کان کی صحت بھی ضروری ہے
05 مارچ 2018 (19:25)

جسم کے باقی حصوں کی طرح اس کے بگاڑسے بھی سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے
حکیم کوثر قادری
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت کان ہے ۔ کان ایک حسی عضو ہے جو آوازسنتا ہے اور یہ نہ صرف آواز کو سنتا ہے بلکہ جسم کو متوازن حالت میں رکھنے میں بھی بڑا کام سرانجام دیتا ہے ۔ کان ہمارے جسم میں ایک حساس عضو ہے اور جسم کے باقی حصوں کی طرح اس کے بگاڑسے بھی سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے ۔ کان میں درد ،سوجن یا رطوبت کا بہنا بہت زیادہ تکلیف اور پریشانی کا باعث بنتا ہے ۔جسے اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس سے کان کے پردے اوسننے کی سماعت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔


کان کی ساخت
انسانی کان تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے ، جس میں بیرونی کان ، درمیانی کان اور کان کا اندرونی حصہ شامل ہیں، کان کا وہ حصہ جو باہر نظر آتا ہے ،بیرونی کان کہلاتا ہے ۔ بیرونی کان سے ایک سوراخ اندر کی طرف جاتے ہوئے کان کو ایک ایئر ڈرم سے جوڑتا ہے ،ایئر ڈرم کا پچھلے والا حصہ درمیانی کان کہلاتا ہے ۔ ایئر ڈرم کے بعد کان میں ایک جھلی دار معدہ ہوتا ہے ،جو سیپ کی صورت میں ہوتا ہے ،اسے اندرونی کان کہتے ہیں۔حواس خمسہ یعنی ہاتھ ،ناک،آنکھ،زبان اور کان میں سے کان بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ہمارے دماغ کو ملنے والے تمام پیغامات،اطلاعات ،معلومات کا تقریبا23 فیصد حصہ کانوں کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے ۔سب سے پہلے آواز کی لہریں کان کے بیرونی حصہ میں داخل ہو کر اس حصے کی نالی سے گزر کر پردہ سے ٹکراتی ہیں پھر یہ کان میں وسطی حصے میں موجود ہڈیوں سے باری باری ٹکراتی ہیں۔آواز کی لہریں سماعت کے عضو، گانٹھ یا گرہ سے ٹکراتی ہوئی دماغ تک پہنچتی ہیں۔وہاں دماغ انہیں ڈی کوڈ کرتے ہوئے”معنی“ دیتا ہے ۔کہ یہ آواز کس طرف یا سمت سے؟ کس چیز کی آواز ہے ؟ اس آواز کا مطلب کیا ہے ؟ معنی کیا ہے ؟
اسباب
جدید طرز زندگی نے ناک ، کان گلے کے امراض میں اضافہ کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بے تحاشا شور شرابا،دھماکے، ہیڈ فونز اور ہینڈ فری کا بے جا استعمال،رکشہ،بسوں کے پریشر ہارن،اونچی آواز کی موسیقی،کام کی جگہ مشینوں اور لوگوں کا شور و غوغا،ریڈیو ،ٹی وی کا شور۔ کان اور سماعت کے مختلف امراض کے اسباب میں شامل ہیں۔ کان کے درد کی کئی وجوہات ہیں جس میں الرجی ،انفیکشن ،زخم ، کان میں رطوبت یا سیال مادے کا جمع ہو جانا ، کان میں موجود ویکس کا سخت ہو جانا،ائیرڈرم کو نقصان پہنچنا، کان میں کوئی چیز پھنس جانا،، اس کے علاوہ بچوں میں دانتوں کا نکلنا بھی کان کے درد کا باعث بن سکتا ہے ۔ کان کا درد انفیکشن کی وجہ سے بھی ہوجا تا ہے ۔ اگر بیکٹیریا ، وائرس کان کے کسی حصے میں داخل ہو جائے تو اس سے بھی انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو کافی تکلیف کا باعث بنتا ہے ۔


بچائو
اسلامی ا صولوں کے مطابق غذا چبا کر کھانا ، آہستہ سے کھانا، پیٹ بھر کر نہ کھانا، پانی تین وقفوں سے پینا اور کھانے پینے میں اعتدال سے کام لینا یہ سب باتیں نہ صرف ناک، کان اور گلا بلکہ دیگر امراض سے بھی بچاتی ہیں۔ کان کے اندر پانی چلے جانے ، کان میں میل جمع ہو کر گیلا ہوجانے یا سوکھ جانے ، کان میں پھوڑا پھنسی یا گھاو¿ ہونے کے سبب کان میں شدید درد، یکایک بہت تیز درد، ٹیس مارتا ہوا درد ، ناقابل برداشت درد ہوتاہے۔ کان میں دردکسی بھی سبب سے ہوجلد سے جلد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چائیے۔


