بھارتی سازشوں کے باوجود سی پیک جاری وساری
05 مارچ 2018 (20:49) 2018-03-05

چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ خوش اسلوبی سے جاری ، بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے۔ بھارتی خدشات بے بنیاد ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پاکستان میں توانائی کے سترہ میں سے گیارہ منصوبوں پر کام شروع کردیاگیا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں بجلی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا۔ چین امن اورترقی کا وکیل ہے ۔ خطے میں بالادستی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے گلگت بلتستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور بھارت سی پیک کی تنصیبات کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں وزارتِ خارجہ میں خصوصی سی پیک ڈیسک قائم کردیا گیا ہے جس کا مقصد مختلف بین الاقوامی فورمز پر سازشوں سے نمٹنا ہے۔
گلگت بلتستان پولیس کے مطابق صوبے میں بدامنی پھیلانے کے لئے ’’را‘‘ فنڈنگ بھی کررہی ہے جس کا ہدف آخر سی پیک ہی ہے۔ سی پیک روٹ پرموجود آر سی سی پلوں کو خطرات لاحق ہیں۔ وزارت داخلہ کے خط میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارت نے چار سو نوجوانوں کو تخریب کاری کی تربیت کے لئے افغانستان بھیجا ہے۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان شاہراہ قراقرم کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور دوسرے شمالی علاقے دشوار گزار ہیں یہاں سڑکیں اور پل بنانا دِقت طلب کام ہے اور انجینئرنگ کے شاہکار شاہراہِ قراقرم کی سی پیک کے تحت جو اپ گریڈیشن ہورہی ہے اس کی وجہ سے اس شاہراہ کی افادیت بہت بڑھ جائیگی۔
سی پیک کے منصوبے صرف گلگت بلتستان میں ہی بھارت کی نظر میں نہیں کھٹک رہے بلوچستان اور سندھ میں بھی ایسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو بھی یہی مشن لے کر پاکستان آیا تھا۔ اس نے سندھ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کی اور بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کو کسی نہ کسی انداز میں نشانہ بنایا۔ سندھ سے جو لوگ بلوچستان جا کر سڑکوں پر کام کررہے تھے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔ چینی انجینئروں اور ماہرین کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی اْن کے اغوا کی وار داتیں بھی ہوئیں۔ جس کی وجہ سے سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کے لئے خصوصی فورس بھی تشکیل کی گئی۔ گزشتہ روز کراچی میں دو چینی باشندوں کو ٹارگٹ کرکے گولیاں ماری گئیں جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ یہ واضح طور پر ٹارگٹ کلنگ ہے اور اس کا سلسلہ بھی سی پیک سے ملے گا کیونکہ پاکستان میں چینی باشندے زیادہ تر اسی منصوبے کے سلسلے میں ہی آئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ منصوبہ کسی نہ کسی طرح آگے بڑھنے سے روک دیا جائے اور اس مقصد کے لئے چینیوں کو خاص طور پر نشانہ اس لئے بھی بنایا جارہا ہے کہ اس طرح چین اس منصوبے سے ہی بددل ہوسکتا ہے۔ سی پیک کے جو منصوبے پہلے ہی مکمل ہوچکے ہیں اْن کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی شرحِ نمو میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے جو بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی ہے اس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے اور صنعتوں کو بھی پوری بجلی مل رہی ہے ۔یہ حکومت کا ایسا کارنامہ ہے جو سی پیک کے مخالفین کو کسی طور پر ہضم نہیں ہورہا۔ بعض لوگ منصوبوں کی مخالفت کرتے کرتے اپنی نکتہ چینی کا ہدف چین کو بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اس کے حوالے سے بے سروپا اور حقائق کے منافی خبریں بھی اڑاتے رہتے ہیں۔ جو منصوبے بھی سی پیک سے نتھی ہیں اْن سب کا ایک ایک کرکے جائزہ لیں اور اْن کی مخالفت کرنے والوں کے بیانات کا تجزیہ کریں تو یہ بات الم نشرح ہو جائیگی۔ ان سب کے پیچھے یا بھارت نظر آئیگا یا وہ بھارت نواز عناصر جو اس کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔
