نو واں کراچی لیٹریچر فیسٹول،اختلافِ ادب،آرٹ اور ثقافت پر دلچسپ سیشن
05 مارچ 2018 (19:13)

ظفراحمد خان
کراچی میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے آکسفورڈیونیورسٹی پریس (اویوپی) کی جانب سے بیچ لگژری ہوٹل میں 9ویںتین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیاگیا۔ کراچی لٹریچرفیسٹیول میں پاکستان ،بھارت،امریکا،جاپان،برطانیہ سمیت دنیاکے کئی ممالک سے رائٹرز، ادیبوں، شعرائ، فنکاروں،لکھاریوںاور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔3 روزہ کراچی فیسٹیول کے دوران اردو،انگریزی،سندھی،بلوچی،پنجابی ودیگرزبانوں سے متعلق کتابوں کی رونمائی ہوئی۔زیر نظر فیچر میں اِس فیسٹول کی روئیداد بیان کی گئی ہے۔


فیسٹول کی بانی کی زبانی
آکسفورڈیونیورسٹی پریس کی ڈائریکٹرامینہ سید کراچی لٹریچرفیسٹیول کی بانی ہیں۔تقریب کے افتتاح کے موقع پر انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی لٹریچرفیسٹیول محض ایونٹ نہیںہے۔ یہ کتابوں، مطالعہ،اسکالرشپ اور آرٹس کو اےک جگہ پراکٹھاکرتاہے۔یہ اسکالر شپ، ثقافت اور تخلیقی صلاحیت کو انواع، تنوع، رنگوں اور فعالیت کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔3روزہ لٹریچرفیسٹیول میں مکالمہ، تبادلہ خیال،اختلافِ ادب،آرٹ اور ثقافت کے بارے مےں بہت کچھ ملے گا۔کے اےل اےف،استبداد اور عدم برداشت کی قوتوں کے خلاف بغاوت کے طور پر شروع ہوا اور پروان چڑھا۔یہ مختلف زبانوں اور اصناف مےں لکھنے والے ادیبوں کو اےک جگہ اکٹھا کرتا ہے ۔مکالمہ، مباحثے،کتابوں کا اجرا،مطالعہ،گلو کاری،کامےڈی،مزاح،بک فےئر، تھےٹر،فلم اسکریننگ،موسیقی،رقص اوراردو ، انگرےزی اور اب سندھی مےں بھی مشاعرہ اس کا حصہ ہیں۔امینہ سید کا کہنا تھا کہ اس بارہمیں تاریخ دان فرانسس رابٹسن،مصنفہ نورالہدیٰ شاہ،بھارتی سفارتکارمانی شنکرآئر،لکھاری،شاعراور موسیقارامیت چوہدری اور تھیٹرآئیکون انورمقصودکوبھی سننے کااعزارحاصل ہوگا۔ کراچی لٹریچرفیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے اٹلی کے قونصل جنرل،قونصل جنرل فرانس،قونصل جنرل جرمنی،امریکی قونصل جنرل گریس شیلٹن،پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنراجے بساریا،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر،نورالہدی شاہ،ڈاکٹرآصف فرخی ودیگرنے بھی خطاب کیا۔


کراچی فیسٹیول کے پہلا روز
فیسٹیول کے پہلے روز”جون ایلیا:ایک ہی شخص تھاجہان میں کیا“، سندھی مشاعرہ“، ”خیال:انڈین کلاسیکل موسیقی کی ایک شام اور” جامعات یادہشت گردیوں کی نرسریز“پرسیشن منعقد ہوئے۔پہلے دن کے آخرمیں شمع سعیدکی جانب سے کتھک ڈانس پر مبنی پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ کراچی لٹریچرفیسٹیول میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے بک اسٹالز اور کھانے پینے کی اشیاءکے بھی اسٹالزلگائے گئے۔لٹریچرفیسٹیول کے دورے روزمختلف کتابوں کی تقریب اجراءبھی ہوئی۔ دوسرے دن”ہوم فائر“نامی کتاب کے اجزاءپر روزکا چودھری نے کامل حسن سے بات چیت کی ۔”ہوم فائر“ کوباوقار مےن بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا ۔ اس کا بےن الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔اس کتاب کی کہانی اےک پاکستانی نژاد برطانوی خاندان کے گرد گھومتی ہے۔جو ماضی کے اےک تنازع کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے ۔ اس ناول کا تھیم آج کے معاشرتی مسائل سے مطابقت رکھتا ہے۔آنچل ملہوترا کی کتابRemnants of a Seperation: A History of the Partition through Material Memory کی رونمائی ہوئی۔اس موقع پر آنچل ملہوترا، ناز اکرام اللہ اشرف،شہناز عزیز الدین اور ریماعباسی نے اظہار خیال کیا۔ سےف محمود نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔آنچل ملہوترا نے کہا کہ”آپ پاکستان یا بھارت مےں پےدا ہوئے ہےں توخود کو تقسیم سے الگ نہیں کر سکتے۔


