عالمی طاقتوں کا مفاداتی کھیل اور شام میں سسکتی زندگی!
05 مارچ 2018 (19:42)

ذبیح اللہ صدیق بلگن : شام کے شہر مشرقی غوطہ میں گزشتہ ہفتے سے جاری شامی افواج کی بمباری سے اب تک 560 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ بے گناہ شہریوں میں معصوم بچے ، بوڑھے اور خواتین شامل ہیں ۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیرِانتظام علاقے مشرقی غوطہ میں سرکاری افواج کے صرف ایک حملے میں20 بچوں سمیت سو سے زیادہ عام شہری جان کی بازی ہارگئے تھے۔ جب ہم شام میں جاری قتل وغارت گری کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ اقتدارکو بچانے اور اقتدار سے ہٹانے کی اس کشمکش نے ملک کے کونے کونے کو بربادکرڈالا ہے۔

شام میں جاری اس خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیںجبکہ ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ شام اوراس کے عوام کی تباہی تو اپنی جگہ مگر اب بات اس سے بھی بڑی تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پہلے تو یہ لڑائی صرف شام کو برباد کر رہی تھی مگر اب اس خانہ جنگی کی وجہ سے شام اور ترکی کی افواج بھی آمنے سامنے ہیں اورخدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ان دونوں ممالک کے درمیان بڑا تصاد م ہو سکتا ہے۔ ترکی کی جانب سے شامی فوج کوخبردارکیا گیا تھا کہ وہ کرد شدت پسندوں کی مدد کیلئے عفرین کے علاقے میں مت داخل ہو، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ ترکی نے عفرین کے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کا آغازگزشتہ ماہ کیا تھا، جسے ترکی کی سرحد پر پیدا ہونے والے کرد خطرے کے خاتمے کا آپریشن قراردیا گیا تھا۔ ترکی کی جانب سے فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد شام کے میدان جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ اب کرد جنگجو، شامی حکومت، باغیوں کے دھڑے، ایران، امریکہ، روس اور ترکی اس جنگ کا براہ راست حصہ ہیں۔ ترک وزیرخارجہ میولت کاواسوغلو نے ایک بیان کے ذریعے شام کو خبردارکرتے ہوئے کہا اگر شامی فوج وائی پی جی (کرد ملیشیا)کی مددکے لئے آئی تو پھر ترک افواج کوکوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ بعدازاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کوکی گئی ایک فون کال میں کہاتھاکہ اگر شامی حکومت نے وائی پی جی کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کی تو اسے نتائج کا سامناکرنا پڑے گا۔


مشرقی غوطہ پر سرکاری فوج کی بمباری
گزشتہ ہفتے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو اس وقت انتہائی دلگداز مناظردیکھنے کوملے جب سرکاری فوج کے فضائی حملے میں 20 بچوں سمیت ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے۔ اس حادثے میں ہزاروں افراد شدید زخمی بھی ہوئے تھے ۔ سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ پیرکوکیے جانے والے فضائی اور راکٹ حملوں میں درجنوں بچوں سمیت سینکڑوں عام شہری مارے گئے۔ خیال رہے کہ مشرقی غوطہ کا علاقہ2013 ءسے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریباً چارلاکھ افراد مقیم ہیں۔ یہ دارالحکومت دمشق کے قریب حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام آخری محصور علاقہ ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں شامی افواج نے اس علاقے کا انتظام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں میں تیزی کی تھی جس میں سینکڑوں جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔ اس کے باعث اس علاقے میں عام شہریوں کو سامان پہنچانے کے لیے جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔ غوطہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعدادکے بارے میں برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن اوبزرویٹری نے مطلع کیا ہے اوراس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ محصورعلاقے کے ایک قصبے حموریہ سے موصول ہونے والی ایک ویڈیومیں لوگوں کوتباہ شدہ عمارتوں سے نکلتے دیکھا جاسکتا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اس قصبے میں درجنوںافراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ دسمبر 2017ءمیں بین الاقوامی امدادی اداروں نے باغیوں کے زیرانتظام اس علاقے کے بارے میں خبردارکیا تھاکہ یہاں خوراک، ایندھن اورادویات کی کمی کی وجہ سے شہریوں کے حالات انتہائی نازک ہیں۔ اقوام متحدہ کے علاقائی کوارڈینیٹر پنوس مومٹزس کا کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ میں انسانی تکالیف کو ختم کرنا ناگزیرہے۔ تاہم روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کے مطابق محصور علاقے کے حالات کو بین الاقوامی عناصر بڑھا چڑھاکر پیش کر رہے ہیں۔ آزاد زرائع کے مطابق مشرقی غوطہ پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بمباری میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔ شامی حکومت فضائی کارروائی میں بھاری اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی ادارے کاکہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران صرف ایک دن میں46 مزید افراد شہید ہوئے جبکہ 23 فروری تک مارے جانے والے افرادکی تعداد بڑھ کر403 تک پہنچ گئی ۔ بیرل بموں اور شیلوں سے اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جسے اقوام متحدہ نے زمین پر جہنم قراردیا ہے جہاں تقریباًچار لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر پینوز مومتز نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی غوطہ کی دل دہلا دینے والی تصاویرکا حوالہ دیا اورکہا کہ اگر یہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو جنگ بندی کے لیے قائل نہیں کر سکتی تو پھر ہم نہیں جانتے کہ کیا چیز انھیں قائل کر سکتی ہے۔