اگلے چند برس کے اندر اندر یہ منصوبے پاکستان کی معیشت میں اپنا شاندار حصہ ڈال رہے ہوں گے، اس لئے بھارت نے یہی وقت غنیمت جانتے ہوئے ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے پر کمر کس لی اس سے پہلے اس نے ہر سطح پر کوشش کرکے دیکھ لی۔ منصوبوں کو متنازعہ بنانے کے لئے بھی طرح طرح کے شوشے چھوڑے گئے۔ نریندر مودی نے چینی صدر شی چن پنگ سے شکایت کی۔ بعد میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے افسروں کے ذریعے بھی سفارتی سطح پر کوشش کی جاتی رہی کہ کسی طرح ان منصوبوں کو روکا جائے۔ جب ساری کوششیں رائیگاں گئیں تو بھارت نے اس معاملے میں امریکہ کو بھی گھسیٹ لیا جس کا ان منصوبوں سے کوئی بلاواسطہ تعلق بھی نہیں اور اگر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ پاکستان اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لئے اقدامات کرے۔ سی پیک ایسا ہی ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔
بھارت کی ساری کوششیں ناکام نظر آئیں تو اس نے امریکہ سے سی پیک کے خلاف بیان دلوادیا۔ جب اس سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا تو براہ راست سبوتاژ کی کارروائیاں شروع کردیں جس کا اعتراف بھارتی جاسوس اپنے اقبالی بیان میں کرچکا ہے۔ بھارتی سبوتاژ کی کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں منصوبوں کی حفاظت فول پروف بنائی جائے خاص طور پر چینی انجینئروں اور ماہرین کی سیکیورٹی میں کوئی رخنہ باقی نہ رہنے دیا جائے کیونکہ اگر چینی باشندے اسی طرح ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوتے رہے تو چین کی قیادت ان منصوبوں پر نظر ثانی کرسکتی ہے اور یہی بھارت کا مقصد ہے کہ ہر جانب سے ناکامی کے بعد اب وہ تخریبی کارروائی پر اْتر آیا ہے۔ عالمی سطح پر وہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ تو کرتا ہی رہتا ہے پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل بھی لگاتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے کو پوری ڈھٹائی سے سبوتاژ کرنے کی کارروائیاں کررہا ہے جو پورے خطے کی خوشحالی میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ’’را‘‘ سی پیک منصوبے کو تباہ کرنے کے لیے گوادرپورٹ کو نشانہ بنا نا چاہتی تھی۔اس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’اس بار میرا پاکستان آنے کا مقصد بلوچ عسکریت پسندوں ( بی ایل اے/ بی آر اے) کی قیادت سے مل کر مکران کوسٹ سے ساحلی پٹی تک 30 سے 40 را اہلکاروں کو گھسانا اور ان کا تیار کرنا، جن کی مدد سے مکران کوسٹ کی ساحلی پٹی پر عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنا تھا۔‘ ’بنیادی مقصد را اہلکاروں کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کو یقینی بنانا تھا تاکہ وہ بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کو فوجی انداز میں انجام پر پہنچا سکیں۔ بلوچستان کے سمندر علاقے میں کوئی تحریک نہیں تھی۔ سو اس لیے مقصد تھا کہ بلوچ عسکریت پسندوں کا ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جس کی مدد سے ساحلی علاقوں اور خطے کوئٹہ اور تربت اور جہاں بھی را حکم دے وہاں کارروائیاں کی جاسکیں۔‘
بھارت ایک طرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں راہداری گزرنے پر سیخ پا ہے‘ اس کا عیاری و مکاری پر مبنی موقف ہے کہ یہ متنازعہ علاقے ہیں اس لئے سی پیک کو ان علاقوں سے نہ گزارا جائے۔ دوسری طرف اسکی سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبال کہتی ہیں کہ راہداری منصوبہ جموں کشمیر سے گزارا جائے تاکہ بھارت بھی اس میں شامل ہو۔ جو واقعی متنازعہ علاقے ہیں وہاں سے راہداری گزرے تو میٹھا میٹھا ہپ۔ پاکستان کے غیرمتنازعہ علاقوں سے گزرے تو کڑوا کڑوا تھو۔ چین نے بھارت کے خدشات‘ تحفظات‘ اعتراضات اور مخالفت کو سرمو اہمیت نہیں دی بلکہ سی پیک کی تکمیل پر پہلے روز کی طرح عزم و ارادے کا اظہار کیا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حیثیت غیرمتنازعہ ہے‘ اسی لئے چین کو ان علاقوں میں راہداری گزرنے پر کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔


ای پیپر