صفائی
ہمیں اپنے کان خود صاف کرنے کی بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے کسی دوا کے ذریعے کان صاف کروانے چائیے۔کیونکہ ہم سویب (روئی لپٹی سلائی) کے ذریعے صفائی کرتے ہے ،یہ سلائی بہت چھوٹی ہوتی ہے اور کان کے سوراخ کے اندر تک چلی جاتی ہے ، جب آپ اس سے کان کی صفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو میل باہر کے بجائے کان میں مزید اندر تک گھس جاتا ہے ، جہاں پھر وہ نالی میں پھنس کا جم جاتا ہے اور پھر اس کا نکلنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ کان کی نالی کے اندر تک پہنچنے والے اس میل کی وجہ سے فنگس، بیکٹریا یا کوئی وائرس پیدا ہو سکتا ہے ، جو بعدازاں کان میں درد یا کسی اور انفیکشن کا باعث بنتا ہے ۔ کان کو ہمیشہ بہت احتیاط سے صاف کرنا چاہئے بلکہ خود صاف ہی نہیں کرنا چاہئے۔نہاتے وقت کان میں روئی تیل میں بھیگو کر کان میں رکھ لیں تو کان میں پانی جانے سے بچایا جا سکتا ہے ۔


احتیاط
کان کا درد ہو تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔خود ڈاکٹر نہیں بننا چاہئے۔ کان کے اندر پھنسیوں کی صورت میں کوئی سا تیل یا محلول دوا نہ ڈالیں۔بلکہ معالج سے دوا لیں۔اسی طرح کان میں کچھ پھنس جانے کی صورت میں خود سے نکالنے کی کوشش نہ کریںاورکان کبھی بھی نوکدار یا باریک چیز سے نہ کھجائیں۔ہمیشہ حلق کی بیماریوں اور نزلہ زکام سے اپنی حفاظت کریں۔کیونکہ ناک کان گلے کا سسٹم ایک ہی ہے ۔ایک خراب ہوا تو دوسرا ساتھ ہی خراب ہو جائے گا۔


کان میں درد یا انفیکشن کی صورت میں ناک کو زیادہ زور سے صاف کرنے کی کو شش نہ کریں۔کٹھی اور ترش اشیاءکے استعمال سے گریز کریں۔کیلا ،تربوزہ ، پپیتا اور کھیرے کا استعمال نہ کریں۔کیونکہ ان غذاو¿ں کے استعمال سے ریشہ ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں جو کانوں سے متعلق مسائل کو اور زیادہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریفریجریٹر میں رکھے گئے کھانوں سے بھی اجتناب برتیں۔کانوں کے درد اور دیگر مسائل کے دوران پیاز ،ادرک اور لہسن کااستعمال بہترین ثابت ہو تا ہے ۔اگر کانوں میں درد ویکس کے سخت ہو جانے کی وجہ سے ہو رہا ہے تو گرم پانی سے غسل لے لیں۔بہت سی خواتین بچوں کو نہلاتے ہوئے اس بات کا دھیان نہیں رکھتی کہ بچوں کے کانوں میں پانی زیادہ نہ جائے۔ کان میں پانی جانے کی صورت میں شدید تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ بچے کو فلو اور نزلہ زکام ہونے کی صورت میں فوراََ علاج کروائیں۔اپنے ہاتھوں اور بچوں کے کھلونوں کو اچھی طرح دھوئیں تاکہ کھیلتے وقت یا منہ میں ڈالتے وقت جراثیم بچے کے پیٹ میں نہ جا سکیں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔


کم سنائی دینا
کان کی نسیں کمزور ہونے سے یا تو آواز بالکل سنائی ہی نہیں دیتی اور اگر سنائی دے بھی تو سمجھ نہیں آتی۔ یہ شکایت عام طور پر70سال کی عمر اور اس سے زائد عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہے ۔ شور میں کام کرنے والے فیکٹری ورکرز اگر سوشل سیکیورٹی قوانین پر عمل نہیں کرتے تو ان کے کان جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں میں 50‘ 55 سال کی عمر میں کانوں کے مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں اور ایسے لوگوں میں کم سنائی دینے کی شکایت پائی جاتی ہے ۔ بڑھتی عمر کے ساتھ بھی کان کی سماعت متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیںجن سے کان کی سماعت متاثر ہوتی ہے وہ کان کا درمیان والا حصہ ہے اس میں کان کے پردے کا پھٹا ہونا، کان کا بہنا، نزلہ سے ٹیوب بلاک ہوکر کان بند ہونا ہیں۔ کان کی میل اچانک کان کے پردے پر آجانے سے، نہانے سے پانی کان میں جانے سے بھی کان بند ہوجاتا ہے ۔ یہ کان بند ہونے کی وہ وجوہات جو قابل علاج ہیں۔ان سے سماعت کم ہونے کا علاج کروانے سے کان ٹھیک ہو سکتے ہیں۔


