو انہوں نے فلمی ہیروئن سری دیوی کی موت اور پاکستانی ٹی وی چینلوں پر اس کی زندگی کے حالات کی تفصیل پیش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا ہے۔ بیان دینے والے صاحب پاکستان میں ایک نئی تحریک کے سربراہ ہیں۔ رہنما صاحب کا کہنا تھا: ’’ سری دیوی کی موت اور زندگی کی خبریں وسیع پیمانے پر پاکستانی میڈیا میں دی جا رہی ہیں ۔
’خطباتِ اسلم دین پوری‘ نامی کتاب میںایک واقعہ پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ پاکستان کے معاشرہ اور لوگوں کا کیا حال ہوچکا ہے۔ ’’لاہور میں ایک شادی ہوئی۔ مجھے اطلاع ملی کہ چار دن تک شادی کی رسم چلتی رہی۔ خوب زردے، پلاؤ، بریانی کا دور چلتا رہا۔ خوب مرغ، قورمے، بکرے، نان پکتے رہے۔ گیت، سنگیت کا دور ہوتا رہا۔ رقص و سرود کی مجلسیں ہوتی رہیں اور لڑکی رخصت ہوگئی۔ اس ہنگامہ اور شور شرابہ میں لوگ اتنے غافل ہوئے کہ اصل چیز یعنی نکاح ہی بھول گئے۔ وہ تو شکر ہے کہ کسی کو یاد آگیا اور رات گئے ایجاب و قبول کا اہتمام کیا گیا‘‘۔
پندرہ بیس سال پہلے پاکستان سے ایک عالم دین کلکتہ تشریف لائے تھے۔ مسلم انسٹیٹیوٹ کلکتہ میں اپنی تقریر کے دوران حسرت بھرے لفظوں میں پاکستان کے حالِ زار پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسلام بہت دنوں تک پاکستان کے دروازے پر کھڑا رہا۔ جب اسے کسی نے اندر نہیں بلایا اور نہ ہی دل کا دروازہ کھولا تو واپس چلا گیا۔ اسلام تو غیرت مند ہے۔ آخر کب تک ذلت و رسوائی کے ساتھ کھڑا رہتا‘‘۔
میرے ایک دوست سرفراز احمد صاحب جو ریلوے سروس کمیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں، انھوں نے کراچی کا ایک واقعہ بتایاکہ ’’میں اپنی ایک بہن سے ملنے کراچی گیا تھا۔ ایک دن کراچی کے ایک بازار کی دن پر نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک بورڈ پر لکھا ہوا ہے کہ ’’یہاں رونے والے دستیاب ہیں‘‘۔ یہ جملہ پڑھ کر حیرت ہوئی۔ دکان دار سے معلوم کیا کہ بھئی رونے والے دستیاب ہیں کا کیا مطلب ہے؟ اس نے بتایا کہ ہمارے ہاں کئی ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کے ماں باپ یا قریبی رشتہ دار کا انتقال ہوجاتا ہے لیکن وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے رونے کیلئے وقت نہیں دے پاتے تو وہ فون پر رابطہ کرکے بتا دیتے ہیں کہ اتنے آدمیوں یا عورتوں کو رونے کیلئے بھیج دو۔ ہم ان کے آرڈر کے مطابق مرد یا عورتوں کو بھیج دیتے ہیں اور یہ کرایہ وصول کرتے ہیں‘‘۔
پاکستان کی اس وقت صورت حال لائقِ رشک نہیں تاہم عدلیہ کے Active (فعال) ہونے کی وجہ سے یقینا کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔ جو لوگ سیاسی منظر نامے میں دکھائی دے رہے ہیں اور بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں ان میں سے کرپٹ سیاست داں زیادہ ہیں۔ اس قدر زیادہ ہیں کہ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف کھوسہ نے ایک مقدمہ کے دوران کہہ دیا کہ اگر حقیقی مقدمات چلائے جائیں تو یہاں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سراج الحق اور ان کے رفقاء کے سوا کوئی بھی باقی نہ بچے۔ اس پر بڑی چہ میگوئیاں بھی ہوئیں۔
پاکستانی حکمرانوں نے خود پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ تو دنیا کے سامنے ہے، مگر پاکستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہندوستانی مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے۔ پاکستانی جاسوس کہہ کر ہزاروں مسلمانوں کو پس زنداں کردیا جاتا ہے۔ آج بھی ہندستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہہ کر طعنہ دیا جاتا ہے۔ جناب اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ کے اندر تقریر کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ جو ہندستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہے اسے کم از کم پانچ سال کی سزا دی
جائے اور جرمانہ عائد کیا جائے۔ مگر جس حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ تو خود پاکستان پاکستان کا طعنہ دے کر ہندو مسلمان میں نفرت وکدورت کا بیج بوتی اور اپنے لیے ووٹوں کی یکجائی کرتی ہے۔ اسے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ ہندو مسلمان دونوں کی دشمن ہے، بلکہ انسانیت کی دشمن ہے۔ یہاں آر ایس ایس اور بی جے پی نے 31فیصد سے کہیں زائد افراد کے دلوں میں ہندومسلم دشمنی اور فرقہ پرستی کا زہر گھول رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
پاکستان اگر اسلام کے راستے پر چل رہا ہوتا۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا، ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کی مثبت کوشش کرتا تو چاہے ہندستانی حکومتوں پر کوئی اثر پڑتا نہ پڑتا، مگر ہندستانی عوام پر ضرور مثبت پڑتا۔ ہندوستان میںبہت سے لوگ پاکستان اور پاکستانی عوام کی تعریف کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومتوں کا کردار بھی ایسا ہوتا تو آج آر ایس ایس یا بی جے پی بر سر اقتدار نہ آتی۔


ای پیپر