لہو لہوشام اور مسلمانوں کی بے حسی
05 مارچ 2018 (20:48) 2018-03-05

کیا لکھوں کیسے لکھوں اور کیا لکھوں ؟ جب بھی سر زمین شام کے لہو میں نہائے، زخم زخم بچے نظروں کے سامنے آتے ہیں تو اضطراب، بے سکونی اور بے قراری روح کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ سر عام معصوم اور بے گناہوں کے لاشوں کے ڈھیر ، تباہی و بر بادی کی تصویر بنی عمارتیں ،خوف، بھوک ، افلاس اور وحشت ، یہ سب دیکھ کراور مد د کے لئے پکارنے والوں کی پکار پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر نے والے مسلم حکمرانوں کی بے حسی دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ کیاہم میں انسانیت اس قدر ناپید ہو چکی کہ اپنے سوا اور کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا اور کیا محمد بن قاسم ؒ کی ذرہ برابر بھی غیرت ہم میں نہ رہی۔
اپنے آپ کو خادم الحرمین ، خلیفتہ المسلمین اور گلی محلوں میں جاکر یہ سوال کرنے والے کہ مجھے کیوں نکالا جیسے لیڈروں سے اچھے تو وہ گوری چمڑی مختلف این جی اوز کے اہلکار ہیں جو شام سے ہجرت کرنے والے چار سالہ بچے اور ہاتھ میں پکڑے لفافے میں موجود شام میں مرنے والے ماں باپ اور بہن کے کپڑوں کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ایسی یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ بیسیوں واقعات روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ ایک ہفتے کے دوران سیکڑوں لوگ لقمہ اجل بن چکے جس میں 500سے زائد بچے ہیں ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے علاقے میں اب بھی شدید بمباری جاری ہے جس میں تقریباََچار لاکھ لوگ موجود ہیں اور جنہیں نکلنے کا کو ئی راستہ نہیں دیا جا رہا۔
قارئین کرام !سر زمین شام کو کرہ ارض پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ مخبر صادق جناب نبی کریمؐ نے اس کے حوالے سے کئی بشارتیں دی ہیں ۔ ایک ایسی ہی روایت میں سر زمین شام سے چلنے والی ٹھنڈی ہوائوں کو اہل ایمان کے لئے رحمت و فضل قرار دیا گیا ہے ۔ روایت کے الفاظ ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاصؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’دجال میری امت میں چالیس تک رہے گا۔مجھے معلوم نہیں کہ چالیس سے مراد چالیس دن ،چالیس مہینے یا چالیس سال ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیں گے ۔ پس وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اسے قتل کریں گے پھر لوگ سات سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے مابین بھی دشمنی نہ ہوگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے‘‘۔
لیکن آج اسی شام میں اپنوں کی بے حسی کی وجہ سے درندگی کا کھیل جاری ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ مسلم حکمران بجائے اس خون ریزی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتے ، یہاں وحشی درندوں کو مالی امداد فراہم کر رہے ہیں ۔ امریکہ اوراسرائیل سے کیا شکوہ ؟ ان کے نزدیک تو ہماری اوقات جانوروں سے بھی کم ہے جس کا ثبوت افغانستان، عراق، فلسطین اور شام میں ان کے بارودکا نشانہ بننے والے لہو لہو لوگ ہیں ۔یہی وہ وجہ ہے کہ یہ لوگ شام میں امداد کے عوض خواتین کے جنسی استحصال کے گھنائونے دھندے میں ملوث ہیں جس کا ثبوت وائسز فرام سیریا2018کی رپورٹ ہے جس کے مطابق اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروںکی ایما پر جنوبی شام کے علاقوں میںامدادی سامان تقسیم کر نے والے لوگ غذائی امداد کے بدلے عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔
ایران اور سعودیہ جنہیں چاہئے تھاکہ وہ اپنی اپنی برتری کی دوڑ کو کچھ عرصے کے لئے روک کر اہل شام کی امداد کے لئے اپنا حصہ ڈالتے وہاںیہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس خونیں کھیل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سعودیہ میں غیر ملکیوں پر لگنے والے بے تحاشہ ٹیکسوں کی بھر مارا ور ان پیسوں سے شام میں اپنے مفادات کے حصول کی خاطر معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرایا جا رہا ہے اورایران بھی تقریباً یہی کچھ کر رہا ہے ۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ پاکستان میں سیاسی تو چھوڑیں کہ یہاں ہر کوئی اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہے کسی اسلامی جماعت کے سر براہ کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ شام میں برپا ظلم عظیم پر چند لفظی مذمت ہی کر دیتا ۔ مسجدوں کے منبروں، پیرخانوں کے گدی نشینوں ، خانقاہوں کے خادموں اور سب سے بڑی بات اما م کعبہ کی جانب سے بھی کوئی صدا بلند نہیں ہوئی ۔
قارئین محترم !حالات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اگر اب بھی ہم نے ہو ش کے ناخن نہ لئے اور بے حسی کی روش کو ترک نہ کیا تو کچھ بعید نہیںکہ جو اسلامی ممالک اور طاقتیں اپنے مفادات کے لئے شام میں خون کی ہو لی کھیلنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں، کل ان کے ملکوں تک یہ آگ پہنچے اور پھر ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے کر کچھ ہی دیر میں ان کی طاقت، پیسے اور غرور کو تہس نہس کر کے رکھ دے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والی جنگ سے نکل کر اپنے حقیقی دشمنوں کے خلاف جنگ کاآغاز کریں اور شام میں بھوک، درد اور خوف سے بلکتے لوگوں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل تشکیل دیں ۔


ای پیپر