کراچی فیسٹیول کے دوسراروزاور گورنرسندھ کیگفتگو
لٹریچرفیسٹیول کے دوسرے روزپہلاکے اےل اےف جرمن پیس پرائزکراچی مےں جرمن قونصل جنرل نے ڈاکٹر رسول بخش رئیس کو دیا۔اعجاز حسےن کو دوسرا اور اختر بلوچ کو تیسرا پرائز دیا گیا۔دوسرے روزبھارتی ادیبہ شیلاریڈی کی کتاب” مسٹر اینڈ مسز جناح: ہندوستان کی حےران کن شادی“ کے بارے مےں مصنفہ شیلا رےڈی نے گورنر سندھ محمد زبےر،اےف اےس اعجاز الدین اور ماڈرےٹر کامران اصدر علی کے ساتھ گفتگو کی۔اس موقع پر گورنرسندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ جناحؒ کی ذاتی زندگی کو کبھی اس انداز مےں زےر بحث نہیں لایا گیا ۔ہو سکتا ہے کہ پاکستانی اسے پسند نہ کرےں۔شیلاریڈی اچھی مصنفہ ہیں ان کی کتاب تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔اِس کتاب میں نئی نسل کیلئے تاریخ کومحفوظ کیاگیاہے۔تاریخ کے طالب علموں کیلئے اس کتاب کا مطالعہ فائدہ مند ثابت ہوسکتاہے۔ کراچی لٹریچرفیسٹیول سے نوجوان نسل میں ادبی سرگرمیاں فروغ پارہی ہیں۔عوام میں کتب بینی کاشوق بڑھ رہاہے۔جواچھی بات ہے۔کتاب کی مصنفہ شیلاریڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی لٹریچرفیسٹیول ادبی ایونٹ بن چکاہے۔بھارت سمیت دنیابھرسے مصنفین،ادیب،شعرائ،فنکاروں کی شرکت اس بات کاثبوت ہے کہ ممالک کے درمیان حالات چاہے جتنے بھی کشیدہ ہوجائیں ادیبوں،مصنفین اور شعراءکیلئے سرحدوں کوبندنہیں کیاجاسکتاہے۔


صنفی مسائل پر مبنی سیشن
اس سیشن میں معروف رائٹر،کالم نویس اور صحافی بیناشاہ نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔صنفی مسائل پر مبنی سیشن ”ہیش ٹیگ می ٹو“پر گفتگو کرتے ہوئے حارث گزدرنے کہا کہ می ٹوتحریک سے خواتین کودرپیش مسائل سامنے آئے ہیں ان میں نہ صرف جنسی استحصال بلکہ معاشی استحصال کوظاہرکیاگیاہے۔دیہی علاقوں میں خواتین کم وسائل کے باوجودبھی مشکل حالات میں زندگی بسرکررہی ہیں۔تعلیم،صحت سمیت بنیادی سہولیات خواتین کومیسرنہیں ہیں۔زراعت میں دیہی علاقوں میں خواتین دن بھرکام کرتی ہیں۔کپاس کی چنائی،کاشتکاری،گائے بھینسوں کوسنبھالنااور ان سب کاموں کے بعدگھراوربچوں کی دیکھ بھال کرناان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔اس کے باوجود خواتین کے کام کوپذیرائی نہیں ملتی۔اس کے کام کوکسی بھی سطح پر مردکے برابرسراہانہیں جاتاہے۔ہمارے ملک میں جینڈرگیپ موجودہے۔80فیصدخواتین پاکستان میں کام کرتی ہیں۔عالمی سطح پر پاکستان کاہیومن رائٹس کے حوالے سے بہت براریکارڈ ہے۔لیبرفورس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں ون ففتھ خواتین کام کرتی ہیں۔اس کے باوجودانہیں مردوں کی نسبت کم پذیرائی ملتی ہے۔


خواتین کودرپیش صنفی مسائل
فرانسیسی سوشل انٹرپنیورایریلی سلیورکا کہنا تھا کہ ہم دنیامیں خواتین اور مردوں کے برابری کے حقوق کیلئے کیا کررہے ہیں۔ہمیں انتہاپسندی اور دہشت گردی سے باہرنکلناہوگا۔خواتین یہ نہیں دکھاناچاہتی کہ حقوق نسواں کیلئے شورمچارہی ہیں۔پاکستان میں خواتین غلام کے طورپرکام کرتی ہیں۔پاکستان میں100ملین خواتین کام کرتی ہیں۔زراعت،دستکاری سمیت دیگرشعبوں میں ان کی گراں قدرخدمات ہیں۔ معیشت میں ان کابڑاحصہ ہے۔ اگریہ100ملین خواتین کام کرناچھوڑدیں توپاکستانی معیشت تباہ ہوجائے گی۔مےرے خیال مےں پاکستان کے بالائی طبقات سے زیادہ نچلے متوسط طبقے مےں خواتین کے حقوق کے حق مےں آواز اٹھانے والے لوگ ہےں۔ذرا سوچئے اگر پاکستان مےں بھی اےک دن عورتےں کام بند کرےں تو کیا ہو گا۔ ملک مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ہمارے پاس بے انتہا طاقت ہے مگر ہم اس لیے اس سے واقف نہیں ہےں ۔خاندانی نظام نے ہمےں تقسیم کر رکھا ہے۔


