شریف خاندان کیخلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایا جائیگا
05 جولائی 2018 (16:19) 2018-07-05

اسلام آباد:نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف دائر کیاگیا ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کل ( جمعہ کو) سنایا جائے گا جو کہ عدالت نے 3جولائی کومحفوظ کیاتھا۔


عدالت میں اپنا موقف دیتے ہوئے ایڈووکیٹ سعد ہاشمی اور ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم اور مریم نواز 14 جون 2018 کو کلثوم نواز جن کا کینسر کا علاج جاری ہے کی عیادت کے لیے لندن روانہ ہوئے تھے۔ایڈووکیٹ ہاشمی نے کہا کہ لندن میں ان کے پہنچنے پر نواز شریف کو بتایا گیا کہ ان کی اہلیہ کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی جس کی وجہ سے انہیں آئی سی یو میں منتقل کرتے ہوئے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا جس کے بعد نواز شریف کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے 23 جون تک کے لیے حاضری سے استثنیٰ منظور کیا تھا۔25 جون کو درخواست گزار نے دوبارہ حاضری سے استثنیٰ کے لیے عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی جو عدالت نے 3 دن کے لیے منظور کرلی تھی۔دفاعی کونسل نے موقف اختیار کیا کہ کلثوم نواز کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق وہ رواں ہفتے بات چیت کرنے کی لائق ہوجائیں گی جس کی وجہ سے انہوں نے 2 جولائی سے 9 جولائی تک کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی ہے۔دوسری جانب استغاثہ نے درخواست کی مخالفت کی۔


نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرلز سردار مظفر عباسی اور افضل قریشی نے کہا کہ کلثوم نواز کی صحت میں بہتری آرہی ہے اور کلثوم نواز کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے ساتھ موجود ہیں جس کی وجہ سے عدالت نواز شریف اور مریم نواز کو مزید حاضری سے استثنی نہ دے۔عدالت نے دونوں جانب کے موقف سننے کے بعد سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی کو 2 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے دونوں کو بدھ کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب عدالت میرے خلاف فیصلہ چند دن کیلئے محفوظ رکھ لے، فیصلہ کمرہ عدالت میں کھڑے ہو کر سننا چاہتا ہوں۔ میں ڈکٹیٹر نہیں جو ڈر کر بھاگ جائوں گا۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں احتساب عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ میری اہلیہ کی بیماری کے پیش نظر اپنا فیصلہ چند دنوں کیلئے محفوظ کرلے۔ بیگم کلثوم نواز کا آپریشن ہوا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چند دنوں میں وہ خطرے کی حالت سے باہر آجائیں گی۔ وہ ابھی بے ہوش ہیں۔


انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں پا کستان جانے سے پہلے ان سے ملاقات کر لوں۔ یہ فیصلہ اسی کمرہ عدالت میں کھڑے ہوکر اسی جج صاحب سے سننا چاہتا ہوں جس عدالت میں میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑے ہوکر 100پیشیاں بھگتی ہیں۔ میں مہینوں کی نہیں دنوں کی بات کر رہا ہوں کیونکہ ہماری عدالتوں میں کئی کئی ماہ فیصلے محفوظ رکھنے کی روایت موجود ہے۔یادرہے کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔واضح رہے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ کی گذشتہ سال 28جولائی کے فیصلے پر عدالتی حکم پر دائر کیے گئے تھے۔


یاد رہے کہ 3جولائی کی سماعت کے موقع پر مریم اور کیپٹن صفدر کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز اپنے حتمی دلائل دیئے تھے جس کی بعد عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کیاتھا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 6جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی ۔سماعت کے موقع پر نواز شریف اور مریم نواز لندن میں موجودگی کے باعث احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے ،احتساب عدالت نے 2جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران ان کی 7 دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی ،احتساب عدالت کے جج نے دو دن کا استثنیٰ منظور کرتے ہوئے انہیں احتساب عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیاتھا، شریف خاندان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست ان کے کونسل سعد ہاشمی اور امجد پرویز کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔


ای پیپر