شہباز شریف (ن)لیگ کے قائم مقام صدر پرایک مکمل رپورٹ
05 مارچ 2018 (19:56)

حافظ طارق عزیز:پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے صدر جناب میاں نواز شریف صاحب کو بالآخرمسلم لیگ کی صدارت سے فارغ ہونا پڑا۔ اِس میں اُ ن کی اپنی رضا شامل نہ تھی بلکہ عدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن کو ان کا نام مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانا پڑا۔ نواز شریف صاحب نے آخری وقت تک ہر ممکن کوشش کی کہ صدارت کو اپنے پاس رکھ سکیں حتٰی کہ انہوں نے اسمبلی میں بھی پارٹی ایکٹ میں حسب منشاءترمیم کروائی لیکن عدلیہ نے قرار دیا کے نا اہل قرار دیا جانے والا شخص پارٹی کی قیادت کے لئے بھی نا اہل ہے۔ نا اہل شخص اہل اشخاص کا سربراہ نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف عدلیہ کے اس فیصلے سے ہرگز خوش نہیں ہیں لیکن ان کے پاس سر دست کوئی اور متبادل راستہ موجود نہیں۔ وہ اس حق میں بھی نہیں تھے کہ صدارت شہباز شریف کے حوالے کی جائے۔ کلثوم نوازشریف سے لیکر مریم نواز تک کئی نام زیر غور رہے ہیں لیکن قرعہ فال شہباز شریف کے نام ہی نکلا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی خوش خبری ہے جو شہباز شریف کو ملی ہے۔ ان کا نام کئی مہینوں سے اخبارات کی ز ینت بن رہا تھا۔کبھی وزارتِ عظمیٰ کے حوالے سے اور کبھی مسلم لیگ کی صدارت کے تعلق سے۔ آخر کار( ن ) لیگ نے 6ماہ کی سبکی اور نواز شریف کی بطور وزیر اعظم نااہلی کے بعد شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر چن ہی لیا۔

”وہ بہت دبائو میں بھی اس موقف پر قائم رہےکہ قومی اداروں سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے“

شہباز شریف نے بہر حال اپنی الگ سیاسی پہچان بنائی ہے۔اس تناظر میں انہوں نے نہ صرف ناراض لیگی دھڑوںکو منانے کا ارادہ کیا ہے بلکہ پارٹی کے اندر پائی جانے والی اختلافی صورتحال کو کنٹرول کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی میاں شہباز شریف اور چودھری نثار احمد کی اہم ملاقات جو اِ ن سطور کی اشاعت تک متوقع ہے جس میں شہباز شریف بھرپور اعتماد کے ساتھ چودھری نثاراحمد کو پارٹی کی اہم ذمہ داریاں سونپیں گے۔ اِس ملاقات کے لیے میاں شہباز شریف نے ناراض دھڑوں کو منانے کے حوالے سے محمدنواز شریف کو اعتماد میں لیتے ہوئے تمام معاملات کو معمول پر لانے کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔
شہباز شریف کے بارے میں بات کریں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بہت دبائو میں بھی انھوں نے اپنے اس موقف کو قائم رکھا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) اور شریف خاندان کو قومی اداروں سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔موجودہ نیب کے منظر نامہ سے پہلے دیکھیں عمران خان نے جرمنی سے شہباز شریف کا ایک فرنٹ مین پیدا کر دیا۔ اور ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا کہ اس طوطے میں شہباز شریف کی جان ہے لیکن یہ سب پانی کا بلبلا ثابت ہوا۔ اس کے بعد سب امیدیں حدیبیہ سے لگا لی گئیں۔ ایک منظر نامہ بنا دیاگیا ،بس حدیبیہ کھل جائے، شہباز شریف منظر سے ہٹ جائے گا۔ یہ بھی نا کام ہوا تو نجفی رپورٹ آگئی کہ شہباز شریف بس گرفتار ہو جائیں گے۔ لیکن یہ بھی نہ ہوا۔ پھر عمران خان عابد باکسر کو ایک ایسے کردار کے طورپر سامنے لے آئے کہ بس یہ شہباز شریف کا طوطا ہے۔اب احد چیمہ کو ایک طوطے کے طورپرپیش کیا جا رہا ہے، اب جبکہ وہ صدر ( ن ) لیگ بن گئے ہیں اُ ن کی راہیں بھی کچھ واضح ہونا شروع ہو گئیں ہیں تو اب ان کی مشکلیں بھی کم ہو جائیں گی لیکن وہ عمران خان سمیت اپوزیشن کے ٹارگٹ پر رہیں گے۔


