”مجھاں، مجھاں دیاں بھیناں ہوندیاں نے“
05 جون 2018 2018-06-05

پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ” مجھاں ، مجھاں دیاں بھیناں ہوندیاں نے“ (ایک بھنیس دوسری بھینس کی بہن ہوتی ہے) پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے بزرجمہروں نے آرٹیکل 62 اور63 کو ختم کرنے کے بجائے اسے ”بائی پاس“ کرنے کا طریقہ دریافت کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی تبدیل کئے تھے جنہیں لاہور ہائیکورٹ کی ایک معزز جج صاحبہ نے کالعدم قرار دیا لیکن گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ مورخہ 10 مئی کو اپنے کالم بعنوان ” نوشتہ دیوار“ کی انہی سطروں میں تفصیل سے عرض کیا تھا کہ چیف جسٹس مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے پرعزم ہیں، باقی پوری تفصیل تو اسی کالم میں ہے، اس لیے مجھے کوئی شبہ نہیں تھا کہ وہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان 25 جولائی کو انتخابات یقینی بنانے کے لیے کسی عذر کو آڑے نہیں آنے دیں گے لیکن مجھے امید یہ بھی ہے کہ ابھی فیصلہ معطل ہوا ہے کالعدم نہیں ہوا اور عدالت ، عوامی نمائندوں سے متعلق ضروری تفصیلات طلب کرنے کے لیے اضافی فارم جمع کرانے پرضرور غور کرے گی کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ گاڑی یا مکان کی خریداری کے لیے ٹیکس فائلر ہونے یا نہ ہونے کا بتانا ضروری قرار پائے لیکن ایم پی اے اور ایم این اے بننے کے لیے کچھ بتانا ضروری نہ ہو، جمہوریت اور اداروں کے فعال کردار کے لیے جواب دہی کے بنیادی تصور کو ملیا میٹ نہیں کیا جا سکتا۔ جواب دہی کا تصور اسلام سے مستعارلے کر پوری دنیا نے نافذ کر لیا اور ہم اس سے بھاگنے کے چکر میں ہیں۔
”شہاب نامہ“ میں قدرت اللہ شہاب نے صدر ایوب کو اپنے لکھے ہوئے ایک دفتری نوٹ کا حوالہ دیا ہے جس کی پہلی سطر یاد رہ گئی کہ ”پاکستان اور اسلام لازم و ملزوم ہیں اور پاکستان کو اسلام سے مفر نہیں“ (Pakistan has no escape from Islam) ۔ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت خداداد کی حاکمیت اعلیٰ اللہ کے پاس ہے اور مجھے یا آپ کو پسند ہو یا نہ ہو قرار داد مقاصد کے ذریعے ہم نے اس کو آئین میں طے کر دیا ہے۔ جس طرح آئین 60 دن کے اندر الیکشن منعقد کرانے کے حوالے سے واضح ہے ایسے ہی آئین میں آرٹیکل 62 اور63 کے تحت اہلیت اور نا اہلیت کی شرائط بیان کر دی گئی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے صادق اور امین کی اصطلاحات کے استعمال سے لوگوں کو مختلف دلائل کے تحت دور کیا جا رہا ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ دنیا کے کسی آئین میں صادق اور امین ہونا شرط نہیں اور دوسرا یہ کہ یہ القاب صرف اور صرف حضرت محمد (میرے والدین ،اہل خانہ آپ پر قربان) کے لیے زیب دیتے ہیں۔ دونوں دلائل اپنی جگہ خوب ہیں یعنی دنیا کے کسی آئین میں صادق اور امین ہونے کی شرط نہیں لگائی گئی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹے اور بددیانت افراد انہیں درکار ہیں؟ ہرگز نہیں جناب! پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر جو لطیفہ وائرل تھا کہ رمضان میں سچ بولنا، پورا تولنا، بے ایمانی نہ کرنا روزے کے لوازمات میں ہیں تو جاپانی لڑکی نے کہا کہ آپ کی تو موجیں ہیں، ہمیں تو سارا سال ہی ایسے گزارنا پڑتا ہے۔ عرض یہ ہے کہ جھوٹ بولنے کو برصغیر سے باہر بہت بُرا جانا جاتا ہے یہاں تو خیر یہ ایک آرٹ ہے اور بولنے والا یا تو آرٹسٹ ہوتا ہے یا سیاستدان!
