افسرانہ لُوٹ سیل!
05 جون 2018 2018-06-05

گزشتہ ہفتے حکومت سے جاتے جاتے محترم خادم پنجاب نے اپنے پسندیدہ تھوک کے حساب سے سول و پولیس افسران کو خصوصی نقدانعامات سے نوازا۔ ساتھ خانہ پری کے لیے ایک سرٹیفکیٹ بھی دیا۔ جو اکثر افسران واپسی پر ساتھ لے جانا بھول گئے۔ محترم خادم پنجاب کا بس نہیں چلا ورنہ کچھ عدالتی اور فوجی افسران کو بھی خصوصی انعامات سے نوازنے کے لیے بلا لیتے۔ ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ عدالتی اور فوجی افسران ان کے بلانے پر نہیں آئیں گے ،یعنی وہ کچھ شرم وحیا کا مظاہرہ کرلیں گے لہٰذا انہیں نہ بلانا ہی ٹھیک ہے۔ ویسے الیکشن میں اصلی اور بڑا فائدہ تو عدالتی اور فوجی افسران ہی پہنچا سکتے ہیں۔ لہٰذا خادم پنجاب کو چاہیے کسی نہ کسی اندازمیں انہیں بھی نوازنے یا شہبازنے کا کوئی بندوبست ضرور فرما دیں۔ یہ جو سول اور پولیس افسران ہوتے ہیں یہ کسی کے نہیں ہوتے۔ ”لوٹا“ ہونے میں جتنی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں سیاستدان بے چارے تو اس معاملے میں ان کے ”پاسکو“ بھی نہیں ہیں، 1999ءمیں شہباز شریف کی حکومت کے ایک ڈی آئی جی ان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ ایک بار انہوں نے شہباز شریف سے کہا ” سر میں بچپن میں ہی یتیم ہوگیا تھا۔ آپ نے مجھے ”احساس یتیمی“ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دلادی ہے “۔ پھر انہوں نے خودہی شہباز شریف کا ہاتھ اُٹھا کر اپنے سرپر ”دست شفقت “ کے طورپر رکھ لیا اور رونا شروع کردیا “.... اس زمانے کے وزیراعظم نواز شریف کو کرکٹ کھیلنے کا بڑا جنون تھا۔ تب اکثر اپنے دوستوں سے وہ کہا کرتے تھے ”کاش میں عمران خان ہوتا“ ....اب اکثر وہ اپنے دوستوں سے کہتے ہیں ”کاش عمران خان نہ ہوتا“.... بہرحال وہ کرکٹ کھیلنے باغ جناح آیا کرتے تھے۔ مذکورہ بالا ڈی آئی جی ان کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے صبح سے ہی باغ جناح میں ڈیرہ جما لیا کرتے تھے۔ ایک بار وہ وزیراعظم کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے بھاگتے بھاگتے اچانک گر گئے، بڑی مشکل سے اُٹھ کر گاڑی تک پہنچے تو اس وقت تک گاڑی کا دروازہ ان کا ایک ماتحت ایس پی کھول چکا تھا۔ اس پر اس ایس پی کو انہوں نے سخت سرزنش کی کہ تم دومنٹ انتظار نہیں کرسکتے تھے؟ میرے ہوتے ہوئے تمہیں جرا¿ت کیسے ہوئی آگے بڑھ کر وزیراعظم کی گاڑی کا تم دروازہ کھولو“....سنا ہے انہوں نے اس دور کے کمشنر کو تحریری طورپر یہ تجویز دی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف چونکہ ہر ہفتے کرکٹ کھیلنے باغ جناح آتے ہیں تو اس نسبت سے باغ جناح کا نام بدل کر ”باغ نوازشریف“ رکھ دیا جائے ان کے ذہن میں یقیناً یہ خیال عظیم نہیں آیا ہوگا ورنہ ”تھانہ رائے ونڈ“ کا نام وہ ”تھانہ نوازشریف “ رکھ دیتے ،.... 1999ءکی ”بارہویں شریف“ کو وہ ڈی آئی جی لاہور تھے۔ میں ان کے آفس میں بیٹھا تھا۔ کچھ اورلوگ بھی تھے۔ اچانک ٹی وی پر خبر چلنا شروع ہوگئی ”وزیراعظم نوازشریف نے جنرل مشرف کو برطرف کرکے جنرل ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کردیا ہے “ ....خبرسنتے ہی وہ خوشی سے اچھلے اور فرمانے لگے ”مشرف ایک سازشی جرنیل تھا اسے برطرف کرکے وزیراعظم صاحب نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ تاریخ میں ان کے ملک کو ایٹمی قوت بنانے کے کارنامے سے بھی بڑے کارنامے کے طورپر یاد رکھا جائے گا“....کچھ دیر بعد خبر آگئی ”وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اقتدار فوج نے سنبھال لیا ہے“ ....خبر سنتے ہی ایک بار پھر وہ خوشی سے اچھلے اور فرمانے لگے ” نواز شریف کو اس کے تکبر کی سزا مل گئی .... اسے بھلا فوج سے پنگا لینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟“....