مولا خوش رکھے۔۔۔
05 جولائی 2018 2018-07-05

دوستو۔۔زندگی مختصرہے، کوشش کیا کیجئے ، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔یہ سبق ہم نے معروف کامیڈینز اور بھانڈ،مراثیوں سے سیکھا ہے، جو ہر طرح کے حالات کے باوجود نہ صرف خوش نظرآتے ہیں بلکہ لوگوں میں خوشیاں ہی بانٹتے نظر آتے ہیں۔۔ اور ان کے لبوں پہ صرف ایک ہی دعا ہوتی ہے۔۔ مولا خوش رکھے ۔۔خوشیوں کا ذکر چل پڑا ہے تو کچھ ہنسنے مسکرانے کی باتیں بھی ہوجائیں۔۔
ونس اپان اے ٹائم، ایک بادشاہ کا فیوریٹ حجام تھا، وہ حجام روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا ‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا ،حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے؟؟۔۔بادشاہ مسکرایا اور بولا۔۔میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا۔۔نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا ،آپ حکم کیجئے۔۔بادشاہ بولا ،بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔۔نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا،جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔۔بادشاہ نے پوچھا،یہ جہاز کب آیا؟؟۔۔ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ،دو دن پہلے آیا۔۔
بادشاہ نے کہا ،یہ بتاؤ یہ جہاز کہاں سے آیا؟؟۔۔ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ،جہاز پر کیا لدا ہے؟؟۔۔نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ قصہ مختصر، نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا۔۔اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ’’کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے‘‘۔۔وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ۔۔جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا ‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے۔۔بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا ،حجام نے چپ چاپ استرااٹھایا اور عرض کیا ،’’ مولا خوش رکھے ! کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں ‘‘۔۔
پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک دوست نے ہمیں واٹس ایپ پر یہ میسیج بھیجا۔۔جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے،چرچل کے پاس کچھ پارلیمنٹیرین گھبرائے ہوئے آئے اور پوچھا،یور ایکسیلنسی! کیا ہم تباہ ہو جائیں گے؟۔۔چرچل نے سگار کا لمبا کش لے کرگمبھیر آواز میں پوچھا، کیا ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں؟۔۔جواب ملا، جی کررہی ہیں۔۔ تو چرچل نے سگار کا اہک لمبا کش کھینچا اور مسکراتے ہوئے یہ تاریخی لفظ کہے۔۔۔’’ فیر! شریفاں نے پھڑیا جانا اے‘‘۔۔اور اب یہ واقعہ جو ہم آپ کو سنانے جارہے ہیں، یہ کسی نون لیگی نے نہیں بھیجا، لیکن پی ٹی آئی والے دوست کے بھیجے گئے میسج کے ساتھ کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی۔۔ایک کن ٹٹے پھڈے باز نے دکان پر جا کر رعب سے دھاڑتے ہوئے کہا، اوئے ایک سگریٹ کی ڈبی دے۔۔ وہیں دکان پر ایک داڑھی والے صاحب بھی کھڑے ہوئے تھے۔۔ ذرا سی دیر لگنے پر کن ٹٹے نے ایک گالی دیتے ہوئے پھر سے دکاندار کو کہا، اوئے بے غیرت، تو نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔ دکاندار نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے جلدی سے کہا، حاضر میرے بادشاہو، میں آپ کا تابعدار، کہہ کر سگریٹ کی ڈبی تھما دی۔ پھڈے باز کو ’’چس ‘‘ نہ آئی۔ داڑھی والے کی طرف مڑتے ہوئے کہا، اوئے تو نے اتنی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ دیکھ رہا ہے میں نے دکاندار کی ماں بہن ایک کر دی ہے، تو مجھے نصیحت نہیں کر سکتا کیا؟۔۔