پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم اور بلاول
05 جولائی 2018 2018-07-05

پیپلزپارٹی واحد پارٹی ہے جو سندھ میں بھرپور طریقے سے انتخابی مہم مہم چلا رہی ہے۔ پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نصف صوبے کا طوفانی دورہ کر چکے ہیں۔
صوبے میں انتخابی مہم کے دوران بعض اہم رجحانات سامنے آئے ہیں جو ووٹرز کے انداز فکر پر اثرانداز ہونگے۔
انتخابات دو چھ ماہ کا قصہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا اقتدار کی خواہشمند جماعتیں دو تین سال پہلے سے اس مہم پر کام شروع کردیتی ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں اقتدار کی سب سے بڑی خواہشمند ہے، اس پارٹی نے انتخابات سے بہت پہلے حکمت عملی بنائی اور صوبے میں تمام الیکٹیبلز اپنی جیب میں ڈال دیئے۔ نتیجۃ ہر حلقے میں تین سے زائد پارٹی ٹکٹ کے لئے امیدوار سامنے آگئے۔ پہلی مرتبہ قیادت کو پارٹی ایک دوسرے کے حریف امیدواروں اور فریقین کو ساتھ لے کر چلنا اور خوش کرنا مشکل ہو گیا۔ پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی کو اپنے اندر ہی مخالفت کا سامناہے۔ جہاں درجنوں امیدوار پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت میں کھڑے ہو گئے۔ اس سطح پر پہلی مرتبہ ہوا کرنا راضی امیدواروں کو منانے کے لئے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو جانا پڑا۔ بعض صورتوں میں بلاول بھٹو کی بھی مدد لینے کی کوشش کی گئی۔ لیکن مورو کے عبدالحق بھرٹ اور گھوٹکی کے مہر برادران نے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی نہیں سنی۔ تھر سے پیپلزپارٹی کے ناراض امیدوارعبدالغنی کھوسو کو فریال تالپور نے طلب کیا لیکن انہوں نے بلاول ہاؤس جانے سے معذرت کر لی۔ اگرچہ پارٹی قیادت نے اعتراف نہیں کیا لیکن اسے احساس ضرور ہو اکہ کچھ غلط ہوگیا ہے۔ ہالہ کی مخدوم، ٹھٹھہ کے شیرازی، گھوٹکی کے مہر برادران کے معاملے میں پیپلزپارٹی کو جھکنا پڑا اور سمجھوتہ کرنا پڑا۔ پارٹی ٹکٹ ملنے کے باوجودہالہ کے مخدوم خاندان کا ایک حصہ تاحال ناراض ہے۔ بلاول بھٹو نے جب ہالہ کا انتخابی دورہ کیا تومخدوم جمیل الزمان اور ان کے بیٹے محبوب الزمان نہ استقبال کرنے آئے اور نہ ہی جلسے میں موجود تھے۔
سوشل میڈیا نے سب سے زیادہ پریشانی پیپلز پارٹی کے لئے پیدا کی ۔ کیونکہ یہ پارٹی گزشتہ دس سال سے صوبے میں حکومت میں رہی ہے۔ اب تو ہر شخص نے ہاتھوں میں کیمرا اٹھا رکھا ہے۔ سوشل میڈیا ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کئی امیدواران انتخابی مہم کے لئے لوگوں کے پاس جانے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا مین اسٹریم میڈیا سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مین اسٹریم میڈیا کو اپنے رول پر نظر ثانی کر پڑ جائے گی۔ بڑے بڑے پھنے خان مثلا ملک اسد سکندر، سلیم جان مزاری ، فریال تالپور ،سابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے لوگ جواب طلبی کرنے لگے۔ کارکردگی پر سوالات کے بعد پیپلزپارٹی مجبور ہو گئی ، اور اس نے براہ راست بلاول بھٹو کو میدان میں اتارا۔ انہوں نے سندھ کا طوفانی دورہ کیا۔
اگرچہ سندھ میں نواز شریف کے اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیانئیے کو قبولیت حاصل تھی لیکن نواز لیگ ایک بار پھر سندھ کے بارے میں غیرسنجیدہ رہی ۔ اس نے انتخابا ت کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنائی۔ سندھ میں نواز لیگ کا کوئی مضبوط امیدوار نظر نہیں آتا۔ شہباز شریف نے تین مرتبہ کراچی کا دورہ کیا لیکن وہ کراچی تک ہی محدود رہا۔ نتیجتاً باقی سندھ میں میدان جی ڈی اے کے لئے کھلا چھوڑ دیا۔سندھ میں لوگ پیپلزپارٹی پر تنقید کر رہے ہیں لیکن وہ جی ڈی اے کو اس کا متبادل نہیں سمجھتے۔ یہاں نواز لیگ کی درست حکمت عملی اور موثرصوبائی قیادت کردار ادا کر سکتی تھی۔ یہی صورتحال تحریک انصاف کی ہے۔