پنجابی حریت پسندوں کے نام!
05 جولائی 2018 2018-07-05

مورخہ3جولائی 2018ء کے ایک موقر جریدے میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے کالم‘ بعنوان: ’’ چیلیانوالہ: پنجابی مزاحمت کا آخری مورچہ‘‘ میں پنجابی حریت پسند شیر سنگھ اٹاری والا کو نہایت عمدہ پیرائے میں خراج تحسین پیش کیاہے۔اس مرد مجاہد نے فرنگی فوج کو چیلیانوالہ کے مقام پر ناکوں چنے چبوائے اور اسے آگے بڑھنے سے روکے رکھا تھا۔ چیلیانوالہ (ڈنگہ/ گجرات) میں انگریز نے اس معرکہ( جو 13جنوری 1849ء کو برپا ہواتھا )کی یاد گار تعمیر کی جس کا مقصد اپنے اُن فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا جو شیر سنگھ اٹاری والا کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ شاہدصدیقی اس حریت پسند کی جرات کو سلام پیش کرتے ہوئے اس بات پردکھ کا اظہاربھی کرتے ہیں کہ فرنگیوں نے تو اپنی یادگاریں تعمیر کیں لیکن ان خاک زادوں کی یادگاریں کہاں ہیں جو اس سرزمین سے اٹھے تھے اور انہوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر اپنی مٹی کی حفاظت کی تھی ۔وہ جو اپنی آنکھوں میں حریت کے خواب لے کر نکلے اور بے نشاں راہوں میں مارے گئے ....
فاضل کالم نگار نے شیر سنگھ اٹاری والا کویاد کرکے اس طالب علم کو پنجاب کے اُن لاتعداد گمنام سپوتوں کی جدو جہد آزادی یاد دلادی ہے جن کی یادگاریں تو کجا ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔ ہمارے ہاں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جنگ آزادی57ء سے پہلے اور بعدمیں پنجاب ہمیشہ انگریز کاوفادار رہا ۔ ایسی باتیں محض جھوٹ کا پلندہ ہیں جن کا ازالہ ہونا چاہیے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پنجاب کے وڈیروں اور جاگیرداروں نے انگریز سے وفاداری نبھائی اور بھاری مراعات وصول کیں لیکن اس خطے سے آزادی کے ایسے متوالے بھی اٹھے جو فرنگی استبداد کے آگے سدِ سکندری بن گئے تھے ۔ ڈاکٹر اعظم چوہدری نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ پنجابی شاعر شاہ محمد نے انگریز کے خلاف پنجاب کی مزاحمتی کہانی کو پنجابی اشعار میں اس وقت تفصیل سے بیان کر دیا تھا جب پنجاب میں انگریز
کی نئی نئی حکومت قائم ہوئی تھی۔شاہ محمد نے اس وقت انگریز کے خلاف نفرت کابر ملااظہار کیا جب دیگر زبانوں کے شعراء انگریزوں کے قصیدے لکھ لکھ کر درباروں میں اپنی جگہ بنا رہے تھے۔
تاریخ کی گواہی ہے کہ جنگ آزادی1857ء میں جہاں برصغیر کے دیگر حصوں میں آزادی کے متوالوں نے انگڑائی لی وہاں مجاہدین پنجاب نے انگریز کے خلاف زبردست مزاحمتی کردار اداکیا۔ پورے برصغیر میں پنجاب وہ صوبہ تھا جس پر انگریز نے سب سے آخر (مارچ 1849ء) میں قبضہ کیا۔انگریز لاہور سے صرف پچاس کلومیٹر دور فیروز پور کے مقام پر موجود تھا لیکن اس نے یہ فاصلہ تقریباً پانچ برسوں میں طے کیا، حالانکہ اس وقت لاہور میں کوئی قابل اور ذہین حکمران بھی موجود نہ تھا۔پنجاب کو انگریز کا وفادار کہنے والے شاید بھو ل جا تے ہیں کہ پنجاب پر انگریزی تسلط کے بعد بھی سیالکوٹ، مری، راولپنڈی، لیہ ، جھنگ، ساہیوال ، امرتسر، گجرات ، جالندھر، لاہور اور دیگر علاقوں میں اہل پنجاب نے حریت فکر کا علم بلند رکھا۔
