امریکہ، افغان ’دلدل‘ اور امن عالم
05 مارچ 2018 (19:18)

آئزن ہاور کے وزیرخارجہ ”جان فوسٹرڈیلس“ نے جس ”بنیادپرستی“ کی بنیاد رکھی وہ آج اسلامی بنیاد پرستی کی صورت میں دُنیا کے سامنے ہے۔ اسلام دُشمنی کا گھناﺅنا عالمی کردار جان فوسٹر ڈیلس کے نقش قدم پرچلتا ہوا دور جدید تک پہنچ چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روس کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ کو ”ریڈیکل اسلام“ سے نام نہاد خطرہ محسوس ہوا۔ بنیادپرستی کو بنیاد بنا کر امریکہ اور اُس کی خفیہ ایجنسیاں اسلامی ممالک کو رگیدنے کی مہم پرگامزن ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر افغانستان اور پاکستان سب امریکہ اور اس کے حواریوں کی زد پر ہیں، خصوصاً امریکہ کا منافقانہ کردارکسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ خصوصاً اسلام دُشمنی کے ایجنڈے پر سب سے آگے رہا، اس نے سابقہ نوآبادیاتی مسلم ممالک میں چلنے والی انقلابی تحریکوں کو کچلنے کا پروگرام بنایا جس میں مذہبی بنیاد پرستی کو خوب پروان چڑھایا گیا، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی سطح پر بھارت اوراس کے مذہبی جنونی اور ان کے گُروکسی کو نظر نہیں آتے۔ عالمی سطح پر دندناتا ہوا کٹر مذہبی بنیادپرست مذہبی جنونی ظلم کا دیوتا ناانصافی کے مندر میں بیٹھ کرکالی ماتا کا جاپ کررہا ہے، اُس کے جلال کو جگا رہا ہے، یہ سب کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔ برما کے امن کے پرچارک بودھ مت / بدھ مت چیونٹی کو بھی نہ مارنے کی تلقین کرنے والے مہاتما کے پیروکار آج وحشی سانڈھ کا رُوپ اختیار کر کے مسلمانوں کو جس طرح روند رہے ہیں اُن پر مذہب کی جنونیت کا کوئی الزام نہیں لگا رہا ہے۔

عراق میں جھوٹ پر مبنی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر عراق کو جس طرح امریکیوں نے تباہ کیا وہ بھی دُنیا نے دیکھا۔ اسلام دُشمنی میں اسرائیل کی دارالحکومت بدلنے میں جس طرح امریکہ نے مدد کی وہ بھی دُنیا کے سامنے ہے۔ اب ایران اور پاکستان کو تختہ¿ مشق بنانے کی جس طرح تیاری ہو رہی ہے وہ بھی نظروں سے اوجھل نہیں۔ شام کے مسئلے کو جس دھارے کی طرف موڑا جارہا ہے اُس میں بھی اسلام دُشمنی کا کلنک امریکہ کے ماتھے پر سجا نظر آرہا ہے۔ دُنیا کے امن کو تہہ وبالا کرتا ہوا امریکہ افغان دلدل میں دھنستا ہوا نظر آرہا ہے۔ پچھلے سال 19جولائی کو جب وائٹ ہاﺅس کے سیچوایشن روم میں ہونے والے اجلاس میں ٹرمپ نے افغانستان میں جنگ کی ”اختتامی صورتحال“ کے متعلق سوال کیا تو سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے یعنی ٹرمپ کا سوال یہ تھا کہ ” افغان جنگ کا اختتام کب اور کیسے ہو گا؟“ تو اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اجلاس میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ٹرمپ نے وزیر دفاع جیمز میٹس اور جنرل جوزف ڈنفورڈکو افغان جنگ نہ جیتنے کی وجہ سے امریکی فورسز کے سربراہ جنرل جان نکلسن کو اس کے عہدے سے برطرف کرنے کا کہا، یقینا امریکی افغان جنگ کی شکست کو جان بھی چکے ہیں اور سمجھ بھی چکے ہیں لیکن متذبذب ہیں کیونکہ اب وہ صرف افغان جنگ ہی نہیں لڑرہے بلکہ ایشیا میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان حکومت سے ایک ٹریلین امداد کی خطیر رقم کے قدرتی ذخائر مانگے جائیں اور امریکہ افغان مہنگی ترین جنگ پر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرچکا ہے۔