دوسری دلیل جزوی طور پر درست ہے لیکن کیا آپ کے راستے پر چلنے کا حکم ہمارے لیے نہیں ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اس راستے پر چلنے کی کوشش تو فرض ہے۔ آرٹیکل 62 اور63 نکال نہیں سکے تو انتخابی نامزدگی کے فارم سے سوالات ہی نکال دیئے تاکہ جوابات میں جھوٹ سچ کاٹنٹا ہی ختم ہو جائے۔
ایک ایسے معاشرے اور ملک میں جہاں ”پودینے کے باغات“ والے نواب اور جاگیردار کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں یہ کیوں نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ آپ کی آمدن ، ذرائع آمدن اور ٹیکسوں کے گوشوارے کیا کہتے ہیں؟ ایم این اے ، ایم پی اے اور وزیر بننے کے بعد تو ہر کسی کے تیل کے کنویں دریافت ہو جاتے ہیں۔ نیا فارم جب پارلیمان نے منظور کیا تو جنہوں نے ووٹ دیئے یا آنکھیں بند کیں وہ سب برابر کے شریک ہیں، کیا مسلم لیگ ، کیا پیپلز پارٹی اور کیا تحریک انصاف، یہ سب بھینسیں آپس میں ”پارٹی بدل بہنیں“ ہیں!
فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل، ندیم افضل چن، شفقت محمود، شاہ محمود قریشی، بابر اعوان، راجہ ریاض، صمصام بخاری، فواد چوہدری، امتیاز صفدر وڑائچ ، مصطفی کھر، اشرف سوہنا، نور عالم خان، رانا آفتاب احمد خان، غلام سرور خان، جہانگیر ترین، عامر ڈوگر، عبدالعلیم خان، ظہیر الدین، طاہر صادق، ریاض فتیانہ ، سعید ورک، خورشید قصوری، اختر کانجو، لیاقت جتوئی، ممتاز بھٹو، چوہدری سرور، رمیش کمار، اعظم سواتی اور فیاض الحسن چوہان یہ سب وہ ”انجینئر“ ہیں جو عمران خان کے ”نئے پاکستان“ کی تعمیر کریں گے (جن دوستوں کے نام فہرست میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں وہ کمزور حافظہ جان کر معاف کر دیں)۔
اللہ معاف کرے 60 سے 70 لوگ ہیں جن میں اقتدار کی بو سونگھ لینے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے اوروہ ایک سے دوسری جماعت میں خود یا اپنے رشتہ داروں کو فٹ کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں کوئی ضیاءالحق تو کوئی بھٹو کا مشن آگے بڑھا رہا تھا اب عمران کے ”نئے پاکستان“ کی تعمیر کی ذمہ داری بھی انہی چند لوگوں کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ عمران خان صاحب کو بھی تبدیلی اور نئے پاکستان کی تعمیر سے ہم منع تو نہیں کر سکتے لیکن اگر یہ سب کچھ انہی لوگوں نے کرنا ہے تو پھر میرا ان کو وہی مشورہ ہے جو جنگ عظیم کے دوران جبری بھرتی کیے جانے والے میراثی کے اہل خانہ نے ملکہ وکٹوریہ کو دیا تھا!
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
ان پارٹی بدل بھینسوں۔۔۔ اوہ معاف کیجئے گا پارٹی بدل بہنوں کو سوائے پارٹی بدلنے کے کچھ بدلنا نہیں آتا اور نہ کسی کام میں مہارت ہے، قوم یا ملک کی تقدیر بدلنا تو بہت دور کی بات ہے، ہاں تھوڑی بہت لوگ اپنی تقدیر ضرور بدلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو کسی خواجے یا عباسی سے پوچھ لیجیے۔
ان سب نے تو جو کرنا تھا وہ کرلیا اب سوچنا یہ ہے کہ مجھے اور آپ کو کیا کرنا ہے، کیا یہ سب کچھ یونہی چلتا رہنے دیا جائے؟
ستر سال میں بطور قوم ہم نے سنہرے سپنوں کے نام پر بہت دھوکے دیکھے اور اتنے فریب کھائے کہ اب یہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کسی نئے خواب کو آنکھوں میں سجانے کا حوصلہ بھی نہیں رہا، باقی نئے فارم، پرانے فارم، نئے چور، پرانے چور، نئے دھوکے، پرانے دھوکے کیا فرق پڑتا ہے؟


ای پیپر