خواجہ سراﺅں کودرپیش صنفی مسائل
خواجہ سراﺅں کودرپیش صنفی مسائل پربات چیت کرتے ہوئے کامی چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بچوں سے آج تک کبھی جینڈرایشوزپربات نہیں کی ہے۔ہرشخص کواپنی مرضی سے معاشرے میں زندگی گزارنے کاحق حاصل ہے۔پاکستان جینڈرایشوزکے معاملے میں سعودی عرب سے بھی نچلے درجے پر ہے یہاں اس حوالے سے پڑھانااور بچوں سے بات کرنابراسمجھاجاتاہے۔پاکستان میں خواجہ سراﺅں کوتعلیم،صحت اور روزگارجیسے مسائل درپیش ہیں۔خیبرپختونخوا میں خواجہ سراﺅں کے ساتھ سب سے زیادہ زیادتی اور قتل کے واقعات پیش آئے ہیں۔سندھ اور پنجاب میں بھی خواجہ سراﺅں کے ساتھ براسلوک کیاجاتاہے۔خواجہ سراﺅں کولوگ تنگ نظری اور حقارت سے دیکھتے ہیں۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تاریخی میں پہلی بارٹرانس جینڈربل پر خواجہ سراﺅں کوبھی ساتھ ملایاگیاہے۔خواجہ سراءبھی پڑھناچاہتے ہیں۔معاشرے میں اچھے شہری کی طرح باعزت طریقے سے زندگی بسرکرناچاہتے ہیں لیکن انہیں کبھی روزگار،تعلیم اور دیگرشعبہ جات میں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے وہ ناچ گانے اور مانگ کرزندگی گزارنے پر مجبورہوجاتے ہیں۔


میکنگ اینڈبریکنگ نیوز کا سیشن
اس سیشن میں فصیح زکانے میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔

ڈاکٹرہمابقائی (تجزیہ کار)
الیکٹرانک میڈیا سے متعلق سیشن ”میکنگ اینڈبریکنگ نیوز“میں سینئرصحافی غازی صلاح الدین،بی بی سی سے وابستہ صحافی سکندرکرمانی،معروف تجزیہ کارڈاکٹرہمابقائی نے گفتگو کی۔ڈاکٹر ہمابقائی کا کہنا تھا کہ میری پیدائش اور الیکٹرانک میڈیاکی پیدائش1964ءمیں ایک ساتھ ہوئی تھی۔پاکستان میں پہلے صرف پی ٹی وی تھا لیکن اب پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہے۔ ہر26ویں دن ایک نیاٹی وی چینل آرہاہے۔پاکستان ایساملک ہے جہاں 90ملکی اور 50غیرملکی چینل چل رہے ہیں۔میں جھوٹ نہیں بولناچاہتی یہاں اینکرز کو بھاری بھرکم تنخواہیں ملتی ہیںلیکن رپورٹرز،کیمرامینوں اور دیگرملازمین کو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہیں ملتی۔پہلے پی ٹی وی کو حکومت کنٹرول کرلیتی تھی۔حکومت کیخلاف خبر کانشرہونامشکل تھا۔پرائیویٹ چینلز نے ان خبروں کونشرکیا۔گزشتہ چندسال میں نجی چینلز کی جانب سے آزادی کو داﺅپرلگادیاگیا۔اعتراض ختم ہوگئے ہیں۔ایک نجی چینل دیکھ لیں تو ایسا لگتاہے حکومت کل ختم ہوجائے گی۔جب کہ ایک نامی گرامی چینل دیکھ لیں تو ایسالگتاہے ملک میں کچھ ہواہی نہیں سب ٹھیک ہے۔اینکرزاپنے پروگرام کے ٹوٹے سوشل میڈیا پرچھڑوا تے ہیںاگلے روزہی شورمچتاہے کہ ٹوٹاوائرل ہوکرٹاپ ٹرینڈبن گیا۔بلوچستان اور خارجہ پالیسی پر ہونے والے پروگراموں کی ریٹنگ ہمیشہ زیرو آتی ہے۔پرویزمشرف کے دورمیں پی ٹی وی پر میں نے پروگرام کاآغاز کیا۔پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت آئی تو یہ پروگرام محدودکردیاگیا۔جب نوازشریف کی حکومت آئی تو ابتک پتانہیں چل رہامیں ابھی تک پی ٹی وی پر ہوں یااسے چھوڑدیاہے۔چھوٹے علاقوں کی خبروں کومین اسٹریم میڈیاپرجگہ نہیں ملتی ہے۔اگر کوئی ایشویاتحریک سوشل میڈیا پر زورپکڑ جائے تو مین اسٹریم میڈیا اس ایشواور تحریک کوکوریج دیتاہے۔ٹی وی چینلز پرلوگ اچھی بات سنناچاہتے ہیں۔ہمارے میڈیاکے پاس ملکی مفادیاملک مخالف ہونے کا اختیارنہیں ہے۔ہم آج بھی فوج،عدلیہ اور دہشت گردوں کیخلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔بی بی سی کے صحافی سکندرکرمانی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیانے میڈیاانڈسٹری کو ہلادیاہے۔فیس بک،ٹوئٹر،واٹس ایپ پراپ ڈیٹس چلتی رہتی ہیں۔صحافت میں یہ ایک نیااور جدیدٹول ہے۔سوشل میڈیاپاورفل ٹول ہے۔آزادی اظہاررائے کیلئے اس سے آسان جگہ کوئی نہیں ہے۔پاکستان میں الیکٹرانک میڈیاکی بھرمارہے۔زینب کے واقعہ کے موقع پر پاکستانی پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے زینب کے والدکوگھیرے میں لیکران سے سوالات پر سوالات کرتے رہے۔ایسے شخص سے جواپنی بیٹی کے غم میں مبتلا ہوں اسے گھیراﺅکرتے ہوئے سوالات پوچھناہرگزدرست نہیں ہے۔الیکٹرانک میڈیا نے قدروں کوکھودیاہے۔میڈیاکالیول آف ٹرسٹ کم ہوتاجارہاہے۔غیرملکی میڈیاچینلزاوراخبارات میں اگرکسی شخص یاپارٹی پرکوئی الزامات لگتے ہیں تواس شخص اور پارٹی کوموقف بھی پیش کرنے مہلت اور موقع دیاجاتاہے۔یہاں ایساکم دیکھتے کوملتاہے۔جس شخص پرالزامات ہوں اس کاموقف بھی ضرورسنناچاہیے۔بلوچستان صحافیوں کیلئے سب سے خطرناک ہے۔شدت پسندوں اور ایجنسیوں سے بلوچستان میں صحافیوں کوخطرات کاسامناہے۔صحافی اپنی جان پرکھیل کرحقائق اور سچائی کوسامنالانے کی کوشش کرناہے،حقائق اور سچائی رپورٹ کرناصحافی پرلازم ہے۔