بین الاقوامی دباﺅکو سامنے رکھتے ہوئے روس نے شام میں حکومت کی جانب سے باغیوں کے علاقے پر بمباری پر بڑھتے ہوئے غصے پر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا۔ تاہم مغربی سفارتکاروں نے روس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا۔ فرانس نے کہاکہ عمل کرنے میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہوجائے گا۔ روس جو ان پانچ عالمی طاقتوں میں شامل ہے جو اس قراردادکو ویٹو کر سکتی ہیں، روس خانہ جنگی کے دوران شامی صدر بشارالاسدکا اہم حمایتی رہا ہے۔ مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا تھا تا کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔ دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس بناکسی تاخیرکے اس قراردادکو منظورکرانا چاہتے تھے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہفتے کو پیش ہونے والی قرارداد میں کہا کہ تمام فریق کم ازکم30 لگاتاردنوں تک حملے بندکردیں تاکہ انسانی ہمدردی کی کارروائیاں سرانجام دی جا سکیں۔ تاہم روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی تجویز پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب تمام فریق اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے کیسے روبہ عمل لایا جائے۔ دراصل سلامتی کونسل میں کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قراردادکے منظورکیے جانے کے72 گھنٹوں بعد30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیاگیا ۔ اس کے48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پرانخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغازکیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔ روس کاکہنا ہے کہ اس نے قراردادکے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں ۔


غوطہ کی تازہ ترین صورتحال
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور بین الاقوامی دنیاکے دباﺅکے بعد روس کے صدر ولادی میر پوتن نے حکم دیا ہے کہ شام کے علاقے غوطہ کے مشرقی علاقے میں جاری لڑائی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روزانہ پانچ گھٹنے کا وقفہ لایا جائے۔ لڑائی میں تعطل کا یہ عمل بروز منگل یعنی27 فروری سے شروع ہوا اوراس منصوبے میں شہریوں کوعلاقے سے نکلنے کے لیے راستہ بنانے کی تجویزبھی شامل ہے۔ ایک طبی فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ بارہ روزقبل لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے حکومتی افواج کے فضائی حملوں اورگولہ باری میں اب تک کم سے کم560 افراد مارے جا چکے ہیں۔ روس کے وزیرِدفاع سرگئی شویگو نے لڑائی میں وقفے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ تعطل روزانہ صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک ہوا کرے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ شہریوں کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں تفصیلات جلد عام کی جائیں گی۔ یہاں بھی یاد رہنا چاہئے کہ دمشق کے پاس مشرقی علاقے غوطہ کا شمار ان چند علاقوں میں ہوتا ہے باغیوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقے کو2013 ءسے شامی افواج نے محصورکیا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کاکہنا ہے کہ تین لاکھ93 ہزار افراد اس علاقے میں محصور ہیں۔ یہ علاقہ دارالحکومت دمشق کے نزدیک باغیوں کا آخری سب سے بڑا گڑھ ہے۔ تازہ معلومات کے مطابق پیرکی صبح غوطہ کے اہم قصبے ڈومہ اور ہارستہ میں بمباری ہوئی ہے۔ شام کے محکمہ شہری دفاع کا امدادی کارکنان کاکہنا ہے کہ ڈوما میں ایک عمارت پرہونے والے بمباری میں نو شہری مارے گئے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ شامی افواج کی جانب سے زمینی کارروائی کی اطلاعات نہیں ہیں۔


