فیض جاری ہے
05 جولائی 2019 2019-07-05

پرویز مشرف کا تخت ڈگمگا رہا تھا اور نئے انتخابات سر پر آچکے تھے ،ان دنوں مطالعاتی دورے پر امریکہ جانے کا موقع ملا ۔ واشنگٹن میں قیام کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہماری امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر سے ملاقات طے تھی ۔ ان دنوں جنرل اشفاق پرویز کیانی واشنگٹن کا چکرلگارہے تھے اور اپنے وطن میں افواہوں کا بازار گرم تھا ۔ ہم نے رچرڈ باؤچر سے پوچھا ۔ آپ کا پاکستان میں نیا دوست کون ہے ؟ جواب ملا ۔وہی پرویز مشرف ۔ اگلا سوال پوچھا ، پھر کیانی صاحب کی اتنی آؤبھگت کیوں ہورہی ہے ؟ رچرڈ باؤچر نے اسے معمول کا دورہ قرار دیا ۔ ہم نے بے نظیر بھٹو کی واشنگٹن میں لابنگ اور ملاقاتوں کے بارے میںاستفسار کیا کہ لگتا ہے ، ان کی کوششیں رنگ لارہی ہیں ؟اس پر جواب میں سننے کو ملا کہ پرویز مشرف سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، ہم نے انہیں مل کر کام کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس ملاقات کے بعد ہمارااگلاپڑاؤ امریکی تھنک ٹینک سٹیفن کوہن کا دفتر تھا۔ وہاں بھی رچرڈ باؤچر والے سوال دہرائے تو سرکاری حدبندیاں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کھل کر جواب ملا ۔لب لباب یہ سمجھ آیاکہ امریکہ پرویز مشرف پر بے نظیر بھٹو کو ترجیح دینے کو تیار نہیں اور یہ بات ان پر واضح بھی کردی گئی ہے ۔ البتہ افغانستان میں امریکی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فارمولہ زیرغور ہے کہ اتنے برس اقتدار میں رہنے کے بعد پرویز مشرف کی عوام میں ساکھ تیزی سے گرتی جارہی ہے ، چیف جسٹس افتخارچودھری کے انکاراور وکلا تحریک نے جونقصان پہنچا یاہے ، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی جائے ۔پرویز مشرف کو صدارت کے عہدے پر برقرار رکھا جائے اور وزیراعظم کے لیے عوام کا نمائندہ چہرہ سامنے لایا جائے۔یعنی اسٹریٹجک معاملات پر پرویز مشرف سے امریکہ کو کوئی شکایت نہیں لہذاان معاملات کو وہی دیکھیں گے جبکہ عوامی بے چینی ختم کرنے کے لیے بے نظیر بھٹو کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے ۔ امریکا کے اس مطالعاتی دورے پر جانے سے ایک دوماہ پہلے ہی دبئی سے شائع ہونے والے ایک اخبار کو بطور ایڈیٹر جوائن کیاتھا لہذا ان دو ملاقاتوں کی خبر اسی اخبار میں شائع ہوئی کہ بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف کا نمبر ٹو بننے پر رضامندی ظاہر کردی ہے ۔امریکہ کے اس فارمولے کو حتمی شکل دینے کا اگلا مرحلہ متحدہ عرب امارات میں طے پایا ، جہاں بے نظیر بھٹو کئی برسوں سے خودساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تھیں ۔ امریکہ نے ضامن بننے اور ثالثی کی یقین دہانی کرائی تو یواے ای میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور بے نظیر بھٹو کی خفیہ ملاقاتیں شروع ہوگئیں ۔ لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہورہے تھے اور دوسری طرف امریکی ضمانت اور باہمی معاملات طے پانے کے بعد بدنام زمانہ این آراو طے پارہا تھا۔ یہ این آراو کیسے طے پایا ؟اس کی تفصیلات اس وقت کی امریکی وزیرخارجہ کنڈولیزا رائس نے اپنی کتاب میں دے دی ہیں۔ این آراو طے پانے کے بعدپرویز مشرف کے نہ چاہنے کے باوجود بے نظیر بھٹو واپس آئیں ۔ عوام کے جوش اور حکومت کے خلاف بے چینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے طے شدہ فارمولے سے ہٹنے کی کوشش کی اور پھر ہم سب نے دیکھا راولپنڈی کا لیاقت باغ ایک اور سابق وزیراعظم کے لہو سے سرخ ہوگیا اورپیپلزپارٹی میں وہ لوگ آگے آگئے جو مشکل کے دور میں شریک سفر نہ تھے ۔ مجھے پیپلزپارٹی کا وہ اجلاس یاد آرہا ہے ، جس میں ایک جیالے نے اپنی قربانیوں کا ذکرکیا تو شریک چیئرپرسن آصف زرداری نے جواب میں کہا ۔ یہ اقتدار ہمیں آپ کی قربانیوں سے نہیں ، امریکہ کی بدولت ملا ہے ۔

پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو میں طے پانے والے امریکی فارمولے پر تو بہت کچھ منظرعام پر آچکا ہے لیکن یہ بات بہت کم سامنے لائی گئی کہ امریکہ کی ضمانت پر ہونے والے اس سمجھوتے سے ایک اور سیاسی این آراو نے جنم لیا تھا جس میں سعودی عرب نے ضمانت دی تھی اور اس کے ذریعے شریف برادران کی وطن واپسی ہوئی تھی ۔ یہ داستان پھر کبھی پر اٹھا رکھتے ہیں ۔ ابھی مجھے رچرڈ باؤچر اور سٹیفن کوہن سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتیں اور امریکی فارمولہ اس لیے یاد آیا کہ ملکی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ پرویز مشرف دور میں نامکمل رہ جانے والے امریکی فارمولے کو پھر سے مقامی طور پر آزمایا جارہا ہے ۔ایسے میں اپنے وقت کے سلیکٹیڈلوگ جب موجودہ حکومت پر سلیکٹیڈ کی پھبتیاں کستے ہیں تو ان کا بے قرارہونا سمجھ آتا ہے ۔ متحدہ اپوزیشن کو بھی پتہ ہے موجودہ سیٹ اپ میں نمبر گیم پاس ہونے کے باوجود چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو تبدیل کرنا آسان نہیں۔ چونکہ بظاہر اپوزیشن جتنی متحدہ نظرآرہی ہے ، اتنی متحد ہے نہیں ۔متحدہ اپوزیشن ہی چیئرمین سینیٹ کوہٹاسکتی ہے مگر ڈیل نہیں تو ڈھیل کیلئے انفرادی طور پر بیک ڈور رابطوں کی اطلاعات کچھ اور ہی کہانی سنارہی ہیں ۔ ایک دوسرے سے ہی ڈبل گیم جاری ہے ۔ پنجاب میں فارورڈ بلاک اور سندھ میں دل چاہے تو اڑتالیس گھنٹے میں تبدیلی کی بڑکیں آپ نے سن لی ہیں ، بس اتنا جان لیں ۔ چہرے بدلے ہیں، فارمولہ وہی چل رہا ہے ۔

پاکستان کی خراب معاشی صورتحال اس فارمولے کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر آپ کو یہ عجیب بات نہیں لگ رہی کہ مسلسل گرفتاریوں سے تنگ اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کے لیے عوامی جذبات کوجتنا ہوسکتا ہے ،بھڑکاتو رہی ہیںلیکن مہنگائی کے سونامی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مطلوبہ عوامی دباؤ کے باوجودسڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت واضح ہدایت دے چکی ہیں کہ عوامی رابطہ مہم ضرور چلائی جائے لیکن کوشش ان ہاؤس تبدیلی کی ہی کی جائے ۔اپوزیشن جانتی ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے باعزت انخلا کی کوششوں نے سپرپاور کو پرانے دوست کی اہمیت کا دوبارہ احساس دلادیا ہے ۔ رہی سہی کسر چین کے بڑھتے ہوئے اثرات نے پوری کردی ہے جو سی پیک کے ذریعے پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ افغانستان سمیت پورے خطے میں دوستوں کی تعداد میں اضافہ کرتا جارہا ہے ۔اس صورتحال میں پاکستان میں فوری سیاسی تبدیلی کی یقین دہانیاں جتنی مرضی کرالی جائیں ،طے کرنے والے اپنے فارمولے کو ہی ترجیح دیں گے ۔ ایسے میں اپوزیشن سچ مچ ووٹ کو عزت دینا چاہتی ہے تو انہیں مہنگائی نہیںبلکہ ماضی سے سیکھ کر پورے نظام کوبدلنے کی تحریک چلانا پڑے گی اور یہ بات تو عام آدمی بھی جانتا ہے ، ایسی تحریک چلانے کے لیے پہلے اپوزیشن کو اپنی پارٹیوں میں جمہوریت لانا پڑے گی ۔ اس لیے گرمی کے اس موسم میں زیادہ گرمی کھانے کی ضرورت نہیں ، اپنے طور پر مہنگائی سے نمٹنے کے لیے آمدن میں اضافے کے طریقے ڈھونڈیں ۔ تقرریں سنیں ، پیشیاں دیکھیں اوردل چاہے تو اپنی پسند کی پارٹی کے جلسے جلوس سے ہوآئیں ۔ فی الحال توسیاسی منظرنامہ دیکھ کر دل لگتی کہوں ، جن پہ آپ کو تکیہ ہے ان میں میں بیشتر کل تک جس ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے تھے ، آج بھی وہ اسی در سے فیض پارہے ہیں ۔


ای پیپر