غازی صلاح الدین (سینئرصحافی اور کالم نویس)
سینئرصحافی اور کالم نویس غازی صلاح الدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ٹی وی چینلز دیکھنے سے پرہیزکرتاہوں، ہمارے یہاں اتنے صحافی موجودنہیں جوان ٹی وی چینلز کو درست طریقے سے چلاسکیں۔پاکستان میں پڑھے لکھے افرادکی تعدادزیادہ نہیں ہے۔ٹی وی چینلزاپنے گھٹیاپن سے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ملٹی میڈیاسے میڈیاتبدیل ہوگیاہے۔رائے ہرکسی شخص کاحق ہے،لیکن کسی بھی شخص کوحقائق سے کھیلنے کاکوئی حق نہیں۔الیکٹرانک میڈیاپرسے لوگوں کااعتبارختم ہوتاجارہاہے۔ڈان لیکس پر نٹ میڈیا نے تحقیق اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ سے کام کیا۔اخبارات الیکٹرانک میڈیاکی نسبت حقائق کوبہتراندازمیں پیش کررہے ہیں۔حقائق کوچیک کرنے کی روایت اور طریقہ کارمیڈیامیں اب ختم ہوتاجارہاہے،صحافیوں کوشدت پسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل درپیش ہیں۔آج کوئی خادم حسین رضوی یاکسی طالبان کمانڈریاشدت پسند سے کس طرح بات کرسکتاہے۔اس کیخلاف کون خبرنشرکرسکتاہے۔میڈیاکی جنگ معاشرے کوبدلنے کی جنگ ہے۔اخبارلوگوں کے مسائل کو ذمہ جاری کے ساتھ اعلی ایوانوں تک پہچارہے ہیں۔ہمیں ملکر سوچناہوگا میڈیاکوکس طرح طاقتوربناکرملکی خدمت کی جاسکتی ہے۔


لٹریچرفیسٹیول میں دورے روزسےشن "Why is Shakespear Shakespear"مےں ضیا محی الدین نے اپنے مخصوص انداز مےں ان کے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔کھےلوں پر سےشن"Howzat! The Madness that is Cricket" مےں رچرڈ ہےلر، شہریار اےم خان اور ماڈرےٹر صہےب علوی نے کھےلوں کے اہم مسائل پر بات چیت کی۔شہر یار اےم خان نے کہا کہ آپ کو صرف بڑے شہروں ہی مےں نہیں بلکہ پورے ملک مےں کوچنگ اکےڈیمیز کی ضرورت ہے تاکہ ٹےلنٹ پنپ سکے۔معاشیات اور پاکستان کے لیے گورننس کی ترجیحات کے بارے مےں تین کتابوں کا اجرا ہوا۔حفیظ اے پاشا،ثاقب شیرانی اور وقار احمد نے ماڈرےٹر عبدالقادر کے ساتھ ان کتابوں کی تفصیل پر بات چیت کی۔حفیظ اے پاشا نے کہا کہ” پاکستان90 کی دہائی سے اپنی افزائش کھو چکا ہے،اتنی ہی پرےشان کن یہ بات ہے کہ ہمارے ہاں ناہمواری تےزی سے بڑھ رہی ہے،اس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے15 سالوں کے دوران امیر اور غریب کے درمیان فرق 12-1 تک بڑھ چکا ہے۔


