یہ مار شل لا نہیں… جمہوریت ہے ؟
05 جولائی 2019 2019-07-05

پاکستان میں جیسی بھی ہے مگر یہ ہے تو جمہوریت ۔ جمہورت کو پانے کے لیے تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ جنہوں نے ایوب خان،ضیا الحق اور مشرف کے ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اب بھی اس پر خطرناک حملہ ہونے کی تیاریں ہو رہی ہیں اور آئین کو بائی پاس کرنے کے منصوبے پر کا م ہو رہا ہے ۔ ہم وہ کام کرنے کی طرف جا رہے ہیں جو ان کا ہے نہیں۔جس کا جو کام نہیں ہے وہ دیدہ دلیری سے کرتا ہے ۔ ۔ گزرے کل میں ہمارے چئیرمین نیب پھر گرجے اور برسے ہیں ۔جی ہاں پاکستان کے صادق اور امین چیئرمین نیب۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کیا ۔ جس میں سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے کافی اشارے تھے۔ جب حکمرانوں کی طرف سے تیس ،چالیس سال تک لوٹ مار کرنے والے سیاست دانوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو ان کا اشارہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف ہوتا ہے چیئر مین نیب نے پھر ان باتو ں کو دہرایا ہے ۔ ان کا فرمانا تھا کہ جو طبقہ 30،40سال سے اقتدار میں رہا ان سے پوچھیں بھی نہ۔؟ یقینا آپ کا حق ہے مگر اس بار تو حد کر دی کہ چیئرمین نیب اس بات پر بھی نالاں نظر آئے کہ بجٹ سیشن میں اپویشن نے نیب کے خلاف کٹوتی کی تحریک کیوں پیش کی۔ پالیمنٹ میں یہ سوال کیوں پوچھا گیا ۔ ۔پھر وہی متنازعہ باتیں کر کے چلے گئے ہیں جس میں سیاست جھلکتی ہے ۔ یہ ایوب دور کی کہانی ہوتی تھی جب اداروں کے چیئرمین عمر ایوب کے دادا کی کنونشن لیگ کے کارکن بنے ہوئے تھے اور اس زمانے میں ایک تجویز آئی تھی جب کنو نشن لیگ کو چلانا ہی ڈی سی اور ایس پی نے ہے تو ڈی سی کو اس کا صدر اور ایس پی کو جنرل سیکرٹری بنا دیا جائے۔جناب چیئرمین نیب کو ایک پاکستانی کی حیثیت سے مشورہ ہے آپ اپنی تحقیقات اور الزام احتساب عدالتوں میں ثابت کریں آپ کو تو میڈیا کے سامنے آکر کسی الزام کی تردید ہی نہیں کرنی چاہے۔جن سیاست دانوں کی کرپشن کا ذکر آپ کر رہے ہیں۔ان میں 22 سال تو مشرف اور ضیا الحق کے تھے۔ان میں 22 سال کا عرصہ تو پاکستان کے الیکٹڈ12 وزرا اعظم کا بنتا ہے ان میں نواز شریف کے تین ادوار بنتے ہیں۔پہلا دور 2 سال چھ ماہ20دن ۔دوسرا دور3 سال ایک ماہ آٹھ دن۔ تیسرا دور 4 سال ایک ماہ23دن اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت صرف10 ماہ رہی۔ پرویز مشرف کے دور کو کیوں ہاتھ نہیں ڈالتے ۔اگر آپ کو میگا کرپشن کی سکینڈل لسٹ چاہیے تو آپ سپریم کورٹ سے رابطہ کریں آپ کے ادارے نے یہ کیسیز بنائے تھے۔آپ نے اپنے ادارے کے بارے میں کل ہی بتایااور غریبوں کی بے بسی کی بات بھی آپ نے کی،کشکول کی بات بھی کر گئے۔ جمہورت کو بھی نشانے پر رکھتے ہیں۔ سپریم کو ٹ کا جج پریس کانفرنس نہیں کرتا۔آپ پہلے بھی پروڈکشن آرڈر پر بولے تھے ۔اس کے با رے میں میاں رضا ر بانی نے بھی بات کی ہے ۔ان کا کہنا ہے ’’پارلیمنٹ کو پروڈکشن آرڈر کا اختیار آئین دیتا ہے ‘‘