عمران خان کراچی پر توجہ دے رہے ہیں۔ جبکہ شاہ محمود قریشی تھر اور عمرکوٹ سے اور لیاقت جتوئی دادو سے ا اپنے بل بوتے پر مہم چلا رہے ہیں۔ ان حلقوں کے علاوہ باقی سندھ پر پارٹی کے کسی رہنما کی کوئی توجہ نہیں۔ انہوں نے بھی باقی سندھ جی ڈی اے اور پیر پگاڑا کے لئے چھوڑ دیا۔رائے عامہ بنانے والے اور دانشورپیپلزپارٹی پر تنقید کر رہے ہیں ۔ لیکن اس کے متبادل کے طور پر جی ڈی اے آیا ہے جو کہ پیپلزپارٹی سے بھی بدتر وڈیروں کا اتحاد سمجھا جارہا ہے۔ چند ایک مقامات پر انفرادی طور پر اچھے امیدوار بھی میدان میں ہیں لیکن وہ چونکہ مکمل متبادل نہیں لہٰذا وہ ووٹرز کے لئے کشش نہیں پیدا کر رہے ہیں۔
جی ڈی اے ان مسافروں کو اٹھا رہی ہے جنہیں پیپلزپارٹی نے اپنی بس سے نیچے اتار دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔ جی ڈی اے سندھ اسمبلی کی بمشکل نصف حلقوں پر امییدوار کھڑے کر پائی۔ قومی اسمبلی میں یہ تناسب اس سے بھی کم ہے۔ جواب طلبی میں سامنے آنے والے مطالبات کا تعلق بنیادی شہری سہولیات پینے کے پانی، صحت صفائی، سڑک کی تعمیر سے ہے۔ حکومتی معاشی پالیسی، امن و مان، خارجہ پالیسی وغیرہ سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا جارہا ہے۔ جیسے یہ معاملات سویلین یا منتخب حکومت کے دائرہ کار میں نہ ہوں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری کی ’’سب کو پارٹی میں لے آؤ‘‘ پالیسی الٹا نقصان دہ ثابت ہوئی جس نے پارٹی کے اندر تقسیم پیدا کردی۔پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا جمہوری تھا ہی نہیں کہ وہ ان سب کو اپنے اندر سمو سکتا۔ نتیجتاً مختلف مقامی گروپ اور لابیز سرگرم ہو گئیں۔ پھر پارٹی کی کارکردگی پر ووٹرز اور مقامی طور پر سرگرم گروپوں کی جانب سے سوالات آنے لگے۔ جی ڈی اے سیاسی جوڑ توڑ کے لئے میدان میں آگیا۔ اس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔اس تذبذب سے جذباتی انداز سے ہی نکالا جاسکتا تھا۔ لہٰذا پارٹی قیادت نے بلاول بھٹو کارڈ کھیلا ۔ اور سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہاں پیپلزپارٹی سے ایک غلطی ہوئی کہ بلاول بھٹو کی مہم کا آغاز لاڑکانہ کے بجائے لیاری سے کیا گیا۔ لیاری بہت بدل چکا ہے۔کراچی ویسے بھی مختلف قوتوں کی آپس کی لڑائی ، جوڑ توڑ کا شہر اور بڑا شہر ہے، یہاں پر مخالف عناصر گڑبڑ کر سکتے تھے۔ اور وہی ہوا۔ اگر آغاز لاڑکانہ سے کیا جاتا ۔ پارٹی قیادت نے بلاول بھٹو کو بدین کے بلدیاتی الیکشن کی مہم اور گلگت کے ضمنی انتخاب کی مہم کے لئے بھیجا تھا، لیکن یہ ان دونوں مقامات پر انہیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ حالانکہ گلگت وہ حلقہ ہے جہاں سے بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو نے انتخاب لڑا تھا اور جیتا تھا۔ بدین سے ذوالفقار علی بھٹو نے 70 کا انتخاب جیتا تھا۔ اب لیاری سے آغاز بھی پلٹ کر واپس آگیا۔
سندھ میں پیپلزپارٹی دفاعی پوزیشن پر چلی گئی۔ اس کا اندازہ بلاول بھٹو کی تقاریر اور لہجے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اب عوام کے مسائل میں خود حل کرونگا‘‘۔ ’’ پہلی مرتبہ ووٹ لینے آیا ہوں ‘‘ ،’’ہمیں مل کر بی بی کاوعدہ نبھانا ہے‘‘۔ کیا وہ پارٹی کی گزشتہ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے تھے؟ اور لوگ اور کسی کی یقین دہانی یا وعدہ پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھے؟ کیا حکومت کے دور میں بلاول بھٹو کی نہیں چلتی تھی؟ جہاں تک پہلی بار ووٹ کا تعلق ہے، ایسا نہیں۔ وہ بینظیر بھٹو کے بیٹے کے طور پر ووٹ لینے آئے تھے۔ لوگ تو پہلے بھی بینظیر کے نام پر ووٹ دیتے رہے ہیں۔
جی ڈی اے کو سندھ کے لوگ اپنا نہیں اسلام آباد کی طرف سے دیا گیا متبادل سمجھتے ہیں۔ایسے میں کسی موثر اور قابل اعتماد متبادل کی عدم موجودگی اور بلاول بھٹو کی یقین دہانی صوبے میں کام دکھا سکتی ہے۔


ای پیپر