کے ٹو۔۔قاتل پہاڑ
05 مارچ 2018 (19:05)

رحمان محمود خان
روزمرہ کی زبان میں ہم کسی مشکل کام کو کرنے کی صورت میں اکثر ایک دوسرے کو کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا آپ نے کوئی چوٹی سر کی ہے؟ یہ لفظ کیوں کہا جاتا ہے۔دراصل ہمارے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ ہر مشکل کام کوئی چوٹی سَر کرنے کے برابر ہے۔اِسی لیے کہتے ہیں کہ فلاں کام کر کے آپ نے کوئی چوٹی سر کی ہے؟محاورتاً چوٹی سَر کرنا اور حقیقت میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنا علیحدہ علیحدہ بات ہے۔جنوری2018ءمیں پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع” قاتل پہاڑکے نام سے معروف نانگا پربت پر پھنس جانے والی فرانسیسی خاتون کوہ پیما کو ایک ڈرامائی امدادی کارروائی کے نتیجے میں زندہ بچا یا گیا۔پھر گزشتہ ماہ پاکستان میں واقع دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑکے ٹو “ کو سَر کرنے کی کوشش کرنے والے پولینڈ کے کوہ پیما رافیل فرونیا کو زخمی ہو جانے کے بعد سکردو کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا ۔اسی طرح حال ہی میںڈینس اروبکو گزشتہ ہفتےاپنے ساتھیوں سے بحث و مباحثہ کرنے کے بعداپنی ٹیم سے علیحدہ ہو کردنیا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ K-2 کو اکیلے سر کرنے کے لیے نکلنے والے کوہ پیماجب اپنے مشن پر نکلے تو انھوں نے راستے ہی میں مہم جوئی ختم کر کے واپس آنے کا فیصلہ کیا ۔اس جیسے اکثر واقعات زبان زدوعام ہیں۔ذیل میں ہم نے اِن جیسے چند واقعات پر خصوصی رپورٹ مرتب کی ہے،اس کے علاوہ دنیا کے چند ایسے ہی “ قاتل پہاڑوں “ کا ذکر آپ ہمارے آج کے فیچرمیں پڑھیں گے۔

کے ٹو کو سر کرنے والے
K-2کو دو اطالوی کوہ پیمائوں نے 31 جولائی 1954ءکو سب سے پہلے سر کیا تھا۔ کے ٹو کو ماو¿نٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماو¿نٹ ایورسٹ پر 2,238افراد جاچکے ہیں۔ 2014ءمیں K-2 کو پہلی بار سر کرنے کے 60سال مکمل ہونے کے موقع پر پہلی بار جولائی 2014ءمیں پاکستانی کوہ پیماو¿ں کی ایک ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔اگرچہ اس سے قبل پاکستانی کوہ پیما انفرادی طور پر کے ٹو کی چوٹی سر کر چکے تھے لیکن پہلی مرتبہ بطور ٹیم وہ ایک ہی وقت میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر پہنچے۔


سب سے مشہور پاکستانی
کے ٹو کو سر کرنے والے پاکستانیوں میں سب سے زیادہ مشہور ”حسن سد پارہ(مرحوم)“تھے۔آکسیجن ٹینک کے استعمال کے بغیر دنیا کی بلندترین چوٹی ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کر کے دنیا کے بلند ترین مقام پر سبز ہلالی پرچم لہرا نے والے حسن سدپارہ کا تعلق اسکردو سے تھا جنہوں نے اپنے پروفشنل کیرئیر کا آغاز 1999ءمیں قاتل پہاڑ ننگا پربت کی کامیاب مہم سے کیا۔تاریخ میں پہلی بار پاکستانی کوہ پیما ٹیم نے کے ٹو سر لیا۔2004ءمیں دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو سر کی اور اس کے بعد براوٹ پیک ، گشہ بروم ون اور ٹو سرکر کے پاکستان میں واقع 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا منفرد اعزازحاصل کیاتھا۔