”کیاآرٹ اور کلچرشہرکوبچاسکتاہے“ سیشن
”کیاآرٹ اور کلچرشہرکوبچاسکتاہے“پرمبنی سےشن مےں دریہ قاضی،ثانیہ سعید،فراز حمیدی اور یاور جیلانی نے ماڈرےٹر نائیلہ محمود کے ساتھ بات چیت کی۔ کتاب"Governing the Ungovernable" کے ا جراءمےں مصنف عشرت حسےن نے مانی شنکر آئر،وائی وےنو گوپال رےڈی اور ماڈرےٹر سیما کامل کے ساتھ بات چیت کی۔وےنو گوپال نے کہا کہ کوئی لیڈر اےک مخصوص وقت پر ہی فرق لا سکتا ہے۔


عشرت حسےن نے کہا کہ مےں نے پاکستان کے زوال کے بارے مےںوضاحتوں کو دےکھا ہے۔پاکستان جوہری طاقت کے ساتھ اےک کمزور ملک ہے ،انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ بھارت اور امریکا کے ساتھ تعلقات مےں تناﺅ ہے۔دوسرے روزکے اختتام پر ارےب اظہر نے کنسرٹ میں بہترپرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔بعدازاںمشاعرے میں افتخار عارف،انعام ندیم،افضل احمد سید،اجمل سراج،انور شعور،عقیل عباس جعفری،فاطمہ حسن،حارث خلیق، عرفان ستار ،خواجہ رضی حےدر، کشور ناہید،ناصرہ زبےری،پیرزادہ سلمان ،سلمان ثروت،ثروت زہرہ،شاہدہ حسن، تنویر انجم، اسامہ امیر شےخ،وحید نور اور ذکیہ غزل نے اپنے کلام پیش کئے۔


