ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس:اصل مجرم کون؟
05 جولائی 2018 2018-07-05

4جولائی2018ء بروز بدھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت حلف نامہ تبدیلی کیس کا تفصیلی تاریخ ساز فیصلہ جاری کیا۔ جب کہ اس سے پہلے 9مارچ 2018ء کو جسٹس صدیقی نے مختصر فیصلہ دیا تھا۔چار مختلف پٹیشنز پر اس تفصیلی فیصلے میں ختم نبوت حلف نامے اور قادیانیوں کی آئین پاکستان سے انحراف اور ریاست پاکستان کی غلفت اور تساہل کو اچھی طرح بیان کیا گیاہے۔الیکشن ایکٹ 2017ء بل میں ختم نبوت حلف نامہ کے حوالے سے جو تبدیلی ہوئی اس کیس کی سماعت تقریباً 10 دن تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری رہی۔ کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد عدالت عالیہ نے مختلف مکاتب فکر کے چار علماء کرام سمیت تین بڑے آئینی ماہرین کو بطور عدالتی معاونین کے طورپر طلب کیا۔جنہوں نے بھرپور طریقے سے ختم نبوت کی آئین اوردینی حیثیت کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔9مارچ 2018ء کوعدالت عالیہ اسلام آباد کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا جو 4جولائی 2018 کو تفصیلی فیصلے میں بھی موجود ہے کہ دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت اقلیتوں (غیرمسلموں)کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتاہے۔ریاست پر لازم ہے کہ ان کی جان ومال ،جائیداد اور عزت وآبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔آئین کی شق نمبر 5 کے مطابق ہرشہری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ریاست کا وفادار اورآئین وقانون کا پابند ہو۔یہ فریضہ ان افراد پر بھی لازم ہوتا ہے جو پاکستان کے شہری نہیں ،لیکن یہاں موجود ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے فیصلے میں تمام سرکاری ملازمین کے لیے ختم نبوت حلف نامہ لازمی کرنے کی تجویزد ی۔ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ،پیدائش سرٹیفیکٹ،پاسپورٹ، اور انتخابی فہرستوں میں مسلم اور غیر مسلم حلف نامہ کو لازمی قرار دیا جائے۔شناختی کارڈ میں مذہب چھپانے کو جرم قراردیاجائے۔نادرا کو فوری طور پرقادیانیوں کا مکمل ڈیٹاچھان بین کرکے مرتب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان تمام شہریوں کے مکمل کوائف مرتب کرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا ریاست سے دھوکہ دہی کے متراد ف ہے۔سول سروس افسران کی مذہب کے اعتبار سے عدم شناخت آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔ریاست کے ہرشہری کو آئین وقانون کا وفادار ہونا ضروری ہے۔اسلامیات پڑھانے کے لیے مسلمان اساتذہ کی شرط لگانا ضروری ہے۔مذہب اسلام کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے۔اس ضمن میں پارلیمان سے حساسیت اور بیداری کی توقع رکھنا مسلم اکثریت کا حق ہے۔ ختم نبوت پر نقب لگانے والوں کی سازشوں کے مکمل سد باب کے لیے پارلیمنٹ کو ہنگامی اقدامات کرنے چاہیءں۔ ختم المرسلین ؐ کے بعد کوئی شخص جونبوت کا دعوی کرے،وہ جھوٹا،خائن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے،اس عبارت کو آئین کے علامیہ کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر صدر پرویز مشرف
کے دور میں قادیانیوں کو اعلی عہدوں تک رسائی کا بھرپور موقع ملا۔خود سابق صدر کا سیکرٹری طارق عزیز قادیانی تھا۔جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں سے کتنے فیصد کو پتہ تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا سیکرٹری قادیانی ہے؟حالاں کہ ریاست کے ہرشہری کا فرض بنتاہے کہ وہ ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر موجود ذمہ داروں کے بارے معلومات رکھیں کہ ان کا مذہب کیا ہے؟تفصیلی فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہنے والے واجدشمس الحسن نے خود قادیانیوں کے ایک جلسے میں اپنے قادیانی ہونے کا اعتراف کیا۔جسٹس شوکت صدیقی نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والی قادیانی شخصیات کے نام بوجوہ نہیں بتاسکتی۔یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ اعلیٰ عہدوں تک قادیانیوں کی رسائی کے حوالے سے غور وفکر کرے۔
علاوہ ازیں فاضل جج نے ختم نبوت حلف نامے کیس میں راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس رپورٹ میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے کرداروں کا اچھی طرح ذکر کیا گیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ اس رپورٹ کو عام نہیں کرسکتی کیوں کہ یہ سربمہر عدالت کو دی گئی تھی،لہذااب یہ پارلیمان پر منحصر ہے کہ وہ راجہ ظفرا لحق کمیٹی رپورٹ پر مزید غوروفکر کرے اور اسے عام کرے یا پھر اجتناب کرے؟