جنگ آزادی 57ء میں ایک بڑا معرکہ گوگیرہ (ساہیوال )میں برپا ہوا جہاں مجاہد آزادی رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھی جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آزادی کا پرچم لہرایا۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب کے جنگلات میں ان مجاہدین آزادی کا بسیراتھا۔رائے احمد خان کھرل شہید نے گوگیرہ جیل پر حملہ کرکے سینکڑوں مجاہدین کو انگریز کی قید سے نجات دلائی ۔تخت برطانیہ نے دھرتی کے اس وفادار بیٹے کو خطابات اور اعزازات کا لالچ دیا لیکن اس نے پائے حقارت سے یہ پیشکش ٹھکرا دی اور آزادی کا سفر جاری رکھا،یہ جنگ کئی ماہ تک جاری رہی ۔پورے ہندوستان سے برطانوی افواج اکھٹی ہو کر ان حریت پسندوں کے خلاف مورچہ زن ہوئیں۔آخرکار ایک غدار وطن رائے سرفراز کھرل کی سازش کام آئی۔ اس نے مخبری کر کے رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کروانا چاہا لیکن جذبہ حریت سے سرشار مردانِ حق نے زندگی پر موت کو ترجیح دی اور مردانہ وار لڑتے ہوئے دھرتی پر جان قربان کر گئے۔ رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعدایک اورمرد جری مرادفتیانہ سامنے آیا ۔ اس کا سامنا اسسٹنٹ کمشنر برکلے اور اس کے مسلح لشکر سے ہوا ،مراد فتیانہ نے برکلے اور اس کے پچاس فوجیوں کو ہلاک کیا ۔ احمد خان کھرل کے علاوہ جن دیگر پنجابی مجاہدین نے انگریز سامراج سے ٹکر لی ان میں سرفہرست مراد فتیانہ، نظام لوہار،امام دین،ماموند کاٹھیا،نادر شاہ قریشی،ولی داد،موکھا ماہی وال،دولا ماچھی، جگا اور جیونا موڑجیسے نام ملتے ہیں۔جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز سامراج نے پنجاب کے ان عظیم حریت پسندوں کو ڈاکوؤں کے طورپربدنام کرنا چاہا تاکہ آنے والی نسلیں انہیں ہیروز کے طور پر یاد نہ کرسکیں لیکن آج ڈیڑھ صدی کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ان دلیران پنجاب کی قدر ومنزلت موجود ہے اور ان کا کردارآج بھی بول رہا ہے کہ یہ ڈاکو نہیں جدوجہد آزادی کے پرچم بردار اور متوالے تھے ۔ جگے اور جیونے کا ذکر اس دور میں پنجابی لوک گیتوں میں یوں کیاجاتا رہا ؂
جے میں جاندی جگے مرجانا ، نی اک دے میں دو جَمدی
گھر گھر پُت جَمدے ، جیونا موڑ نہ کسے بن جانا
جیونا موڑ وڈھیانہ جاوے،چھویاں دے گھُند مڑ گئے
ڈوہنگی ڈھاب ، وناں دااوہلا،جتھے جیونا موڑ وڈھیا
اتھے گھگھیاں دا جوڑ بولے،جتھے جیونا موڑ وڈھیا
ترجمہ:اگر مجھے پتہ ہوتا کہ جگے اور جیونے نے مرجانا ہے تو میں ایک کے بجائے دو بیٹوں کو جنم دیتی۔یوں تو ہر گھر میں لعل پیدا ہوتے ہیں لیکن جیونا اور جگے جیسا کوئی نہیں ہو سکتا۔جیوناکو انگریز نے شہید کیا تو بھرچیوں کے منہ بھی کند ہو گئے تھے کیونکہ وہ بڑا سخت جان اورمضبو ط جسم کا مالک تھا۔اسے شہید کرنے کے لیے دشمن نے نشیبی کھائی اوردرختوں کا سہارا لیا تھا ۔جہاں جیوناموڑکو شہید کیا گیا وہاں فاختاؤں کا ایک جوڑا اس کے غم میں گریہ زاری کر رہا تھا۔1857ء کے پنجابی حریت پسندوں کی یاد میں اس طرح کی لوک کہانیاں اور شاعر ی پنجاب کے لوگ کسی دور میں شوق سے بیان کر کے اپنے ان متوالوں پر فخرکیا کرتے۔کارل مارکس نے اپنی کتاب ’’ہند میں بغاوت ‘‘میں لکھا تھاکہ ملتان اور ساہیوال کے درمیان مواصلات کے ذرائع کئی دن تک منقطع رہے ۔مارکس کا اشارہ رائے احمد خان کھرل اور دیگر پنجابی حریت پسندوں کی جنگ آزادی کی طرف تھا ۔انگریزنے ’’پنجاب غدر رپورٹ‘‘میں خود اعتراف کیاتھا کہ اگررائے احمد خان کھرل اور اس کے ساتھی کامیاب ہو جاتے توپورا پنجاب ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا ۔
بہر کیف فرنگی سامراج کے خلاف پنجابی حریت پسندوں کی داستانِ آزادی اس قدر طویل ہے کہ اسے بیان کر نے کے لیے محض ایک اخباری کالم کافی نہیں۔ اس طالب علم کے دل کی �آواز ہے کہ جس طرح فاضل کالم نگارنے ایک پنجابی حریت پسند کووالہانہ طور پریاد کیا ہے کاش وطن عزیز کا ہر دانش ور، ادیب ، شاعر ، صحافی اور بچہ بچہ اپنے ان ہیروز کو سلام پیش کرتا نظر آئے جنہوں نے اپنے وطن کی آزادی کی خاطر غلامی کی زنجیریں پہننے سے صاف انکار کر تے ہوئے کئی گناہ طاقتور سامراج سے ٹکر لے کر آزادی کانعرہ بلند کیا تھااور قوم کے روشن کل کے لیے اپنی جوانیاں تیاگ دی تھیں۔


ای پیپر