کپتان کے مشیر اور ملک کی تقدیر !
05 جولائی 2018 2018-07-05

گذشتہ کالم میں پی ٹی آئی کے اُن بے شمار کارکنوں اور رہنماﺅں کا تذکرہ کیا تھا جنہیں صرف اس لئے پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے کہ پارٹی کے نزدیک وہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ یہ وہ عظیم کارکن اور رہنما ہیں جو اُس وقت پارٹی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے جب پارٹی الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اب جبکہ پارٹی الیکشن جیت کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آنے لگی ہے بجائے اِس کے اپنے اِن عظیم کارکنوں اور رہنماﺅں کو اُن کی ذاتی و مالی قربانیوں کا صِلہ دیا جاتا یا کم از کم انہیں عزت ہی دی جاتی اُنہیں ٹشو پیپر سمجھ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا گیا۔ اُن کی جگہ جنم جنم کے اُن سوراخ زدہ لوٹوں کو اہمیت دی گئی جو مشکل وقت میں اپنی جماعت یا لیڈر کا ساتھ چھوڑنے کے عمل کو باقاعدہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ ایک ایسے ”لوٹے “ کو بھی پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا جو دو اڑھائی برس قبل اپنی سابقہ جماعت کے ” قائد محترم “ میاں محمد نواز شریف کی عیادت کے لئے لندن گیا تو دورانِ عیادت اُن سے کہنے لگا ” قائد محترم دو روز پہلے میں مانسہرہ اپنے پیر صاحب سے ملنے گیا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے” ملک صاحب آپ تو اِن دِنوں رمضان المبارک میں ہمیشہ عمرے پر جاتے ہیں ، اس بار نہیں گئے؟“ میں نے اُن سے کہا ” قبلہ اِس بار میں اپنے قائد محترم میاں محمد نواز شریف کی عیادت کرنے جا رہا ہوں“۔۔۔ اب کل کلاں یہی ” اعزاز “ ممکن ہے وہ خان صاحب کو بخش رہا ہو۔ اور میاں محمد نواز شریف کی طرح خان صاحب بھی اِس یقین میں مبتلا ہو جائیں کہ مشکل وقت میں سب میرا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں یہ شخص نہیں چھوڑ سکتا جو میری عیادت کو بڑی ” سعادت “سمجھتا ہے۔۔۔ اصل میں اِن ” لوٹوں“ اور ” کھوٹوں “ کی اصل اور مستقل پارٹی وہی ہے جو اپنی طرف سے کسی کو دیکھائی نہیں دیتی۔ اِس ” خفیہ پارٹی “ کا ” اصل فریضہ “ اب یہی رہ گیا ہے سیاستدانوں کی مختلف کمزوریوں کو محفوظ کرتی رہے اور بوقت ضرورت اُنہیں کیش کرواتی رہے۔ یہ درست ہے دوسری سیاسی قوتوں کے مقابلے میں دِکھائی نہ دینے والی یہ ” سیاسی قوت “ کچھ قباحتوں سے پاک ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیکھائی نہ دینے والی اِس قوت یا ” پارٹی “ نے اپنی انفرادیت یا طاقت قائم رکھنے کے لئے کِسی اور پارٹی یا ادارے وغیرہ کو پنپنے یا پھلنے پھولنے ہی نہیں دیا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کاش سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا اُس کی کرپشن پر ملتی جس کی اُس نے انتہا کر دی۔ اصل کہانی جو آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی ہے اُسے سزا اُس کے اور ” جرائم “ پر دی گئی۔ وہ جرائم بھی ناقابلِ معافی تھے۔ ہمت کر کے اُس کے اصل جرائم عوام کو بتائے جاتے، کرپشن تو اِس ملک میں میٹر ہی نہیں کرتی۔ کون سا ادارہ کرپشن سے مکمل طور پر پاک ہے؟۔ کرپشن پر سزا ملنی شروع ہوگئی شاید ہی کوئی ادارہ بچے گا۔ ہماری کچھ خفیہ قوتیں شاید خود چاہتی ہیں سیاستدان کرپشن وغیرہ کرتے رہیں، تا کہ اُن کی آڑ میں یہ ” اعزاز“ اُنہیں بھی حاصل ہوتے رہیں۔ مجھے یقین ہے عمران خان کو بھی مکمل دیانت دار سمجھ کر آگے نہیں لایا جا رہا ہوگا کہ خفیہ قوتوں کے نزدیک یہ خوبی نہیں خامی ہے۔ عمران خان کو بھی چاہئے بڑی مشکل سے اقتدار اُنہیں مل جائے اپنی اِس ” خامی “ پر قابو پانے کی پوری کوشش کریں۔ ایمانداری کے زعم سے وہ باہر نہ نکلے تو اِس کا اُنہیں نقصان ہی ہوگا۔۔۔۔ جہاں تک پی ٹی آئی کے کچھ مخلص اور انتھک کارکنوں کا تعلق ہے اُن کے ساتھ یہ زیادتی نہیں ہوئی کہ اُنہیں ٹکٹ نہیں دیئے گئے۔ یا اُن کی جگہ جنم جنم کے کچھ سوراخ زدہ لوٹوں کو نواز دیا گیا، یا کِسی جگہ روپے اور ڈالرز وغیرہ کام کر گئے۔ اُن کے ساتھ اصل زیادتی یہ ہوئی کہ زیادتی کے بعد پارٹی قیادت کو زیادتی کا احساس تک نہ ہوا۔ ورنہ ہونا یہ چاہئے تھا ٹکٹ سے محروم ایسے تمام مخلص کارکنوں اور رہنماﺅں کے اعزاز میں عمران خان کِسی استقبالیے کا اہتمام کرتے یا اُن کی طرف سے پارٹی کا کوئی اور مرکزی رہنما اپنے اِن مخلص کارکنوں کے لیے کسی چھوٹے موٹے عشایئے کا اہتمام کر دیتا، جس میں چاہے اِن کارکنوں اور رہنماﺅں کو ” برائلر مرغی“ ہی پیش کر دی جاتی۔ عمران خان اُس میں اِن کارکنوں کا دِل رکھنے کے لئے اُن سے معذرت کرتے، اُنہیں اپنی ظاہری و باطنی مجبوریوں سے آگاہ فرماتے۔ کسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے، کسی کی کمر تھپتھپانے کسی کا بازو پکڑتے، کسی کو سینے سے لگاتے۔۔۔ خدا کی قسم ٹکٹ نہ ملنے کا سارا غم جاتا رہتا اور پھر وہ ناراض رہنما اور کارکن پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈروں کا ساتھ دیتے جِس کے نتیجے میں اُن کی جیت بھی یقینی ہو جاتی۔ اب کئی حلقوں میں جو حالات بن گئے ہیں پی ٹی آئی کو کسی اور سے نہیں خود پی ٹی آئی سے خطرہ ہے۔ خفیہ قوتیں ایک حد تک ہی ساتھ دیتی ہیں۔ پارٹی کا اصل سرمایہ عوام اور اُس کے مخلص کارکن ہی ہوتے ہیں جنہیں پی ٹی آئی نے ایک تو ٹکٹ نہ دے کر ذلیل کیا اُوپر سے عزت نہ دے کر ثابت کر دیا پارٹی میں صِرف ” جہاز برداروں “ کی قدر ہے۔ کچھ رہنماﺅں اور کارکنوں کو ٹکٹ دے کر واپس لے لئے گئے۔ وہ کِسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ اُن کے بارے میں پہلے ہی چھان بین کر لی جاتی وہ بے چارے بے عزتی کے اِس مقام پر دو چار نہ ہوتے۔ اب انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کِدھر جائیں کدھر نہ جائیں۔ ٹکٹیں جاری کرنے کے فیصلے عمران خان خود کرتے یا کم از کم اِن معاملات پر نظر ہی رکھتے تو پارٹی کے مخلص کارکنوں اور رہنماﺅں میں اتنی بددلی نہ پھیلتی۔ وہ اپنے لیڈر کا فیصلہ خوشی سے قبول کر لیتے۔ افسوس ٹکٹوں کے حوالے سے کچھ اختیارات اُنہوں نے ” اے ٹی ایم مشینوں “ کو دے دیئے۔ اور کچھ اُس ” خفیہ قوت “ یا ” پارٹی “ کے پاس تھے۔ جِس نے عمران خان کو اب یقین دلا دیا ہے اُس کے سہارے کے بغیر اقتدار کی منزل تک پہنچنے کا وہ تصور نہیں کر سکتا۔ میں پی ٹی آئی کے کچھ ایسے کارکنوں کو جانتا ہوں جنہوں نے عمران خان کے تبدیلی کے نظریے کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا۔ ہمارے ہاں برطانیہ اور امریکہ کی شہریت کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ خواب کسی کسی کا پورا ہوتا ہے۔ کچھ ایسے ” دیوانے “ بھی تھے خان صاحب کی ٹیم کا حصہ بننے کے لئے اپنی برطانیہ اور امریکہ کی شہریت تک جنہوں نے قربان کر دی۔ تبدیلی کے نظریے پر عمل ابھی تک صِرف اتنا ہوا خان صاحب خود تبدیل ہوگئے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔۔ ہم بہر حال اُن کے لئے دعا گو ہوں اور اب بھی اِس یقین میں مبتلا ہیں اِس ملک کی واقعی وہ تقدیر بدل کر رکھ دیں گے۔ ہم کچھ لوگوں کی اِس ”خرافات“ کی پروا بھی نہیں کر رہے کہ جو شخص پارٹی کے معاملات صحیح طرح نہیں چلا سکا۔ گھر کے معاملات صحیح طرح نہیں چلا سکا۔ وہ حکومت صحیح طرح کیسے چلا سکتا ہے؟۔ اِس میں کوئی شک نہیں وہ ایک دیانتدار آدمی ہیں۔ پاکستان کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ وہ اپنے کچھ مشیر بدل لیں ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں!


ای پیپر