وراثتی بیماریاں زیادہ ترکان کو متاثر کرتی ہیں۔ بعض بچے پیدائشی بہرے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گونگے بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ تین سال کی عمر تک آواز کان میں جائے گی تو بچہ بولنا سیکھے گا۔ دوسرا بچے کی پیدائش کے بعد کوئی پرابلم ہو گیا مثلاً ٹائیفائیڈ بخار‘ گردن توڑ بخار یا کوئی اور بیماری کے علاج میں کچھ خاص انجکشن وغیرہ لگوائے ہوںتو ان سے کانوں کی نسیں یا دماغی ریشے ڈیڈ ہو جاتے ہیں تو کم عمری میں ہی سماعت کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ ان بچوں اور عمر کے آخری حصے میں سماعت کے کم ہونے کی شکایت کرنے والے مریضوں کے کان علاج سے بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اس کے لئے سماعت کا آلہ ہی استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے مریضوں کا جدید طریقہ علاج بھی ہے جسے Cochlear Implants کہتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ علاج بہت مہنگا ہے ۔


چند لمحوں کے لیے کان کا بند ہونا
اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ چند لمحوں کے لیے کان بند ہو گیا۔اس ضمن میں Tinnitus کی مثال دی جاسکتی ہے جسے میڈیکل سائنس بیماری نہیں بلکہ ایک کیفیت مانتی ہے اور یہ کسی دوسرے مرض کی علامت ہوسکتی ہے ۔ اس میں مریض کو اپنے کان میں بھنبھناہٹ یا شور سنائی دیتا ہے جو کبھی تیز اور کم بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ شکایت مختصر دورانیے کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور بعض اوقات کئی دنوں تک وقفے وقفے سے مختلف آوازیں یا شور سنائی دے سکتا ہے ۔ عام طور پر ہم اسے کان بجنا کہتے ہیں۔


چند گھریلو ٹوٹکے
سرکہ:
سرکہ میں مینگیشم، پوٹاشیم، زنک اور مینجنیج شامل ہوتا ہے جو سماعت کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے مفید ہیں۔ خاص طور پر ایسے مریض جن کی سماعت کا نقصان پہنچا ہو، پانی کے ایک کپ میں سرکہ، شہد مکس کر کے استعمال کرنے سے کان کی جلن میں کمی واقع ہو جاتی ہے ۔
پیاز:
پیاز عرصہ دراز سے کان کے علاج کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن محققین نے اب ثابت کیا ہے کہ پیاز کان کی بیماریوں خاص کر صدمے کے وجہ، دھماکے یا کسی دبائو کی وجہ سے کان کو پہنچنے والے نقصان میں کافی اثر رکھتا ہے ۔ سائنسدان پیاز کو موثر قدرتی علاج تصور کرتے ہیں۔ اس کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہوئے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک لیٹر پانی میں 300 گرام پیاز 12 گھنٹے کیلئے بھگو دیں اور کان کے انفیکشن کی صورت میں یہ پانی استعمال کریں۔


پیسا ہوا نمک:
کان کے درد، انفیکشن کیلئے پسا ہوا صاف نمک بھی دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایک کپ پیسا ہوا نمک گرم کر کے کپڑے میں لپیٹ کر کان کے اوپر رکھنے سے کان میں موجود سیال باہر آ جاتا ہے جبکہ انفیکشن سے آرام ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ سلفر کا استعمال بھی بند کان کھولنے میں مدد دیتا ہے ۔
کان کے درد سے نجات کے لیے آسان ٹوٹکا یہ ہے ۔


ایک قدیمی علاج
تلوں کا تیل ،دو کھانے کے چمچ اورلہسن کےچار جوئے لیں۔لہسن کو چھیل کر باریک کاٹ لیں اور ان کو تلوں کے تیل میں ڈال کر چولہے پر پکنے کے لیے رکھ دیں۔جب لہسن کا رنگ براو¿ن ہو جائے توچولہے سے اُتار لیں اور تیل کو چھان لیں۔اس تیل کو کسی بوتل میں ڈال کر محفوظ کر لیں۔ جب بھی کان میں درد ہو تو اس کے دو قطرے کان میں ٹپکا لیں کان کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک مرتبہ کے استعمال سے ہی کان کا درد ختم ہو جاتا ہے ۔

عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کان کے امراض کا عالمی دن3مارچ کو بھر پور طریقے سے منایا جاتا ہے ۔3 مارچ کو یہ دن منانے کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ تین کا ہندسہ کان کے مشابہہ ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کو کان کی اہمیت اور سماعت کی بیماریوں سے آگاہ رکھنا ہے ۔اس دن نامورماہرین امراض کان اور پروفیسرز، ڈاکٹر ز عوام کو کان کے امراض بارے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔


ای پیپر