سماجی انصاف ایک خواب؟
05 مارچ 2018 (20:46) 2018-03-05

سماج کا مطلب ہے معاشرہ ــ ، معاشرہ کہتے ہیںافراد کے ایسے گروہ کو جو کافی عرصہ سے ایک جگہ رہ رہا ہو ۔عدل کو انصاف کہتے ہیں، جس کا معنی ہے دو حصوں میںبرابر کرنا ۔لفظ عدل مصدرہے، اس کا مطلب ہے، انصاف و مساوات ،برابری ، ایک جیسا ہونا ، انصاف حق سے کرنا ،عادل خواہشات کی طرف مائل نہیں ہوتا، حق پر فیصلہ کرتا ہے ۔روزمرہ معاملات زندگی میں لوگوں کے درمیان اس طرح فیصلہ کا ہونا کہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو ،اس کو عدل کہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں اشیا ء کو ان کے اصل مقام پر رکھنا عدل ہے۔ انصاف کا الٹ نا انصافی جو کہ ظلم کے ہم معنی ہے ۔ انصاف کی پانچ اقسام ہے،معاشرتی، قانونی، سیاسی، معاشی ،مذہبی ، انصاف وغیرہ ۔
سماجی انصاف کا عالمی دن سب کو یکساں انصاف کی فراہمی کے لیے منایا جاتا ہے ۔یہ کہنا ہی کتنا دل کش ہے ،کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔لیکن حقیقت میں ایسا کہاں تک ہے ۔دیکھیں کمزور کو انصاف کہاں ملتا ہے ۔یہاں طاقت ور کے لیے اور انصاف ہے ۔اور غریب کے لیے اور انصاف ہے ۔یعنی انصاف ہے ہی نہیں ہے ۔میںنے تو جتنا تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ۔مجھے تو کسی دور میں انصاف نظر نہیں آیا ہاں نا انصافی کے خلاف جد و جہد کبھی عروج پر نظر ضرور آئی ہے ،تاریخ اسلام میں ریاست مدینہ سے عہد خلفاء راشدین تک کا دور عدل و انصاف کا پرچم لہراتا نظر آتا ہے ۔اور اس کے بعد اب بعض مغربی ممالک میںکسی حد تک انصاف کا بول بالا ہے۔
غلامانہ ،جاگیردارنہ ،صنعتی ،سوشلزم،مارکسی ،جنگل کا قانون اورنظام اسلام سب کا اس وقت دنیا مکسچر ہے ،اورانصاف سب کے لیے ایک خواب لگتا ہے ۔کل بھی طاقت ور کا انصاف تھا آج بھی ،باقی یہ دن منانے کا مقصدمفلس اور کمزور کے دل بہلانے کے لیے ہی ہوتا ہے ۔جن معاشروں میں انصاف ناپید ہو جاتا ہے، وہ معاشرے بالآ خر دنیا سے ناپید ہو جاتے ہیں ۔یہ کہنے کی بات نہیں ہے، دنیا کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے ۔
عدل و انصاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ،کسی بھی شعبہ زندگی کو دیکھ لیں ،وہاں عدل نظر نہیں آئے گا ۔نظام عدل و انصاف کے کمزور ہونے سے ہی فرقہ بندی ہے ،دہشت گردی ہے ،کرپشن ہے ،جس کی وجہ سے غربت و بے روزگاری ہے اور ملک میں توانائی بحران ہے ۔اگر احتساب کا نظام ، انصاف کا نظام درست کام کر رہا ہو تو پاکستان میں یقین کریں کوئی بحران پیدا نہ ہو ۔میں اس پر زیادہ لکھ کر توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا ، جس معاشرے میں انصاف کی فراہمی کے لیے فوجی عدالتوں کی ضرورت پڑ جائے ،سول عد التوں میں سائلوں کو دھکے کھاتے عمریں بیت جائیں، انصاف نہ ملے ،ایسا ہی تھانہ کا کلچر ہے، جس میں ایک غریب کو دھکے ملتے ہیں، ایس ایچ او بادشاہ ہے ،جس سے کوئی غریب بنا سفارش کے مل نہیں سکتا، اس کی شنوائی کیا ہونی ہے۔
سماجی انصاف کی عدم فراہمی نے پاکستان کے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔صرف نام کی حد تک عدالتیں جہاں انصاف بکتا ہے اور سچ کہنے والے پر توہین عدالت کا پھندا لٹکا ہوا ہے ۔ بیرونی ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت اس کی ایک وجہ بھی ہے ۔کرپشن ،موت کا خوف ،رشتہ داریاں ،سفارش ،رشوت ،میرٹ اور سب سے بڑھ کر آخرت کا خوف نہ ہونا یعنی دین اسلام سے دوری انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ہیں ۔ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں غرباء کو انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ،اور برسوں چکر لگانے کے بعد بھی ان کو انصاف نہیں ملتا ،کیونکہ وہ انصاف کو خریدنے کے لیے زر نہیں رکھتے ۔
