سندھ ، پانی کی شدید کمی، زراعت تباہ
05 جولائی 2019 2019-07-05

سندھ خاص طور پر زیریں علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ سندھ کے اخبارات اس طرح کی خبروں اور مضامین سے بھرے ہوئے ہیں۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ سندھ غذائیت کی قلت سے لیکر پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں، زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے، زمین سمندر برد ہونے، کے ساتھ ساتھ خشک سالی اور بیروزگاری سمیت متعدد مسائل کا شکار ہے۔ صوبے کی ٹیل اینڈ میں پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے زراعت تقریبا ختم ہو چکی ہے، یہاں کی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی ہے۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، کینالوں کے شروع میں پانی کی چوری، مونگے توڑنے ، کینالوں میں سے مشینوں کے ذریعے براہ راست پانی چوری کرنے ، بااثر سیاسی لوگوں کی مداخلت، محکمہ آبپاشی کی کرپشن، کینالوں پر لگے گیج کی ناپ میں ہیراپھیری، آبپاشی نظام میں اصلاحات نہ لانے کے اثرات بری طرح سے زرعی پیداوار اور معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ کاشتکار اس ضمن میں اظہار بھی کرتے رہے ہیں لیکن صوبائی و وفاقی حکومتوں نے ان شکایات و مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔

پانی کی قلت کی وجہ سے جہاں غربت میں اضافہ ہوا ہے وہاں دیہی علاقوں کی آبادی شہروں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئی۔ گزشتہ ایک دہائی سے پانی کی قلت میں شدت آئی ہے۔ اب دیہی علاقوں میں زراعت کو تو چھوڑیئے پینے کے لئے بھی دستیاب نہیں۔ اب مون سون کے موسم میں بھی پریشان ہیں۔ سکھر بیراج سے نکلنے والے کینالوں روہڑی کینال، نارا کینال، رائیس کینال، اور دودو کینال خواہ کوٹری سے نکلنے والے اکرم واہ، پھیلی، اور کے بی فیڈر سے نکلنے والی شاخوں کے آخری سرے پر پانی کی رسد کا برا حال ہے۔ پانی کی چوری کی وجہ سے اس تکلیف دہ صورتحال میں مزیداضافہ ہورہا ہے۔

سندھ کے کاشتکاروں کی کوئی دادرسی نہیں ہورہی۔ زیادہ خراب صورتحال ٹھٹھہ، سجاول، بدین ٹنڈو محمد خان، اور میرپورخاص کے کچھ علاقوں کی ہے۔ یہ علاقے گنے اور چاول کی پیداوار کے لئے مشہور تھے۔ اب یہاں پر سیم اور تھور نے یہ جگہ لے لی، زمینیں غیرآباد ہو چکی ہیں۔ سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ سال ساٹھ فیصد لوگ گنے اور چاول کی کاشت نہیں کر سکے تھے۔ کوٹری کمانڈ ایریا میں خاص طور پر شادی سمال اور لارج واہ، گونی، امام واہ کے علاقوں میں 90 فیصد لوگ گندم کی کاشت نہیں کر پائے تھے۔ نتیجے میں دیہی علاقوں میں کام کے مواقع کم ہوگئے۔ ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں سے چالیس فیصد نوجوان حیدرآباد یا کراچی میں روزگار کی تلاش میں نکل گئے ہیں۔

پانی کی مجموعی قلت اپنی جگہ پر لیکن جو پانی دستیاب ہے اس کی منصفانہ تقسیم بھی نہیں کی جارہی۔ اس کے لئے محکمہ آبپاشی اور سیڈا ذمہ دار ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آبپاشی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، کیونکہ تبدیل شدہ حالات میں موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔

صوبے کی سیاسی صورتحال گھوٹکی کے ضمنی انتخاب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اخبارات کے مطابق گھوٹکی کی ضمنی الیکشن جذباتی خطابوں، ذاتی حملوں اور الزام تراشیوں کی لپیٹ میں آگئی ہے، سابق وفاقی وزیر علی محمد مہر کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر سردار محمد بخش مہر، اور احمد علی مہر آمنے سامنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے راجا خان مہر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی کے مخالف امیدوار علی احمد مہر کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