اس قسم کی ” افسرانہ ذہنیت “ کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ تجویز دی تھی نگران حکومت میں تھوک کے حساب سے سول وپولیس افسران کے تبادلے کرکے کروڑوں روپے ضائع کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمارے اکثر افسران اپنے ضمیر کا رخ ہوا کے مطابق موڑ لیتے ہیں۔ انہیں جو حکم ”اوپر“ سے آتا ہے فوراً اس کی تعمیل کردیتے ہیں۔ انہیں صرف اپنی نوکری اور مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ .... جہاں تک خادم پنجاب کی جانب سے انہیں خصوصی انعامات سے نوازنے کا تعلق ہے تو یہ شاید اس حوالے سے ان کا حق بنتا تھا گزشتہ دس برسوں سے ”اوپر “ سے جو جائز ناجائز احکامات انہیں ملتے رہے یہ منہ آنکھیںوغیرہ بند کرکے ان کی تعمیل کرتے رہے۔ گزشتہ دس برسوں سے اوپر سے جو جھڑکیاں انہیں پڑتی رہیں ان کا معاوضہ شاید ایک لاکھ ہی بنتا تھا۔ خادم پنجاب نے اپنے ضمیر کا بوجھ یہ سوچ کر ذرا ہلکا کر لیا ہوگا کہ جھڑکیوں اور بے عزتیوں کا ایک معقول معاوضہ
”خصوصی انعامات“ کی صورت میں جاتے جاتے انہوں نے ادا کردیا ہے۔ یہ اپنی بے عزتی کی ”دیعت “ ہے جو افسران نے وصول کی۔ ....ویسے محترم خادم پنجاب نے ایک انوکھی مثال قائم کی ۔ اب وہ خود کو دوسرے صوبوں سے اس لیے بھی ممتاز قرار دے سکتے ہیں کہ ”ہم نے وقت رخصت اپنے افسروں کو ایک ایک لاکھ روپے بخشے جبکہ دوسرے صوبوں نے انہیں ایک پائی تک نہیں بخشی،....کاش ان افسران میں کوئی غیرت مند ہوتا جو کہتا ” مجھے اپنے کام کی تنخواہ ملتی رہی ہے، پھر یہ انعام کیسا ؟ یا پھر مجھے بتایا جائے میں نے کون سا ایسا غیرمعمولی کارنامہ انجام دیا ہے جس پر ایک لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم کے علاوہ ایک عدد سرٹیفکیٹ کامیں حقدار ٹھہرا ہوں؟“ ....افسران نے ایک لاکھ روپے انعام کے طورپر ہی وصول کیے ہوں گے کیونکہ رشوت کے طورپر صرف ایک لاکھ روپے کی طرف تو وہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ .... یہ بھی پتہ چلا ہے افسران کو خصوصی انعامات سے نوازنے یا شہبازنے کی تقریب میں ایک موقع پر ”نیب زادے“ احد چیمے کے لیے تالیاں بھی بجوائی گئیں۔ یہ بھی ممکن ہے افسران کو ایک ایک لاکھ روپے احد چیمے کے لیے تالیاں بجانے کے دیئے گئے ہوں، یہ بے توقیری کا کام تھا جس کے لیے محض ایک لاکھ روپے بہت کم تھے، ....کچھ افسران نے خادم پنجاب سے ملنے والے چیک اور سرٹیفکیٹ اپنی فیس بک وال پر باقاعدہ ایک ”اعزاز“ کے طورپر بھی لگائے جیسے یہ انعام اور سرٹیفکیٹ وہ قائداعظم یا عبدالستار ایدھی سے وصول کررہے ہوں۔ جوبات چھپانے والی تھی اس کی نمائش کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہمارے کچھ افسران کچھ سیاستدانوں سے بھی دوہاتھ آگے ہوتے ہیں، یہ بھی ان سول وپولیس افسران کے لیے شرمناک ہے کہ نگران حکومتوں میں صرف انہی کو تبادلوں کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ نگران حکومتوں میں فوجی وعدالتی افسروں کے تبادلے نہیں کیے جاتے جس کا مطلب یا مقصد ظاہر ہے یہی ہوتا ہے کہ فوجی اور عدالتی افسران اپنی وفاداریاں یا ضمیر وغیرہ کرپٹ سیاسی حکمرانوں کے پاس اس طرح گروی نہیں رکھتے جس طرح کچھ سول وپولیس افسران بڑی آسانی سے رکھ لیتے ہیں، .... افسوس خادم پنجاب نے صرف اپنے الیکشن و مفاد میں بے شمار افسران کو ان کی نامعلوم خدمات پر خصوصی انعامات سے نواز اور شہباز کر سرکار کے کروڑوں روپے جاتے جاتے بھی برباد کرکے رکھ دیئے۔ انعامات دینے ضروری ہی تھے تو اس کے لیے ڈپٹی کمشنر چنیوٹ رائے منظور ناصر جیسے افسران کا انتخاب کیا جاتا جن کی وفاداریاں صرف اور صرف ریاست پاکستان کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہ اپنے عمل اور کردار سے سرکار کو کروڑوں اربوں کے فائدے پہنچاتے ہیں!


ای پیپر