شہباز شریف اپنے تینوں وزارت اعلیٰ کے ادوار میں مضبوط ایڈ منسٹریٹر تو ثابت ہوئے مگر کمزور ترین سیاست دان اور وزیر بھی ثابت ہوئے جنہوں نے تمام اداروں کو ”ون مین شو“ بنا کر اُ ن کا بیڑہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر وزارت انہوں نے اپنے پاس رکھی، جو صحت، تعلیم ، قانون و غیرہ جیسی وزارتیں دوسروں کو ملیں وہ بھی برائے نام ہی تھیں۔ اس لیے میں اکثر یہی کہتا رہا کہ اگر ہر کام وزیراعلیٰ کو کرنا ہے تو اداروں کا کیا کردار ہے؟احد چیمہ ، فواد حسن فواد، سیکرٹری ہیلتھ جیسے فرنٹ مینوں کے نام جب منظر عام پر آرہے ہیں تو اداروں میں میرٹ کہاں ہے؟


میاں شہباز شریف کہیں کہیںدل برداشتہ بھی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وزیراعلیٰ شہباز شریف سے اداروں کی کوتاہی، غیر ذمہ داری اور کرپشن ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کرپٹ افراد کو طوق پہنانے کو دل کرتا ہے ان کا بلکہ چوک میں الٹا لٹکانے کو بھی جی کرتا ہو گا مگر دھمکانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ اداروں میں بھرتیاں حکومت کرتی ہے اور ناکامی کی ذمہ دار بھی حکومت ہے۔ جو ادارہ دیکھو وفادار بٹھا رکھے ہیں۔ اس ملک کا کرپٹ ترین شعبہ بیوروکریسی ہے۔ سیاستدان بیوروکریسی کے جوتوں کے تسمے باندھتے ہیں۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن بیوروکریسی المعروف ”پبلک سرونٹ“ ہر حکومت کو استعمال کرتی ہے۔ بیوروکریسی کسی حکومت کی سگی نہیں، فقط مفادات کی سگی ہے۔ بیوروکرٹیس کو خوش رکھنا سیاستدانوں کی مجبوری ہے۔ الا ما شا اللہ دونوں مل کر کھاتے ہیں۔ ملی بھگت سے وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ تک حقائق پہنچنے نہیں دیتے۔ ایک دوسرے کے چور ہیں۔حکومت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں کہ اہم عہدوں پر ان لوگوں کو فائز کیا جاتا ہے جو حکومت کے وفادار ہوں۔ وفاداری سے مراد حکومتوں کی کمزوریوں اور کرپشن کے رازدار ہوں۔ موچی کا کام نائی اور درزی کا کام لوہار کو سونپ رکھا ہے۔ حکومت جانتے بوجھتے غیر متعلقہ افراد کو اہم شعبوں کے حساس عہدے سونپ دیتی ہے۔ ویسے تو پاکستان کے تمام اداروں کی صورتحال شرمناک ہے لیکن شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ بجٹ میں صوبوں کے لئے اربوں روپیہ مختص کیا جاتا ہے لیکن پورے ملک میں غریب کا بچہ صاف پانی پینے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ جو حکومتیں سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر ہیں، ان لوگوں کو واقعی طوق پہنا دینا چاہئے۔ محکمہ صحت میں بھی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ڈاکٹر ہے تو دوائی نہیں دوائی ہے تو جعلی یا ایکسپائرڈ ہے۔ فارمیسی پر چلے جاﺅ تو ڈگری و تربیت یافتہ فارماسسٹ میسر نہیں۔ ادویات کی قیمتیں غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ادویات کا ایشو بھی خطرناک صورتحال کر چکا ہے۔ باقی صوبوں کو انگلی ہلانے والا وزیراعلیٰ نصیب نہیں، پنجاب کو نصیب ہے لیکن ان میں فرسودہ نظام تبدیل کرنے کی ہمت نہیں۔ اس ملک میں با صلاحیت اور تجربہ کار صاف شفاف افراد کی کمی نہیں البتہ سیاستدانوں کو ان افراد سے ڈر لگتاہے۔اپنی کمزوریوں اور چوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ کمفرٹ نہیں رہتے۔


مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اگر مسٹر خادم اعلیٰ کو ہی پارٹی صدر بنانا تھا تو6 ماہ پہلے صدر بنانے میں کیا مضائقہ تھا؟ ایک فرد واحد کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی گئی، پارلیمنٹ کو ذاتی استعمال کرکے اسے گالیاں دلوائی گئیں۔ ایک نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنوا کر جگ ہنسائی کیوں کروائی گئی ؟ کیا دس سال سے پنجاب پر حکمرانی کرنے والے ”مغل طرز کے شہنشاہ“ نے بیورو کریسی کو گھر کی باندی نہیں بنا کر رکھا ہوا؟ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو مجھے قبر سے نکال کر پھانسی دے دی جائے تو اربوں کی کرپشن کے کیسز سامنے کیوں آرہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے بیوروکریسی میں سسٹم کو فالو نہ کرکے اور شخصیات کو پروان چڑھا کر اداروں کو کمزور کرنے کی بنیاد ڈالی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ہمیں یہ علم ہی نہیں ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شرم آنی چاہیے کہ جب ہماری ترجیحات بڑے بڑے ٹھیکوں میں گھپلے کرنا ہو، لاہور کی چند سڑکوں کو بہتر بنا کر ایک جھوٹا ماڈل پیش کیا جا رہا ہو، ایک ایک روڈ کو اکھاڑ کر بار بار بنایا جا رہا ہوجبکہ شمالی لاہور کی طرف سفر کریں تو سر جھک جائیں کہ یہ بھی ”لاہور“ ہے.... آپ لاہور سے باہر قدم رکھ لیں، آپ کو ترقی کے دعوﺅں کا بخوبی علم ہو جائے گا۔ ہمارے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ”تھنک ٹینک“ کوئی نہیں جو ہماری ترجیحات کے بارے میں فیصلہ کرے، کیا میٹرو پر اتنے پیسے خرچنے ضروری تھے؟ کیا اورنج ٹرین پر اس قدر پیسا بہانا ٹھیک تھا؟کیا تعلیم اور صحت ترجیحات نہیں ہونی چاہیے تھیں؟کیا صاف پینے کا پانی ترجیح نہیں ہونا چاہیے تھا؟ کیا کیمیکل ملے دودھ سے نجات حکومت کی ترجیح نہیں ہونی چاہیے تھی؟ کیا انجیکشن سے تیار بچوں کے فیڈر سے نجات ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہونی چاہیے تھی؟کیا بے گھروں کو چھت فراہم کرنا حکومتی ذمہ داری نہیں تھی؟کیا جعلی ادویات کی روک تھام حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں تھی؟ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں کنٹرول کرنا، پرائیویٹ ہسپتالوں کی فیسیں کنٹرول کرنا، گردہ مافیا کو کنٹرول کرنا، اسٹنٹ مافیا کو کنٹرول کرنا ، سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنا یا مہنگائی کو کنٹرول کرنا اگر حکومتی ترجیحات نہیں ہیں تو آخر ترجیحات ہیں کیا؟ یہاں تو ہر چیز سے کرپشن باہر آرہی ہے.... پینے کے صاف پانی پراجیکٹ میں کرپشن، ڈینگی مکاﺅ سکیم میں اربوں کی کرپشن، سستی روٹی سکیم میں کرپشن، دانش سکول پراجیکٹ فلاپ، میٹرو بس سروس میں اربوں کی کرپشن ، اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کا آڈٹ ہونا ابھی باقی ہے۔ اگر یہ تمام پراجیکٹ محفوظ نہیں ہیں تو پھر خادم اعلیٰ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے قبر سے نکال کر پھانسی دے دی جائے؟
خیر اب جبکہ وہ پارٹی صدر بھی بن گئے ہیں اور پورے ملک کے ایم این ایز ، سینیٹرز کی سلیکشن کی ذمہ داری بھی انہی پر ہے تو یہ یقینا ان پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کچھ نہ کریں محض اپنی پارٹی میں اور پنجاب میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہتر کر لیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ترجیحات ٹھیک کر لیں سب کچھ خود بہتر ہو جائے گا۔ تعلیم پر فوکس کریں ،ڈیکوریشن کو اپنی زندگی سے نکال دیں تو ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا اور عوام بھی حقیقت میں خوش رہیں گے کہ انہیں خادم نہیں بلکہ مسیحا مل گیا ہے!


شہباز شریف کا کیرئیر
شہباز شریف 1985ءمیں لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر اور لاہور میٹرو پولیٹن مسلم لیگ کے صدر رہے۔1988ء،1990ء،1993ء1997ء،2008ءاور2013ءمیں رکنِ پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 1997ئ،2008ء،اور2013ءمیں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے لیکن اس دوران وہ مضبوط ایڈ منسٹریٹرکے روپ میں سامنے آئے۔


ای پیپر