دراصل یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دُنیا میں امریکی اثرورسوخ کی سلطنت، اس کی سمت اور اس کی قیادت کمزور ہوچکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں دُنیا امریکی اثرورسوخ سے نکل رہی ہے اور امریکہ یہ بہت دیر بعد جانا جو کہ دوسرے ملک بہت پہلے جان چکے تھے کہ ”افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے“۔ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران بہت سے تجزیہ نگاروں کو یہ یقین تھا کہ ٹرمپ دُنیا میں امریکی مداخلت کی پالیسی نہیں اپنائیں گے۔ ٹرمپ تو ماضی یہ ٹویٹ بھی کرچکے ہیںکہ ”ہمیں افغانستان سے باہر نکل آنا چاہےے، افغانی ہمارے فوجیوں کو ہلاک کررہے ہیں جبکہ ہم اُن کو ٹریننگ دینے پر اربوں ڈالر ضائع کررہے ہیں، کیا حماقت ہے۔ افغانستان کی بجائے امریکہ کو تعمیر کریں“ لیکن یہی ٹرمپ اب افغانستان میں اپنی بدلتی ہوئی حکمت عملی کے تحت فوج بھیج کر حماقت کو دُہرا رہے ہیں۔ افغانستان میں جنگ کی حماقت تو امریکی40 سال پہلے ہی کرچکے تھے، جب امریکی صدر جمی کارٹر تھے یعنی 3جولائی 1977ءکو امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برزنسکی کے مشورے پر جمی کارٹر نے ایک آپریشن کے پہلے حکم نامے پر دستخط کر دیئے تھے جس کا مقصد افغانستان میں سوویت حمایت سے بننے والی حکومت کو عدم استحکام سے دوچارکرنا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مجاہدین اور اُسامہ بن لادن امریکہ کے اپنے بندے تھے اور جن کے لےے امریکہ نے 1980ءکی دہائی میں بڑی لمبی چوڑی سُرنگیں بنوا کر دی تھیں اور پھر2017ءمیں MOAB بم گرا کر تباہ کیا گیا تھا۔

اب امریکی ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کی راہ پرگامزن ایک دفعہ پھر افغانستان میں طبع آزمائی کررہے ہیں اور اس غلطی کا احساس اُن کو جلد ہی ہو جائے گا کہ انہوں نے ایک دفعہ پھر وہ راستہ چُن لیا ہے جو آخرکار ایک دلدل پر ختم ہو گا، دراصل امریکی عجیب سی اُلجھن میں گرفتار ہوچکے ہیں، وہ یہ کہ ”کیونکہ انہوں نے بہت سا سرمایہ اس جنگ پر لگایا ہے اور بہت سے امریکی فوجی مروائے ہیں لہٰذا ایسے میں اگر امریکی یہ جنگ ہار کر واپس جائیں تو امریکی عوام ان کا بہت بُرا مواخذہ کریں گے“ لہٰذا وہ جنگ جاری رکھ کر اُمید کی گیم کھیل رہے ہیں۔ جواری ایک بازی ہار کر دوسری اس اُمید پر پھر کھیلتا ہے کہ اب وہ جیتے گا اور ماضی کی غلطی نہیں دُہرائے گا۔ دوسری تیسری ہارکر بھی وہ چوتھی پانچویں بھی اسی اُمید پر کھیلتا ہے۔ ٹرمپ کی اگست 2017ءکی تقریر اور اوبامہ کی مارچ 2009ءکی تقریریں ملتی جلتی ہیں اور یہ اُس وقت کی بات ہے جب فلمساز اولیور سٹون نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا انٹرویو لیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ”صدر آتے جاتے رہتے ہیں حتیٰ کہ سیاسی جماعتوں کا اقتدار بھی بدل جاتا ہے لیکن بنیادی سیاسی جہت تبدیل نہیں ہوتی“ دراصل امریکی جرنیل شاید اس حکمت عملی پر کام کررہے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لےے اس میں شدت لانا ضروری ہے۔ افغان جنگ میں یہ عجیب بات ہے کہ کسی صدر نے جنگ کے خاتمے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔ امریکی صدور بار بار جوئے کی بازیاں کھیل رہے ہیں اور ان کو پتہ نہیں چل رہا کہ وہ بازی ہارکس طرح جاتے ہیں، اس جنگ میں دراصل”ایشیا فیکٹر“سب سے اہم ہے۔ امریکہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اب تو وہ جنگ کے بہانے افغانستان / ایشیا میں بیٹھا ہے، اگر یہاں سے نکل گیا تو پھر ”دُور کے ڈھول سہانے“ والی بات ہوگی لیکن اب امریکی مہم جوئی دراصل امریکی حماقت ہے اور امریکی واتحادی یہاں صرف جھک مار رہے ہیں یا ایشیا کے ”چور چوکیدار“ بنے بیٹھے ہیں لیکن یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں کہ ”شیر بھیڑ سے ہار رہا ہے“ وہ چاہتا ہے کہ خطے کی تھانیداری بھارت کو سونپ کر نکل جائے جبکہ چین اور روس مزاحم ہیں۔ چین اور امریکہ میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ چین ملک بنا رہا ہے جبکہ امریکہ ملک ڈھا رہا ہے۔ چین ممالک کی گرتی ہوئی معیشت اور ساکھ کو سہارا دے رہا ہے، سرمایہ کاری کررہا ہے جبکہ امریکہ ملکوں کی معیشت اور ساکھ کوگرا رہا ہے اور سرمایہ کاری بندکررہا ہے۔ افغان جنگ میں نقصان تمام خطے کے کھلاڑی اُٹھا رہے ہیں لیکن زیادہ نقصان افغانستان اورامریکہ ہی اُٹھا رہا ہے جبکہ چین خطے کو نقصان سے بچا رہا ہے جدت کی طرف آرہا ہے سڑکوں اور ریل وبحری راستوں سے ملکوں کو ملا رہا ہے جبکہ امریکہ ملکوں کو توڑ رہا ہے، اُن کی آزادی کو سلب کررہا ہے۔ ایک لمحے کے لےے سوچئے کہ امریکہ نے دُنیاکوکیا دیا ہے اور پھر پاکستان اور افغانستان کوکیا دیا ہے؟، یہ ہی کہ کشکول میں خیرات کے چند سکے ڈال کر احسان جتا دیا؟ افغانستان اور پاکستان میں کون سے ترقیاتی کام ہوئے، کتنی صنعت لگی، امداد کے نام پر چند ٹکے خرچ کر دینا اور بات ہے اور ایک ملک کوکوئی جامع منصوبہ دے دینا اور بات ہے اور امداد بھی ایسی جس میں اُس کے اپنے مفادات پوشیدہ ہوں۔