کے ٹو سر کرنے والی پہلی امریکی خاتون
جولائی2017ءمیں 52 سالہ وینیسا او برائن وہ پہلی امریکی خاتون بنی،جنھوں نے پاکستان میں واقع دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ ’K-2‘ کو کامیابی سے سر کیا۔’ کے ٹو ‘ کو کوہ پیما”وحشی پہاڑکے نام سے جانتے ہیں اور آج تک صرف 18 خواتین کوہ پیما ہی اس کی چوٹی پر پہنچ سکی ہیں۔وینیساکے ٹو کے بیس کیمپ پر جولائی کے پہلے ہفتے میں پہنچی تھیں جس کے بعد انھوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا تھا۔وینیسا او برائن ماضی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ بھی سر کر چکی ہیں لیکن ان کا کہنا تھا،”جب آپ ایورسٹ سر کرتے ہیں تو آپ دنیا کی نظر میں کوہ پیما ہیں لیکن جب آپ کے ٹو سر کرتے ہیں تو آپ کوہ پیماو¿ں کی نظر میں کوہ پیما ہوتے ہیں“، کے ٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تکنیکی لحاظ سے اسے سر کرنا بہت مشکل ہے اور چوٹی پر پہنچنے اور وہاں سے نیچے آنے کی کوشش کرنے والے ہر چار کوہ پیماو¿ں میں سے ایک کی موت ہوتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اب تک کے ٹو کو 377 کوہ پیماو¿ں سے سر کیا ہے جن میں سے 18 امریکی ہیں لیکن ان امریکیوں میں سے کوئی خاتون کوہ پیما نہیں تھیں۔


کے ٹو اور دیگرقاتل پہاڑ کون کون سے؟
قاتل پہاڑ ، سننے یا بولنے میں یہ دو لفظ یقیناً عجیب سے لگتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں جہاں ایک جانب متعدد خوبصورت اور حسین پہاڑ موجود ہیں، وہیں دوسری طرف کچھ پہاڑوں کو “ قاتل پہاڑ “ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس خطاب کی بنیادی وجہ مذکورہ پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کے دوران رونما ہونے والی متعدد ہلاکتیں ہیں ۔ کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی شمار کی جاتی ہے اور دنیا کی سب سے خطرناک ترین چوٹی بھی ہے۔اس کی بلندی 8611 میٹرہے۔


کے ٹو (K-2)
K-2 یہ سلسلہ کوہِ قراقرم میں واقع ہے،8611میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ جزوی طور پر پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان اور جزوی طور پر چین کے علاقے شِنجیانگ میں واقع ہے۔1856ءمیں تھامس منٹگمری، برطانوی انجینئرز کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور بھارت کے مشہور مثلث سروے کے ایک پیمائش کنندہ، نے قراقرم پہاڑی سلسلے میں 2 بلند چوٹیوں کا مشاہدہ کیا اور ان کی عددی بنیادوں پر نقشہ بندی کی۔K-1مقامی طور پر ماشربرم کے نام سے جانی جاتی تھی لیکن K-2شاید دوردراز ہونے کی وجہ سے بہت اچھی طرح سے نہیں جانی جاتی تھی۔ اس کا مقامی نام چوگوری ہے، جس کا بلتی زبان میں مطلب ”بڑا پہاڑ “ ہے لیکن یہ نام بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوتا۔اس کی اونچی شرح اموات، زیادہ اونچائی اور مشکل علاقے کی وجہ سے کوہ پیما بعض اوقات K2 کو وحشی پہاڑ کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور اس چوٹی کی بلندی تک پہنچنے والے ہر 4 افراد میں سے ایک موت کا شکار ہوجاتا ہے، K-2 چین اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے اور لوگوں کے درمیان اس سے کئی حیرت انگیز کہانیاں اور غلطیاں منسوب ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔


