دیر بالاکی حمیدہ شاہ اور مظفر گڑھ کا ہارون سلطان
05 جولائی 2018 2018-07-05

عشیری درہ صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل دیر بالا میں واقع ہے جو ماضی میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دئیے جانے کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ رواں برس فروری میں ضمنی انتخابات میں یہاں خواتین نے تقریباً 4 دہائیوں کے بعد پہلی بار حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا جب کہ یہاں ایک لاکھ چالیس ہزار رجسٹرڈ خواتین ووٹرز تھیں۔ حالیہ انتخابات میں حمیدہ شاہد نامی خاتون یہاں سے عمومی سیٹ پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے 60 سالوں میں جب بھی انتخابات ہوئے کوئی نہ کوئی تو جیتتا ہی رہا مگر مذہب کے نام پر مقامی آبادی کو ٹیکہ لگایا گیا اور جیتنے کے بعد کوئی یہاں کا رخ نہیں کرتا تھا۔ حمیدہ شاہد تبدیلی لانے کے لئے پرعزم ہیں اور گھر گھر جا کر پہلے مردوں سے ملتی ہیں پھر اسی گھر کی خواتین کے پاس بیٹھ جاتی ہیں۔ خواتین کو یہ انہونی سی بات لگتی ہے کہ ایک عورت مردوں کی طرح الیکشن لڑ رہی ہے اور وہ عورتوں سے ووٹ بھی مانگ رہی ہے ۔ حمیدہ شاہد کے مطابق ماضی میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ کوئی ان کے پاس ووٹ مانگنے نہیں آیا ۔ ان خواتین اور ان کے حقوق کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ امید وار اور مقامی افراد گھر کے باہر ہی فیصلہ کر لیتے تھے کہ سیاست صرف مرد کر سکتا ہے اور ووٹ بھی وہی ڈالے گا۔
دوسری طرف مظفر گڑھ سے مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار قومی اسمبلی ہارون سلطان نے عورت کا ووٹ دینا حرام قرار دے دیا ہے۔ ہارون سلطان نے حلقے میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب میں کہا ہے میں دین کے مطابق چلوں گا اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے منافی باتوں پر عمل نہیں کروں گا۔ ہارون سلطان قومی اسمبلی کے 2حلقوں این اے 184 اور 186سے امیدوار ہیں۔ جب کہ این اے 184میں ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی زہرہ باسط بخاری امیدوار ہیں جو ان کی بھابی ہیں۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ چند ووٹوں کے حصول کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ہارون سلطان دینِ اسلام کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ ہم اسلام کی بنیادی باتوں سے بھی ناواقف ہیں اسی لئے بڑے اطمینان سے کہہ دیتے ہیں کہ اسلام مسلمان عورت کو قانون سازی کے حقوق ہی نہیں دیتا ہے، وہ اس پر تعلیم کے دروازے بھی بند رکھتا ہے، ملازمت کی اجازت نہیں دیتا، اس کو گھر کی چار دیواری میں قید دیکھنا چاہتا ہے وغیرہ۔ اسلامی تاریخ سے اتنی واقفیت تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ شریعت کا مزاج سمجھ سکے اور ان الزامات کی حقیقت جان سکے۔
طبقات ابنِ سعد میں مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ کی خواہش تھی کہ حق مہر کی کوئی حد مقرر کر دی جائے۔ ان کے پاس ایسے مسائل آتے تھے کہ نوجوانوں کے لئے نکاح کرنا مشکل ہو تا جا رہا تھا ۔ اس مجلس میں ایک خاتون موجود تھیں جہاں انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو خاتون نے سورۂ نساء کی بیسویں آیت پڑھی کہ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری لانے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے ڈھیر سارا مال ہی اسے کیوں نہ دیا ہو اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ خاتون نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ قرآن تو ڈھیر سارے مال کی بات کر رہا ہے تو عمر کون ہوتے ہیں مہر کی حد مقرر کرنے والے؟ حضرت عمر نے فوراً اپنی رائے سے رجوع کر لیا اور فرمایا " عمر غلط تھا یہ خاتون درست کہہ رہی ہیں"۔ ہم نے حضرت عمر کے جاہ و جلال کے بارے میں بہت سی روایات پڑھی ہیں۔ یہاں جب معاملہ آئین میں ترمیم کا آیا تو ایک خاتون نے ببانگِ دہل اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی کہ قرآن نے جو مسلمانوں کا آئین ہے جب مہر کی حد مقرر نہیں کی نہ ہی اللہ کے نبیؐ نے ایسا کیا تو خلیفہ وقت کو کیسے اس ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟
اللہ کے نبیؐ امورِ مملکت میں خواتین کے مشوروں کی ہمیشہ قدر فرماتے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب معاہدے کی شقوں پر مسلمانوں کا دل تنگ ہو گیا تو آپؐ نے حکم دیا کہ اٹھو قربانی دو اور حلق کراؤ، اس سال ہمیں واپس جانا ہو گا۔ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا مگر کوئی عملدرآمد کے لئے آمادہ نہ ہوا تو آپؐ نے امِ سلمہؓ سے مشورہ کیا ، انہوں نے فرمایا اللہ کے نبی آپ خود قربانی دیں اور حجام کو بلا کر حلق کرا لیں۔ آپؐ نے ایسا ہی کیا تو صحابہ کرام بھی اٹھ کھڑے ہوئے، جانوروں کی قربانی کی اور ایک دوسرے کا حلق کرنے لگے۔وہ امت پر کتنا سخت وقت تھا، معاہدے کی بعض دفعات پر مسلمان بہت پریشان تھے لیکن آپؐ کی بصیرت آنے والے وقت میں اس کے اثرات دیکھ رہی تھی کیوں کہ قرآن نے اسے فتحِ مبین سے تعبیر کیا تھا۔ ایسے میں ایک بصیرت افروز خاتون کے مشورے سے مسلمان ایک اضطراری کیفیت سے نکل آئے۔اس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں لیکن ہم ان روایات کو صرف ثواب و برکات یا تاریخی حوالوں کے لئے پڑھتے اور بیان کرتے ہیں اور ان سے سیکھتے کچھ نہیں ہیں۔
ہارون سلطان اسلامی تعلیمات سے رہنمائی لیتے تو کبھی ایسا فتویٰ صادر نہ کرتے کیونکہ دینِ اسلام میں جس قدر خواتین کی عزت و احترام ہے اور کسی مذہب میں نہیں ہے، جہاں مسلمان عورت کو اپنی حدود کے اندر ہر طرح کی آزادی ہے۔ اسلام نے امور مملکت میں عورتوں پر قدغن نہیں لگائی ان کو شرکت سے روکا نہ ان کے مشورے کو دوسرے درجے کی اہمیت دی۔اسلئے ہمیں خواتین کے بارے میں اپنی منفی سوچ کو بدلنا ہو گا کیونکہ وہ آبادی کا نصف ہیں جب تک یہ نصف مردوں کے شانہ بشانہ نظر نہیں آتیں معاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔ آج معاشیات کا دور ہے ،کون ہو گا جو اس معاشی ترقی میں پیچھے رہنا چاہتا ہو گا، ہر فرد زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں اگر خاندان کے معاش کی گاڑی کو محض ایک پہیے سے گھسیٹنے کی کوشش کی جائے تو لامحالہ وہ رفتار نہیں ہو سکتی جو دو پہیوں سے گھسیٹنے سے ممکن ہے، لہٰذا خواتین کو بھی عملی زندگی میں ہونا چاہئے۔
حمیدہ شاہد کے الیکشن لڑنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ایسا علاقہ جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے کے لئے باہر نکلنے پر پابندی تھی وہاں ان میں ان کے ووٹ کی اہمیت کا شعور اجاگر ہو گا۔ دیر بالا جیسے علاقے میں مقامی افراد میں ووٹ سے متعلق آگاہی پھیلانا سب سے اہم قدم ہے۔ جب تک کسی کو پیغام نہیں پہنچایا جائے گا اور رہنمائی نہیں کی جائے گی کہ ووٹ کیا ہے تب تک ووٹ کی اہمیت کسی کو پتہ نہیں چلے گی۔ ہارون سلطان جیسے افراد کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ ہر بات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قومی مفاد کو مقدم جاننا چاہئے۔


ای پیپر