انتخابات 2018ء: گہماگہمی اور تازہ ترین صورت حال
05 جولائی 2018 2018-07-05



پاکستان میں اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس میں نظریاتی سیاست کو فروغ دے رہا ہے۔جمہوریت کا استحکام پیش نظر رکھتا ہے ۔ملک و قوم کے مفادات کو عزیز تر سمجھتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے جذبات کو قربان کرنے سے بھی گریزاں نہیں تو یقین کرنے کو دل نہیں کرتا ۔۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی سیاست سے اخلاقیات کا آہستہ آہستہ ختم ہونا ہے۔۔ہمارا المیہ ہے کہ سیاست دانوں نے خود کو بہت رسوا کر دیا ہے ۔ان کے کسی بھی کام میں خیر کا پہلو دیکھنے کی بجائے لوگ انکے ماضی سے جوڑے کردار کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔جیسا کہ کلثوم نواز کی بیماری پر چہ میگوئیوں کا ہونا بالکل اسی طرح جس طرح میاں محمد نواز شریف کی ہارٹ سرجری پر ہو رہی تھیں ۔ہم عدم اعتماد اور تعصب میں اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ کسی کے دکھ درد کو جعلی قرار دینے میں لمحہ بھر بھی نہیں سوچتے ۔یقیناًیہ ایک تشویشناک امر ہے ۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس سار ی بد اعتمادی کی فضا ء کے پیچھے کسی اور کا نہیں بلکہ خود سیاست دانوں کا اپنا ہاتھ ہے ۔ اور اس پر رہی سہی کسر کچھ نام نہاد انیکر پرسنز نے پوری کر دی ہے ۔ ریٹنگ کے چکر میں بغیر تحقیق ایسی ایسی رپورٹس کو براہ راست عوام تک پہنچا دیا جاتا ہے جن کے پبلش ہونے سے قبل انتہادرجے کی تحقیقات اور درست ہونے کی مہر ثبت ہونا ضروری ہوتا ہے۔یہ سارا عمل ملک میں افراتفری اور بد اعتمادی کی فضا ء کو پیدا کر رہا ہے ۔جو کہ خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔
آج ملک کے معروضی حالات، انتخابات کی گہماگہمی کے باعث یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ایک طرف پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان اپنے پانچوں
حلقوں سے اہل قر ار دیے جا چکے ہیں جبکہ انکی جماعت کے فواد چودھری اپنے آبائی حلقہ سے نااہل ہو ئے جن کو بعد میں لاہور ہائی کورٹ سے 62 ایف کے تحت الیکشن لڑنے کے لئے اہل قرار دے دیا گیا ۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کے تا حیات قائد جناب میاں محمد نواز شریف اور اسحاق ڈار کے بعدطلال چودھری اوردانیال عزیز بھی نااہل قرار دیے جانے والے افراد کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔جبکہ قمرالاسلام جو کہ چودھری نثا ر کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے کو نیب نے 5گھنٹوں کی تفتیش کے بعد گرفتار کر لیا ۔قمرالاسلام صاف پانی کی خریداری کمیٹی کے کنوینر تھے ۔ اور ان پر کرپشن کرنے کا الزام ہے ۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن نے باغی رہنما چودھری نثار کے خلاف امیدوار میدان میں نہ اتارنے کا فیصلہ کیا تھا مگر چودھری صاحب کی ایک پریس کانفرنس نے مسلم لیگ کو مجبور کر دیا کہ وہ چودھری نثار کے مد مقابل اپنا امیدوار کھڑا کرے ۔اب قمر الاسلام نیب کی گرفت میں ہیں اور انکی الیکشن کمپین کم سن بیٹا اور بیٹی چلا رہے ہیں۔ اگر چہ قمر الاسلام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر وہ چودھری نثار سے بہت جو نیئر ہیں اور وہ کبھی ایم این اے نہیں بنے ، جبکہ وہ 2013میں ایم پی اے منتخب ہوئے ۔ انھیں سیاسی لحاظ سے کسی بھی طرح چودھری نثار کے پائے کا سیاستدان نہیں ٹھہرا یا جا سکتا ۔یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اس حلقے میں قمر الاسلام کو ہی کیوں ٹکٹ جاری کیا ، ایسا کوئی اور امیدوار مسلم لیگ ن کے پاس نہیں تھا جس کا کیس نیب میں نہ چل رہا ہو تا؟ یہ ایک سیاسی چال معلوم ہو تی ہے جس کا مقصد چودھری نثار کو غیر محسوس انداز میں ریلیف دینا ہو سکتا ہے ۔کیونکہ مسلم لیگ کے بڑے اچھی طر ح سمجھتے تھے کہ ایسے فرد کو ٹکٹ دینا، جس کے خلاف مقد مہ نیب میں چل رہا ہو ،کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے ۔؟ بہرکیف اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔اس کے لئے کچھ انتظار کرنا ہو گا ۔2013 کے انتخابات سے قبل کے حالات کا جائزہ لیں تو 2018کے انتخابا ت میں کچھ قدریں مشتر ک نظر آتی ہیں ۔ان میں سب سے اہم لوگوں کی نظر میں وہ ہے جو حالات 2013کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو درپیش تھے اور وہ کھل کر الیکشن کمپین نہ کر سکی آج وہی حالات مسلم لیگ ن کو درپیش ہیں۔فرق صر ف اتنا ہے کہ تب منظور نظر کوئی اور تھا اور آج منظور نظر کوئی اور ہے ۔یہ ایساخطر ناک کھیل ہے جس میں نقصان صرف اورصرف ملک و قوم کا ہوتا ہے ۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ شفاف انتخابات کے لئے تما م سیاسی جماعتوں کو آزادنہ طور پر انتخابی مہم چلانے کے لئے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔مسلم لیگ ن کے گیا رہ امیدوار شیر چھوڑ کر جیپ میں سوار ہو گئے ہیں یاد رہے کہ چودھری نثار بھی شیر کو چھوڑ کر جیپ کے نشان پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات سے قبل ہی الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھا دیا ہے ۔جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے پولنگ وقت کو رات 8بجے تک بڑھانے کی استدعا کی گئی تھی ۔ ایک گھنٹہ ٹائم بڑھانے سے پولنگ صبح8بجے سے شام بجے تک ہوگی ۔ تازہ ترین انتخابی صورتحال کچھ یوں ہے کہ سا بق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایک مرتبہ پھر سے انتخاب لڑنے کے اہل ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ ن کے ایک اور سابق ایم این اے وسیم اخترشیخ کو عدلیہ مخالف احتجاج پر ایک ماہ کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ سنا یا جا چکا ہے ۔23 جولائی تک جاری رہنے والی انتخابی مہم اس وقت زوروں پر ہے ۔پارٹی ٹکٹ جمع کروائے جا چکے ہیں۔ایک دوسرے کے حق میں لوگ دستبردار بھی ہو چکے ہیں فائنل امیدواروں کی فہرست اور ان کو225انتخابی نشانات جاری کر دیے گئے ہیں۔ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ملک گیر 85ہزار پولنگ اسٹیشنز قائم اور انتخابی مہم کے لئے 3 ہفتوں کا ٹائم باقی رہ گیا ہے اور تمام تر خدشات کے با وجود انتخابی ٹرین چل پڑی ہے ۔ساری سیاسی و دینی مذہبی جماعتیں اپنے اپنے انتخابی منشور کو لے کر عوام میں جا چکی ہیں ۔ووٹ ایک امانت ہے جوایماندار لوگوں کے چناؤ میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔


ای پیپر