پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ا ضا فہ ا و ر اس کی و جو ہات
05 جولائی 2018 2018-07-05

سمجھ نہیں آ تا کہ اسے ستم ظر یفی کہو ں ،یا محض ستم کہ ا ب ہر مہینے کا پہلا کا لم لا محا لہ پٹر و لیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں مزید مہنگا ئی پہ لکھنا پڑ ر ہا ہے۔ ا لبتہ ما ہِ رو اں کی ا گر با ت کر یں تو اس مر تبہ پٹر و لیم مہنگا ئی کا خطر ہ پہلے ہی سے محسو س کیا جا نے لگا تھا۔ وہ یو ں کہ ا مر یکی ڈ ا لر پچھلے ما ہ کے ا و ا خر میں۱یک سو پچیس رو پے پہ ٹہلتا نظر آیا۔ چنا نچہ ڈا لر کی قیمت میں اسقد ر اضا فہ پٹر و لیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں ا ضا فے کا با عث بنا ۔ سب ہی جا نتے ہیں کہ یک نہ شد ،دو شد کی ما نند پٹر و ل کی مہنگی قیمت کبھی اکیلے عوام کے گلے کا پھند ہ نہیں بنتی،بلکہ سب ہی اشیاء کی قیمتیں اس سے منسلک ہو تی ہیں۔ لہذا پٹر و لیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں اضا فے کے فو ر ا ً بعد ٹرا نسپو رٹ کے کر ایو ں میں ا ضا فہ ، سبز یوں ا و ر د ا لو ں کی قیمتو ں میں اضا فہ ، او ر ہر قسم کے گو شت کی قیمتو ں میں اضا فہ ، در ا صل قیمتو ں میں اضا فے کی وہ قسمیں ہیں جو عوا م ا لنا س کی جیبو ں پر روز آ نہ کی بنیا د پر ا ثر ا ند ا ز ہو تی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ و طنِ عز یز میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے حالانکہ عالمی منڈی میں قیمتیں بہت زیادہ نہیں بڑھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، تاہم ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے قیمت بڑھا دی گئی ہے۔ وجہ جو بھی ہو حکومت کے اس فیصلے کا خمیازہ پہلے سے غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو ہی بھگتنا پڑ ر ہا ہے۔ یاد دلا دو ں کہ نگران حکومت نے عیدالفطر سے قبل بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ تب پٹرول چار روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں پچھلے کچھ عرصے سے حیران کن اتار چڑھاؤ د یکھنے میں آ رہا ہے۔ جون 2008ء میں خام تیل کی قیمت 145 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پر تھی جو اگلے برسوں میں گرنا شروع ہوئی تو جنوری 2016ء میں 29 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 2016-17ء کے دوران یہ 50 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ رہی ہیں اور دسمبر 2017ء میں 60 ڈالر فی بیرل سے لے کر رواں سال جون کے آخر تک 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ اگرچہ 2016ء کے مقابلے میں یہ اضافہ 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے مگر 2008ء سے موازنہ کریں تو عالمی منڈی میں تیل کی موجودہ قیمت اب بھی آدھی ہے۔ یہ یقین کیا جاتا تھا کہ یہ انتہائی کم قیمتیں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے مفاد میں نہیں اور لامحالہ یہ ’خوشگوار دور‘ لمبا چلنے والا نہیں اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آکر رکے گی۔ پچھلے سال، ڈیڑھ سال کے دوران تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو مدنظر رکھیں تو اقتصادی ماہرین کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوچکی ہے۔ عالمی اقتصادی ماہرین نے تیل کی کم قیمتوں کے دور کو کمزور معیشتوں کے لیے سنہری موقع قرار دیتے ہوئے اس کو قومی مفاد میں بہترین طریقے سے استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔ کچھ ممالک نے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی معیشتوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار بھی کیا، مگر پا کستا ن نے بدقسمتی سے یہ موقع ضائع کردیا۔ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ تیل کی کم قیمت والے برسوں میں تیل کی مد میں جو اخراجات کی بچت ہورہی تھی، اس کو متبادل توانائی کے وسائل پر خرچ کیا جاتا اور کوشش کی جاتی کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم ہوجائے، مگر ہوا یوں کہ سستے تیل کا فائدہ اٹھا کر ہم نے فوسل فیول پر انحصار بڑھادیا اور توانائی کی پیداوار میں بھی تھرمل وسائل پر انحصار میں اس دوران میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ ماہرین پٹرولیم مصنوعات سے بجلی کی پیداوار کو جرم قرار دیتے ہیں، مگر ہم نے یہ جرم پورے دھڑلے سے کیا اور کرتے چلے جارہے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے پانچ برس میں پن بجلی کا تو ایک بھی قابل ذکر منصوبہ نہ بنایا گیا۔ مگر تیل، گیس اور کوئلے کے کئی ریڈی میڈ منصوبے سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ سستے تیل کے دنوں کی پیداوار ان منصوبوں کو، فوسل فیول کی قیمتوں کی بلند تر سطح کے ساتھ چلانا مشکل ہوجائے گا۔ توانائی کے یہ منصوبے ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کی دین ہے جو اب عوام سے مزید حکمرانی کی خواہش مند ہیں۔ حکمرانوں نے ایک اور جرم یہ کیا کہ اپنے ادوار میں توانائی کی تمام قیمتوں کو ڈالر کی قیمتوں سے منسلک کردیا، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی قیمت کے تناسب سے ہونے لگا ہے۔ چنانچہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں تو تیل کی قیمتوں میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا بلکہ قدرے کمی ہی آئی ے، تاہم روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل ہے اور تقریباً منجمد ہے اور اگر اس میں کمی بیشی ہوتی ہے تو محدود اور انتہا ئی کم ہو تی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔بہر کیف مختصر مدت کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ہمیں آنے والے دور کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا جب یہ قیمتیں ڈیڑھ سوڈالر کے لگ بھگ ہوں گی۔ اس مشکل دور کے لیے ابھی سے بندوبست کرنا ہوگا، توانائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ پاکستان صرف پانی سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر ہمارے ہاں پانی سے بجلی کی پیداوار گزشتہ تین عشروں میں ایک تہائی ضروریات سے اوپر نہیں گئی۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پیداشدہ صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جامع پروگرام پیش کرنا چاہیے۔ عوام کو چاہیے کہ صرف ان جماعتوں کو ووٹ دیں جو توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جامع منصوبے اور پروگرام رکھتے ہوں، بصورت دیگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تکالیف اور مسائل بڑھانے کا باعث بنے گا۔گو یہ در ست ہے کہ عوا م پٹر و ل کی بڑھتی ہو ئی قیمتو ں کو مکمل طو ر پر روک نہیں سکتے، مگر یہ و ہ و قت ہے جب وہ یکجا ہو کر تہیہ کر لیں تو پٹر و ل کی قیمت کو بڑ ی حد تک ایک جگہ منجمد کر سکتے ہیں۔
عو ا م کو چا ہیے کہ پہلے تو ان گند ے عنا صر کی نشا ن د ہی کر یں جو قیمتو ں کے یو ں بڑ ھنے کا با عث بنتے ہیں۔ پھر انہیں اپنے وو ٹ کی نعمت سے محر و م کرتے ہو ئے سب ہی امید و ا رو ں کو یہ با و ر کر ا دیں کہ منتخب ہو نے کے بعد ان کی بہتر ی اسی میں ہے کہ وہ صر اطِ مستقیم پہ چلتے ہو ئے عو ا م کی خو ا ہشو ں کا احتر ا م کریں۔ عو ا م یہ بھی جا ن لیں کہ ہو نے وا لے انتخابات وہ آ خر ی مو قع ہیں جو اگر ضا ئع ہو گیا تو پھر ان کے لیئے آ یندہ کسی دو سر ے کو اپنی مشکلات میں اضا فے کا با عث ٹھہر ا نا مشکل ہو جا ئے گا۔


ای پیپر