پارلیمنٹ کا اختیار ایگزیکٹو کی جانب سے نہ واپس لیا جا سکتا ہے ، نہ اس میں تبدیلی یا ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ ، پروڈکشن آرڈر کا اجراء آئین کے تحت ممبر پارلیمنٹ کا استحقاق نہیں حق ہے ۔ دوسری جانب رانا ثنا اللہ کی گرفتاری پر جو شور مچا ہے ۔اس پر پاکستان کے معتبر ادارے پر سوال اٹھے ہیں ۔ اے این ایف کے ڈی جی اور شہر یار آفریدی نے پریس کانفرنس کی ہے ۔شہر یار آ فریدی کو گرفتاری تک کچھ معلوم نہیں تھا اب وہ کہتے ہیں یہ مقامی اور بین الاقوامی ریکٹ ہے ۔ تین ہفتے ان کی گاڑی کی نگرانی ہوئی اسی دن بتا دیتے جیسا ہمیشہ ہوتا ہے ۔ مگر رانا ثنا اللہ کی بیگم نے حقایق کچھ اور بتائے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی گر فتاری اور ان کے خلاف منشیات برآمدگی نے اس کیس کو پر اسرار بنا دیا ہے سوال اٹھ رہے ہیں یہ سیاسی انتقام ہے ۔۔ ماضی میں بھی بہت سے کیسوں میں سیا ست نظر آتی رہی ہے ۔ ایسا کبھی ہوا ہے جب رانا ثنا اللہ کے بارے میں ایک ایف آئی آر کی کہانی سے کسی نے کچھ نہیں بتایا۔ نہ وڈیو،نہ کوئی اور ثبوت لوگ جمع ہوئے تو وہاں سے رانا صاحب کو لے کر چلے جانا ایک سوالیہ نشان ہے ۔ ؟

یہ سارے تماشے ہماری تاریخ کا سیاہ باب رہے ہیں۔ انتقامی سیاست کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس کے محاصرے میں ظلم کرنے والے بھی آئیں گے یہ قانون قدرت ہے ۔ پاکستان کے فوجی آمر ایوب خان نے ان تمام سیاست دانوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جنہوں نے ایوبی آمریت کوچیلنج کیا۔ حسین شہید سہروردی ایسے سیاست دان تھے۔ جنہوں نے جھوٹے مقدمات پر ایوب خان کو ایسا خط لکھا جس سے ایوب خان کے پسینے چھوٹ گئے۔جب ایوب خان نے2 196 کا آئین تخلیق کیا تو اس میں سارے اختیارات صدر ایوب کو سامنے رکھ کر دے دیے، اس زمانے میں سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی نے 1962 کے آئین کو لائل پور کا گھنٹہ گھر قرار دیا ۔اس تبصرے پر نواب امیر محمد جو اس وقت گورنر تھے چودھری محمد علی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔اس وقت کے وزیر قانون کی مداخلت پر معاملہ رفع ہوا۔پاکستان کے وفادار حسین شہید سہروردی پہلے سیاست دان تھے جنہوں نے ایوب کی آمریت کو للکارا اور موچی دروزاے میں ایک جلسہ کیا۔ اس جلسے میں حبیب جالب بھی تھے۔اس جلسے میں بدمعاشوں کوجمع کیا گیا۔اور میاں والی سے اس وقت کے گورنر امیر محمد نے اپنے خاص لوگ جمع کرکے اس جلسے کو درہم برہم کر دیا۔ سہروری نے ہمت نہ ہاری اور اگلہ جلسہ گوجرانوالہ میں تھا یہاں تو باقاعدہ سہر وردی کی جان لینے کے لیے گولیاں چلائی گئیں دلچسپ بات تو یہ تھی سہروری پر گولیاں چلانے والوں کو تحقیقات کرنے کے کام پر لگا دیا فیصل آباد میں بھی جلسہ نہ کرنے دیا۔ جمہورت کی لڑائی لڑنے والے اس شیر دل سیاست دان پر دل کا دورہ پڑا۔ ایک دن خبر آئی کہ سہروری دل کا دورہ پڑنے پر انتقال کر گئے۔ یحییٰ خان نے 3مارچ 1971 کو ڈھاکہ میں انتقال اقتدارکے لیے بلایا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا کیونکہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان انتقال اقتدار کا فارمولا اور آئین سازی کا معاملہ طے نہیں ہوسکا تھا۔مخصوص نشستیں جیتنے کے بعد عوامی لیگ قومی اسمبلی کی سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی تھی اوراس کے ایم این ایز کی تعداد 167 تھی۔ قومی اسمبلی کااجلاس ملتوی ہونیکا اعلان ہوتے ہی عوام نے نہ صرف شدید رد عمل کا اظہار کیا بلکہ بغاوت اس حد تک پھیل گئی کہ امن و امان کی صورت حال کنٹرول کرنے کے لیے 25 مارچ 1971 کو فوج نے سرچ لائٹ آپریشن شروع کردیا اور دوران آپریشن شیخ مجیب الرحمان کو ان کی رہائش گاہ دھان منڈی سے گرفتار کرکے مغربی پاکستان منتقل کر دیا ۔ ۔شیخ مجیب الرحمان کو پہلی مرتبہ 11 اگست 1971 کولائل پور(فیصل آباد) میں فوجی عدالت میں پیش کیا گیا،ان پرپاکستان کیخلاف جنگ کرنے اور ملک توڑنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ۔ اسی غدار کو جنوری 1972ء کی صبح اقوام متحدہ کا خصوصی چارٹر طیارہ شیخ مجیب الرحمان کو لے کر لندن روانہ کردیا گیا ۔


ای پیپر