مائونٹ ایورسٹ (Mount Everest)
مائونٹ ایورسٹ ہمالیہ کے Mahalangur حصے میں واقع ہے اور یہ دنیا کا سب سے بلند ترین پہاڑ ہے۔ یہ چوٹی سطح سمندر سے 8,848 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، اس پہاڑ نے کئی افراد کی جانیں لی ہیں۔ یہاں اموات کی شرح دنیا کی غیر محفوظ ترین صنعتوں جیسے کہ ماہی گیری یا کان کنی میں واقع ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہیں۔ زیادہ اموات کی بڑی وجہ ہر سال اس پہاڑ کو سَر کرنے کی کوشش کرنے والوں کی زیادہ تعداد ہے۔


تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ماو¿نٹ ایورسٹ پر بقیہ جنوبی ایشیا کے مقابلے میں درجہ حرارت میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔نیپالی شرپا داوا سٹیفن کے مطابق اب کوہ پیماو¿ں کو ماو¿نٹ ایورسٹ پر چڑھتے ہوئے چٹانوں اور برف پگھلنے کی وجہ سے گرنے والے پتھروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کوہ پیما8000 میٹر کے قریب پہنچتے ہیں تو چڑھائی انتہائی خراب ہو جاتی ہے بلکہ یہ صرف خراب نہیں بلکہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ایک کوہ پیماداوا سٹیفن کا کہنا ہے کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کریمپونز اور برفانی کلہاڑے اب ان مہمات کے لیے صحیح سامان نہیں رہے۔ جہاں برف ختم ہوتی ہے وہاں اب صرف چٹانیں ہیں اور آہنی آلات ان چٹانوں میں نہیں گھس سکتے اور نتیجہ آپ کے پھسلنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ماو¿نٹ ایورسٹ کی اونچائی 29,035فٹ یا 8850میٹر ہے اور یہ دنیا کا بلند ترین مقام ہے اور اس وقت ماو¿نٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم70 ہزار ڈالر خرچ آتا ہے۔


ڈینالی(Denali)
ڈینالی کو Mount McKinley کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ شمالی امریکہ کا بلند ترین پہاڑ ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنا جتنا آسان دکھائی دیتا ہے درحقیقت ایسا ہے نہیں۔ ہر سال ایسے متعدد افراد جو اس پہاڑ کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں اس کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اب تک 100 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔


میٹر ہارن (The Matterhorn)
دیکھنے میں تو یہ ایک شاندار اور پرکشش پہاڑ ہے لیکن یہ ایک انتہائی خطرناک پہاڑ بھی ہے۔ یہ پہاڑ اب تک 500 سے زائد افراد کی جانیں لے چکا ہے۔ یہ تعداد اس کو سب سے پہلے سَر کرنے کی کوشش کرنے والے شخص سے لے کر آج تک کی ہے۔


نانگا پربت (Nanga Parbat)
نانگا پربت 8,126 میٹر کا حامل بلند ترین پہاڑ ہے اور دنیا کا 9واں بلند ترین پہاڑ بھی ہے۔ یہ ایک مشکل ترین پہاڑ ہونے کی کا اعزاز بھی رکھتا ہے اور اس کی چوٹی تک موسمِ سرما کے دوران نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس پہاڑ کو ” انسانوں کو کھانے والا “ یا پھر” قاتل پہاڑ “ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر چڑھنے والوں کو سب سے زیادہ مشکلات اس کی عمودی شکل یا پھر کبھی بھی تبدیل ہوجانے والے موسم کی وجہ سے درپیش آتی ہیں۔ 1953ءسے لے کر اب تک یہ پہاڑ 31 افراد کی جانیں لے چکا ہے۔


مونٹ (Mont Blanc)
یہ پہاڑ اٹلی اور فرانس کی سرحد پر واقع ہے۔ ہر سال ایسے متعدد افراد اس پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں اس ایڈونچر کے حوالے سے کوئی تربیت حاصل نہیں ہوتی اور یہی ایک بڑی وجہ ہے اس پہاڑ پر اب تک 8000 سے زائد افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ اگر آپ تربیت یافتہ اور پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچنے کے حوالے سے تکنیکی طور پر ماہر ہیں تو پھر یہ پہاڑ آپ کے لیے خطرناک نہیں۔


