پاک چین اقتصادی راہداری زندہ باد
05 جولائی 2018 2018-07-05

دوستی ایک لازوال اور انمول رشتہ ہے۔ دوست ہر مشکل گھڑی میں دوست کے کام آتا ہے۔ حوصلہ بڑھاتا ہے۔ جب کوئی دوسرا ساتھ نہیں دیتا تو وہ دوست ہی ہے جو کاندھے سے کاندھا ملا کر مشکل حالات کو آسودگی کے کنارے کھینچ لاتا ہے۔ وہ دوست ہی ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کا دفاع کرتا ہے۔
اگر بات کی جائے دو ممالک کے درمیان لازوال دوستی کی تو چین اور پاکستان کی دوستی زبان زدِ عام ہے۔ ہمالیہ سے بلند سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی ، یہ بات افسانوی سی لگتی ہے۔ لیکن دوستی تو پھر دوستی ہے۔ ملک خداداد پاکستان کے اوّل تو دوست گنے چنے ہیں۔ مگر جو ہیں تو ان میں چین اور ترکی اپنی مثال آپ ہیں۔
دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کے لیے عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے اقتصادی پلان کا تحفہ متعارف کرایا گیا۔ جو بیک وقت پاکستان اور چین کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔ اس اقتصادی رشتہ داری کے دور رس اور دیر پا نتائج اخذ ہوں گے۔ اسی اقتصادی پلان کے نام سی پیک (china pakistan economic coridor ) رکھا گیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو بڑھا دے گا۔
سی پیک جامع ریسرچ پر مبنی طویل المیعاد منصوبہ ہے جس پر چین 45 ارب ڈالر کی سرمائی کاری کر رہا ہے۔سی پیک منصوبہ کے بنیادی چار بڑے مقاصد میں توانائی، گوادر پورٹ اور سٹی، انفراسٹرکچر اور صنعتی زونز کے مختلف منصوبہ جات شامل ہیں۔ جس کی تکمیل سے سازو سامان و دیگروسائل کی ترسیل کو فروغ کے علاوہ ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اسی کے ساتھ ساتھ روز گاز کے مواقع پیدا ہوں گے۔
بنیادی طور پر سی پیک منصوبہ گوادر کو کاشغر سے ملائے گا۔ جس کا سب سے زیادہ فائدہ خود چین کو ہو گا۔ سی پیک منصوبہ One belt one road وژن کے تحت چین نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں شروع کیا۔ گوادر پورٹ چین کو کم ترین لاگت میں عالمی منڈیوں تک رسائی دے گا۔ یہ بندرگاہ چین کو چھ ملین ڈالر کی یومیہ بچت دے گا۔ گوادر پورٹ چین کا خلیجی ممالک سے زمینی فاصلہ بھی قابل ذکر حد تک کم کر دے گا۔ اس بات میں ذرا برابر شک نہیں کہ سی پیک منصوبہ چین کے اپنے مفاد میں ہے لیکن یہ امر بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ یہ منصوبہ وطن عزیز میں معاشی و اقتصادی استحکام لائے گا۔ آنے والے وقت میں پاکستان جنوبی ایشیاء کا اقتصادی گڑھ بننے جا رہا ہے۔
سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پایا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ روس سمیت کئی ممالک نے اس جامع منصوبے میں شمولیت کا اظہار کر دیا ہے۔ جو اس منصوبے کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منصوبہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان توانائی کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ سی پیک میں توانائی کے 22 منصوبے شامل ہیں۔ جن میں تیرہ سو بیس میگا واٹ کا ساہیوال کول پروجیکٹ، پورٹ قاسم کول پروجیکٹ، حب کول پروجیکٹ، تھرکول پروجیکٹ، مائن ماؤتھ کول پروجیکٹ، اینگرو کول پروجیکٹ اور گوادر پاور پروجیکٹ شامل ہیں۔ اس منصوبوں سے آٹھ ہزار ایک سو میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔
سی پیک کا پاکستان کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس اقتصادی منصوبے کے تحت وطن عزیز میں ایک میگا سٹی گوادر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ گوادر پورٹ سے ہمیں مرکزی حیثیت مل رہی ہے۔ جس سے ہم اپنی پیداوار عالمی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ جدید اور کشادہ گوادر ایئر پورٹ بھی اسی منصوبہ کا حصہ ہے۔ گوادر سے کاشغر تک فائبر آپٹیکل اور گیس پائپ لائن بچائی جا رہی ہے۔ چین ریلوے میں بہتری کے لیے بھی خرچ کر رہا ہے۔ سی پیک کا مغربی روٹ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لیے بھی ترقی کی ضمانت ہے۔ اسی سے بڑھ کر چھوٹے بڑے شہروں اور علاقوں کا سڑکوں کے جال کے ذریعے رابطہ بحال ہو گا ۔ جس سے ملک کی فضاء سازگار ہو گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
پاک چین اقتصادی راہ داری ( CPEC) منصوبہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان کو پوری دنیا میں امن کا چہرہ اور دوستی کا پیغام بھیجنا قدرے آسان ہو جائے گا۔ دہشت گردی کا قلع قمع کیا جا سکے گا کیونکہ لامحالہ غربت بھی دہشت گردی کو فروغ دینے یا پناہ گاہ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو ہتھیار ڈال کر باعزت زندگی کی طرف واپسی ممکن ہو گی۔
چائنہ پاکستان اکنومک کوریڈور منصوبے سے سرمایہ کاروں کی ایک فوج پاکستان کا رخ کرے گی۔ جس سے 2030 ء تک تقریباً سات لاکھ پاکستانی مستفید ہو سکیں گے۔ پاکستان کو اپنی تجارتی راہداری سے نقل و حرکت پر پانامہ اور سوئس کینال کے جیسے ٹرانزٹ فیس بھی حاصل ہو گی۔ مختلف کھیلوں کی بین الاقوامی ٹیمیں بھی پاکستان کا رخ کریں گی۔ جس سے کھیل کے شعبے کو بھی فروغ ملے گا۔
اس کے باوجود کچھ عرصے سے پاکستان کے مقتدر حلقوں اور عوام کے ذہنوں میں سی پیک منصوبے کو لے کر کئی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ جس میں دشمن قوتیں اور بھارتی سازشیں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں جیسا کہ پاکستان چین سے حاصل کی گئی رقم چین کو کس طرح ادا کر سکے گا؟ چین پاکستان میں اتنی تیزی سے زمین کیوں خرید رہا ہے؟ پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبہ پر چین کے جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تو کی جا رہی ہے مگر پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کیوں نہیں لائی گئی؟
اسی ضمن میں CPNE چینی سفارت خانے اور PFC کے اشتراک سے سی پیک کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں چین کے قائم مقام سفیر لی جیان ذاو، صدر سی پی این ای عارف نظامی، نگران وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر، ڈاکٹر عشرت حسین، اکرام سہگل، ایاز خان اور ملک سلمان نے اظہار خیال کیا۔ چین سفیر نے سازشوں اور اعتراضات پر مؤثر جوابات دیے۔ تقریب میں لاہور اور اسلام آباد کے کالم نگاروں نے بھر پور شرکت کی۔ میں یہاں پوری پاکستانی قوم کی جانب سے یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم معاشی و اقتصادی ترقی کی لالچ اور کسی فریب میں چین جیسے مخلص دوست کی گود میں بیٹھنا بھی گوارہ نہیں کریں گے۔ سی پیک ہمارا منصوبہ ہے، پاکستانیوں کا منصوبہ ہے۔ پاک چین دوستی زندہ باد ۔۔۔


ای پیپر