پاکستان میں ہر اس فرد کو عزت دی جاتی ہے جو قانون شکن ہو عزت اسی حساب سے زیادہ ملتی ہے جو جتنا بڑا قانون شکن ہو۔ہمارے ہاں ہیرو وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا بدمعاش ہو ۔اس کے خوف کی وجہ سے اس کی عزت کی جاتی ہے ۔جو چند روزہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و نائز راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ ملک میں روزگار ،تعلیم ،صحت ،بنیادی ضروریات زندگی کے ارزاں حصول، ہر معاملے میں ناانصافی کا راج ہے ۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظام عدل ہر فرد ،ہر سطح پراور ہر طرح قائم رکھے ۔لیکن جب انصاف دینے والے ہی انصاف نہ دیں تو مفلس کہاں جائے ۔کہا جاتا ہے کہ آزاد عدلیہ کی غیر موجودگی میں انارکی پھیلتی ہے اور اگر ایسا آزاد عدلیہ کی موجودگی میں ہوتو اسے کیا کہا جائے ۔ایسا ہی ہوا ہے ہمارے ملک میں لیکن ایک خوشگوار تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں ایک پارٹی آئی تو ہے جسے خود انصاف نہیں مل رہا ۔ سماجی انصاف اجتماعی تو کیا نظر آنا ہے۔
ہمارے ملک میں تو انفرادی زندگی میں بھی نظر نہیں آتا ۔اگر پاکستانی عوام ،جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے وہ اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرلیں تو یہ ملک جنت نظیر بن سکتا ہے ۔دنیا میں جتنے بھی عدالتی نظام ہیں ،ان میں کوئی نا کوئی خامی تو ہے ،مجرم کے بچ نکلنے کے راستے موجود ہیں، لیکن جس نے اس مخلوق کو بنایا ہے، اس کے خا لق کے بنائے ہوئے نظام عدل میں تو کوئی خامی نہیں ہے ۔اگر اس پر عمل کیا جائے تو معاشرہ جنت نظیر بن سکتا ہے۔ سماجی انصاف اللہ کو پسند ہے، اللہ نے تمام افراد کو ایک آدم سے پیدا کیا، رسول اکرمؐ نے اپنے آخری خطبہ میں سماجی انصاف کا پورا فلسفہ ،ڈھانچہ ،طریقہ بیان کیا ہے، خطبہ حج الوداع کا مختصر خلاصہ دیکھیں ۔نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے اور نہ عجمی کو عربی پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے ،فضیلت کا معیار تقویٰ ہے ۔
شیخ الاسلام امام تیمیہ کا فرمان ہے کہ (مفہوم) سیاست ،ملک یا معاشرے کی بنیاد دو ستونوں پر قائم ہے عہدے میرٹ پر ملنا اور ،فیصلے انصاف پر ہونا۔ انصاف پر ہی دین و دنیا کی فلاح کا دارومدار ہے ،بنا عدل کے کسی بھی معاشرے کی ترقی، فلاح، کامیابی، ناممکن ہے۔ سماجی انصاف کا قیام ایک اچھے حکمران کے لیے ضروری ہے ۔ ایک اچھے حکمران کی نشانی قرآن پاک میں ہے کہ وہ انصاف کرتا ہے، (مفہوم) لوگوں کے درمیاں اس حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ تعالی نے نازل فرمایا ہے ،لوگوں کی خواہش کے پیچھے مت چلو ۔(القران)ابو الحسن علی ندوی نے لکھا ہے، مسلمانوں میں ایک دور ایسا تھا، جب سماجی انصاف کا دور دورہ تھا۔ وہ لکھتے ہیں،تمام مسلمان حق کے مدد گار بن گئے تھے ،ان کا کام مشورے سے ہوتا تھا ،خلیفہ جب تک اللہ کا مطیع رہتا عوام اس کے مطیع رہتی اگر وہ نافرمانی کرتا تو اطاعت برقرار نہ رہتی ۔


ای پیپر