سردار غلام محمد مہر کا جب انتقال ہوا تو محمد بخش مہر کی عمر چھ برس تھی۔ لہٰذا املکیت اور سرداری اور ورثے کی سیاست ان کے چچازادوں کے پاس چلی گئی۔ اس عرصے میں میری کسی نے مدد نہیں کی ۔محمد بخش مہر کہتے ہیں کہ پہلے ملکیت پر جھگڑا تھا، اب سرداری کی پگ پر جھگڑا ہے۔ اب پتھر پھینکنے والوں کو پھول نہیں پیش کئے جائیں گے۔ مہر برادری اور کسی کا نہیں میرے والد کی راج برادری ہے۔ کسی کو بلا کر ووٹ کے لئے دھمکیاں دینے کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ مجھے خوف پر نہیں لوگوں کے دلوں میں رہنے والی سرداری چاہئے۔ میں نے عوام کو غلام بنانے کی روایات توڑنے کی طرف قدم بڑھایا ہے اب عوام بھی ساتھ دیں، تو غلامی کا نظام ختم کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی دو ہفتے پہلے گھوٹکی آمد کے بعد پیپلزپارٹی کے لئے یہ نشست ہائی اسٹیک ہو گئی ہے۔ سردار محمد بخش مہر بلاول بھٹو کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔صوبے کی حکمران جماعت انتخابی مہم کے لئے دو وزراء ناصر علی شاہ اور عبدالباری پتافی سے وزارت سے استعفیٰ لے چکی ہے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت میں سے خورشید شاہ اور سندھ کے صدر نثار کھوڑو مرکزی انتخابی مہم میں موجود ہیں۔ سیف اللہ دھاریجو جولائی کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی چھوڑ گئے تھے، پارٹی قیادت نے انہیں بھی منا لیا ہے۔ میونسپل کمیٹی گھوٹکی پر چھاپہ مارنے اور میرپور ماتھیلو اور خانگڑھ کے تحصیلداروں کے مبینہ اغوا کو بھی ضمنی انتخاب سے منسلک سمجھا جارہا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے جام انعام اللہ دھاریجو کو چیئرمین اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے عہدے سے ہٹا کر حساب برابر کردیا ہے۔ یہ مقابلہ ماما بھانجے کے درمیان ہے۔ مہر خاندان سیاسی طور پر عملا تقسیم ہو چکا ہے۔ علاقے کے وڈیروں کے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔

ایم کیو ایم اپنی سیاسی بقا کے لئے متحرک ہوگئی ہے اور اس مقصد کے لئے نہ صرف عوام سے براہ راست رابطہ کرہی ہے۔ اور شہری مسائل پر آواز بھی اٹھارہی ہے۔ شہر میں پانی کی قلت کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کے زیر اہتمام پیر کو کراچی پریس کلب پر بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس سے قبل اس احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان نے شہر کے کئی علاقوں میں احتجاجی بینرز آویزاں کر دئیے ہیں جس میں صوبائی حکومت کی کراچی دشمنی کے خلاف نعرے درج ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں رابطہ مہم بھی چلائی ، اس حوالے سے ہینڈ بل بھی تقسیم کئے جارہے ہیں۔ مقررین نے شکوہ کیا کہ کر اچی کی تر قی کیلئے صرف 240ارب روپے رکھے گئے ہیں، انہوں نے یہ بھی فرمائش کی کہ وزیر اعظم پر فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 149کے تحت کا رروائی عمل میں لا ئیں۔ایم کیو ایم مسلسل وفاقی حکومت کو یاد دلانا چاہ رہی ہے کہ اگر سندھ حکومت کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا تو وہ وفاقی حکومت کا ساتھ دے گی۔


ای پیپر