تیسرا اور آخری روز
سیشن ”ان سائٹ فرام بلوچستان“
اس سیشن کی میزبانی معروف رائٹرخالدہ غوث نے کی۔
آئی اے رحمن( صحافی)
لٹریچرفیسٹیول کے آخری روزڈاکٹرقیصربنگالی کی کتاب”ان سائٹ فرام بلوچستان“پربات چیت کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(ایچ آرسی پی)کے جنرل سیکریٹری اور معروف صحافی آئی اے رحمن نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلوچ سادہ لوگ ہیں۔چار دہائیوں سے ناانصافی کیخلاف آوازبلندکرنے کی کوشش کررہے ہیں،بلوچستان کے ساتھ ہر معاملے میں زیادتی ہوئی ہے۔2008ءمیں ملک میں جمہوری حکومت کاقیام عمل آیا۔اس وقت یہ تاثردیاگیا کہ ملٹری حکومت ختم ہوچکی ہے، بلوچستان میں بھی جمہوری حکومت قائم ہوگئی ہے۔یہ تاثربالکل غلط تھا۔بلوچستان میں ہرگزایسانہیں ہوا۔بلوچستان کے معاملے پر ہروفاقی حکومت بلوچستان کے معاملے پرکمانڈروں،فوجیوں اور ملٹری افسران سے ہی بات چیت کرتی ہے۔بلوچستان کے عام لوگوں سے ان کے مسائل نہیں پوچھے گئے۔ہمیں بلوچستان کے لوگوں پراعتمادکرنا ہوگا۔آئی اے رحمن کا کہنا تھا کہ جب ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ وزیراعلیٰ بلوچستان تھے تو میں نے ان سے مسنگ پرسن کے معاملے کیلئے آوازاٹھانے کی بات کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔میں نے دوبارہ کہاپھرکوئی جواب نہیں دیاتومیںنے انہیںدوبارہ شرمندہ کرنے کے بجائے خاموشی اختیارکرلی۔مسنگ پرسن کے قافلے کولاہورپہنچنے پر پانی پلانے والے لوگوں تشددکانشانہ بنایاگیا۔حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم کی غرض سے جانے والے بلوچستان کے اسٹوڈنٹس کوماراپیٹاگیااور جیل میں ڈال دیاگیا،یہ کہاں کاانصاف ہے۔18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی خودمختاری کی بات ہوئی،لیکن بلوچستان میں صوبائی خودمختاری کہیں نظرنہیں آئی۔18ویں ترمیم اصلاحات کی ابتداءتھی۔لیکن اقتدارایک بڑی تبدیلی نہیں تھی۔یہ بھی 18ویں ترمیم میں دیئے جانے والے اختیارات کو کم کرنے کیلئے ایک منصوبہ بندی تھی۔آئی اے رحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں آگے بڑھ کر بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ صوبائی خودمختاری کے حوالے سنجیدہ مذاکرات کرنا ہوں گے،ملک کی خیرخواہی اسے میں ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔جب پنجاب میں سیلاب سے تباہی ہوئی تو اس کے بعد وہاں سڑکوں کی تعمیرجلدمکمل کرلی گئی۔لیکن جب بلوچستان میں سیلاب سے تباہی ہوئی ۔میں نے خوداپنی آنکھوں سے دیکھا سڑکوں کی مرمت میں 11سال لگ گئے۔اگرہم بلوچوں کویہ یقین نہیں دلائیں گے کہ وہ بھی اتنے ہی اہم جتنے لاہوراور اسلام آباد کے لوگ ہیں۔اگرایسانہ کیاتوہم انہیں کبھی خوش کرسکتے۔لوگوں کے ذہنوں کوتبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے،اگربلوچ کبھی بغاوت کرتے تویہ ان کا بنیادی حق تھا۔انہیں غدارکہنے سے قبل لوگوں کوان کے بنیادی مسائل اور وجوہات کواچھی طرح سمجھناہوگا۔طارق کھوسونے گزشتہ دنوں ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹراللہ نذربلوچ ایک ذہین طالب علم تھا۔اس نے خودبغاوت کا راستہ اختیارنہیں کیا،ہم نے زبردستی اسے بغاوت کا راستہ اختیار کرنے پرمجبور کردیا۔ اگرہم ان کے ساتھ بنگالیوں کی طرح سلوک اختیار کیا تو میں یقین سے کہتا ہوں اس کے نتائج بھی ان سے مختلف نہیں ہوں گے۔خیربخش مری جیسے بزرگ کوجیل میں ڈل دیاگیا۔نواب اکبربگٹی کوسابق ڈکٹیٹرجنرل مشرف نے مروادیا۔بلوچستان کے ساتھ زیادتیوں کاسلسلہ اب ختم کرنا ہوگا۔سابق سفیراشرف جہانگیرقاضی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کوئی بھارت کاایشونہیں ہے،سقوط ڈھاکہ اورابیٹ آبادسانحہ کے بعدبھی ہم نہیں کچھ سبق نہیں سیکھا۔بلوچستان کوئی غریب صوبہ نہیں ہے۔فاٹااور قبائلی علاقوں کی نسبت بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔بلوچستان کے حالات کشیدہ ہیں۔اس سب کے ذمہ دارہم سب ہیں۔مسنگ پرسن کے معاملے پر کوئی بات کرنے کوتیارنہیں ہے۔کیاان کی تعداد40یا50ہے۔بلوچستان میں مسنگ پرسن کی تعدادہزاروں میں ہے۔مس گورننس بلوچستان کا بڑامسئلہ ہے۔بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی آئی ہے۔انہیں سسٹم سے الگ کردیاگیا۔سقوط ڈھاکہ میں ملٹری انوسٹمنٹ تھا لیکن کرپٹ گورننس اس کی اصل ذمہ دارتھی۔بلوچستان بھی اسی جانب بڑھ رہاہے۔بلوچستان کے لوگوں کو ”ہمارے ناراض بلوچوں“ کالقب دیناان کی توہین ہے۔بنگلہ دیش کی طرح بلوچستان کے وسائل بھی استعمال کئے جارہے ہیںلیکن وسیع رقبہ رکھنے والے صوبے میں آبادکاری کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔بلوچستان میں بنگلہ دیش کی طرح اگربھارتی مداخلت کودعوت دے دی گئی تو یہ حصہ بھی پاکستان سے جداہونے کے خطرات پیداہوجائیں گے۔


