ہندو برادری سے معذرت کر لیجئے
05 جولائی 2020 2020-07-05

حیرت ہے ’ مندر تو بنے گا‘ حکومت کے پیڈ اور ان پیڈناسمجھ ٹرولز نے ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا دیااور صدمہ ہے کہ اسلام آباد میں ایک عظیم الشان بت خانے کے لئے جگہ فراہم کرنے والی نواز لیگ کی قیادت ایسے تنازعے پر مکمل خاموش ہے جو آنے والے وقت میں ملک کا داخلی اور خارجی سطح پر بڑا مسئلہ بننے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ وہ خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کے قائد نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا سنانے والے جج ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ کی انضباطی کمیٹی نے برطرف کر دیا ہے۔ نواز لیگ کی خوشیاں اور صدمے شریف فیملی کی رہائیوں اور مقدموںتک ہی رہ گئے ہیں۔ مجھے تو اس وقت واقعی حیرت ہوئی جب ایک سیاسی کارکن کی خواہش پر انہیں مہنگائی کے خلاف شہر بھر میں احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت مل گئی ورنہ کئی برسوں سے اس جماعت کے کارکنوں کا ایک ہی استعمال ہے کہ جب بھی قائدین کی پیشی ہو تو بیچارے سو دو سو کمٹڈ کارکن کورٹ کچہری کے سامنے جمع ہوجائیں اور آیا آیا شیر آیا کے نعرے لگاکر قائدین کی انا کی تسکین کرتے رہیں۔

کیا اسلام آباد میں مندر بن سکتا ہے اور کیا اسلام آباد میں مندر بننا ضروری ہے تو ان دونوں سوالوں کے جواب مذہب کے ویری فائیڈ سکالرز ہی دے سکتے ہیں اوران کے مطابق ہ تمام شہر جو مسلمانوں نے آباد کئے اور وہاں مسلمانوں کی ہی آبادی ہے وہاں کسی دوسرے مذہب کے نئے عبادت خانوں کی گنجائش نہیں ہے۔ ’نادرا‘ کے مطابق اسلام آباد میں ہندووں کی تعداد پونے دوسو کے لگ بھگ ہے اور ان کے لئے سید پور جیسے مرکزی اور خوبصورت علاقے میں مندر پہلے سے موجود ہے تو ایسے میں کیا یہ حیران کن نہیں کہ جب کورونا کے نام پر مساجد پر پابندیاں لگ رہی تھیں تو کہیں اربوں روپوں سے گوردوارے بن رہے ہیں اور کہیں طرز تعمیر میں مساجد کو شرماتے مندر۔ یہ معاملہ اس وقت اور زیادہ مشکوک ہوگیا جب نریندر مودی کی انتخابی مہم کا ایک ترانہ شئیر ہوا جس کے بول ہیں کہ نریندر مودی کے راج میں اسلام آباد میں مندر بنے گا ۔ ہمیں اس ترانے میں اسلام آباد کے ذکر کو سمجھنا ہو گا کہ یہ ذکر محض اس طرح نہیں جس طرح ہم دلی کے لال قلعے پرسبز ہلالی پرچم لہرانے کی خالی خولی بڑھکیں مارتے رہے ہیں ۔ ایک وقت میں دائیں بازو کی انتہا پسند اور معتدل جماعتوں نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر اسلامی جمہوری اتحاد قائم کیا تھا تو ہمیں اس قسم کے ترانے سننے کو ملے تھے کہ ’ تُم نے ڈھاکہ دیا ہم نے کابل لیا، اب لینا ہے کشمیر ٹوٹے ظلم کی زنجیر‘ ، مگر یہ ترانے محض ووٹ حاصل کرنے کے بہانے تھے کہ نوے کی دہائی میں ہی مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر بھارت سے دوستی کی کوششیں عروج پر پہنچ گئی تھیں ۔ موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں ہم نے کشمیر پر چناب فارمولے سمیت متبادل حل پیش کر دئیے تھے جبکہ دوسری دہائی میںبھارت نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی متنازع آئینی حیثیت ہی ختم کر دی۔ بات دوسری طرف نکل گئی، اصل مدعا یہ ہے کہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی یہ ترانہ جاری کر رہی تھی تو اس وقت یہاں کی ہندو کمیونٹی انتہائی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ سیاسی او ر قانونی جنگ جیت چکی تھی۔ مندروں کا قیام مودی حکومت کا ایک سوچا سمجھامنصوبہ ہے اور متحدہ عرب امارات میں مندر کی تعمیر بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یو اے ای کے ہندوستان سے ناگزیر تجارتی مفادات وابستہ ہوں مگر ہمارے نہیں ہیں اور اگر ہوں بھی تو ایک طرف کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو اوردوسری طرف اسلام آباد میں سرکاری خرچ پر مندر بنیں، یہ ناقابل قبول ہے، فتنہ انگیز ہے۔

میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں کہ مندر نہیں بنے گا اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میں ہندوو¿ں سے ان کے بھگوانوں کے سامنے پوجا پاٹ کا حق چھیننا چاہتا ہوں۔ میں سندھ میں عمر کوٹ سمیت دیگر علاقوں میں گیا ہوں جہاں ہندوو¿ں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ وہاں ان کے متعدد مندر موجود ہیں اور وہ بااختیار ہیں کہ جب چاہیں اپنے لئے ایک نئی عبادت گاہ بھی بنا سکتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس عبادت گاہ کا اسلام آباد میں بنانا کیوں ضروری ہے جہاںوہ آٹے میں نمک کے برابر بھی موجود نہیں۔ بتا دیں، مودی حکومت نے کتنے سرکاری پلاٹ مساجد کے لئے دئیے ہیںیا سرکاری خرچ پر مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ہندوو¿ں نے بابری مسجد کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت وہاں کی عدالتوں کے ساتھ مل کر کس طرح وہاں رام مندر تعمیر کر رہی ہے۔

اس کے باوجود آپ رواداری کے بڑے بھونپو ہیں اورمندر کی تعمیر پر مخالفت کرنے والوں پر یہ کشادہ دل نہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں تو آپ جھوٹ بولتے ہیں، بہتان لگاتے ہیں۔ پاکستانی ہندو، سکھ، مسیحی ہم پاکستانی مسلمانوں سے دوگنے آئینی اور سیاسی حقوق رکھتے ہیں۔ ہم انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کا ایک ایک نمائندہ چنتے ہیں اور وہ علاقے اور مذہب کی بنیاد پردو، دو۔ جہاں ہندوو¿ںکی اکثریت ہے وہ ان علاقوں میں اپنے وسائل سے مندر بنائیں، وہاں دن رات پوجا کریں ہمیںکوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ ہمیں تو اس پر بھی اعتراض نہیں ہے کہ وہ سید پور میں اپنے پہلے سے موجود مندر کی پاکستان یا بھارت کی مدد کے بغیر اپنے وسائل سے تعمیر و مرمت کریں، اسے جدید اور خوبصورت عمارت کا رنگ دیں، وہ کیوں نہیں کرتے۔ میں اپنی ہندو کمیونٹی پر بحیثیت مجموعی نہ غدار ہونے کا الزام لگا رہا ہوں اور نہ ہی مودی کے ایجنٹ ہونے کا مگر اس ترانے کو سنتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر سے مودی حکومت کا کوئی براہ راست تعلق ہے، یہ صرف اسلام آبادکے ہندوو¿ں کی ضرورت نہیں ہے۔

میں یہ یاد کروانا چاہتا ہوں کہ موجودہ حکمران ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے نعرے اور دعوے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے اور سلطان مدینہ سرور قلب و سینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو بت خانوں کو مٹانے والے تھے، بتوں کو توڑنے والے تھے اور اگر ایسے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت میں ہم ٹیکس گزاروں کے پیسے سے مذہبی بنیادوں پر متنازع بُت خانے کی بنیاد رکھ دی گئی تو یہ بھارت میں بابری مسجد کے تنازعے سا ایکشن ری پلے ہوسکتا ہے ۔ عمران خان اپنے ہی حالیہ ٹوئیٹ یاد کریں کہ بھارت میں ہندو اکثریت مسلمانوں پر مسلسل ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میںبھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کی ایک نئی تاریخ رقم کی جار ہی ہے۔میں بطور لاہوری یاد کرتا ہوں کہ بابری مسجد کی شہادت کے ساتھ ہی لاہور میں سخت ردعمل ہوا تھا ، لاہور کے دل انارکلی کے قریب واقع جین مندر توڑ دیا گیا تھا ۔ غصے میں پاگل لاہوریوں کو بعد میں احساس ہوا تھا کہ وہ مندر ہندو نہیں بلکہ جین مت کے ماننے والوں کاتھا۔ یہ مندر اہل ایمان کے دل میں کسی پتھر کی طرح کھٹکتا رہے گا اور کسی بھی ردعمل میں ایک نئے اور بڑے تنازعے ہی نہیں بلکہ افسوسناک تارٰیخ رقم کرنے کا سبب بن جائے گا۔

مت بھولئے کہ ہندو و¿ں کے ساتھ ہمارے اختلافات کی جڑیں نظرئیے، تاریخ ، سیاست اور جغرافیے میں بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ ہمارے لئے پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری ہندو برادری قابل احترام ہے مگر انہیںماضی اور حال کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے کچھ حدودو قیود کا بہرحال خیال رکھنا ہوگا ۔ہم بری طرح ڈسے ہوئے ہیں اور ہمیں رسی بھی سانپ لگتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر آباد کئے گئے اسلامی نظریاتی مملکت کے دارالحکومت میں کسی عظیم الشان مندر کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی جواز بلکہ اس سے آگے بڑھ کے یہ ایک فتنہ اور تنازع بن سکتا ہے لہٰذا حکمرانوں سے درخواست ہے کہ اپنے ہی نظرئیے اور ایمان سے لڑائی چھیڑنے کے بجائے ہندوو¿ں سے بہت اخلاق اور محبت کے ساتھ معذرت کر لیجئے، ہم سب ایک بڑے نقصان سے بچ جائیں گے۔


ای پیپر