Ch Farrukh Shahzad, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 جون 2021 (11:26) 2021-06-05

20 سال کے عرصے میں 2ٹریلین سے زیادہ اخراجات کے بعد بالآخر امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے مگر اختتام پر صورت حال اتنی ہی تشویشناک ہے جتنی روسی انخلا کے وقت تھی جیسے جیسے 11 ستمبر یعنی 9/11 قریب آ رہا ہے افغانستان میں مزید خونریزی کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 2021ء کے پہلے سہ ماہی میں طالبان کی فوجی کارروائیوں ، حملوں قتل و غارت میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب امریکا کا آخری فوجی افغانستان سے کوچ کرے گا تو اس کے بعد کی صورت حال کیا ہو گی۔ افغان سکیورٹی فورسز جنہیں نیٹو اور امریکی افواج کی فضائی امداد بھی حاصل ہے مگر اس کے باوجود ہر معرکے میں طالبان کا پلہ بھاری رہتا ہے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نیٹو اور امریکا کے بعد کیا نقشہ سامنے آئے گا۔ 

طالبان کی دیدہ دلیریاں حد سے بڑھتی جا رہی ہیں اور گروپوں کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ امریکہ سے مذاکرات ختم کیے جائیں اور طاقت کے زور پر ملک پر قبضہ کر کے وہاں اپنا اقتدار قائم کیا جائے۔ طالبان کی دوسری نسل پہلے سے زیادہ آرگنائزڈ ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ موجودہ طالبان سربراہ مولوی ہیبت اللہ کا نام کسی اخبار یا چینل پر نشر نہیں ہوتا نہ وہ خود کوئی بیان جاری کرتے ہیں، نہ میڈیا کے سامنے آتے ہیں۔ ان سے پہلے ملا عبدالغنی برادر تھے وہ بھی اسی پالیسی پر تھے۔ اس وقت طالبان کے 2 ڈپٹی کمانڈر محمد یعقوب عمری (یہ ملا عمر کے بیٹے ہیں) اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اپنی قیادت کے برخلاف یہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات ختم کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کی جائے۔ اس سلسلے میں طالبان پالیسی خاصی محتاط ہے وہ مذاکرات بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ لڑائی کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہری علاقوں سے باہر 50 سے 70 فیصدعلاقہ ان کے قبضے میں ہے۔ اب انہوں نے کابل اور دیگر بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کے باہر اپنی فورسز اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں کہ جیسے ہی امریکی انخلا مکمل ہو وہ اپنا مشن مکمل کریں۔ ان کی کارروائیوں میں 60 فیصد اضافے کا مقصد پراپیگنڈا جنگ میں اپنے حریفوں پر برتری حاصل کرنا ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ طالبان امریکی انخلا کے آخری مرحلے پر امریکیوں پر بھی حملے شروع کر دیں تا کہ فتح کا عملی اعلان ثابت کیا جا سکے۔ 

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنا تعلق منقطع نہیں کیا اور دونوں کے درمیان اب بھی رابطے موجود ہیں اور ایک بڑی تعداد میں القاعدہ کے مطلوب افراد اب بھی افغانستان میں خفیہ طور پر موجود ہیں 

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے لوگ آپس میں شادیوں کی وجہ سے اٹوٹ رشتوں میں بندھے جا چکے ہیں۔ سوال صرف یہ باقی ہے کہ کیا القاعدہ نے اپنے اوورسیز آپریشن (افغانستان سے باہر) جاری رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ان سب پہلوؤں پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان اور امریکی معاہدہ کچے دھاگوں سے زیادہ کمزور ہے جو آنے والے وقت میں کسی بڑے واقعہ کی بنیاد پر ٹوٹ سکتا ہے کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے سے خوف زدہ بھی ہیں ۔ ایک دوسرے پر اعتبار بھی نہیں کرتے اور ہنگامی حالت کی خفیہ تیاری پر بھی فوکس کیے ہوئے ہیں۔ صلح اور جنگ میں ایک بہت ہی باریک لائن کا فاصلہ ہے۔ 

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان میں جنگجو یا فائٹر کی تعداد 57000 ہے جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کی مجموعی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہے مگر رپورٹ سے قطع نظر گزشتہ معرکوں پر غور کیا جائے تو ان دونوں کے درمیان جب بھی تصادم ہوتا ہے افغان سکیورٹی فورسز کے افراد یا تو میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں یا ہتھیار ڈال کر طالبان میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ حالیہ رپورٹ میں اتنا کہا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی کے لوگ طالبان میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ 

اس پورٹ میں اہم ترین انکشاف طالبان کی مالی امور سے متعلق ہے کہ وہ کس طرح گزشتہ 20 سال میں اپنے جنگی اخراجات پورے کرر ہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں معدنیات کے ٹھیکوں سے طالبان کو 400 ملین ڈالر کی سالانہ آمدن ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سڑکوں پر ٹول ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں اور روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی انہیں وصولی ہوتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ طالبان اپنے علاقوں میں افیون کی کاشت سے کافی پیسہ کما رہے ہیں۔ علاوہ ازیں شہری علاقوں میں سکیورٹی کے نام پر بھی وہ وصولیاں کرتے ہیں ۔ یہ سب ایک حیرت انگیز پارٹی کے سیاسی سفر کی کہانی ہے جس کا آغاز 1994ء میں ہوا تھا۔ برطانیہ نے 2014ء میں اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لی تھیں۔ حالیہ پیش رفت کے دوران برطانیہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے قیام کے دوران جن افغانوں کو طالبان کے خلاف بطور مخبر یا ایجنٹ استعمال کیا تھا، طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد برطانیہ کے ان دوستوں کی جان کو خطرہ ہے۔ برطانیہ نے ایسے تمام افغانوں کو ویزا دینے کا اعلان کیا ہے جن کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل بھی 500 لوگ اس بنا پر برطانیہ میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ 

افغانستان سے انخلا کا اصل فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تھا۔ انہیں یہ زعم تھا کہ امریکی عوام ان کے اس اقدام کی وجہ سے انہیں ووٹ دیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ تاریخ میں وہ واحد صدر تھا جس نے اعلانیہ کہا کہ ہمیں دنیا بھرمیں جنگ کرنے کی بجائے اپنے ملک پر توجہ دینی چاہیے۔ البتہ اس کے دور میںایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ایک آپریشن کے ذریعے قتل کرایا گیا مگر اس بارے میں پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ آپریشن کرکے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ چھڑنے سے روک لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہوم ورک کیے بغیر افغانستان سے انخلا کا اعلان کر دیا تھا جس نے ان کے جانشین جوبائیڈن کے لیے کافی مشکل پیدا کر دی۔ جوبائیڈن حکومت اب انخلا کے بعد کی صورت حال پر کنٹرول کے لیے جن آپشن پرغور کر رہی ہے ان میں پاکستان کا نام ایک بار پھر گونج رہا ہے۔ 

اسسٹنٹ سیکرٹری آف ڈیفنس فار انڈو پیسفک افیئرز ڈیوڈ ہیلوے کا ایک بیان امریکی میڈیا میں شائع ہوا جس سے پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ڈیوڈ نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سے مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان ہماری سپورٹ جاری رکھے گا۔ حکومت پاکستان نے اس سے انکار کیا ہے مگر اس کے باوجود طالبان نے پاکستان کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے۔


ای پیپر