آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں 32کنال اراضی کا گھپلا ،احد چیمہ کی تفصیلات عدالت میں پیش
05 مارچ 2018 (16:53) 2018-03-05

لاہور: نیب نے آشیانہ ہاو¿سنگ اسکیم کے نامزد ملزم احد چیمہ کی بہن اور کزن کے نام 32 کنال اراضی بطور رشوت کا انکشاف کیا ہے۔ احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ہائوسنگ اسکیم کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ کرپشن میں ملوث سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی بنائی جس کا کام غریب خاندانوں کو گھر بنا کر دینا ہے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے ٹھیکہ دینے کے لئے 32 کنال زمین اپنے خاندان کے افراد کے نام کرائی۔


عدالت نے استفسار کیا کہ ٹھیکہ دیتے ہوئے بے ضابطگیاں نہیں دیکھی گئیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ٹھیکہ ڈی جی ایل ڈی اے نے پاس کیا اور پی ایل ڈی سی میں ہر شخص کو ٹھیکہ دینے کے لیے مجبور کیا گیا، اس دوران 17 چیف ایگزیکٹوز کو تبدیل کیا گیا۔

اراضی کی مالیت 3 کروڑ 9 لاکھ کے قریب ہے لیکن کروڑوں روپے کی اراضی خریدنے کے لئے 25 لاکھ روپے کی رقم احد چیمہ کے اپنے اکائونٹ اور بقایا رقم کی ادائیگی پیرا گون اکائونٹ سے کی گئی اور یہ ساری زمین احد چیمہ کو اس لیے دی گئی کہ ٹھیکہ لیا جا سکے۔ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ احد چیمہ نے 19 کنال 7 مرلہ اور زمین لی ہے، اب تفتیش کی جارہی ہے کہ کہیں آشیانہ کی فائلیں بھی پیرا گون نے فروخت نہ کی ہوں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آشیانہ اقبال سوسائٹی میں کتنے فیصد کام ہوا ہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ابھی تک ساری کی ساری زمین خالی پڑی ہوئی ہے، کام نہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، کمپنیاں زمین فروخت کرنا چاہتی تھیں، معاہدے کے مطابق 20 فیصد کام کرنا تھا، لیکن کمپنیوں کی جانب سے 60 فیصد زمین مانگی گئی تھی جو بدینتی پر مبنی تھا، یہ وائٹ کالر کرائم ہے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ دیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد احد چیمہ اور شاہد شفیق کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پردیتے ہوئے دونوں ملزمان کو 20 مارچ کو نیب عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔


ای پیپر