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کاکہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب اس پر مو¿ثرطریقے سے عمل درآمدکیا جائے اور اسی وجہ یہ توقع کی جانی چاہئے کہ قرارداد پر فوری عمل درآمد ہو۔ تازہ حملے میں زمینی پیش رفت بھی شامل ہے اور یہ اقوام متحدہ کی جانب سے ” 30دنوں کی بلا تاخیر جنگ بندی“کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ہی عمل میں آئی ہے۔ فرانس اور جرمنی نے روس سے کہا ہے کہ وہ شامی حکومت پر جنگ بندی کی پابندی کرنے کے لیے دباﺅ ڈالے۔ ٹیلیفون پر ایک مشترکہ گفتگوکے دوران جرمن چانسلر اینگلا مرکل اور فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے صدر پوتن پر اقوام متحدہ کی قراردادکو نافذ کرانے میں تعاون کرنے کے لیے کہا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں امدادی سامان فراہم کرنے اور طبی وجوہات پر وہاں سے لوگوں کو نکالنے پر اتفاق کیا گیا لیکن اس معاہدے میں سب سے بڑے جہادی باغی گروپ کے خلاف آپریش شامل نہیں ہے۔ امدادی تنظیم سیریئن امریکن میڈیکل سوسائٹی کاکہنا ہے کہ اس علاقے میں قائم ان کے ایک ہسپتال میں ایسے مریض آئے ہیں جن کی حالت یہ بتاتی ہے کہ وہ کیمیائی حملے کی زد میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ایک بچے کی موت ہوگئی ہے۔ مشرقی غوطہ کے رہائشی محمد عادل نے کہاکہ ان کے ایک ساتھی نے ہسپتال کا دورہ کیا اورکہا کہ وہاں ایک لڑکا کیمیائی حملے کی زد میں آ کر دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا ۔ ایس او ایچ آر نے کہا انھیں اسی قسم کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ گیس والا حملہ ہے۔