مائونٹ فٹز رائے (Mount Fitz Roy)
چلی اور ارجنٹینا کی سرحد پر واقع یہ پہاڑ دنیا کے خطرناک اور مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کے موسم کا اندازہ لگانا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ آج جبکہ ماو¿نٹ ایورسٹ کی چوٹی تک روزانہ 100 افراد پہنچ سکتے ہیں لیکن اس پہاڑ کی چوٹی تک سال میں صرف ایک بار ہی چڑھا جا سکتا ہے۔


سیروٹورے (Cerro Torre)
ارجنٹائن میں واقع یہ پہاڑ بھی چوٹی سَر کرنے والوں کے لیے ایک انتہائی مشکل پہاڑ ہے۔ یہاں چلنے والی تیز اور طوفانی ہوائیں کسی لمحے نہیں رکتیں۔ اس پہاڑ کو سب سے پہلے 1974ءمیں سَر کیا گیا تھا۔

ریسکیو کیسے کیا جاتا ہے؟
حادثے کی صورت میں نظام کیسے کام کرتا ہے؟
چند ممالک میں جہاں کوہ پیمائی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ حاصل ہے ریسکیو کے زرائع صرف کوہ پیمائی کے لیے وقف ہوتے ہیں اور اس کی رقم بھی ٹورآ پریٹر کے ذریعے پہلے ہی یا تو وصول کر لی جاتی ہے یا پھر انشورنس کمپنی سے اس کی منظوری لے لی جاتی ہے۔مہم کے دوران کسی بھی حادثے کی صورت میں بچاو¿ کے ہر کام کے لیے رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ طریقہ کار دنیا بھر میں رائج ہے۔پاکستان میں کوہ پیما کسی بھی حادثے میں صورت میں یا تو اپنے ساتھیوں کو اطلاع کرتا ہے جو بیس کیمپ میں ہوتے ہیں یا پھر اپنے ٹور آپریٹر کو۔ یہ اطلاع کبھی سیٹیلائٹ فون اور کبھی لکھے ہوئے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے اور کبھی نیچے اترنے والے کوہ پیمائوں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ٹور آپریٹر کبھی خود اور کبھی پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے ذریعے عسکری ایوی ایشن کو اطلاع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ہیلی کاپٹر کو ریسکیو کے لیے روانہ کرے۔ عسکری ایوی ایشن بظاہر ایک نجی ادارہ ہے لیکن یہ ہیلی کاپٹر فوج کا ہی استعمال کرتا ہے۔کوہ پیما مہم پر روانہ ہونے سے قبل عسکری ایوی ایشن کو 15 ہزار ڈالر اسی لیے ادا کرتا ہے کہ وہ حادثے کی صورت میں فوراً کام شروع کردے۔ بصورت دیگر اس کے ملک کا سفارتخانہ عسکری ایوی ایشن کو ریسکیو کے عمل میں تمام اخراجات ادا کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔اس ادارے کے ہیلی کاپٹرز جان بچانے والوں کو لے کر کوہ پیمائوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ عام طور کسی کوہ پیما کو کسی مقام سے اٹھا کر بیس کیمپ یا سکردو لانے میں 17 ہزار ڈالرز تک خرچہ ہوتا ہے۔


جان بچانے والے یا ریسکیوئرز کون ہوتے ہیں؟


کسی کوہ پیما کی جان بچانے کے لیے جانے والے یا تو پیشہ ور کوہ پیما ہوتے ہیں یا پھر ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز۔ یہ افراد بھی ریسکیو کے عمل میں شامل ہونے کے لیے معاوضہ لیتے ہیں کیونکہ اس میں ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔سردیوں میں ریسکیو کے لیے لوگوں کا ملنا مشکل ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کام کے لیے لوگوں کو ان کے گاو¿ں سے اٹھا کر ایک دن بیس کیمپ میں رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ موسم اور اونچائی کے عادی ہو جائیں اور پھر وہ بچاو¿ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔
ایسا پہاڑ جسے کسی نے سَر نہیں کیا۔۔کیوں؟