ڈاکٹر قیصربنگالی(ماہرمعاشیات )
معروف ماہرمعاشیات ڈاکٹر قیصربنگالی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 1.5ملین خاندان آباد ہیں۔ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام ہم ڈیزائن کیاتھا۔اس وقت بلوچستان کواپنے حصے سے5فیصد زیادہ حصہ ملتاتھا۔ورلڈبینک کافارمولہ بدلنے پر لب لس مرآبادی سے بھی کم حصہ ملتاہے۔قیصربنگالی نے اپنی کتاب سے معلومات شیئرکرتے ہوئے کہا کہ2011ءمیں ملکی مجموعی پیداوار کاتخمینہ دیگرتین صوبوں کیلئے 4.9 فیصد جبکہ بلوچستان کیلئے اسے2.8فیصدتھا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ بلوچستان کے ساتھ رویوں اورپالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔بلوچستان کو27سال بعدگیس ملی ہے۔اب بھی صرف 8سے9فیصدصوبے کو گیس مل رہی ہے۔1965ءسے 2015ءتک 7ٹریلین مالیت کے وسائل ملک کے دیگرحصوں کومنتقل ہوئے ہیں۔25سالہ ترقیاتی بجٹ کے اخراجات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹرقیصربنگالی نے بتایاکہ 1990ءسے2001ءتک ملک بھر کے ترقیاتی اخراجات کابجٹ میں بلوچستان کا حصہ3.9فیصدبناتھا جو ملکی مجموعی پیداوار کا 0.18فیصدبنتاہے۔بلوچستان میں وفاقی سول سروسزاسٹیٹ کے بارے میں قیصربنگالی کا کہنا تھا کہ صوبے میں 42ڈویژنز موجود ہیں،سپریم کورٹ ،صدرہاﺅس سمیت 11دفاترہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاقی سول سروسزمیں صدرہاﺅس میں ایک سے4گریڈمیں کوئی بھی ملازم بلوچستان سے بھرتی نہیں کیاگیا۔قومی حلقے کے سائزکے مطابق پنجاب1388 مربع کلو میٹر ہے۔خیبر پختونخوا2129،سندھ2310جبکہ بلوچستان 24799مربع کلومیٹرہے جبکہ اس کی آبادی اس کے مقابلے میں کم ہے۔ہم نے بلوچستان سے بہت زیادہ حاصل کیالیکن اسے دیابہت کم ہے۔ایک صوبہ کیسے وسائل میں اتناامیرہوسکتاہے۔جوابھی تک غربت کاسامناکررہاہے۔یہ بڑے پیمانے پروسائل کی منتقلی، نو آبادیاتی طرزسیاسی اوراقتصادی کاساگا ہے۔بلوچستان میں گیس کے ذخائرسے ملک بھر کوگیس ملی۔ لیکن بلوچستان کے عوام آج تک اس سے محروم ہیں۔آج بھی بلوچستان کے عوام لکڑیوں پر گزارہ کررہے ہیں۔18ویں ترمیم کے بعد معدنی وسائل پر صوبوں کاحق ہوتاہے۔ریکوڈیک سمیت بلوچستان کے تمام وسائل وفاق نے قبضے میں لے لئے۔بلوچستان کوریکوڈیک سمیت کسی بھی منصوبہ کے معاہدوں میں شامل نہیں کیاگیاہے۔اس تمام منصوبوں سے بلوچستان کوکوئی فائدہ نہیں ہورہاہے۔نیشنل ہائی ویزاتھارٹی( این ایچ اے) کا40فیصدپنجاب،سندھ میں 13فیصدبلوچستان میںصرف9فیصدبجٹ ہے۔گریڈ20,21اور گریڈ22میں صوبے سے کوئی بھی شخص کسی بھی وفاقی سول سروزمحکمے میں بھرتی نہیں کیاگیاہے۔ڈاکٹرقیصربنگالی نے بتایاکہ وفاقی وزارتوں اور دفاتر میں کابینہ،کامرس،ڈیفنس،مواصلات،پیٹرولیم،بجلی وپانی،سیکریٹریٹ، قومی اسمبلی،الیکشن کمیشن اور نیب سمیت کسی بھی وفاقی محکمے میں گریڈ20,21اور 22میں بلوچستان کا کوئی شخص ملازم نہیں ہے۔اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بنیادی طور پر بلوچستان کاقومی پالیسی بنانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
”پاک بھارت تعلقات “ سیشن
پاک بھارت تعلقات کے حوالے منعقدہ سیشن ”لودے نیبر“بھارتی سفارتکار مانی شنکرآئر،پاکستان کے سابق سفیراشرف جہانگیر قاضی اور معروف تجزیہ کار نے گفتگو کی۔


مانی شنکرآئر(بھارتی سفارتکار )
سیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے سابق سفارتکارمانی شنکرآئرکا کہنا تھا کہ 25سال سے ایک ہی لفظ کہتاآرہاہوں کہ پاک بھارت کشیدگی کاواحدحل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔میں پاکستان سے محبت کرتاہوں کیونکہ مجھے بھارت سے محبت ہے۔70سال پہلے انڈیادواور50سال بعدتین حصوں میں تقسیم ہوا۔یہ انڈیاکی تقسیم نہیں تھی بلکہ برصغیرمیں مسلم کمیونٹی کی اس تاریخ کی تقسیم تھی۔کیاآج ایک متحدبھارت ہے؟مسلمانوں کی آوازکیا600ملین ہندوستانیوں کی آواز ہیں؟ لیکن اب 600ملین آوازایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کررہی ہیں۔آزادبھارتی قوم اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک بھارت اور پاکستانی مسلم کے ذہنوں سے اس کا شدت پسندانہ تصورختم نہ ہوجائے۔بھارتی حکومت کی جانب سے پچھلے تین سال میں بھارتی فلم انڈسٹری کے ناموراداکارشاہ رخ خان اور سلمان خان کوپاکستان جانے کیلئے کہا گیا۔یہ کیاحماقت ہے؟یہ لوگ بھارت کی نوجوان نسل کے ہیروزہیں۔پاکستان سے زیادہ بھارت کے مفادمیںہے۔سابق صدرپرویزمشرف اور سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان تین سالہ دورمیں بات چیت کے کئی دورہوئے۔کشمیر،دہشت گردی سمیت ایشوزپربات ہوئی۔جب بھی مذاکرات کی جانب معاملہ گیاسرحدوں پرحالات کشیدہ ہوگئے۔جس سے بات چیت کادورختم ہوگیا۔


