ایک رتی بھی اگر خوا ہش ِ بد ہے ، رد ہے
05 جولائی 2018 2018-07-05

اس سوختہ جبیں قوم کو لارالپوں میں الجھانے کے لیے انتخابات کا بے اعتبار موسم پھر " سایہ فگن " ہو چکا ہے ۔ ، پھر انواع و اقسام کے وعدوں سے لبالب بھرے بھانت بھانت کے چکنے گھڑے عوام الناس کے نصیب جگانے کے لیے مارے مارے پھرنے لگے ہیں ملک کی کہنہ مشق سیاسی جماعتیں بھی کسی ٹھوس سیاسی منشور سے عاری دکھائی دیتی ہیں، سیاست دانوں کی اپنی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کا بودا اور کھوکھلا پن سب پر عیاں ہو چکا ہے ، کسی سیاست دان کو اس کی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا تو اس نے دوسری سیاسی جماعت کی طرف دوڑ لگا دی ، سیاست دانوں کے اس مہلک کردار سے ان کا اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ سطحی خلوص کا بھانڈا پھوٹتا سب نے دیکھ لیا ہے مگر عام ووٹرز اپنی اپنی سیاسی پارٹی کے لیے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ محبتیں وارنے میں لگے ہیں، عوام الناس اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے اپنی برادریوں تک سے تعلقات مسمار کر ڈالنے میں تامل نہیں کرتے، جوں جوں الیکشن نزدیک تر آتے جائیں گے خاندانوں اور برادریوں
میں محبت اور احترام کے رشتے زمین بوس ہوتے جائیں گے، محض سیاسی مخالفت میں اپنے سگے بھائی کے لیے بھی تندی اور ترشی در آتی ہے ، یہ انتخابات کا فیضان ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنے اپنے سیاسی حریف کے لیے انتہائی نازیبا اور اوچھے لفظ استعمال کیے جا رہے ہیں ایک دوسرے پر لعنتیں اور گالم گلوچ تک سے گریز پائی اختیار نہیں کی جا رہی ، یہ قوم جسے آج تک شرک کی سمجھ نہیں آئی تھی آج اسے توحید اور شرک کے مابین فرق کی تفہیم بخوبی ہو چکی ہے اور شرک کی یہ سمجھ بھی توحید کی محبت میں نہیں آئی بلکہ اپنی مخالف سیاسی قیادت کو رسوا کرنے کیلئے شرک کے معانی و مفاہیم بدرجہ اتم سمجھ میں آگئے ہیں۔
آج پوری قوم کو مکمل بصیرت کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ بیماروں پر سیاست کس نے کی؟ کس نے مرے ہو ئے لوگوں کو کیش کروایا ؟ کس نے کرپشن کی تمام حدود قیدد کو بری طرح روند ڈالا؟ کس نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر مودی کی بولیاں بولیں؟ کس نے ختم نبوت پر ڈاکا ڈالنے کی جسارت کی؟ کسی نے پاک فوج پر دشنام طرازیوں کے غول مسلط کیے؟ کس نے اپنی فوج اور ایجنسیوں پر ممبئی حملوں کا طومارباندھ کر اپنے ملک پر بدنامی کے چھینٹے مارنے کی کوشش کی؟ وہ کون ہے جس نے را کے سابق سر براہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھوا کر پاک فوج کے کردار کو مشکوک بنانے کی سعی کی؟ وہ کون ہے جو امریکا کے سامنے اس حد تک بچھ گیا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل تک منظور کروانے کے لیے تیاری مکمل کر چکا تھا کہ اقوام متحدہ جس پر قد غن لگادے گی اس پر پاکستان میں بھی خود بخود پابندی تصور ہو گی؟ آج تک کلبھوشن کے خلاف کسی نے لبوں کو جنبش تک نہ دی؟ سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف کسی نے لب کشائی تک کرنے کی زحمت گوارا نہ کی ؟ اور وہ کون ہے جس نے پانچ سالوں تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بے اعتنائی برتے رکھی؟ آپ غور کرتے جائیں ان لوگوں پر جنھوں نے پاکستان کی اساس دو قومی نظریے کو بوسیدہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی؟