تبت میں واقع مائونٹ کیلاش نامی ایک پہاڑ ہے ،جس کی اونچائی قریباً 6,638 میٹر ہے۔ یہ دنیا کے اونچے ترین پہاڑوں میں سے قطعی نہیں ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک اسے کسی بھی کوہ پیما نے سر نہیں کیا۔ اس کی وجہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ دراصل اس پہاڑ کی ہندو اور بدھ مذہب میں بہت اہمیت ہے۔ ہندوو¿ں کا ماننا ہے کہ ”لارڈشیوا‘ ‘اس کی چوٹی پر بیٹھے عبادت کررہے ہیں۔ دوسری جانب بدھ مت میں مانا جاتا ہے کہ یہ پہاڑخوشی کے بدھا کا گھر ہے۔ اس لئے ہر سال بڑی تعداد میں لوگ اس پہاڑ تک کا سفر کرتے ہیں اور اکثر ننگے پاو¿ں اس کا چکر بھی لگاتے ہیں۔ یہ روایت ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اس کا ایک چکر قریباً 52 کلومیٹر پر طویل ہے۔ماضی میں اسے چند ایک کوہ پیماو¿ں نے سر کرنے کی کوشش کی لیکن چڑھائی شدید اور پھسلن زیادہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے۔ 2001ءمیں چینی حکومت نے سپین کی ایک ٹیم کو اسے سر کرنے کی اجازت دی لیکن ہندو اور بدھ مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے احتجاج کے باعث یہ ارادہ تبدیل کردیا گیا۔ اسی طرح ماہر کوہ پیما رین ہولڈ میسز جو کہ اضافی آکسیجن کے بغیر مائونٹ ایورسٹ سر کرنے والے پہلے آدمی سمجھے جاتے ہیں، کو 1980ءکی دہائی میں چینی حکومت نے ماو¿نٹ کیلاش کو سر کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑ فتح کرنا اتنا مشکل نہیں اور نہ ہی یہ بہت اونچا ہے لیکن لوگوں کیلئے اس کی اہمیت بہت ہے، بہتر ہے کہ اس سے کوئی زیادہ مشکل پہاڑ سر کیا جائے۔ دوسری جانب عقیدت مندوں کا دعویٰ ہے کہ گناہوں سے مکمل طور پر پاک انسان ہی اسے سر کرسکتا ہے۔ ایسے میں اسے برف سے بھرے اس کٹھن راستے پر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ پرندے کا روپ دھارے گا اور اُڑ کر چوٹی پر پہنچ جائے گا۔

 کےٹو کی تاریخ اور مہمات
کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ سلسلہ کوہ قراقرم، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹریعنی28251 فٹ ہے۔ اسے پہلی بار 31 جولائی 1954ءکو دو اطالوی کوہ پیماو¿ں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔اسے ماو¿نٹ گڈون آسٹن اور شاہگوری بھی کہتے ہیں۔1856ءمیں اس پہاڑ کا پہلی بار گڈون آسٹن نے سروے کیا۔ تھامس ماو¿نٹ گمری بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے اس کا نام K-2 رکھا کیونکہ سلسلہ کوہ قراقرم میں یہ چوٹی دوسرے نمبر پر تھی۔گوڈون آسٹن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔


کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم 1902ءمیں ہوئی جو ناکامی پر ختم ہوئی۔ اِس کے بعد 1909ئ، 1934ئ، 1938ئ، 1939ءاور 1953ءوالی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ 31 جولائی 1954ءکی اطالوی مہم بالآخر کامیاب ہوئی۔ لیساڈلی اور کمپانونی کے ٹو پر چڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ 23 سال بعد اگست 1977ءمیں ایک جاپانی کوہ پیما اچیرو یوشیزاوا اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے ساتھ اشرف امان پہلا پاکستانی تھا جو اس پہ چڑھا۔ 1978ءمیں ایک امریکی ٹیم اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوئی۔ کے ٹو کو ماو¿نٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماو¿نٹ ایورسٹ پر 2238۔


ای پیپر