واضح رہے کہ 2اکتوبر 2017ء کو انتخابی اصلاحاتی بل میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کی مبینہ سازش سامنے آئی۔جس پر ن لیگ حکومت نے اولاً توکسی بھی قسم کی تبدیلی کا انکار کی۔ملک بھر میں عوامی احتجاج کے بعدسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ٹائپنگ کی غلطی تھی، لہٰذاختم نبوت حلف نامہ کو اپنی اصلی شکل میں بحال کیا جارہاہے۔بعدازں ملک بھر میں ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے پیچھے چھپے اصل چہروں کو بے نقاب کرنے اور اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کامطالبہ زور پکڑنے لگالیکن حکومت نے ان مطالبات پر توجہ نہ دی۔جس کی وجہ سے فیض آباد دھرنا ہوا اور وطن عزیز پاکستان کا بے پناہ جانی مالی نقصان ہوا۔فیض آباد دھرنے میں حکومت نے ناکامی تسلیم کرتے ہوئے وزیرقانون زاہد حامد کو مستعفی کردیا اور راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی۔جس نے 20دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا قوم سے وعدہ کیا۔لیکن وہ رپورٹ لگ بھگ تین ماہ گزرنے کے بعد عدالت کے بار بار مطالبہ کرنے کے بعد سربمہر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی ٹائپنگ کی غلطی تھی یا جان بوجھ کر یہ تبدیلی کی گئی؟اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ مبینہ سازش تھی ،ٹائپنگ کی غلطی ہرگز نہ تھی۔جس کااندازہ 22ستمبر2017ء کو سینیٹ کی کارروائی دیکھ کر لگایا جاسکتاہے۔22ستمبر2017ء کو سینیٹ کے اجلاس میں پہلی بار ختم نبوت حلف نامہ زیر بحث آیا۔جس میں سابق وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے حافظ حمداللہ کی ختم نبوت حلف نامے میں امینڈمنٹ کے حوالے سے کہا کہ پارلیمانی اصلاحاتی کمیٹی میں یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ on oath, solemnly ,swear کی جگہ declarationکی تبدیلی کردی جائے۔دوسری طرف راجہ ظفرالحق نے گزشتہ سال اکتوبر میں راقم کے ٹی وی پروگرام میں اقرار کیا کہ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی عمداًکی گئی۔اس تبدیلی میں کیا پوری پارلیمنٹ یا سینیٹ شریک تھی؟اس حوالے سے اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ قانون میں ہر amendmentکے وقت اس امینڈمنٹ کو قومی اسمبلی یا سینیٹ کے سامنے پیش کرکے ووٹنگ کی جاتی ہے۔مگر ختم نبوت حلف نامے میں امینڈمنٹ کو نہ تو قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پیش کیا گیا،نہ ہی اس پر کوئی ووٹنگ کی گئی۔بلکہ بعض اراکین اسمبلی جو انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں شریک تھے ان کے بقول کمیٹی کے اجلاسوں میں کبھی ختم نبوت حلف نامہ زیر بحث ہی نہیں آیا۔ظاہر ہے اس میں پوری پارلیمنٹ کو قصور وار ٹھہرا کر یہ کہہ دینا کہ اجتماعی گناہ تھا،سب اس میں شریک تھے ، اصل مجرموں کو بچنے کا راستہ فراہم نہیں کیا جاسکتا۔البتہ اراکین پارلیمنٹ کا اصل قصور یہ ہے کہ انہوں نے ڈرافٹ کو مکمل پڑھا کیوں نہیں؟تاکہ وہ اس تبدیلی کو پکڑ تے۔
بہرحال ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے حوالے سے اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاندار فیصلہ دیدیا ہے، مگر اصل کام یہ ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے چھپے اصل کرداروں کو سامنے لاکر انہیں قانون کے مطابق سزادی جائے،تاکہ آئندہ کسی کوختم نبوت یا دیگر ایمانیا ت اوردینیات کے حوالے سے کسی قسم کی چھیڑچھاڑ یا سازش یا تبدیلی کرنے کی جرأت نہ ہو۔اس کے لیے سب سے پہلے راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ کو عام کرناچاہیے۔اگر اس میں کہیں سقم ہو تو اس پر جے آئی ٹی بنا کر معاملے کو منطقی انجام تک پہچانا چاہیے۔کیوں کہ ختم نبوت دنیابھر کے مسلمانوں کوایک ایسا عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان قربان ہونے کے لیے تیار ہے۔بالخصوص پاکستان کے مسلمان خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی آپؐ کے بارے ذرہ برابر بھی کوتاہی برداشت نہیں کرسکتا۔اس کے باوجود کچھ شرپسند عناصر جو وطن عزیز پاکستان میں فسادات کی آگ لگاکر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں وقتاً فوقتاً ختم نبوت اور قانو ن توہین رسالت جیسے حساس قوانین کے ساتھ چھیڑخانی کرتے رہتے ہیں۔ان شرپسندوں میں کچھ لوگ وہ بھی ہیں جوآئین پاکستان کی 1974ء سے توہین کرتے آرہے ہیں جو آج بھی آئین پاکستان کو محض ردی کا غذ کہتے ہیں،لیکن اس کے باوجود اپنی شناخت چھپاکر پاکستان کے مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو مجروح کرنے کے ساتھ ان کے سرکاری اداروں میں ملازمتوں کے حقوق بھی غصب کرتے ہیں۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے ختم نبوت اور قانون توہین رسالت جیسے حساس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور بیدار مغز رہیں۔اس لیے اب پاکستان میں قانون ختم نبوت اور قانون توہین رسالت پر ایسی قانون سازی کی جائے کہ ان پر بات کرنا سخت ترین جرم ہو،اور جوکوئی ان قوانین کو نہ مانے اسے کڑی سزادی جائے۔تاکہ آئندہ کسی کو پاکستان کا امن وامان خراب کرنے کی جرات ہو اور نہ ہی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی ہمت ہو۔


ای پیپر