اسرائیل کا شام پر حملہ
گزشتہ کے ماہ کے دوسرے ہفتے میں اسرائیلی دفاعی فوج کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے شامی دارالحکومت دمشق کے قریب کم سے کم12 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کاکہنا تھاکہ اس نے شام میں گزشتہ30 برس کے دوران سے بڑا فضائی حملہ کیا ۔کہاگیا کہ یہ1982 ءکی لبنان جنگ کے بعد شام کے خلاف اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔ اسرائیلی دفاعی فورسزکا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ انہوں نے شام میں ایرانی اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ دراصل یہ حملے شام میں ایک اسرائیلی طیارے کو مارگرائے جانے کے بعدکیے گئے۔ یہ طیارہ شامی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد شامی طیارہ شکن حملے کا نشانہ بنا تھا۔ دوسری جانب امریکہ اور روس نے شام میں ایران کی حامی فورسزکے خلاف اسرائیل کی سرحد پار سے کارروائیوں پر تشویش کا اظہارکیا۔ روس کاکہنا تھاکہ ایسے کسی بھی اقدام سے پرہیزکرنا چاہیے جو ایک نئے علاقائی تنازع کا باعث بنے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فون پراسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہوں نے بات کی اور شام میں فضائی حملوں پر تبادل خیال کیا۔ جبکہ اس موقعے پر اسرائیلی رہنما نتن یاہو نے کہاکہ ان کا ملک ایران کی جانب سے شام میں فوجی طاقت میں اضافے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گا۔ امریکہ نے بھی اس کے بقول ایران کی جانب سے عدم استحکام پیداکرنے والی سرگرمیوں پر خدشات کا اظہارکیا۔ اسرائیل کے مطابق ایف16 طیارے کو شام کی سرزمین سے طیارہ گرانے والی توپوں سے نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں جہازگرگیا۔ دوسری جانب شام اور ایران نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی الزامات کی تردیدکرتے ہوئے کہاکہ ایرانی ڈرون نے اسرائیلی حدودکی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ طیارے کے دونوں ہواباز طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اوراب ان کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا تھاکہ اس کا ایف16 طیارہ شام کے اندر اس ایرانی ہدف کو نشانہ بنا رہا تھا جہاں سے اسرائیلی سر زمین کے اندر ایک ڈرون چھوڑاگیا تھا۔ اسرائیلی محکمہ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل رونن مینیلس نے کہاکہ یہ ڈورن اسرائیلی علاقے میں گرا اور وہ ہمارے قبضے میں ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہاکہ ایک جنگی ہیلی کاپٹر نے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا جسے شام سے چھوڑاگیا تھا اور وہ اسرائیلی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔ بیان میں مزیدکہاگیا کہ اس ڈرون کو جلد ہی شناخت کر لیا گیا اور اس کے جواب میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شام کے اندر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ شام کے سرکاری میڈیا نے کہاکہ اس کے فضائی دفاع نے ہفتے کو شامی فوجی اڈے کے خلاف اسرائیل کی طرف سے جارحیت کے بعد فائرکیے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران شام کے اندرکیا کر رہا ہے؟دراصل ایران اور روس شامی صدر بشار الاسدکے اہم حمایتی ہیں اور وہ انھیں باغیوں کے خلاف لڑنے میں مدد دے رہے ہیں۔گزشتہ نومبر میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا تھا کہ تہران شام میں مستقل فوجی اڈا بنا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو نے خبردارکیا تھا کہ اسرائیل ایسا نہیں ہونے دے گا۔ ایران پر الزام ہے کہ وہ پورے خطے میں اپنا اثر و نفوذ چاہتا ہے۔ ایک معروف مغربی تجزیہ نگارکاکہنا ہے کہ اسرائیل کے شام میں فضائی حملے کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم شام کی طرف سے کسی اسرائیلی جہازکو مار گرانے سے جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا ملے گی۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک کسی بھی حملے کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔بنیامین نیتن ہایو نے کہا کہ یہ ہمارا حق اور ذمہ داری ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے جہاں تک ضروری ہوا۔ شام میں ایرانی موجودگی اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردارکیا کہ ہماری خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے خلاف اسرائیل کی اپنے دفاع کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے بے شرمی سے اسرائیل کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔


ترکی کی شام میںکاروائیاں
جیسا کہ آغاز میں عرض کیاگیا ہے کہ شام اس وقت بین الاقوامی قوتوں کا میدان جنگ بنا ہو اہے۔ اسی طرح ترکی بھی شام میں موجودکرد تنظیم ”پی کے کے“کے خلاف فوجی کاروائی کر رہا ہے ۔گزشتہ مہینے کے آخر میں ترکی کی فوج کا کہنا تھاکہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ دراصل ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوں کا انخلا چاہتا ہے جوکہ2012 ءسے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔ ترکی نے اس سے پہلے کردوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی بھی دی تھی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کرد افواج کی شام میں موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے اسے علیحدگی پسندکرد تنظیم ”پی کے کے“کا لازمی جزقراردیا ہوا ہے۔ ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق شام کے علاقے عفرین پر صوبے ہیٹے سے بمباری کی گئی۔ دوسری جانب روس کے وزیرِ خارجہ نے علاقے سے روسی فوجیوں کو نکالنے کی خبروں کی تردیدکی۔ ترکی کاکہنا ہے کہ وہ شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوں کا خاتمہ کرے گا یہاں یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ ترکی وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ ادھر شام نے ترکی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی پر ترکی کے طیاروں کو مارگرانے کی دھمکی دی۔ ترکی کے وزیرِدفاع کا کہنا تھا کہ شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے خلاف بمباری عفرین پر چڑھائی کرنے کے منصوبہ کا آغاز ہے۔ دوسری جانب وائی پی جی کاکہنا تھا کہ عفرین میں رات بھر میں70 گولے داغے گئے۔ عفرین میں سیئرین ڈیموکریٹک کونسل کے رہنماکے مطابق عفرین پرکی جانے والی گولہ باری کے بعد شہری محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرتے رہے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ جب عفرین پرگولہ باری جاری تھی تو اس وقت عام شہری، خواتین اور بچے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے یہاں تک کہ وہ گولہ باری ختم ہونے تک محفوظ پناہ گاہوں کو تلاش کرتے رہے۔