افغان جنگ پر اور اسلام دُشمنی پر ٹریلین ڈالر خرچ کر دیئے گئے، اس رقم کا اگر صرف دس پندرہ فیصد حصہ بھی مسلم ممالک اور افغانستان پاکستان پر انڈسٹری لگانے، ترقیاتی کاموں اور تعلیم پر خرچ کیا ہوتا تو حالات بالکل مختلف ہوتے ماسٹر بننا اور بات ہے جبکہ فرینڈز بننا اور بات ہے۔ جو بات آپ ماسٹر بن کر نہیں منوا سکتے وہ فرینڈ بن کر منوا سکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امداد کے نام پر نہیں بلکہ راہداری کے ضمن میں بھی فراہم کردہ رقم کا حساب مانگا جارہا ہے۔ افغانی آج پھر اپنے پُرانے کاروبار کی طرف لوٹ رہے ہیں یعنی پوست کی کاشت اگر افغانیوں کو سرد جنگ کے بعد تختہ مشق بنانے کی بجائے ان کو روزگار فراہم کیا ہوتا تو آج یہ قوم امریکیوں کو دُشمن نہیں بلکہ دوست سمجھتی اور یہ بات حقیقت ہے کہ اچھا روزگار اچھی تعلیم وتربیت کا ضامن ہوتا ہے جس میں زندگی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ آج افغانی زندگی کو اہمیت نہیں دیتے کیونکہ وہ بھوکی ننگی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں اور موت بھی ایسی جو ان کے مطابق جہاد ہے اور ایمان کا بنیادی جزو یعنی بنیادپرستی ہندو، مسلم، عیسائی، یہودی سب بنیاد پرست ہیں یعنی اپنے اپنے ایمان کے بنیادی نکات پر قائم لیکن دُنیا کو نام نہاد خطرہ صرف اسلامی بنیادپرستی سے کیوں؟ اس لےے کہ اسلام کے سنہرے اصول دُنیا کو متاثرکررہے ہیں۔

جس حجاب کوکھینچ کر اُتارا جارہا تھا وہ ہی حجاب اب برطانوی حکمرانوں کے سرکی زینت بن رہا ہے، دوسرے لفظوں میں اسلامی بنیاد پرستی جڑ پکڑ رہی ہے، اسلام پھیل رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھاکہ ”ہم نے افغانستان کا خون اور قومی خزانے کا بے دریغ ضیاع کیا، ان کی افغان حکومت اس کا اعتراف بالکل نہیں کرتی، لہٰذا یہاں سے نکل جاﺅ“ تو پھر یہاں سے نکل ہی جاﺅ اور اسلام کو پھیلنے دو۔


ای پیپر