شہر آشوب زدہ اس پہ قصیدہ گوئی
گنبد دہر کے اس پالتو فنکار پہ تھُو
روز اوّل سے جو غیروں کا وفادار رہا
شہر بد بخت کے اس دو غلے کردار پہ تھُو
عوام الناس اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے لیے مرے جا رہے ہیں جب کہ سیاست دانوں کی اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی محض ٹکٹ کے حصول تک محدود ہے ، بصورت دیگر کسی دوسری جماعت یا آزاد الیکشن لڑنے کے لیے لنگوٹ کس کر میدان میں آدھمکتے ہیں ، سیاست دانوں کا یہ مہیب کردار پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے لیے ایک سیاسی لمحہ فکریہ ہے ، یہ مطلبی اور ملاوٹی کردار اب رد کرنے کی ضرورت ہے ۔
جس طرف بھی ملاوٹ کی رسد ہے ، رد ہے
ایک رتی بھی اگر خواہش بد ہے ، رد ہے
جب چڑھائی پہ مرا ہاتھ نہ تھاما تو نے
اب یہ چوٹی پہ جو بے فیض مدد ہے ، رد ہے
الیکشن کے یہ بادل چند دنوں بعد چھٹ جائیں گے اگر آپ باشعور شہری ہیں تو ان انتخابات میں اختلاف رائے رکھنے کے باوجود اپنی برادریوں اور دوستوں سے تعلقات کو مت بگاڑئیے۔ اور اگر آپ ملک کے ساتھ محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں تو پھر رسمی اور دقیانوسی وعدوں کی جگالی کی طرف بھی دھیان مت دیجیے ، اگر آپ واقعی اسلام اور پاکستان کے ساتھ محبت آمیز رشتے میں گندھے ہیں تو اب وقت ہے ان سیاسی بزرجمہروں سے سوال کیجیے کہ آج تک تعلیمی نظام کیوں نہیں بدلا؟ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ڈکیٹیاں کیوں کم نہیں ہوئیں؟ تھانوں میں پولیس گردی میں رتی برابر بھی کمی کیوں نہ آئی، آپ ووٹ مانگنے والوں سے پوچھیے کہ سسکتے اور لاغر نصاب تعلیم کے متعلق ان کا کیا منشور ہے ؟ کرسی کے عشق میں گھر ے ان سیاست دانوں سے
سوال کیجیے کہ مقبوضہ کشمیر کے متعلق ان کی کیا منصوبہ بندی ہے ؟ بھارتی آبی جارحیت کے باعث پیاس سے نڈھال ہمارے خشک اور ریت اڑاتے دریاؤں کے متعلق انہوں نے کیا پالیسی اختیار کی ہے ؟ یہ سیاست دان آپ کو طرح طرح کا چونا لگائیں گے، یہ اپنی خوش نما باتوں کے ذریعے پلیتھن لگانے کی پوری کوشش کریں گے مگر آپ نے اپنا مؤقف ٹھوس اور دو ٹوک رکھنا ہے ، میں اس وقت بڑا حیران رہ گیا ہے جب ایک قومی اسمبلی کے امیدوار سے ایک ٹی وی چینل کے نمائندے نے اس کا منشور دریافت کیا تو اس نے اپنے سیاسی قائد کا نام لے کر جواب دیا کہ اسے وزیر اعظم بنانا، اتنی سطحی سوچ بھی بھلا بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ؟ لوگو! اگر اب حب الوطنی کی راہ میں مجبوریاں آڑے آگئیں ، اب اگر مصلحت پسندی نے حقیقی جذبات و احساسات پر غلبہ پالیا تو 25 جولائی کے بعد ان سیاسی لوگوں کے بد نما کردار کا سیاپا مت کرنا، پھر ان کے ملک دشمنی کردار پر دوہتھڑ مارنے کی بجائے اپنے ووٹ دینے کے غلط فیصلے کا ماتم ضرور کر لینا۔


ای پیپر