ترکی کی شام کے علاقے عفرین میں ہونے والی بمباری پر بین الاقوامی دنیا نے تنقید کی جس کے جواب میں ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد اس میں کامیاب ہو جائے گا۔ ترک میڈیا کا کہنا تھ کہ کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کے دوران ترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔ ترکی کے میڈیا کے مطابق عفرین میں داخلے کے بعد انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو ترک ٹینک تباہ کردیے اورپیش قدمی رک گئی ہے۔ انقرہ نے کہا ہے کہ اس دوران کسی شہری کوکسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کاکہنا ہے کہ کم سے کم18 شہری مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے ترکی کی زمینی افواج شمالی شام میں داخل ہوگئی تھیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے کرد جنگجوں کو بہت جلدکچلنے کا عندیہ دیاگیا تھا۔کرد ملیشیا وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے عفرین شہر میں ترک افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور وہ ترکی کے سرحدی علاقوں پرگولہ باری کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ ترک وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قراردیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ترکی عام شہریوں کو ہلاکت سے بچا ﺅکے لیے تحمل کا مظاہرہ کرے۔ ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ترکی کی زمینی افواج شام کے شمالی حصے میں داخل ہوگئی ہیں جس کا مقصد سرحدی علاقے سے کرد جنگجوں کا انخلا ہے۔ بن علی یلدرم نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد شام کے اندر30 کلو میٹر گہرا محفوظ زون قائم کرنا ہے۔ ترکی کی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے اتوارکو فضائی اور زمینی کارروائی میں45 اہداف کو نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں شام میں موجودکرد جنگجوں کے ساتھ ساتھ کردستان ورکرز پارٹی کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے جنگی جہازوں نے بمباری شروع کردی اور اب وہاں زمینی آپریشن جاری ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وائی پی جی عفرین سے فرار ہو رہے ہیں۔ ہم ان کا پیچھاکریں گے۔ خدا جانتا ہے ہم اس آپریشن کو بہت جلد مکمل کریں گے۔ ادھر شام کے صدر بشار الاسد نے ترکی کی اس کارروائی کی مذمت کی جبکہ فرانس کے وزیرِخارجہ ژاں ایو دریاں نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔ اس سے پہلے ترکی کی فوج نے کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔


مندرجہ بالا حقائق اور تازہ ترین صورتحال سے یہ نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ شام گزشتہ سات سالوں سے بین الاقوامی قوتوں کا میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ ایران، روس، امریکہ، ترکی، اسرائیل اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ اسے امت مسلمہ کی بد قسمتی کہا جائے گاکہ شامی فوج کی ظالمانہ کاروائیوںکو روس اور ایران کی پشت پناہی حاصل ہے ۔گزشتہ آٹھ دنوں میں ہلاک ہونے والے چھ سو سے زائد بے گناہ افراد کا خون سراپا سوال ہے کہ آخر ہمارا قصورکیا تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں کے مفاداتی کھیل نے شامی عوام سے ان کی معمول کی زندگی چھین لی ہے۔ ان حالات میں تمام مسلم ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شام کے بے گنا ہ اور معصوم شہریوں کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کریں ۔


ای پیپر