اشرف جہانگیرقاضی (سابق پاکستانی سفیر)
سابق پاکستانی سفیراشرف جہانگیرقاضی نے مانی شنکرآئرکی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اس بات پرزوردیاکہ ہمیں دماغ کے بجائے دل سے سوچناہوگا۔اشرف جہانگیرقاضی کا کہنا تھا کہ جب میں چین میں پاکستانی سفیرتھا تو چینی حکام مجھے رات کے کھانے کیلئے باہرلے کرگئے اور کشمیرکے ایشوپربات کی۔چینی حکام نے مجھے بتایاکہ چین کی طویل تاریخ ہے۔چین نے تمام مسائل کاحل تین کیٹٹیگریزسے سیکھاہے،جب ان کیٹٹیگری کو درست پایاتوخوشحالی اور اتحادپیداہوا۔اگرغلطی ہوئی تواس کے نتیجے میں بے اتفاقی پیداہوئی،ان ترجیحات سے پہلے کچھ غلطیاں ہوںگی لیکن بعدمیں حالات بہترہوجائیں گے۔


اشرف جہانگیرقاضی کا کہنا تھا کہ 2050ءتک پاکستان کی آبادی400ملین تک پہنچ جائے گی، ہم کیا کررہے ہیں؟کیاہم نے کابینہ کاکوئی سیشن ان مسائل کے حل کیلئے بلایاہے؟مسائل کوبات چیت کے ذریعے اور مذاکرات کے مسلسل عمل سے ہی حل کیاجاسکتاہے۔


اسدسعید (معاشی تجزیہ کار)
معاشی تجزیہ کاراسدسعید نے کہا کہ بھارت اور پاکستان ایک ہی کمپاﺅنڈمیں رہنے والے دواجنبی بھائی ہیں۔گھرکے کچھ لوگ آگ بھڑکانے اور کچھ بجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ہمارے DNA ایک جیسے ہیں۔پاکستان اور بھارت کوجنسی تفاوت اور غذائیت جیسے مسائل کا سامناہے۔ہمیں تجارت کوفروغ دیناہوگا۔


امینہ سید
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آکسفورڈیونیورسٹی پریس کی ڈائریکٹر امینہ سید کا کہنا تھا کہ کراچی لٹرےچر فےسٹول ختم نہیں ہوا۔کے ایل ایف مطالعے،علم اور محبت پھیلانے کی ایک تحریک ہے۔بہت سے لوگوں کی نظر مےں مستقبل تاریک اور خطرات مےں گھرا ہوا ہے۔بڑھتے ہوئے تشدد، موسمی تبدیلی، وسائل کی کمی، غربت اور افلاس کا خوف ہے۔یہ سب خطرات اپنی جگہ ہےں۔ انیسویں صدی مےں معیشت دان، تھامس مےلتھس نے بڑھتی آبادی کی وجہ سے برطانیہ مےں افلاس کی پےشگوئی کی تھی مگر نئی ٹےکنالوجیز، صنعتی ترقی اور سمند رپار نو آبادیت نے مےلتھس کے انتباہ کو غلط ثابت کردیا۔ انسان کی فطرت اےسی ہے وہ ہمےشہ حل تلاش کر لےتا ہے ۔ آزاد اور زیادہ خوش حال راہوں پر گامزن رہتا ہے۔اس لیے مستقبل سے امید وابستہ ہے ۔ کے اےل اےف مےں جو تخلیقی توانائی نظر آئی ہے وہ اس امید کو اجاگر کرتی ہے۔ہمیں اچھے مستقبل کی امیدرکھنی چاہیے۔نئی نسل کوعلم،ادب اور مطالعے کی جانب راغب کرنے کیلئے لٹریچرفیسٹیولز کازیادہ سے زیادہ انعقادکیاجائے تاکہ نوجوان نسل کی ادبی صلاحیتوں اور علم میں اضافہ ہوسکے۔ کراچی لٹریچرفیسٹیول کاانعقادمستقبل میں بھی جاری وساری رہے گا۔اختتامی تقریب کے موقع پر شیڈول تقاریرانسانی حقوق کی علمبرداراورمعروف قانون دان عاصمہ جہانگیراورمعروف ٹی وی فنکارقاضی واجدکے انتقال کے باعث ختم کردی گئیں۔تقریب میں عاصمہ جہانگیراور قاضی واجدکے انتقال پرایک منٹ کی خاموشی بھی اختیارکی گئی۔


ای پیپر