سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظر ثانی کیلئے اتوار تک کا وقت دیدیا
05 جولائی 2018 (15:32) 2018-07-05


اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت، پی ایس او اور دیگر حکام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پر نظرثانی کے لئے اتوار تک کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو باقاعدہ فریم ورک دے کر آگاہ کریں کہ کون، کون سے ٹیکسز ہیں یا لیول ہے جس کو کم کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متبادل سطح پر لایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے جواب آنے پر مناسب حکم جاری کرے گی جبکہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ بغیر کسی رکاوٹ قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں بتائیں تیل کی قیمتوں پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کس بات کا ہے۔


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تیل کی قیمت ساڑھے سات روپے بڑھا دی گئی کیا اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ، کیوں قیمت بڑھائی گئی ، اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ، ساتھ روپے کی قدر میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ سیلز ٹیکس کم کر دیا جاتا ہے۔ سارا کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا گیا ہے ہمیں تین مہینے کا بریک اپ دیا جائے، ماہرانہ رائے دی جائے جس سے پتہ چلے کہ تیل کی قیمت کس شرح سے بڑھائی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تیل بہت ضروری اور بنیادی چیز ہے جس کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے اور ہم یہ بوجھ عوام پر نہیں ڈالنا چاہتے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی شخص پانچ روپے جیب میں لے کر نکلتا ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور 10 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں تو اسے اپنے پیٹ پر اور اپنے بچوں کی فیس پر کمپرومائز کرنا پڑے گا اور اس کا اثر اس کی خوشحال زندگی پر آئے گا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو سیلز ٹیکس کم کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ اس بات پر غور و خوض کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کو آن بورڈ لینا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کس طرح ہم بغیر نقصان تیل کی قیمتوں پر قابو پا سکتے ہیں اور جتنا مہنگا ہوا ہے اس میں کتنے فیصد کمی کر سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا اس موقع پر کہا کہ نگران حکومت کو وہ آن بورڈ لیں گے اور امید ہے کہ مثبت رسپانس آئے گا۔ چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھا دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ کہا گیا تھا کہ اس پر کوئی ریلیف دیں۔ قیمتوں میں اضافہ کا جواز پیش کیا جائے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی قیمت اور قیمت فروخت میں بہت زیادہ فرق ہے کہیں نہ کہیں کچھ تو ہو رہا ہے۔ کبھی سیلز ٹیکس کو بڑھا دیتے ہیں تو کبھی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔غیرجانبدار ماہرین کو عدالت کی معاونت کے لئے بلائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیٹرول پر 30 روپے سے زائد ٹیکس اور دیگر واجبات لگا کر عوام سے وصول کئے جار ہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کا کیا جواز ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قوم پہلے ہی پسی ہوئی ہے۔ عوام پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب مل بیٹھ کر اس پر سوچیں تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت اتوار تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بیٹھیں اور معاملہ کا کوئی نہ کوئی حل نکالا جائے۔


ای پیپر