کپتان کی کامیابی کے سپیڈ بریکر
05 جولائی 2018 2018-07-05

گیلپ اور پلس کنسلٹنٹ سروے 2018ء کے انتخابی رجحان کے بارے میں جو سروے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام تر کوششوں اور جیتنے والے گھوڑے میدان میں چھوڑنے کے باوجود نواز شریف انتخابی دوڑ میں سب سے بڑے صوبے میں آگے ہیں۔ امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک میں یہ سروے کافی حد تک درست ثابت ہوتے ہیں مگر عوام نے تو گزشتہ انتخاب میں رائے بدلتے ہوئے امریکہ کی سروے کمپنیوں کو بھی چکرا دیا جب صدارتی انتخاب میں عوام کی بڑی اکثریت نے گھر سے پولنگ اسٹیشن جاتے ہوئے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تمام سروے ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کے حق میں جا رہے تھے مگر نتائج ری پبلیکن امیدوار ٹرمپ کے حق میں نکل آئے اور یہ امریکہ کے صدارتی انتخاب کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا مگر پاکستان میں ہونے والے سروے جس کے آج کافی چرچے ہیں کافی پرانے ہیں ایک ماہ پہلے کیے گئے سروے کے بعد سیاسی پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی جماعتوں کو انتخاب کے دوران امیدواروں کے چناؤ میں کافی دشواری ہوتی ہے۔ کبھی سیاسی جماعتوں میں ایسی بغاوت نہیں اٹھی تھی۔ اسی بغاوت نے تحریک انصاف ہی نہیں مسلم لیگ اور دوسری جماعتوں کی کھوکھلی سیاست کو بے نقاب ضرور کیا ہے۔ نئے سیاسی منظر نامے میں نواز شریف کا بیانیہ کافی اہم ہے۔ سب سے اہم تو 6 جولائی کا دن ہے جب نواز شریف کی غیر موجودگی میں ایون فیلڈ ریفرنس مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ نواز شریف نے لندن سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہاں مقدے کے حوالے سے باتیں کی ہیں وہاں انہوں نے ایک ذاتی درخواست ہی نہیں بلکہ کافی رنجیدہ لہجے میں اپیل بھی کی ہے کہ میں اپنی اہلیہ کو ایک بار آنکھیں کھولتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُن سے بات کرنا چاہتا ہوں چند دن کا تو معاملہ ہے۔ اُن کی یہ عرض قابل قبول ہو گی یا نہیں مگر نوا زشریف نے یہ بھی تو کہہ دیا ہے کہ عدالت کے روبرو کھڑے ہو کر جہاں میں نے مقدمے کی تاریخیں بھگتیں فیصلہ سن سکوں وہاں مریم نواز نے اپنے سخت لہجے میں بات کی ہے کہ وہ جیل جانے کے لیے تیار ہے اور وہ جو کام کرنے جا رہی ہیں وہ انوکھا ہے۔ ستر سال سے ملک کی سیاست میں جو ہوتا رہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے جبکہ نواز شریف کا ارادہ اور عزم بھی یہی ہے کہ وہ احتساب عدالت کے جج کے منہ سے فیصلہ سننا چاہتے ہیں ۔ نواز شریف کو سیاست اور اقتدار سے نکالنے والوں کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا اور نہ انتخاب کے بعد نواز شریف کی ذات سیاست سے باہر ہو سکتی ہے اگر وہ اس مقدمے میں سزا یافتہ ہو گئے تو بھی جیل میں اُن کی ذات پاکستان کی سیاست کا مرکز رہے گی۔ اسمبلیاں ہوں یا احتجاج نواز شریف کی ذات کا پارٹی پر حکم چلے گا۔ نواز لیگ اگر حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکی وہ کسی کو بھی حکومت نہیں کرنے دے گی۔ جیسا کہ نواز شریف اور مریم نواز کاتازہ لب لہجہ بھی خاص ترش ہے۔ مگر ابھی تو نوا زشریف کی نظریں 25 جولائی پر ہیں۔ اس کے باوجود کافی کچھ ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو انتخابی میدان میں پچھاڑنے کے لیے کئی دھڑے اور گروپ تشکیل پائے جوڑ توڑ ہوئی۔ جیپ کے نشان والے 64 لوٹے میدان میں آئے آخری وقت پر ٹکٹیں واپس کرنے کا منظر بھی بھولنے والا نہیں ہے۔ پھر بھی نوا زشریف پر امید ہیں کہ یہ دن قوم کی تقدیر بدلے گا۔ وہاں یہ دھمکی بھی دے ڈالی ہے کہ عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے مگر یہ نہیں بتایا کہ کون لوگ راستہ روکیں گے مگر اُن کے اشارے واضح ہیں کہ بے درد زمانے والوں کے لیے نواز شریف کھلا سوال بنے رہیں گے۔ نوازشریف پر امید ہیں کہ 25 جولائی کو ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘کا نعرہ عوام میں مقبول ہو گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر ادارے جن کی طرف نواز شریف اور مریم نواز اب
اشاروں میں باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے خلاف کھل کر بولتے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اگر پاکستان کو مزید ڈوبنے سے بچانا ہے تو سیاست دانوں کو مزارعہ نہ سمجھا جائے اگر کسی کے پاس فیصلہ سنانے کی طاقت ہے یا افرادی پاور ہے ان کو عوام کے نمائندوں کا احترام کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس کا کام ڈیم بنانا ہے اور نہ ترقیاتی کام کروانا۔ سب سے پہلے چیف جسٹس کا کام عدل اور عدلیہ کا بول بالا کرنا کیمرہ ٹیموں کے ساتھ وہ کب تک چھاپے مارتے رہیں گے۔ اگر وہ ایک کام کر سکیں وہ ماتحت عدلیہ کو درست کر جائیں تو یہ قوم اُن کا احسان نہیں بھول پائے گی۔ ورنہ پہلے بھی کتنے چیف جسٹس آئے اور گئے ایسے موقع پر شیخ رشید کی کوششوں سے بننے والے ہسپتال کا دورہ کرنے کے ساتھ اس حلقے کا امیدوار شیخ رشید بھی ہو تو لوگ سوال تو اٹھائیں کے چیف جسٹس کے سمدھی جو پیپلزپارٹی سے کھلی ہمدردیاں رکھتے ہوں اُن کا نگران وزیر بن جانا حالانکہ ان کو وزیر بنوانے میں چیف صاحب کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ مگر اتفاق کی بات یہاں تو بحران ہی بحران ہیں۔ ریاست کے ستون کہنے کو تو اپنے مینڈیٹ کے اندر ہیں مگر سب آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ اس لیے تو ساری خرابیاں جنم لیتی ہیں جانے کے بعد ہی تو راز کھلتے ہیں کہ کون کیا کرتا رہا ہے۔ بات تو انتخابی سروے کی ہو رہی تھی۔ پہلے جو معاملہ بھٹو اور اینٹی بھٹو کا تھا۔ اب نواز اور اینٹی نواز فیکٹ ہے۔ اگر سروے سے ہٹ کر بات کی جائے تو تحریک انصاف کے لیے خیبرپختونخوا میں سب اچھا نہیں مسلم لیگ (ن) جس کے بارے میں طعنہ دیا جاتا رہا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کی جماعت ہے۔ اس نے جنوبی اور شمالی علاقوں میں بھی جگہ بنائی ہے خاص طور پر اس کی جڑیں مضبوط بنانے میں امیر مقام نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اُن کی کامیابی یہ ہے کہ وہ نہ صرف خود بلکہ شہباز شریف کو سوات سے امیدوار بنانے میں کامیاب رہے۔ ایم ایم اے اور دوسری جماعتوں کی حمایت سے شہباز شریف مقابلے کی دوڑ میں آ گئے ہیں۔ شہباز شریف کا اصل مقابلہ شہزادہ شہریار امیر زیب سے ہے جبکہ اُن کی آنٹی سابق رکن قومی اسمبلی شہباز شریف کے ساتھ ہے۔ سب سے اہم مزاحمت مراد سعید کی پارٹی کے اندر سے ہو رہی ہے۔ پرویز خٹک اور اسد قیصر وزیر اعلیٰ بننے کی دوڑ میں ہیں سب سے بڑا چیلنج تو کے پی کے میں نمبر ایک متحدہ مجلس عمل سے ہے جو قومی اسمبلی ہی نہیں صوبائی اسمبلی میں مضبوط امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہے۔ عمران خان بنوں کی نشست سے کافی پیچھے ہیں عمران خان نے حالیہ دورہ بنوں کے موقع پر جو جلسہ کیا تھا وہ مقام بنوں شہر سے کافی دور تھا اگر وہ اکرم درانی کی صوبائی نشست والے حلقے میں جلسہ کرتے تو اس کا فائدہ ہو سکتا تھا مگر اب یہ صور ت حال کافی بدل گئی ہے اکرم درانی عوام میں رہنے والا آدمی ہے اگر عمران خان ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا فضل الرحمن سے مقابلہ کرتے تو اہم ہوتا مگر یہ حلقہ بھی فضل الرحمن کا مضبوط گڑھ ہے۔ یہی حلقہ ہے جہاں سے مولانا فضل الرحمن کے والا مولانا مفتی محمود نے 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی یہی وجہ تھی بھٹو نے کے پی کے کسی حلقے سے 1977ء میں امیدوار بننا پسند نہیں کیا تھا۔ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب کا خاندان قلا بازیاں کھاتے ہوئے اب تحریک انصاف کا حصہ ہے۔ عمر ایوب نے (ق) لیگ سے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کا ٹکٹ تو حاصل کر لیا، کپتان نے اپنے پرانے ساتھی راجہ عامر زمان کو نظر انداز کر دیا جو اب عمران خان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ عنبرین سواتی کو ٹکٹ دے کر واپس لینا بھی پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ رہا ہے۔ پشاور میں پرانے ساتھیوں کی جگہ دولت مند آ گئے ہیں۔ پنجاب میں تو جیپ والوں کی تعداد 60 ہے تو بلے باز بھی 40 سے اوپر ہیں۔ عمران خان کے راولپنڈی کا حلقہ اس لیے چھوڑا کہ اُن کی پوزیشن کمزور تھی۔ اٹک میں نئے شامل ہونے والے میجر طاہر صادق کو دو ٹکٹ دے کر نظریاتی امیدواروں کو پیچھے دھکیل دیا ۔ سرگودھا میں پی ٹی آئی کو زبردست مزاحمت کا سامنا ہے۔ ممتاز کاہلوں کا پینل (ن) لیگ سے تحریک انصاف میں جانے والی ڈاکٹر نادیہ سے مضبوط ہے۔ جہلم میں چوہدری ثقلین کا آزاد پینل (ن) لیگ کی کامیابی کی ضمانت بن رہا ہے۔ فیصل آباد میں تحریک انصاف خود اپنے باغیوں کی وجہ سے کمزور پوزیشن پر ہے۔ گوجرانوالہ میں خواجہ صالح کو ٹکٹ دے کر واپس لینا مہنگا پڑ گیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کے خلاف سابق ضلع ناظم خود میدان میں ہیں۔ بیرسٹر منصور سرور کو ٹکٹ دے کر واپس لینا مہنگا پڑ گیا۔ حافظ آباد میں پی ٹی آئی کے چچا بھتیجا کے میدان میں آنے سے سائرہ تارڑ کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ شیخوپورہ میں میاں جلیل کے (ن) لیگ میں آنے سے رانا گروپ مضبو ط ہو گیا ہے۔ قصور میں رانا برادران اور نکئی خاندان کے درمیان زبردست مقابلہ ہو گا۔ اوکاڑہ کی ایک قومی نشست کم ہونے سے صمصام بخاری کی پوزیشن کمزور ہے۔ میاں منظور وٹو ایک بار پھر قلا بازی کھا گئے ہیں۔ راؤ سکندر کے خاندان نے بھی پی پی پی سے ق پھر پی پی پی پھر (ن) اور تحریک انصاف سے ناتا جوڑا ہے۔ (ن) لیگ کے ریاض جج کافی آگے ہیں۔ مانیکا کا خاندان پنکی پیرنی کی وجہ سے (ن) لیگ میں شامل ہو گیا ہے جبکہ پیرنی کا داماد (ن) لیگ کا صوبائی امیدوار ہے۔ خانیوال میں اس مرتبہ سید گروپ ہراج گروپ سے آگے ہے۔ خالد خاکوانی کا آزاد پینل پی ٹی آئی کے امیدواروں کے لیے چیلنج ہے۔ لودھراں میں تحریک انصاف جہانگیر ترین کے فیصلوں سے تقسیم ہو گئی جس سے کانجو گروپ ضلع میں لیڈ کرے گا۔ بہاولپور میں ریاض پیرزادہ کے مقابلے میں دو جٹ امیدواروں کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے۔ اعجاز الحق سے پی ٹی آئی نے امیدوار دے کر واپس لے لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں (ن) لیگ کے امیدوار اور چوہدری عبدالغفور کے خاندان کی حمایت حاصل ہے۔ اس منظر نامے میں جی ٹی روڈ سے جنوبی پنجاب میں (ن) لیگ کافی آگے ہے کامیابی میں (ن) لیگ کا ترقیاتی کام اہم کردار ادا کرے گا۔


ای پیپر