یہ واقعہ بھی قطعی غیرسیاسی ہے۔۔ہاتھی جنگل سے باہر کی طرف بھاگا چلا جا رہا تھا۔ پوچھا کیوں بھاگ رہے ہو؟ کہنے لگا: شیر نے فیصلہ کیا ہے کہ جنگل کے سارے زرافوں کو مار دیا جائے۔ انہوں نے کہا، لیکن تم تو ہاتھی ہو، زرافہ نہیں! کہنے لگا: میں جانتا ہوں کہ میں ہاتھی ہوں زرافہ نہیں ہوں مگر شیر نے یہ ذمہ داری گدھے پر ڈالی ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ایک مرتبہ گاؤں میں سیلاب آگیا۔۔ ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا گیا،ایک سو پچاس کی آبادی والے گاؤں سے پانچ سو آدمیوں کو گِن کر نکالا گیا۔۔پھر ہیلی کاپٹر والے سرپنچ کے پاس گئے اور پوچھا،آپ کے گاؤں کی کل آبادی ایک سو پچاس ہے اور میں اب تک پانچ سو نکال چکا ہوں ایسا کیوں ؟تو سرپنچ نے کہا ،جناب گاؤں والوں نے ہیلی کاپٹر پہلی مرتبہ دیکھا ہے ، آپ ایک طرف سے نکالتے ہو، یہ دوسری طرف سے پھر آ جاتے ہیں،میں خود تیسری بار آیا ہوں۔۔۔سرداروں کے گاؤں میں ندی پر پل بنایاگیا، انجینیئر نے پل کا افتتاح کیا اور واپس چلا گیا۔۔ایک سال بعد وہ واپس گاؤں گیا تو ہر شخص پل اور انجینیئر کی تعریف کر رہا تھا۔ وہ پل کے اوپر گیا تو دیکھا کہ پل تو بالکل نیا کا نیا ہے جیسے کبھی استعمال ہی نہ کیا گیا ہو۔۔اس نے حیرانی سے گاؤں والوں سے پوچھا کہ آپ لوگ پل استعمال تو کرتے نہیں پھر میری تعریف کیوں کر رہے ہیں؟۔۔گاؤں والوں نے جواب دیا کہ نہیں جناب! پہلے ہم دھوپ میں ندی پار کرتے تھے۔ اب پل کی چھاؤں میں ندی پار کرتے ہیں۔یہ سن کر انجینیئر نے ندی میں کود کر جان دے دی۔۔
گامے نے ریسٹورنٹ میں جا کر سوپ کا آرڈر دیا۔ سوپ آ جانے کے بعد گامے نے بیرے کو بلایا اور کہا: ذرا اس سوپ کو چکھنا۔۔ بیرے نے کہا؛ صاحب، خیر تو ہے، کچھ خرابی ہے اس میں کیا؟ گامے نے کہا، بس تم اسے ذرا چکھ کر دیکھو۔ بیرے نے کہا، صاحب، سوپ اگر ٹھنڈا ہے تو میں ابھی اور گرم لے آتا ہوں۔ گامے نے کہا، نہیں، بس تم اسے چکھو۔ بیرے نے کہا، صاحب، اگر کسی چیز کی کمی بیشی ہے تو میں اور حاضر کرتا ہوں۔ گامے نے مزید اصرار سے کہا، نہیں تم بس اسے چکھو۔ بیرے نے زچ ہو کر ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا؛ ٹھیک ہے صاحب، میں چکھ کر دیکھتا ہوں اسے، لائیے چمچ کدھر ہے؟ گامے نے بھی معصومیت سے کہا: چمچ کدھر ہے؟ ۔۔بے وقوف گامے کو ہلکا لے رہا تھا، سوپ سرو کر دیا اور چمچ دیا ہی نہیں۔۔۔بعض دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے،کسی کو کچھ سمجھایا جائے تو اسے سمجھ نہیں آتا۔۔ایک آدمی نے مخالف سمت میں جاتی کار میں بیٹھی موٹی عورت کو بے دھیانی سے ڈرائیونگ کرتے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، بھینس۔۔ عورت نے بھی تْرکی بہ تْرکی زور سے جواب دیا، بھینسے۔۔ عورت جیسے ہی موڑ مڑی اس کی کار سڑک پر پڑی ایک مردہ بھینس میں جا لگی۔ پھر اْسے یقین آیا بندہ بھینس اسے نہیں کہہ رہا تھا۔۔۔لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ بیویاں اپنے شوہروں کو بڑی آسانی سے کچھ بھی سمجھادیتی ہیں۔۔شوہرنے جب اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ ، کہاں جارہی ہو؟۔۔بیوی نے کہا، نہانے۔۔شوہر نے حیرت سے پوچھا۔۔موبائل لے کر۔۔ بیوی نے کہا۔۔تو بالٹی بھرنے تک کیاکروں گی؟؟ سوچا فیس بک ہی دیکھ لوں۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔کچھ لوگوں کے ساتھ عمر بھر رہ لو، لمحے بھر کیلئے بھی یاد نہیں آئیں گے۔ اور کچھ لوگوں کے ساتھ ایک لمحہ گزار لو، ساری عمر یاد آتے رہیں گے۔ دل بھی کیا عجب پاگل شئے ہے کہ یادیں گزری مدت اور عرصے کی وجہ سے نہیں، روا رکھے گئے برتاؤ کی وجہ سے محفوظ رکھتا ہے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں۔۔ مولا خوش رکھے ۔۔


ای پیپر